موبائل فون (Mobile Phone: انگریزی) یا محمول کو سیل فون (Cell Phone) بھی کہا جاتا ہے اور یہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی جانے والی ایک ایسی برقی اختراع (Electronic Device) ہوتی ہے جس کے ذریعے ٹیلی فون (Telephone) کا استعمال آزادانہ اور دوران حرکت و سفر کسی بھی جگہ بلا کسی قابل دید رابطے (یعنی تار وغیرہ کے بغیر) کیا جا سکتا ہے۔ آج کل جو جدید موبائل فون تیار ہو رہے ہیں انھیں اسمارٹ فون کہا جاتا ہے۔ ان موبائل فونز میں نہ صرف انٹرنیٹ سے روابط،برقی خط اور پاکٹ سوئچنگ وغیرہ کی سہولیات میسر ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان میں تصاویر بھیجنے اور موصول کرنے کے لیے کثیرالوسیط پیغامی خدمت، کیلنڈر، الارم، کیلکولیٹر، کیمرا اور ویڈیو بنانے کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں۔

موبائل فون کا ارتقا

3 اپریل 1973ء کو موٹورولا کے ایک انجینئر مارٹن کوپر نے موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے پہلی موبائل کال کی۔

تاریخ

ترمیم

تاریخی لحاظ سے 1908ء میں میں امریکا میں درج کرایا جانے والا ایک ایسا پیٹنٹ ملتا ہے کہ جو لاسلکی موبائل فون کے کے لیے 887357 کے عدد کے تحت موجود ہے[1]، اسے کنتاکی کے Nathan Stubblefield نے حاصل کیا تھا، یہ دراصل ایک قسم کی تحریضی (induction) اختراع تھی نا کہ اشعاعی (radiation)، اسی وجہ سے اسے ریڈیو کی پہلی ایجاد نہیں سمجھا جاتا [2]۔ 1947ء میں بیل تجربہ گاہ کے مہندسین (engineers) نے اے ٹی اینڈ ٹی پر موبائل (mobiles) کے لیے cellsمتعارف کروائے جنہیں بیل تجربہ گاہ ہی نے 1960ء میں مزید ترقی دی۔ غلط استعمال کی بدولت موبائل فون کے خلاف پنچایتوں میں نت نئے فیصلے کیے جا رہے ہوں لیکن گلوبل ریسرچ گروپ مارکیٹ اسٹینڈ مارکیٹس کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں رواں برس موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 5 اعشاریہ 5 بلین تک پہنچ جائے گی۔ نوبت یہ آپہنچی ہے کہ کینیڈا کی اسمارٹ فون بنانے والی کمپنی بلیک بیری کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک اپنے نئے اسمارٹ فون ’بلیک بیری Z10‘ کے 10 لاکھ سیٹ فروخت کیے ہیں۔ کمپنی کے توقع سے بہتر نتائج کے مطابق اس نے پہلی سہ ماہی میں90 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا منافع کمایا جبکہ گذشتہ سال انہی دنوں میں کمپنی نے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تھا۔ بلیک بیری Z10 کو بلیک بیری کمپنی کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جسے ایپل انکارپوریشن اور اینڈروئیڈ کے موبائل فونوں کے ساتھ مقابلہ کرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلیک بیری Z10 گذشتہ ایک ماہ سے کینیڈا، برطانیہ اور دیگرممالک میں فروخت کے لیے موجود ہے۔گذشتہ ہفتہ اس کو امریکا میں بھی فروخت کے لیے پیش کیا گیا جو اس کے لیے ایک اہم منڈی ہے لیکن اس کی زیادہ تشہیر نہیں کی گئی۔ ان اعدادوشمار میں امریکا میں فروخت کے اعدادوشمار شامل نہیں ہیں۔ بلیک بیری کمپنی کو اس سے قبل ’ریسرچ ان موشن‘ کہا جاتا تھا لیکن گذشتہ سال کمپنی نے اپنا نام بدل لیا تھا۔ مبصرین ان نتائج پر تبصرہ کرنے میں کافی محتاط تھے اور ان کا کہنا تھا بلیک بیری Z10 کا اسی کمپنی کے دوسرے موبائل فون Q10 کے ساتھ موازنہ اور اس کی کامیابی پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ رواں ہفتہ کے آغاز میں بلیک بیری کے حصص گراوٹ کا شکار ہوئے تھے جب امریکا کے بڑے بروکریج اداروں نے امریکا میں اس کی فروخت کے آغاز پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ انھیں نتائج میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے گذشتہ سال کے دوران 30 لاکھ صارفین سے ہاتھ دھوئے ہیں لیکن اب اس کے موبائل فون70 کروڑ 60 لاکھ افراد کے استعمال میں ہیں جبکہ 12ماہ قبل70 کروڑ 90لاکھ افراد کے استعمال میں تھے۔ بلیک بیری کے مطابق اس نے اس سال کے پہلے 3 مہینے کے عرصہ میں 60 لاکھ موبائل فون فروخت کے لیے بھجوائے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسے نئے آلے کی ایجاد کا دعویٰ کیا ہے جو جلد کے اندر پہنچتے ہی خون میں شوگر کی مقدار کے بارے میں تفصیلات موبائل فون پر بتا دیتا ہے۔ سوئٹزر لینڈ کے سائنسدانوں نے وائرلیس پروٹو ٹائپ نامی اس آلے کو تیار کیا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً نصف انچ یا 14 ملی میٹر لمبے اور دو ملی میٹر چوڑے اس آلے کے ذریعے ایک ساتھ پانچ اقسام کے بلڈ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ معروف سائنس دان سینڈرو کرارا اور پروفیسر جیوانی دی میشیلی کے بقول جلد کے اندر نصب ہونے والا یہ آلہ منفرد ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں متعدد کام کر سکتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ یہ آلہ آئندہ چار سال کے اندر مریضوں کے لیے دستیاب ہو سکے گا۔ اس آلے کی ساخت اس طرح کی ہے کہ اس میں نصب ایک سوئی شکم، ٹانگ یا بازو کی کھال کے نیچے بین خلوی سطح میں ڈالی جا سکتی ہے۔ یہ سوئی کئی مہینوں تک جسم کے مذکورہ حصوں کی کھال میں ڈال کر وہاں چھوڑی جا سکتی ہے اور مخصوص مدت کے بعد ہی اسے بدلنے کی ضرورت پیش آتی ہے یا اسے نکال دیا جاتا ہے۔اگر چہ اس آلے سے ملتی جلتی ڈیوائسوں کے تجربات دیگر محققین ایک عرصے سے کرتے آئے ہیں تاہم پروفیسر جیوانی دی میشیلی اور سانڈرو کرارا کے بقول ان کا یہ اسکن ٹیسٹ انوکھی نوعیت کا ہے کیونکہ یہ ایک وقت میں کئی مختلف چیزوں کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ ان سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ آلہ صحت سے متعلق کئی کہنہ مسائل کی نشان دہی میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ ہائی کولیسٹرول اور ذیابیطس کی صورت حال کا اندازہ لگانے میں نہایت کارآمد ثابت ہو گا۔ اس کے علاوہ اس آلے کی مدد سے کیمو تھراپی اور دیگر سخت ادویات کی مدد سے کیے جانے والے علاج کے اثرات کا بھی اندازہ لگایا جا سکے گا۔ پروفیسر دی میشیلی نے کہا ہے کہ یہ نیا آلہ مسلسل اور براہ راست مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرے گا جس کا استعمال مریضوں کی انفرادی قوت برداشت کے مطابق کیا جا سکے گا۔ اس کی ریڈنگز کا انحصار نہ تو عمر نہ وزن کے چارٹ اور نہ ہفتہ وار بلڈ ٹیسٹ پر ہو گا۔ اب تک اس آلے کا تجربہ سائنسدانوں نے صرف لیبارٹری میں اور جانوروں پر کیا ہے جبکہ اس آلے کی مدد سے خون میں کولیسٹرول اور گلوکوز کی مقدار کا قابل بھروسا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ جلد ہی اس آلے کی مدد سے ایسے مریضوں کے خون کا معائنہ قریب سے کر پائیں گے جنہیں بار بار بلڈ ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں۔ حال ہی میں دنیا بھر کے مالیاتی گروپوں نے مستقبل میں ’موبائل منی‘ یا موبائل فون کے ذریعے لین دین کے حوالے سے تفصیلی بحث کی۔ دنیا بھر میں اسمارٹ فونوں کے صارفین کیش یا کریڈٹ کارڈز کی جگہ اپنے فونوں کا استعمال کر سکیں گے۔ حال ہی میں اسپین کے شہر بارسلونا میں منعقد ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کے موقع پر ماسٹر کارڈ، ویزا کارڈ اور آن لائن پے منٹ سروس پے پال نئی سامنے آتی ہوئی اس صنعت میں اپنے اپنے حصے کی دوڑ میں مصروف رہے۔ دنیا کے اس سب سے بڑے موبائل میلے میں مختلف اداروں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ 2013میں موبائل صنعت 13.8 بلین یورو کے کاروباری حجم کی حامل رہے گی جبکہ 2018 تک یہ حجم 278 بلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے لیے مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی نگاہیں اس تیزی سے ترقی کرتی صنعت کی جانب مبذول ہو گئی ہیں۔ مالیاتی اداروں کے اندازے کے مطابق اس صنعت میں منافع کی شرح خاصی زیادہ ہو گی۔ ماسٹر کارڈ کی جانب سے حال ہی میں ایک نیا ڈیجیٹل پے منٹ نظام متعارف کروایا گیا ہے جو موبائل فون سمیت مختلف ڈیوائسوں کے ذریعے کام کر سکتا ہے۔ ماسٹر پاس کے نام سے سامنے آنے والے اس نئے نظام کو استعمال کرنے والے صارفین ایک ’سکیور کلاوڈ‘ میں اپنی بینکنگ اور ذاتی معلومات ذخیرہ کر سکتے ہیں اور اسے آن لائن یا کسی اسٹور پر خریداری کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ خریدار ماسٹر پاس کا استعمال کرتے ہوئے فون میں موجود خصوصی ریڈر کے ذریعے کسی چیز کے فیلڈ کمیونی کیشن یا این ایف سی کے قریب صرف موبائل فون لہرا کر بھی خریداری کر سکتا ہے۔ رواں ماہ کے اختتام پر یہ ماسٹر پریس آسٹریلیا اور کینیڈا میں شروع کیا جا رہا ہے اور بعد میں اسے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی جاری کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب ویزا کی جانب سے بھی سمارٹ فونز بنانے والے ادارے سیمسنگ کے ساتھ مل کر ایک نئے عالمی اتحاد کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت لوگ سیمسنگ اسمارٹ فونوں میں موجود NFC کے ذریعے رقم کی ادائی کر سکیں گے۔ ان دونوں اداروں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت اب سیم سنگ اپنے نئے فونوں میں ایک ایپلی کشن ویزا پے ویو متعارف کر دے گاجس کے ذریعے ویزا کا کانٹیکٹ لیس پے منٹ سسٹم پہلے ہی سے لوڈ ہو گا۔ اس نظام کے تحت بینکنگ ڈیٹا موبائل فون کے اندرنہ صرف موجود ایک چپ پر اتارا جا سکے گا بلکہ وہ انتہائی محفوظ بھی ہو گا۔ ویزا کے مطابق یہ معاہدہ تیزی سے آگے بڑھنے کے امکانات کا حامل ہے۔ تحقیقی ادارے ABI کے مطابق 2017 تک NFC ٹیکنالوجی کے حامل 1.95 بلین موبائل فون استعمال کیے جا رہے ہوں گے۔ پے پال پہلے ہی امریکا میں اس طرح کی ٹیکنالوجی متعارف کروا چکا ہے تاہم اس ٹیکنالوجی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ این ایف ایس NFC نظام پر بہت زیادہ انحصار کرنے سے پیدا ہونے والے نقصانات مختلف مسائل کا باعث بھی بن سکتے۔

حوالہ جات

ترمیم