جودھا بائی

مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کی بیوی اور مغل ملکہ۔ شہنشاہ نورالدین جہانگیر کی والدہ۔ راجہ بہاری مل کی بیٹی۔
(مریم الزمانی سے رجوع مکرر)

مریم الزمانی بیگم صاحبہ (دیگر نام: رکماوتی صاحبہ، راج کماری ہیرا کنواری، جودھا بائی اور ہرکھا بائی) ایک راجپوت شہزادی تھیں جو مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر سے شادی کے بعد ملکہ ہندوستان بنیں۔ وہ جے پور کی راجپوت ریاست آمیر کے راجا بھارمل کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں۔ آپ کے بطن سے ولی عہد و ہندوستان کے اگلے بادشاہ نور الدین جہانگیر پیدا ہوئے۔

جودھا بائی
Jodhbai.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 اکتوبر 1542  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آمیر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 19 مئی 1623 (81 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آگرہ[2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مقبرہ مریم الزمانی،  آگرہ  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات جلال الدین اکبر (6 فروری 1562–27 اکتوبر 1605)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نورالدین جہانگیر  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد راجا بہارا مل  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان آمیر  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ہمسر ملکہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
6 فروری 1562  – 27 اکتوبر 1605 

زندگیترميم

آپ یکم اکتوبر 1542ء کو پیدا ہوئیں اور 6 فروری 1562ء کو تقریباً 20 سال کی عمر میں آپ کی شادی اکبر سے ہوئی۔راجستھان کے آخری آزاد راجا مالدیو کی جانب سے چھوٹے بیٹے کو ولی عہد بنانے کے فیصلے پر حقیقی جانشیں بھیرمل نے اکبر کی مدد سے اپنا حق حاصل کیا اور پھر اپنی بیٹی مغل بادشاہ سے بیاہ دی۔ آپ اکبر کی تیسری اہلیہ تھیں۔ اس سے قبل اکبر بے اولاد رقیہ بیگم سے پہلی اور اپنے جرنیل بیرم خان کی بیوہ سلیمہ سلطان سے عقد کر چکے تھے۔ شادی کے بعد ہیرا کنواری کو مریم الزمانی کا خطاب دیا گیا۔

مریم زمانی مسجدترميم

آپ کے اعزاز میں آپ کے بیٹے نور الدین جہانگیر نے شہر لاہور میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جو مریم الزمانی بیگم شاہی مسجد کہلاتی ہے اور آج بھی موجود ہے۔

جودھا بائیترميم

 
فتح پور سیکری میں مریم زمانی کا محل

یہ بات غلط طور پر پھیلی ہوئی ہے کہ اکبر کی راجپوت بیوی اور جہانگیر کی ماں "جودھا بائی" کے طور پر مشہور تھی۔[5] جودھا بائی کے ذکر سے جہانگیر کی آپ بیتی "تزک جہانگیری " اور اکبر کی لکھوائی گئی خود نوشت "اکبرنامہ" بھی اس سے خالی ہے۔۔[6]

علی گڑھ مسلم جامعہ کی تاریخ دان پروفیسر شیریں موسوی کہتی ہیں کہ "جودھا بائی" کا نام پہلی بار 18 ویں اور 19 ویں صدی کی تاریخی تصانیف میں ملتا ہے۔ پٹنہ کے خدا بخش کتب خانے کے ڈائریکٹر و مؤرخ امتیاز احمد کے مطابق اکبر کی بیوی کے لیے "جودھا" کا نام پہلی بار لیفٹیننٹ کرنل جیمز ٹوڈ نے اپنی کتاب Annals and Antiquities of Rajasthan میں استعمال کیا۔[7]

الہ آباد وسطی جامعہ کے پروفیسر این آر فاروقی کے مطابق جودھا بائی اکبر کی راجپوت ملکہ کا نام نہیں تھا؛ بلکہ یہ جہانگیر کی راجپوت بیوی مانمتی جودھپوری کو کہا جاتا تھا جس کا اصل نام جگت گوسائیں تھا۔

انتقالترميم

مریم زمانی کا انتقال 1622ء میں ہوا اور آپ کو آگرہ میں پہلے سے بنائے گئے مزار میں مسلم عقائد کے تحت دفن کیا گیا۔

حوالہ جاتترميم

  1. Collective Biographies of Women ID: http://cbw.iath.virginia.edu/women_display.php?id=12445 — بنام: Jodh Baie — عنوان : Collective Biographies of Women
  2. http://www.tripadvisor.in/Hotel_Review-g297683-d3685298-Reviews-Hotel_Red_Inn-Agra_Uttar_Pradesh.html
  3. http://www.tripadvisor.in/Hotel_Review-g297683-d3701020-Reviews-Adhiraj_Palace_Hotel-Agra_Uttar_Pradesh.html
  4. http://www.tripadvisor.in/Hotel_Review-g297683-d5809873-Reviews-Hotel_S_R_Palace-Agra_Uttar_Pradesh.html
  5. اٹل سیٹھی (24 جون 2007ء). "'Trade, not invasion brought Islam to India'" (بزبان انگریزی). ٹائمز آف انڈیا. 
  6. ایشلے ڈی میلو (10 دسمبر 2005ء). "Fact, myth blend in re-look at Akbar-Jodha Bai" (بزبان انگریزی). ٹائمز آف انڈیا. 
  7. سید فردوس اشرف (5 فروری 2008ء). "Did Jodhabai really exist?" (بزبان انگریزی). ریڈف ڈاٹ کام.