مرکزی مینیو کھولیں
عکاشہ بن محصن
عکاشہ بن محصن

معلومات شخصیت
پیدائشی نام عکاشہ بن محصن
مقام پیدائش مکہ، حجاز،
موجودہ سعودی عرب
وفات سنہ 633  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بزاخہ، نزد حائل، خلافت راشدہ،
موجودہ حائل علاقہ، سعودی عرب
کنیت ابو محصن
رشتے دار بہن بھائی:
ابو سنان بن محصن
ام قیس بنت محصن
عملی زندگی
نسب الاسدی
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبی محمد
فتنۂ ارتداد کی جنگیں

عُکاشہ بن محِصن (پیدائش: 589ء— وفات: 632ء) فضیلت کے لحاظ سے اکابر و سیادات صحابہ میں شمار تھا۔

حلیہترميم

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وصال پر ملال کے وقت ان کی عمر 44 برس کی تھی اور وہ نہایت خوش رو تھے۔ شمس الدین ذہبی نے ان کے بارے میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: کان من اجمل الرجال۔ کہ وہ خوبصورت ترین مرد تھے۔[1]

نام و نسبترميم

عکاشہ نام، ابو محصن کنیت، محصن بن حرثان کے نورنظر تھے، پوراسلسلہ نسب یہ ہے عکاشہ بن محصن بن حرثان بن قیس بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ الاسدی۔ ایام جاہلیت میں بنی عبد شمس کے حلیف تھے۔ابو سنان بن محصن کے چھوٹے بھائی تھے دونوں غزوہ بدر میں شامل تھے۔

اسلام وہجرتترميم

مکہ میں قبل ہجرت اسلام قبول کیا، رسول اللہﷺ نے جب یثرب ہجرت کی تو یہ بھی مدینہ پہنچے۔[2]

غزواتترميم

غزوۂ بدر میں غیر معمولی جانبازی وشجاعت کے ساتھ سرگرم کارزار تھے، ان کی تلوار ریزے ریزے ہوکر اُڑگئی تو آنحضرت ﷺ نے ان کو کھجور کی ایک چھڑی مرحمت فرمائی، جس نے خنجر خار شگاف بن کہ دشمن کا صفایا کر دیا، وہ آخروقت تک اس سے لڑتے رہے یہاں تک کہ حق نے فتح پائی اورباطل مغلوب ہوا۔ اس معرکہ کے علاوہ احد، خندق اورتمام دوسری مشہور جنگوں میں جوش و پامردی کے ساتھ نبرد آزما تھے۔[3]

وفاتترميم

12ھ میں خلیفہ اول نے خالد بن ولید کو طلیحہ کی بیخ کنی پر مامور فرمایا جس نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا، عکاشہ اور ثابت بن اقرم اس فوج کے آگے آگے طلیعہ کی خدمت انجام دے رہے تھے، اتفاقاً راہ میں غنیم کے سواروں سے مڈبھیڑ ہو گئی، جس میں شہید ہوئے[4]

فضل وکمالترميم

ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ستر ہزار آدمی بغیر حساب کتاب بخشدیئے جائیں گے ،انہوں نے معصومانہ سادگی کے ساتھ عرض کیا، یارسول اللہ!میں فرمایا تم بھی ان ہی میں ہو، اس پر ایک دوسرے شخص نے اپنی نسبت پوچھا تو ارشاد ہوا،"عکاشہ تم پر سبقت لے گیا، اس واقعہ کے بعد سے یہ جملہ ضرب المثل ہو گیا اورجب کوئی کسی پر سبقت لے جاتاتو کہتے "فلاں عکاشہؓ کی طرح سبقت لے گیا۔[5]

حوالہ جاتترميم

  1. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 3، ص 134
  2. اسد الغابہ :4/2
  3. استیعاب تذکرۂ عکاشہ
  4. طبقات ابن سعد حصہ مغازی :62
  5. بخاری