جھنگ

پنجاب، پاکستان کا ایک شہر
جھنگ
عمومی معلومات
صوبہ پنجاب، پاکستان
رقبہ 8,809 مربع کلومیٹر
آبادی 3,870,417
کالنگ کوڈ 0477
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
حکومت
ناظم صاحبزادہ حمید سلطان
یونين کونسلیں 128
علامت


جھنگ دریائے چناب کے کنارے آباد وسطی پنجاب، پاکستان کا ایک شہر ہے، جس کی آبادی اڑتیس لاکھ ستر ہزار چار سو سترہ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ ضلع جھنگ میں شامل ہے۔ جھنگ کی سرحدیں شمال میں ضلع سرگودھا، شمال مشرق میں گوجرہ، مشرق میں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، جنوب میں مظفر گڑھ اور خانیوال، مغرب میں لیہ اور بھکر اور شمال مغرب میں خوشاب سے ملتی ہیں۔

شخصیات ترمیم

دیب]

جغرافیہ ترمیم

تقریبا تمام علاقہ میدانی ہے، ماسوائے شمال کے جہاں ربوہ کے قریب دریائے چناب کے کنارے کیرانا پہاڑیوں کا سلسلہ ہے، جو آراولی سلسلوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ مغرب میں تھل کا صحرائی علاقہ ہے جو دریائے جہلم کے کنارے سے شروع ہوتا ہوا خوشاب اور بھکر کے اضلاع تک جاتا ہے۔گوجرہ کے قریب پبانوالا سے بنجر زمین شروع ہوتی ہے جہاں سے زمین کی سطح 10 فٹ (3 میٹر) بلند ہوتی ہے اور آگے بڑھتی ہوئی 30 فٹ (9 میٹر) تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ علاقہ جنوب میں 87 کلومیٹر تک اور چوڑائی میں تقریباّ 30 سے 40 کلومیٹر تک ہے۔ اس علاقہ میں ماضی میں جنگلات تھے اور یہ علاقہ کسی بھی قسم کی کاشت کے لیے موزوں نہیں تھا۔ انگریزی دور حکومت میں یہاں نہری نظام بنایا گیا اور 975 ایکڑ اراضی پر لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کی بنیاد رکھی گئی، جو آج ٹیکسٹائل کے شعبہ میں پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔ اس کے علاوہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیان واقع کیرانا کا علاقہ جو گھوڑی والا تک پھیلا ہوا ہے، بھی ضلع جھنگ میں شامل ہے۔ دریاؤں کا قریبی نشیبی علاقہ جو سیلاب کی صورت میں زیر آب آ جاتا ہے ہتھر کہلاتا ہے جبکہ دریاؤں کے درمیان اونچائی والا علاقہ جو زیر آب نہیں آتا اتر کہلاتا ہے۔

نباتات ترمیم

 
جھنگ

غیر زرعی رقبہ پر جھنڈ، کریر، وان، کیکر، ٹہلی اور بوہڑ کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہرمل، اکڑہ اور باتھو وغیرہ کی جھاڑیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

تاریخ ترمیم

جھنگ کا پہلا شہر، ایک قبیلہ سردار رائے سیال نے 1288ء میں اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ جلال بخاری کے کہنے پر آباد کیا۔ جھنگ کے پہلے حکمران مل خان 1462ء میں ہوئے۔ سیال قبائل نے جھنگ پر 360 سال حکومت کی اور آخری سیال حکمران احمد خان تھے، جنھوں نے 181 سے 1822ء تک حکومت کی، جن کے بعد حکومت سکھوں کے ہاتھ آئی اور پھر ان سے انگریزوں کے قبضہ میں گئی۔قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جھنگ کوئی قابل ذکر ترقی نہیں کر سکا ہے ۔ خستہ حالی کا شکار سنگل روڈز بے ہنگم ٹریفک اور بوسید سیوریج سسٹم کے ساتھ ساتھ انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی اس شہر کی آبادی جس کی وجہ سے بے روزگاری اور جاگیر دارانہ نظام نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔سڑکوں پر میونسپل کارپوریشن کی ناکامی اور کرپشن کی وجہ سے شہری سانسوں کے ذریعے دھول مٹی اپنے پھیپڑوں میں جھونک رہے ہیں جس کی وجہ سے لنگز فیلئرز ہارٹ اٹیک اور ہیپا ٹائٹس،شوگر جیسی موذی وبائیں یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدان اور شہریوں کے لیے تفریحی مقامات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ا ب یہ ایک فضول شہر بن چکا ہے ، یہاں صرف سیاست دان ووٹ لینے آتے ہیں ،

