وہب بن محصن غزوہ بدر میں شریک مہاجر صحابی اور عکاشہ بن محصن کے بڑے بھائی تھے۔ اپنی کنیت ابو سنان بن محصن سے زیادہ مشہور ہیں۔

وہب بن محصن
معلومات شخصیت
پیدائشی نام وہب بن محصن
پیدائش سنہ 587ء (عمر 1436–1437 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مقام وفات مدینہ منورہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت أبو سنان
اولاد سنان بن ابوسنان   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نسب الاسدی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ بدر
غزوہ احد
غزوہ خندق

نام ونسب

ترمیم

وہب نام، ابوسنان کنیت، والد کا نام محصن تھا، نسب نامہ یہ ہے وہب ابن محصن بن حرثان بن قیس بن لبہ بن غنم بن دو دان بن اسد بن خزیمہ،وہب مشہور صحابی، عکاشہ بن محصن کے بھائی اورقبیلہ بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔

اسلام وہجرت

ترمیم

زمانۂ اسلام کا صحیح تعیین نہیں ،مگر اتنا واضح ہے کہ اذنِ ہجرت کے پہلے اسلام لاچکے تھے اور بدر سے پہلے مدینہ آ گئے تھے۔

غزوہ بدر

ترمیم

مدینہ آنے کے بعد ہی بدر کا معرکہ پیش آیا؛چنانچہ اول اول اسی میں شریک ہوئے، پھر غزوہ احد اورخندق میں بھی شامل تھے۔

وفات

ترمیم

میں بنوقریظہ کی مہم میں نکلے اور دورانِ محاصرہ میں انتقال کر گئے اور بنو قریظہ کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

بعض ارباب سیر کا بیان ہے کہ ابوسنان صلح حدیبیہ میں موجود تھے اور بیعت رضوان میں سب سے پہلے ان ہی نے بیعت کی تھی؛لیکن یہ محض التباس ہے،غزوۂ بنو قریظہ میں ان کی وفات مسلم ہے اوربیعت اس سے ایک سال بعد میں ہوئی بیعت کرنے والے یہ نہیں ؛بلکہ ان کی لڑکے سنان بن ابوسنان تھے۔[1][2][3]

حوالہ جات

ترمیم
  1. الاصابہ فی تمیز الصحابہ جلد 7صفحہ 184مؤلف: حافظ ابن حجر عسقلانی ،ناشر: مکتبہ رحمانیہ لاہور
  2. اصحاب بدر،صفحہ 126،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  3. اسد الغابہ جلد 3 صفحہ 541حصہ دہم مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الاثير ،ناشر: المیزان ناشران و تاجران کتب لاہور