نواب بھوپال ہندوستان کی وسطی ریاست بھوپال کے مسلمان حکمرانوں کا شاہی خطاب تھا۔ ریاست بھوپال کا قیام 1707ء میں عمل میں آیا جب نواب دوست محمد خان بہادر نے اِس کی بنیاد رکھی۔ ریاست بھوپال کے آخری مسلمان حکمران نواب حمید اللہ خان تھے۔ یکم جون 1949ء کو ریاست بھوپال بھارت میں ضم کرلی گئی۔نواب کے دادا افغانستان کے صوبه هرات کے پشتون قوم کی شاخ نورزئی سے تعلق رکھتے تھے

بیگم بھوپال ریاست بھوپال
سابقہ سیاسی عہدہ
Dost Mohammad Khan, of Caubal, Emir of Afghanistan.jpg
اولین عہدہدارنواب دوست محمد خان بہادر
آخری عہدہدارنواب حمید اللہ خان
سرکاری رہائش گاہاسلام نگر، بھوپال
آغاز  عہدہ1707ء
اختتام عہدہیکم جون 1949ء
موجودہ دعویدارمنصب ختم

نوابانِ بھوپالترميم

نواب بیگم بھوپالترميم

مزید پڑھیے: بیگم بھوپال

ممولہ بیگم برائے نام بیگم بھوپال تھیں کیونکہ اقتدار نواب فیض محمد خان بہادر کے ہاتھوں میں تھا مگر وہ ریاست بھوپال کی بااثر ترین سیاسی خاتون تصور کی جاتی تھیں۔ 1818ء میں نواب قدسیہ بیگم پہلی مسلمان خاتون حکمران تھیں جنہوں نے اقتدار سنبھالا۔ اُنہیں بیگم بھوپال کے خطاب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں نواب سکندر بیگم، سلطان شاہ جہاں، بیگم بھوپال، سلطان کیخسرو جہاں، بیگم بھوپال اِس عہدے پر فائز رہیں۔ بیگمات بھوپال نے بھی نواب بھوپال کا شاہی خطاب اختیار کیا اور سرکاری دستاویزات کے مطابق اُنہیں نواب بیگم بھوپال لکھا جاتا تھا۔

بھوپال کے ولی عہدترميم

حوالہ جاتترميم

مزید پڑھیےترميم