آب و ہوا ترمیم

جھنگ کی آب و ہوا شدید نوعیت کی ہے، جس کا مطلب سردیوں میں شدید سردی اور گرمیوں میں شدید گرمی ہے۔ موسم گرما، سرما کے مقابلہ میں زیادہ لمبا ہے اور گرمی کا عمومی درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے۔ اب تک زیادہ سے زیادہ درجہء حرارت 43 درجے سینٹی گریڈ تک دیکھا گیا ہے۔ جبکہ سردی میں 12 ڈگرمی سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ موسم گرما میں مون سون کی ہوائیں بارش لاتی ہیں، جن کی شدت جھنگ تک پہنچتے پہنچتے کافی کم ہو چکی ہوتی ہے۔ گرمیوں میں اوسط بارش 7 سے 10 انچ (180 ملی میٹر) ہوتی ہے، جبکہ سردیوں میں بھی کبھی کبھی بار‎ش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آندھیاں اور طوفان بھی چلتے ہیں۔ سال کا بہترین وقت فروری سے وسط اپریل تک کا ہے، جو موسم بہار ہے۔ موسم بہار خوشگوار ہے جو نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ زیادہ سرد۔ شہر کے گرد و نواح میں ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سرسوں کے پیلے پھول دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔ درختوں پر نئے پتے نکلتے ہیں، پھول اور پھل کھلتے ہیں اور یہی وقت جھنگ کی تہواروں اور میلوں مثلاّ "جھنگ کمیٹی شو" کا ہے۔

تہذیب و تمدن ترمیم

 
ربوہ، جھنگ

جھنگ کی اکثریتی آبادی کی مادری زبان پنجابی ہے۔ اور بعض علاقوں میں سرائیکی بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اردو بھی عام بولی جاتی ہے۔ ویسے یہاں کی پنجابی کا خاص لہجہ جھنگوی کہلاتا ہے۔ اسی علاقے سے ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں جیسی رومانوی داستانوں کا جنم ہوا۔

علاقائی کھیل
شادی کی تقاریب

مزید پڑھیے ترمیم

فہرست گنجان شہر بلحاظ آبادی ترمیم

 
کراچی
 
لاہور
 
فیصل آباد
 
Rawalpindi
 
گوجرانوالہ
 
پشاور
 
ملتان
 
حیدرآباد، سندھ
 
اسلام آباد
 
کوئٹہ
درجہ شہر آبادی
(مردم شماری 2017ء)[1][2][3]
آبادی
(1998 کی مردم شماری)[1][4][3]
تبدیلی صوبہ
1 کراچی 14,916,456 9,339,023 &10000000000000059721803+59.72%   سندھ
2 لاہور 11,126,285 5,209,088 &10000000000000113593723+113.59%   پنجاب، پاکستان
3 فیصل آباد 3,204,726 2,008,861 &10000000000000059529504+59.53%   پنجاب، پاکستان
4 راولپنڈی 2,098,231 1,409,768 &10000000000000048835198+48.84%   پنجاب، پاکستان
5 گوجرانوالہ 2,027,001 1,132,509 &10000000000000078983213+78.98%   پنجاب، پاکستان
6 پشاور 1,970,042 982,816 &10000000000000100448710+100.45%   خیبر پختونخوا
7 ملتان 1,871,843 1,197,384 &10000000000000056327711+56.33%   پنجاب، پاکستان
8 حیدرآباد 1,734,309 1,166,894 &10000000000000048626096+48.63%   سندھ
9 اسلام آباد 1,009,832 529,180 &10000000000000090829585+90.83%   وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد
10 کوئٹہ 1,001,205 565,137 &10000000000000077161467+77.16%   بلوچستان
11 بہاولپور 762,111 408,395 &10000000000000086611246+86.61%   پنجاب، پاکستان
12 سرگودھا 659,862 458,440 &10000000000000043936392+43.94%   پنجاب، پاکستان
13 سیالکوٹ 655,852 421,502 &10000000000000055598787+55.60%   پنجاب، پاکستان
14 سکھر 499,900 335,551 &10000000000000048978843+48.98%   سندھ
15 لاڑکانہ 490,508 270,283 &10000000000000081479412+81.48%   سندھ
16 شیخوپورہ 473,129 280,263 &10000000000000068816076+68.82%   پنجاب، پاکستان
17 رحیم یار خان 420,419 233,537 &10000000000000080224370+80.02%   پنجاب، پاکستان
18 جھنگ 414,131 293,366 &10000000000000041165302+41.17%   پنجاب، پاکستان
19 ڈیرہ غازی خان 399,064 190,542 &10000000000000109436239+109.44%   پنجاب، پاکستان
20 گجرات 390,533 251,792 &10000000000000055101432+55.10%   پنجاب، پاکستان

بیرونی روابط ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  1. ^ ا ب
  2. ^ ا ب "PAKISTAN: Provinces and Major Cities"۔ PAKISTAN: Provinces and Major Cities۔ citypopulation.de۔ اخذ شدہ بتاریخ 04 مئی 2020 
  3. "AZAD JAMMU & KASHMIR AT A GLANCE 2014" (PDF)۔ AJK at a glance 2014.pdf۔ AZAD GOVERNMENT OF THE STATE OF JAMMU & KASHMIR۔ 11 February 2017۔ 30 جون 2020 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2020