محمد مہدی عاکف

محمد مہدی عاکف (عربی زبان: محمد مهدى عاكف) (جولائی 12، 1928 – ستمبر 22، 2017ء) اخوان المسلمون کے 2004ء سے 2010ء تک سربراہ رہے، یہ ایک مصری اسلامی سیاسی تحریک ہے۔ عاکف مہدی ساتویں "مرشد عام" (عربی زبان: مرشد العام) تھے، اس عہدے پر وہ اپنے پیشرو مامون الہضیبی کی موت کے بعد فائز ہوئے تھے۔ عاکف کو 4 جولائی 2013ء کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔[1] 14 جولائی 2013ء کو مصر کے نئے پراسیکیوٹر جنرل بشام بارک نے ان کے اثاثوں کو منجمد کر دیا۔[2]

محمد مہدی عاکف
محمد مهدي عاكف
Mohammad Akif.jpg
مصری اخوان المسلمون کے ساتویں مرشد عام
عہدہ سنبھالا
جنوری 2004 – جنوری 2010
پیشرو مامون الہضیبی
جانشین محمد بدیع
ذاتی تفصیلات
پیدائش 12 جولائی 1928 (1928-07-12)
كفر عوض السنیطہ، محافظہ دقہلیہ، مصر
وفات ستمبر 22، 2017(2017-90-22) (عمر  89 سال)
قاہرہ، مصر
مادر علمی جامعہ عین شمس

فہرست

ابتدائی زندگیترميم

مہدی عاکف کی پیدائش 1928ء کو شمالی مصر کے صوبہ دقللیہ کے شہر كفر عوض السنیطہ میں ہوئی۔ اسی سال اخوان المسلمون قائم ہوئی۔

عاکف نے منصورہ پرائمری اسکول اور قاہرہ فواد اول سیکنڈری اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے جسمانی تعلیم کے اعلیٰ ادارے میں داخلہ لیا اور مئی 1950ء میں گریجویشن کیا۔ جس کے بعد انہوں نے فواد اول سیکنڈری اسکول میں استاد کے طور پر کام کیا۔

سیاسی زندگیترميم

پہلی بار 1940ء میں اخوان میں شامل ہوئے، اس وقت اخوان کی قیادت حسن البنا کر رہے تھے۔ عاکف قانون فیکلٹی میں شامل ہو گئے اور جامعہ ابراہیم (موجودہ؛ جامعہ عین شمس) میں اخوان المسلمون کی تربیتی نشستوں کی ذمہ داری لے لی۔[3] یہ 1952ء کے انقلاب سے قبل کینال پر برطانوی قبضے کے خلاف جدوجہد کا دور تھا، اس کے بعد انہوں نے کامران الدین حسین کو ذمہ داری دی۔

ذاتی وندگیترميم

مصری حکام نے 2013ء میں فوجی تاخت کے بعد قید کی سزا دیدی تھی۔ ان کی ضعیفی و خراب صحت کے باوجود ان کو جیل میں بھی تنہائی کی سزا تھی، وہ سب سے الگ تھلگ تھے، ان کی بیٹی نے تصدیق کی کہ ہفتے میں صرف ایک بار ملاقات کی اجازت تھی۔[4]

وفاتترميم

22 ستمبر 2017ء کو 89 سال کی عمر میں جیل ہی میں وفات پائی۔[5][6]


مزید دیکھیےترميم

مذہبی القاب
پیشرو 
مامون الہضیبی
مرشد عام اخوان المسلمون
2004–2010
جانشین 
محمد بدیع

حوالہ جاتترميم

  1. "سابقہ اخوان المسلمون مردشد عام عاکف مہدی گرفتار"۔ اہرام آن لائن۔ 4 جولائی 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 جولائی 2013۔ 
  2. "Asset freeze for Islamist leaders goes into action". Egypt Independent. 15 جولائی 2013. http://www.egyptindependent.com/news/asset-freeze-islamist-leaders-goes-action۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 جولائی 2013. 
  3. Saddiq, 'Ali, Al Ikhwan al Muslimun Bayna Irhab Faruq wa 'Abd al-Nasir (The Muslim Brothers Between the Terrorism of Faruq and Nasser)، Cairo, Dar-al-'Atisam, 1987, p. 59
  4. "Former Muslim Brotherhood Leader’s Health Deteriorates in Prison Hospital"۔ 
  5. "Former Egypt Brotherhood leader Akef dies aged 89"۔ www.enca.com (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2017-09-22۔ 
  6. Press، The Associated (2017-09-22). "Former Leader of Muslim Brotherhood Mahdi Akef Dies at 89" (en-US میں). The New York Times. آئی ایس ایس این 0362-4331. https://www.nytimes.com/aponline/2017/09/22/world/middleeast/ap-ml-egypt-obit-akef-۔html. 

بیرونی روابطترميم