قومی جمہوری اتحاد (بھارت)

قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) ہندوستان کی مرکزی سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے[2]. 1998 میں اس کے قیام کے وقت، یہ اتحاد بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں کیا گیا تھا اور اس اتحاد میں 13 ریاستوں کی جماعتیں شامل تھیں۔ اس کے قائد سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی تھے . اتحاد کی نمائندہ سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی تھے اور اتحاد کی قیادت کی نیابت بھی ان کے سپرد تھی۔ نریندر مودی ، موجودہ وزیراعظم قومی مجلس (لوک سبھا) رہنما ہیں اور ارون جیٹلی ، مالیاتی وزیر، ریاستی مجلس (راجیہ سبھا) کے رہنما ہیں۔ قومی جمہوری اتحاد نے 1998 سے 2004 تک حکومت کی اور دوبارہ 2014 ء کے عام انتخابات میں اقتدار میں آئی۔[3] اس کے رہنما، نریندر مودی کو 26 مئی 2014 کو بھارت کے وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا گیا.

قومی جمہوری اتحاد
مخففقومی جمہوری اتحاد (این۔ ڈی۔ اے۔)
چیئرمینامت شاہ
بانیبھارتیہ جنتا پارٹی
لوک سبھا رہنمانریندر مودی
راجیہ سبھا رہنماارون جیٹلی
سابق وزیر اعظماٹل بہاری واجپائی (1998, 1999–2004)
تاسیس1998
سیاسی حیثیتMajority: Centre-right to Right-wing
لوک سبھا میں نشستیں
307 / 545
[1](موجودہ 541 ارکان + 1 اسپیکر)
راجیہ سبھا میں نشستیں
89 / 245
حکومت میں ریاستوں و یونین علاقوں کی تعداد
17 / 31

تاریخترميم

 
وزیر اعظم نریندر مودی

قومی جمہوری اتحاد کا قیام مئی ٨٩٩١؁ء کو عام انتخابات کے مقابلے میں شامل ہونے کے لیے کیا گیا۔ یہ اتحاد بھارتی جنتا پارٹی کی قیادت میں کیا گیا تھا، جس میں کئی ریاستی پارٹیاں، جیسے کہ سمتا پارٹی، آل انڈیا انا دراوڈا منیترا کازا گام (اے اے اے ڈی ایم کے) شیوا سینا [4][5] اور تیلو دیسم پارٹی (ٹی ڈی پی) شامل تھیں۔ قومی جمہوری اتحاد 1998 کے انتخابات میں معمولی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی اور اٹل بہاری واجپئی وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہوئے۔[6] لیکن یہ حکومت ایک سال کے اندر اندر ختم ہو گئی ہے کیونکہ (اے اے اے ڈی ایم کے) نے اس کی حمایت سے انکار کر دیا۔ بعد میں چند علاقائی جماعتوں کے داخلے کے بعد، قومی جمہوری اتحاد نے 1999 کے انتخابات میں بڑی اکثریت کے ساتھ جیت حاصل کی۔ اور اس دفعہ مکمل پانچ سالہ مدت کے لیے اٹل بہاری واجپائی وزیر اعظم بنائے گئے۔

قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) نے 2004 کے آغاز میں ہی شیڈول کے چھ ماہ قبل انتخابات کا مطالبہ کیا. اس وقت کا انتخاب (انڈیا شائنینگ) روشن ہندوستان کے نعرے پر مبنی تھا، لیکن ہندوستان کی معاشی صورت حال میں تیز رفتار تبدیلی کی ذمہ دار، این ڈی اے کو شکست سے دوچار ہوناپڑا، قومی جمہوری اتحاد نے صرف 186 نشستیں حاصل کی تھی۔ متحدہ ترقی پسند اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے کانگریس نے ٢٢٢ نشستیں حاصل کی اور منموہن سنگھ وزیر اعظم کے طور پر اٹل بہاری واجپائی کی جگہ منتخب کیے گئے۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Members: Lok Sabha". loksabha.nic.in. لوک سبھا سیکریٹریٹ. اخذ شدہ بتاریخ 12 مارچ 2019. 
  2. Simta Prakash (17 June 2013). "NDA implodes". Mid-day.com. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2014. 
  3. "BJP's 31% lowest vote share of any party to win majority". 
  4. Keith Jones (9 October 1999). "Hindu chauvinist-led coalition to form India's next government". World Socialist Web Site. اخذ شدہ بتاریخ 27 ستمبر 2013. 
  5. استشهاد فارغ (معاونت) 
  6. "Rediff on the NeT: TDP helps Vajpayee wins confidence vote". Rediff.com. اخذ شدہ بتاریخ 04 جنوری 2011.