قلوپطرہ

مصر کی سلطنت بطلیموس کی آخری ملکہ جس نے 51 قبل مسیح سے 30 قبل مسیح تک حکمرانی کی۔
قلوپطرہ
(یونانی میں: Κλεοπάτρα Φιλοπάτωρ ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Kleopatra-VII.-Altes-Museum-Berlin1.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 69 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکندریہ[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 اگست 30 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکندریہ[2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات زہر[5]  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن اسکندریہ  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات خود کشی  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت قدیم مصر[6]  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل یونانی النسل مصری[7]  ویکی ڈیٹا پر نسل (P172) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات مارک انتھونی (37 ق.م–30 ق.م)
بطلیموس چہاردہم (47 ق.م–44 ق.م)
بطلیموس دوازدہم تھیئوس فلاپاٹر (51 ق.م–47 ق.م)  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ساتھی جولیس سیزر (47 ق.م–15 مارچ 44 ق.م)[8]  ویکی ڈیٹا پر ساتھی (P451) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد سیزاریئن[8]، قلوپطرہ سیلین دؤم[8]، الیگزینڈر ہیلیوس[8]، بطلیموس فلاڈیلفس[9]  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد بطلیموس آلیٹس  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ قلوپطرہ پنجم  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
بطلیموس دوازدہم تھیئوس فلاپاٹر[6]، بطلیموس چہاردہم[6]  ویکی ڈیٹا پر بہن/بھائی (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان بطلیموسی خاندان  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
فرعون مصر[10]   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
29 اگست 51 ق.م  – 12 اگست 30 ق.م 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بطلیموس آلیٹس 
سیزاریئن  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ مقتدر اعلیٰ[6]  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان کوئنے یونانی  ویکی ڈیٹا پر مادری زبان (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان کوئنے یونانی[7]، مصری زبان، آرامی زبان، میریاٹک زبان، لاطینی زبان، سریانی زبان، قدیم عربی، مادی زبان، پارتھی زبان  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مصر کی ملکہ۔ ایک تاریخ ساز عورت تھی۔ 48 قبل مسیح میں اس نے خود سے عمر میں تیس سال بڑے جولیس سیزر کو اپنے دام میں گرفتار کیا اور اس کے بچے کی ماں بنی۔

بعد میں اس نے مارک انتھونی کے ساتھ پینگیں بڑھالیں، تاہم اس معاشقے کا انجام اچھا نہیں ہوا اور جب انتھونی کو جنگ میں شکست ہوئی تو اس نے اور قلوپطرہ دونوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کر ڈالا۔

قلوپطرہ مصر کی وہ شہرہ آفاق فرعون ملکہ تھی جس کے ہوش ربا حسن اور قیامت خیز جوانی نے سلطنت روم کے نامور جرنیلوں کو خاک و خون میں رنگ کر عظیم الشان سلطنتوں کو ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ قدرت نے اسے دلکش حسن اور جادوئی شخصیت سے نوازا تھا۔ لیکن افسوس کہ وہ اس حسن کی قیمت وصول کرتے ہوئے، خود نیلامی کی سولی پر چڑھ کر ایک نا قابل فراموش داستانِ عشق و بے وفائی بن کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔ مورخین کے مطابق وہ حسن و چاشنی اور ذہانت کے جادوئی ہتھیاروں سے لیس ایک پراسرار و عیار عورت تھی جو سلطنت روم پر قابض ہونا چاہتی تھی۔ لیکن تاریخ میں فرعونوں کے کردار اور روایات کے مطالعہ کے بعد، قلوپطرہ کی شخصیت اور انجام کا تجزیہ قدرے مختلف ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اکیاون قبل مسیح میں قلوپطرہ کا بڑا بھائی تخت نشین ہوا تو اس نے فرعونی روایات کے مطابق اپنی گیارہ سالہ کم سن بہن قلوپطرہ سے شادی کی۔ اس کی ہلاکت کے بعد تیرہ سالہ چھوٹے بھائی بطلیموس نے تخت سنبھالا تو اس نے بھی انہی روایات کے مطابق جب اپنی بہن سے شادی کی تو قلوپطرہ اٹھارہ سال کی بھرپور جوان اور خاوند تیرہ سال کا نابالغ بچہ تھا۔ گیارہ برس کی عمر میں بڑے بھائی جیسے بھرپور مرد کے ہاتھوں میں جنسی کھلونا بن کر جنون کا آتش فشاں بن جانے والی قلوپطرہ کے لیے گیارہ سالہ نابالغ خاوند اس کی فطری طلب میں آگ لگانے کا موجب بن گیا۔ ایک نابالغ خاوند کی نااہل رفاقت نے، قلوپطرہ کو جنسی تسکین کے لیے خوب سے خوب مرد کی تلاش میں سرگرداں ایک ایسی ”جنسی بلی” بنا کر رکھ دیا جس نے پھر اپنی موت کو گلے لگانے تک کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ کم سن شاہ بطلیموس کے اقتدار کا دور پرآشوب اور امور مملکت پر گرفت انتہائی کمزور تھی۔ مگر اس نے اپنے درباری امرا کی مدد سے منہ زور بیوی قلوپطرہ کو مصر چھوڑ کر شام میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ بطلیموس کی ہلاکت پر قلوپطرہ نے خاندان فرعون شاہی کا تخت و تاج سنبھال کر خدائی کے دعویدار فرعونوں کی روایات کے مطابق خود کو دیوی کہلوانا شروع کر دیا۔

