علامہ فاضل حُسین علوی

فاضل حسین علوی
پیدائش10 اکتوبر 1953(1953-10-10)ء
گڑھ مہاراجہ، جھنگ
وفاتاپریل 17، 2006(2006-04-17)ء
فیصل آباد، پاکستان
قلمی نامفاضل حسین علوی
پیشہمناظر، معلم، عالم دین، محقق
زباناردو، انگریزی
قومیتFlag of پاکستانپاکستانی
نسلعلوی
اصنافتنقید، تحقیق

10 اکتوبر، 1953ء کو گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔ اخباری اہل تشیع کے ایک بڑے عالم دین اور مناظر تھے۔ مبلغِ اعظم مولانا مُحمد اسماعیل دیوبندی کے شاگرد تھے۔17 اپریل، 2006ء بروز منگل فیصل آباد میں ان کا قتل ہوا تھا۔ اُن کے شاگردوں میں سید علی حسنین نقوی، بشیر حُسین سالک، آغا ثقلین موسوی، ضیغم عباس ملہی شامل ہیں۔

علامہ محمد فاضل علوی دوپہر کو قائم سائیں کے مزار پر اپنے کسی دوست سے ملنے کے بعد اپنی گاڑی میں بڑی امام بارگاہ حسین پورہ کی طرف لوٹ رہے تھے۔ ان کی گاڑی جب یونیورسٹی روڈ پر پہنچی تو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے چلتی کار پر فائرنگ کر دی۔

تھانہ سول لائنز فیصل آباد کے ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجہ میں کار بے قابو ہو کر ایک درخت سے جا ٹکرائی اور اس میں آگ لگ گئی۔

پولیس آگ لگنے کی وجوہات کی تفتیش کرتی رہی۔ لیکن امکان ظاہر کیا گیا کہ پٹرول کے ٹینک میں گولی لگنے سے ایسا ہو سکتا ہے۔

چند عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا ہے کہ فائربریگیڈ پہنچنے سے پہلے علامہ محمد فاضل علوی اور ان کے ڈرائیور محمد قاسم کی لاشیں بری طرح جل چکی تھیں۔

اس واقعہ کے بعد حسین پورہ امام بارگاہ روڈ پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ درجنوں مظاہرین نے ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کردی تاہم پولیس افسران سے مذاکرات کے بعد مظاہرین نے احتجاج وقتی طور پر ملتوی کر دیا۔ امام بارگاہ روڈ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

کراچی کے نشتر پارک میں عید میلاد النبی کے موقع پر ہونے والے خود کش حملے کے بعد، جس میں پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے ، پنجاب میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔[1]

  1. https://www.bbc.com/urdu/pakistan/story/2006/04/060418_shia_killing_na.shtml