فخر النساء شہدہ

ایران سے تعلق رکھنے والی محدثہ و کاتبہ

فخر النساء شہدہشُہدہ الکاتبیہ (پیدائش: 1092ء – وفات: 1178ء) پانچویں صدی ہجری اور چھٹی صدی ہجری میں ایران سے تعلق رکھنے والی نامور محدثہ، عالم اور کاتبہ تھیں۔ اُنہیں متعدد ائمہ حدیث (محدثین) سے حدیث روایت کرنے کی اِجازت حاصل تھی۔ اُنہیں تاریخ اسلام میں شُہدَہ الکاتبیہ اور شُہدَہ البغدادیہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

فخر النساء شہدہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1092  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دینور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1178 (85–86 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد،  بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص الیاس بن جامع اربلی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سائنس دان،  عالمہ،  محدثہ،  کاتب،  فن خطاطی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

خاندانترميم

شُہدہ الکاتبیہ کا اصل نام جبکہ فخر النساء لقب تھا۔ عرفیت الکاتبہ اور البغدادیہ کے نام سے تھی۔ والد کا نام ابونصر احمد بن عمر الابری تھا جو اپنے عہد کے ایک ممتاز عالم دین تھے۔

پیدائشترميم

شہدہ کی پیدائش 484ھ مطابق 1092ء میں دینور میں ہوئی۔

تعلیمترميم

ابتدائی تعلیم اپنے والد ابونصر احمد بن عمر الابری سے حاصل کی۔ فن خوشنویسی و کتابت اور فن خطاطی بھی اپنے والد سے سیکھی اور اِن علوم میں ایسی مہارت حاصل کی کہ اُس دور کے بڑے بڑے خوشنویس و خطاطین شہدہ کے کمالِ فن کا اعتراف کرتے تھے۔علم حدیث اپنے والد سے اور پھر اُس دور کے نامور علما و محدثین سے حاصل کیا جن میں ابوعبداللہ الحسن بن احمد نعمانی، ابوبکر محمد بن احمد الشاشی، احمد بن عبدالقادر بن یوسف اور ابوالحسینی جیسے نامور محدثین شامل ہیں۔ جملہ علوم میں شہدہ اپنے عہد کی سرکردہ خواتین علما کی فہرست میں شامل ہوگئیں۔[1]

ایران سے بغدادترميم

شہدہ کے والد عباسی خلیفہ کی دعوت پر یا غالباً خود ہی بغداد منتقل ہو گئے تھے اور یہیں سکونت اِختیار کرلی تھی۔ اس لحاظ سے شہدہ کی عمر کا طویل حصہ بغداد میں ہی بسر ہوا۔

ازدواجترميم

والد نے اِن کی شادی اپنے ایک سعادت مند شاگرد علی بن محمد سے کردی۔ وہ اگرچہ غریب تھے مگر نیک و لائق تھے۔ اِسی لیے شہدہ کی ازدواجی زِندگی نہایت خوشگوار گذری۔

علم حدیث میں مقامترميم

شہدہ کو علم حدیث میں اِتنی شہرت حاصل ہوئی کہ تشنگانِ علم دور دور سے جوق در جوق اِن کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اِن کے خوانِ علم سے ریزہ چینی کرنا اپنے لیے سعادت مندی اور باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ شہدہ کے درسِ حدیث میں بڑے بڑے شیوخ اور ائمہ حدیث بھی حاضر ہوا کرتے تھے اور اِن سے حدیث روایت کرنے کی اجازت باااعتبارِ سند حاصل کیا کرتے تھے۔

خطابتترميم

شہدہ علم حدیث کے علاوہ تاریخ اور عربی ادب پر بھی عمدہ تقاریر کرتی تھیں کہ سننے والے دنگ رہ جاتے تھے۔اُن کی خطیبانہ صلاحیت اُن کے تمام علوم کے ساتھ ساتھ وجہ شہرت بن گئی تھی۔ بغداد میں اِسی سبب سے لوگ اُنہیں فخرالنساء کے نام سے یاد کرتے تھے۔

اواخر عمرترميم

شادی کے پینتالیس سال بعد شہدہ کے خاوند علی بن محمد نے بغداد میں وفات پائی۔ شوہر کی وفات کے بعد شہدہ نے یہ صدمہ بڑے صبر اور حوصلے سے برداشت کیا۔ اواخر عمر تک اپنے آپ کو ہمہ تن درس و تدریس کے لیے وقف کیے رکھا۔ عباسی خلیفہ المستضی بامر اللہ نے جب شہدہ کے فضل و کمال کی شہرت سنی تو اُنہیں ایک بڑی جاگیر عطاء کی تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اشاعتِ علم میں مشغول رہ سکیں۔ شہدہ نے اِس جاگیر کی آمدنی سے دریائے دجلہ کے کنارے ایک عظیم الشان درس گاہ تعمیر کروائی جس میں سینکڑوں طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے جن کے اخراجات وہ خود برداشت کرتی تھیں۔ ضعیف العمری تک وہ علم حدیث میں مشغول رہیں۔[2]

وفاتترميم

تقریباً نوے سال سے زائد (بلحاظ قمری ہجری) کی عمر میں شہدہ نے 574ھ مطابق 1178ء میں بغداد میں وفات پائی۔ نمازِ جنازہ ’’جامع القصر‘‘ (بغداد) میں اداء کی گئی جس میں عباسی خلیفہ سمیت بڑے بڑے علما، عمائدین سلطنت، محدثین بھی شامل ہوئے۔ مشہور محدث و عالم اِمام ابن جوزی کا بیان ہے کہ: ’’شہدہ بڑی صالح اور عبادت گزار خاتون تھیں۔‘‘ [3]

  1. طالب ہاشمی: دنیائے اسلام کی چار سو باکمال خواتین، صفحہ 252۔
  2. طالب ہاشمی: دنیائے اسلام کی چار سو باکمال خواتین، صفحہ 252/253۔
  3. طالب ہاشمی: دنیائے اسلام کی چار سو باکمال خواتین، صفحہ 253۔