قلوپطرہ کے معرکۂ عشق کا پہلا شکار روم کا وہ شہرہ آفاق حکمران جولیس سیزر تھا، جو خاوند اور اس کی ثالثی کے لیے مصر آیا۔ مگر اس کے سحر انگیز حسن اور زلفوں کا اسیر ہو کر دو برس تک مصر میں مقیم رہا اور بنا شادی رچائے ہی قلوپطرہ کے ناجائز بچے کا باپ بن گیا۔ اپنے سب سے بڑے حریف جنرل پامپے کو شکست دینے کے بعد جولیس سیزر نے تخت روم سنبھالا تو قلوپطرہ اس کی قربت اور دیگر پراسرار عزائم کے لیے روم میں ہی مقیم ہو گئی اور یوں عملی طور مصر سلطنت روم کا ایک صوبہ بن کر رہ گیا۔ اپنے بے وفا دوست بروٹس اور رومی سینٹروں کے ہاتھوں جولیس سیزر کا قتل ہوا تو قلوپطرہ اس کے مونہ بولے بیٹے اور نائب جنرل انطونی سے تعلقات بنا کر اس کے تین بچوں کی ماں بن گئی۔ مارک انطونی شاہ آگسٹس کا بہنوئی بھی تھا، لہذا قلوپطرہ اور انطونی کا یہی تعلق دونوں کے درمیان میں جنگ و جدل کے سلسلے کا ایک سبب بنا۔ جنسی ہوس کے لیے مصر سے روم تک بھٹکتی ہوئی قلوپطرہ کی یہ تیسری اور آخری شادی تھی۔ انطونی نے جنرل آکٹیوین سے شکست کھائی تو قلوپطرہ میدان جنگ سے فرار ہو کر ایک خفیہ پناہ گاہ میں جا چھپی۔ اس دوران میں اس نے انطونی کو شکست دینے والے فاتح جرنیل آکٹیوین سے عاشقانہ راہ و رسم بنانے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام ہوئی۔ اس نئی آرزوئے ہوس میں بے مرادی کے بعد اس نے انطونی کے ساتھ بے وفائی کا جو کھیل کھیلا اس کا نتیجہ صرف انطونی کی نہیں بلکہ خود اس کی بھی عبرتناک موت ٹھہرا۔ تاریخ کے مطابق اس نے اپنی ایک خادمہ کے ذریعے انطونی تک یہ افواہ پہنچائی کہ قلوپطرہ نے اس کی شکست سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لی ہے۔ عشق میں مبتلا انطونی نے اس افواہ کو حقیقت سمجھا اور تلوار سے اپنا سینہ چاک کر کے خود کشی کر لی۔ اور پھر انطونی کی خودکشی کی خبر سننے پر، پچھتاوے کی آگ میں جلتی ہوئی قلوپطرہ خود کو زہریلے مصری کوبرا سانپ سے ڈسوا کر تاریخ میں بے وفائی کی علامت بن کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئی۔ کچھ مورخین کے مطابق عیار قلوپطرہ نے صرف جنسی تعلقات کیلے نہیں بلکہ، وسعتِ اقتدار کے لیے رومی سلطنت کو تباہ و برباد کر کے روم پر قابض ہونے کے لیے جولیس سیزر کی زندگی تک رسائی کی تھی۔ لیکن کچھ مبصرین کے مطابق جولیس سیزر کے اپنے ہی قابل اعتماد دوست بروٹس کے ہاتھوں قتل میں بھی اسی قلوپطرہ کا شاطرانہ ذہن کارفرما تھا۔ کچھ مبصرین کے مطابق اس نے اپنے شوہر انطونی کو شکست دینے والے جنرل آکٹیوین تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اسی جرنیل کے ایما پر ہی انطونی کو موت کی طرف دھکیلنے کی سازش بھی کی ہو گی۔

حوالہ جاتترميم