منی بیگم

پاکستانی غزل گلوکارہ

منی بیگم (ولادت: 1946ء) کا اصل نام نادرہ بیگم ہے لیکن آپ اپنے تخلص منی بیگم سے مشہور ہیں۔ آپ پاکستانی غزل گلوکارہ ہیں۔ [2][3] [4][5] اب آپ شکاگو میں مقیم ایک امریکی شہری ہیں۔[6]

منی بیگم
ذاتی معلومات
مقامی ناممنی بیگم
پیدائشی نامنادرہ بیگم[1]
پیدائشمرشدآباد, مغربی بنگال
تعلقپاکستان
اصنافاردو غزل
پیشےغزل گلوکار
سالہائے فعالیتجون 20 ,1955– حال

ابتدائی زندگیترميم

منی بیگم بھارت کے مغربی بنگال کے کشتیہ میں پیدا ہوئیں۔ آپ سات بہن بھائی تھے۔جس میں آپ کا نمبر تیسرا تھا۔ منی بیگم نے سب سے پہلے مشہور گلوکار استاد خواجہ غلام مصطفیٰ وارثی سے موسیقی کا سبق لینا شروع کیا۔ اس کے بعد آپ نے تین سال تک میوزک اسکول میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اس نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔[6]

آپ کے والدین 1950ء کی دہائی کے اوائل میں ہندوستان سے مشرقی پاکستان چلے گئے تھے۔ مشرقی پاکستان بعد میں آزاد بنگلہ دیش بن گیا۔ آپ نے بی اے ایف شاہین اسکول، ڈھاکہ میں تعلیم حاصل کی۔ تاہم، 1971ء کی بنگلہ دیش کی آزادی جنگ کی وجہ سے آپ ہائی اسکول سے گریجویشن کرنے سے پہلے ہی پاکستان چلی گئیں۔[6]

کیریئرترميم

منی بیگم نے 1970ء کی دہائی میں بطور گلوکارہ اپنے کیریئر کا آغاز کراچی میں کیا تھا۔آپ نے اپنی غزلوں کا پہلا البم 1976 میں جاری کیا۔ پھر آپ نے اور بھی بہت سی مشہور غزلیں گائیں اور اس طرح آپ پاکستان کی ایک مشہور غزل گلوکارہ بن گئیں۔[7]

ذاتی زندگیترميم

منی بیگم کی شادی 80 کی دہائی میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں 1998ء میں طلاق ہو گئی تھی۔آپ کی دو بیٹیاں، منیبہ حسنین اور مینارہ عمر اور ایک بیٹا سید محمد اسد علی ہے۔

قابل ذکر غزلیںترميم

جہاں تک منی بیگم کی کامیاب غزلوں کی بات ہے تو فہرست بہت لمبی ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:

  • لذت غم بڑھا دیجئے، آپ پھر مسکرا دیجئے
  • جهوم برابر جهوم شرابی
  • ہر قدم زحمتیں
  • تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
  • ایک بار مسکرا دو
  • آوارگی میں حد سے گذر جانا چاہیے
  • چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
  • بیوفا سے بھی پیار ہوتا ہے
  • بھولنے والے سے کوئی کہہ دے ذرا
  • کسی کے غم میں وقار کھونا
  • ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
  • بجھی ہوئی شمع کا دھواں ہوں
  • مریضِ محبت انہی کا فسانہ

ایوارڈ اور پہچانترميم

2008ء میں صدر پاکستان کی جانب سے گورنر سندھ کے ذریعہ آپ کو تمغائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔[5]

حوالہ جاتترميم

  1. "Munni Begum, the Bengali refugee who won over Pakistan with her Urdu ghazals". 
  2. "Hit Songs of Munni Begum". پی ٹی وی. September 7, 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ July 27, 2016. 
  3. "World Music Day: Food for the soul". ڈاؤن. 
  4. "Munni Begum puts on enthralling performance at RAC". ڈاؤن. 
  5. ^ ا ب Sheikh، M. A. (April 26, 2012). Who's Who: Music in Pakistan. ISBN 9781469191591. 
  6. ^ ا ب پ "Munni Begum, the Bengali refugee who won over Pakistan with her Urdu ghazals". scroll.in. 
  7. "Melodious treat: Munni Begum's ghazals captivate audience". tribune.com.pk.