جولیس سیزر (Julius Caesar) (پیدائش جولائی 100 قبل مسیح، وفات 15 مارچ 44 قبل مسیح) رومی سلطنت کا ایک فوجی جرنیل اور حکمران تھا جس نے رومی سلطنت کو اتنی توسیع دی کہ یہ افریقا سے لے کر یورپ تک پھیل گئی۔

جولیس سیزر
(لاطینی میں: C.Iulius C.f.C.n. Caesar ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Gaius Iulius Caesar (Vatican Museum).jpg
 

مناصب
قدیم رومی سینیٹر[1]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اختتام منصب
44 ق.م 
رومی کونسل (5 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
44 ق.م  – 44 ق.م 
رومی کونسل (4 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
45 ق.م  – 45 ق.م 
رومی کونسل (3 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
46 ق.م  – 46 ق.م 
رومی کونسل (2 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
48 ق.م  – 48 ق.م 
رومی گورنر (2 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
58 ق.م  – 49 ق.م 
رومی کونسل[1] (1 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
59 ق.م  – 59 ق.م 
رومی گورنر (1 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
61 ق.م  – 60 ق.م 
در ہسپانیا بعید 
معلومات شخصیت
پیدائش جولا‎ئی 100 ق م[2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
روم[5]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 مارچ 44 ق م[6][7][8][9]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات تیز دار ہتھیار کا گھاؤ  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاتل بروٹس  ویکی ڈیٹا پر (P157) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش روم  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت قدیم روم  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ساتھی قلوپطرہ
سرویلیا[10]  ویکی ڈیٹا پر (P451) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد جولیا[11][12]،  سیزاریئن[12]،  آگسٹس[12]  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  یاداشت نگار،  حاکم[13]،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان لاطینی زبان  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

وہ سکندر اعظم سے بے حد متاثر تھا اور اس سے بڑھ کر فاتح عالم بننا چاہتا تھا تاہم دنیا فتح کرنے میں سکندر اعظم کی ہمسری نہ کرسکا۔ سکندر اعظم کی طرح جولیس سیزر بھی پیدائشی طور پر مرگی کا مریض تھا۔ وہ دورے کی حالت میں سر دربار بے ہوش ہوجاتا۔

اس نے حریف جرنیل پومپی کو شکست دی اور اسکندریہ میں اسے قتل کر دیا گیا۔

جب اس نے مصر فتح کیا تو وہاں کی ملکہ قلوپطرہ کی زلفوں کا اسیر ہو گیا اور کافی عرصہ وہاں مقیم رہا۔ مصر سے واپسی پر سیزر نے سربراہ مملکت کے طور پر روم کے امور سنبھالے اور شاید وہی دنیا کا پہلا جرنیل بادشاہ تھا۔

ایک طرف تو سلطنت روم کی کونسل نے سیزر کو اٹلی کے علاوہ سبھی ملکوں کا بادشاہ بنانا طے کرکے اس کے تخت پر بیٹھنے کی تاریخ مقرر کر لی دوسری طرف اس کے ساتھی مارکوس جونیئس بروٹس نے دیگر کے ساتھ مل کر اس کے قتل کی سازش شروع کردی۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ سیزر کو بادشاہ بننے کا کوئی حق نہیں کیونکہ بادشاہ بننا روم کے قانون کے خلاف ہے۔ اس سے صرف سیزر ہی روم کے سیاہ و سفید کا مالک بن جاتا۔

15 مارچ 44 قبل مسیح میں اسے سر دربار قتل کر دیا گیا۔ قاتلوں کا سربراہ بروٹس تھا۔ سیزر نے قاتلانہ حملے میں اپنے ساتھی کی شرکت دیکھی تو کہا کہ بروٹس تم بھی؟ پھر تو سیزر کو ضرور مر جانا چاہیے۔

سیزر کو قتل کر کے قاتلوں نے اس کے خون میں ہاتھ دھوئے اور آزادی کے نعرے لگائے۔

سیزر کے قتل کے نتیجے میں روم میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں بروٹس کے تمام ساتھی مارے گئے جبکہ اس نے خود کشی کرلی۔

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

نگار خانہترميم

حوالہ جاتترميم

  1. مصنف: Thomas Robert Shannon Broughton — عنوان : The Magistrates of the Roman Republic — ناشر: Society for Classical Studies — ISBN 0-89130-812-1
  2. http://www.bbc.co.uk/history/historic_figures/caesar_julius.shtml
  3. https://books.google.com/books?id=9Q83DAAAQBAJ&pg=PA194#v=onepage&q&f=false
  4. بی این ای - آئی ڈی: http://datos.bne.es/resource/XX841352 — اخذ شدہ بتاریخ: 8 فروری 2019
  5. ربط : https://d-nb.info/gnd/118518275  — اخذ شدہ بتاریخ: 10 دسمبر 2014 — اجازت نامہ: CC0
  6. https://books.google.com/books?id=PuwDLlf6OXAC&pg=PA17&dq=%2215+March%22+44+BCE+Julius+Caesar&source=gbs_toc_r&cad=3#v=onepage&q=15%20March&f=false — مصنف: Michael Parenti — صفحہ: 167 — ناشر: The New Press — ISBN 978-1-4587-8435-3
  7. https://books.google.com/books?id=oR-ljeBaWIcC&pg=PA30#v=onepage&q&f=false — مصنف: Adrian Goldsworthy — صفحہ: 505
  8. https://books.google.com/books?id=oR-ljeBaWIcC&pg=PA30#v=onepage&q&f=false — مصنف: Leofranc Holford-Strevens اور Bonnie J. Blackburn — عنوان : The Oxford Companion to the Year — صفحہ: 119, 671 — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
  9. Brockhaus Enzyklopädie online ID: https://brockhaus.de/ecs/enzy/article/caesar — اخذ شدہ بتاریخ: 8 فروری 2019
  10. https://erenow.net/ancient/thejoyofsexus/25.php
  11. مصنف: Nikolai Petrovich Obnorsky — عنوان : Юлия — شائع شدہ از: Brockhaus and Efron Encyclopedic Dictionary. Volume XLI, 1904
  12. http://www.strachan.dk/family/iulius_patrician.htm
  13. http://collection.britishmuseum.org/id/person-institution/58909