مرکزی مینیو کھولیں

نوبل امن انعام

نوبل انعام کا جزو

نوبل امن انعام (انگریزی: Nobel Peace Prize)، ہر سال امن کے لیے نمایاں کام کرنے پر بلا امتیاز کسی ایک یا ایک سے زیادہ افراد کو اور بعض دفعہ اداروں کو بھی دیا جاتا ہے۔

نوبل امن انعام
نوبل پیس پرائز
Nobel Prize.png
اعزاز برائے امن کے لیے نمایاں کارکردگی پر
مقام اوسلو
پیش کردہ الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق ناروے نوبل کمیٹی
سال اجرا 1901ء
باضابطہ ویب سائٹ Nobelprize.org

فہرست

بعض وصول کنندگان پر تنقیدترميم

میخائل گورباچوف،[1] اسحاق رابین، یاسر عرفات اور شمعون پیریز[2]،،[3] لی دوک تو، ہنری کسنجر[4] جمی کارٹر،[5] الگور،[6] آئی پی سی سی،[7] لیو زیبیو،[8][9][10] بارک اوبامہ[11][12][13] اور یورپی یونین[14] ان تمام کو امن انعام سے نوازانا تنقید کا شکار رہا ہے۔ لی دوک تو اور ہنری کسنجر کو انعام دینے پر دو ارکان نے استعفا دیا، جس پر ان کی تعریف کی گئی۔

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. EVOLUTION IN EUROPE; Gorbachev Gets Nobel Peace Prize For Foreign Police Achievements, نیو یارک ٹائمز، 16 October 1990
  2. Edward Said۔ Peace and Its Discontents: Essays on Palestine in the Middle East Peace Process۔ Vintage۔ آئی ایس بی این 0-679-76725-8۔
  3. Michael Gotlieb۔ "Arafat tarnishes the Nobel trophy"۔ The San Diego Union – Tribune۔ صفحہ B7۔
  4. "Worldwide criticism of Nobel peace awards"۔ The Times۔ London۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اکتوبر 2009۔
  5. Douglas G. Brinkley. The Unfinished Presidency: Jimmy Carter's Journey to the Nobel Peace Prize (1999)
  6. "A Nobel Disgrace"۔ National Review Online۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2011۔
  7. "Nobel Peace Prize nominations show how 'hopelessly politicized' and 'screwy' the controversial award has been"۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 اپریل 2014۔
  8. "Overseas Chinese in Norway Protest Against Nobel Committee's Wrong Decision"۔ English.cri.cn۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2012۔
  9. "Not so noble"۔ Frontlineonnet.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2012۔
  10. "Nobel Harbors Political Motives behind Prize to Liu Xiaobo"۔ English.cri.cn۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2012۔
  11. "Surprised, humbled Obama awarded Nobel Peace Prize"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2009۔ [مردہ ربط]
  12. Sharon Otterman، "World Reaction to a Nobel Surprise"، نیو یارک ٹائمز، اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2009
  13. "Obama Peace Prize win has some Americans asking why?"۔ Reuters.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اگست 2012۔
  14. "Norwegian protesters say EU Nobel Peace Prize win devalues award"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 دسمبر 2012۔