مزاری قبیلہ بلوچوں کا ایک بڑا قبیلہ ہے اس میں مختلف شاخیں پائی جاتی ہیں اس قبیلے کی سرداری بالاچھانی قبیلے کے پاس ہے اس میں دیگر شاخیں درج ذیل ہیں بالاچھانی ، لہلانی ، دولانی ، سیلاتھانی ، سجرانی ، ڈیہوانی ، گہانی ، سرگانی ، سوڈوانی(زونوانی ، چار بھائی غریب نواز ، غلام رسول ، ساون ، گامن زنو کی اولاد ہیں اس لیے اس کی ایک شاخ کو زنونی بھی کہا جاتا ہے) ، عمرانی ، کیٹاری ، لاٹھاڑی ، بنگیانی اور دیگر بھی ہیں۔

سرداران ( بلخ شیر محمد مزاری ، عاطف خان مزاری ، دوست محمد خان مزاری ، دیگر)

یہ قبیلہ پنجاب کے علاقے رحیم یار خان، صادق آباد، بھونگ، احمد ہور، چوک سویترا، بھونگ کے آگے سارے کچے کے علاقے، رجحان مزاری، راجن پور، علی پور، عمر کوٹ، ڈیرہ غازی خان وغیرھ میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اس قبیلے کا وجود ہوت + رند قبیلوں سے ہوا اس کا ماخذ یہ دو قبیلے ہیں۔ مغلوں کے دور میں جب ہمایوں نے خطی خان سے خوش ہو کر بلوچوں کو پنجاب اور سندھ کی زمینیں دی تو جن قبائل نے ہجرت کی ان میں مزاری بھی شامل تھے یہ پہلے کشمور آئے پھر آہستہ آہستہ پورے پنجاب میں پھیل گئے۔ ان کی اکثریت کچے کے علاقوں میں پائی جاتی ہے۔

حوالہ جاتترميم