نئیگ شریف انگریزی (Naig Sharif)پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو کی تحصیل سیہون شریف میں ایک قدیم بستی اور پہاڑی وادی ہے جو سندھ پاکستان کی خوبصورت وادیوں میں سے ایک ہے۔[1] اب یہ بستی جیلانی خاندان کا مسکن اور اسلامی تبلیغ کا ایک اہم مرکز ہے۔ جیلانی خاندان کے مسکن بننے کے بعد اس بستی کو نئیگ شریف کہا گیا۔[2][3]

نئیگ شریف کی وادی
نئیگ شریف کا خوبصورت منظر

تاریخی پس منظرترميم

نئیگ شریف سیہون شریف سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں پہاڑون کی گود میں واقع ہے۔ یہ بستی قدیم ترین بستی ہے۔ نئیگ پر نئیگ نام نئیگ کی وادی میں سے بہنے والے برساتی نالے نئیگ کی نسبت سے پڑا۔ برطانوی ہندوستان کے آثار قدیمہ کے ماہر این جی مجمدارنے اپنی کتاب ایکسپلوریشنس ان سندھ میں ذکر کرتے ہوئے اس بستی کو کیلکولیتھک دور کی بستی قرار دیا تھا۔[4] اس بستی کے گردونواح میں کئی تاریخی مکانات ہیں۔

قمبر علی شاہ جیلانی کا مزارترميم

 
پير سيد قمبر علی شاہ کا مزار

نئیگ شریف کے جیلانی خاندان کی سینہ بہ سینہ روایات کے مطابق سید پیر قمبر علی شاہ جیلانی نورانی اپنے والد سید پیر چتن شاہ جیلانی کے ساتھ لعل شہباز قلندر کے دور میں ایران سے عراق اور عراق سے قلات بلوچستان میں رہائش اختیار کی۔ جہاں آج بھی سید پیر چتن جیلانی کا مزار واقع ہے۔ سید قمبر علی شاہ وہاں سے نقل مکانی کر کے سندھ کی چھوٹی بستی نئیگ میں سکونت اختیار کی اور مریدوں کا حلقہ بڑھایا۔ اس وقت اس کے مزار پر ماہِ ذو الحج میں سالانہ عرس منعقد ہوتا ہے۔ اس وقت قمبر علی شاہ جیلانی کا گادی نشین غلام شاہ جیلانی ہے۔

علی سے منسوب چشمہترميم

 
حضرت علی سے منسوب چشمہ

نئیگ شریف میں ایک گہرے پانی کا چشمہ ہے جسے کنواں بھی کہا جاتا ہے۔ روایات میں یہ چشمہ حضرت علی بن ابی طالب سے منسوب کیا جاتا ہے۔ چشمے کا پانی شفاف اور منظر بہت خوبصورت ہے۔ چشمے کا پانی شکم کے لیے مفید ہے۔ زائرین تبرک کے طور بھی پیتے ہیں۔

شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا تکیہترميم

 
نئیگ شریف میں شاہ لطیف کا تکیہ

نئیگ شریف میں حضرت علی رضہ سے منسوب چشمے کے کنارے شاہ عبداللطیف بھٹائی کا تکیہ ہے جس کے لیے روایات ہیں کہ سیہون شریف سے لاہوت لامکاں جاتے ہوئے صوفیوں اور سنیاسیوں کے ساتھ نئیگ شریف سے گذرے تھے اور کنوے کے کنارے نماز ادا کی تھی۔

مائی شاہ روہی کا مزارترميم

 
نئيگ شريف میں مائی شاہ روہی کا مزار

نئیگ شریف میں مائی شاہ روہی کا مزار ہے جو عام و خاص کی زیارت کا مرکز ہے۔ شاہ روہی کا مزار سید پیر قمبر علی شاہ جیلانی کے مزار کے قریب ہے۔

لکھمیر کی ماڑیترميم

 
نئيگ کی وادی میں قدیم لکھمیر کی ماڑی

ماڑی محل کو کہتے ہیں۔ نئیگ شریف کے جنوب میں ایک بڑا ٹیلہ ہے جو لکھمیر کی ماڑی سے مشہور ہے۔ دراصل یہ نئيگ شریف میں پہلی رہائشی بستی تھی جو لکھمیر نامی شخص سے منسوب ہے۔ لکھمیر کون تھا؟ اس سلسلے میں تاریخ خاموش ہے۔ این جی مجمدار نے اس ٹیلے کو قدیم ترین بتایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ٹیلہ کئلکولیتھک دور کا ہے۔ کن محققوں کا خیال ہے کے یہ بستی سندھ پر رائے خاندان (632ء-450ء) اور برہمن خاندان (712ء-632ء) کے دور میں آباد تھی۔ بعد میں یہ ویران ہو کر محض ٹیلے کی صورت میں رہ گئی ہے۔[5]

اسٹوپاترميم

 
نئيگ شريف میں بدھ مذہب کا استوپ

نئیگ شریف میں بدھ مذہب کا استوپ یا اسٹوپا (Stupa) ہے جو بہت قدیم ہے۔ سندھ کے حکمران رائے خندان بدھ مت کے پیروکار تھے۔ برہمن خاندان کے دور میں اس علاقے میں بدھ مذہب کو ماننے والے زیادہ تھے۔ ستوپ بددھ مذہب کی عبادت گاہ ہے اور اس مذہب کی ہی نشان دہی کرتا ہے۔

آٹے کی چکی اور زراعتترميم

 
چشمے پر چلنے والی چکی

نئیگ شریف میں چشمے کے پانی پر چلنے والی قدیم چکی ہے جو آج بھی چشمے کے پانی پر چلتی ہے مگر لوگ کم استعمال کرتے ہیں۔ نئیگ شریف کی وادی بہت سرسبز اور شاداب ہے، اس میں کھجور کے باغات زیادہ ہیں۔ پیپل اور دوسرے درخت اس وادی کے حسن کا مظہر ہیں۔ یہاں برساتی نالے نئیگ کے پانی پر ہر موسم میں فصل اگائے جاتے ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Naing". 14 مئی 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 ستمبر 2017. 
  2. Manchhar Lake water level rising after downpour - Daily Times
  3. https://www.sindhidunya.com/naing-mesmerizing-small-oasis/[مردہ ربط]
  4. این جی مجمدار، ایکسپلوریشنس ان سندھ، انڈس بپلیکیشنس کراچی، 1931ء
  5. عزیز کنگرانی، کاچھو ایک مطالعہ،انسٹی ٹیوٹ آف سندھولاجی جامشورو، 2009ء