کارل گوٹلیب فینڈر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1803  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویبلینگن  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1865 (61–62 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رچمنڈ، لندن  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مبلغ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جرمن، عربی، اردو، فارسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں میزان الحق  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کارل گوٹلیب فینڈر (کشیش فندر) 1803ء میں ویبلینگن میں پیدا ہوا جو وورٹمبرگ جرمنی میں واقع ہے۔ اس کے والدین دیندار تھے۔ اس کا والد نانبائی کا کام کرتا تھا اور والدہ ایک جوشیلی مسیحی خاتون تھی۔

حالات زندگیترميم

فینڈر ذہین لڑکا تھا اور اُس کو پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔ لہٰذا اس کو لاطینی زبان کی تحصیل کے لیے اسکول میں داخل کر دیا گیا۔ اُس کے استاد دیندار اور خدا پرست تھے جو اس کو سیدنا مسیح کے آخری حکم پر عمل کرنے کی تاکید کرتے رہتے تھے کہ تم سب "قوموں کو شاگرد بناؤ"۔(متی 28 باب 19 آیت) لڑکپن میں اس کا دل تبدیل ہو گیا اور وہ اپنے نجات دہندہ (یسوع مسیح) سے محبت کرنے لگا جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کو مسیحی مبلغ بننے کا شوق دامن گیر ہو گیا۔ وہ 1820ء میں باسل مشنری انسٹی ٹیوٹ (Basel Missionary Institute) میں پانچ سال تک علم الہٰیات کا مطالعہ کرتا رہا۔

مشنری زندگیترميم

فینڈر زبانیں کئی زبان سیکھ چکا تھا۔ پس باسل مشنری انسٹی ٹیوٹ کی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اُس کو ایشیائی زبانوں میں بائبل کا ترجمہ کرنے کے لیے بھیجا جائے۔ لہٰذا 1825ء میں وہ دو اور مشنریوں کے ساتھ آرمینیا کے ملک کے ایک قصبہ شوشا میں بھیجا گیا جو بحیرہ اسود اور بحیرہ قزوین کے درمیان میں ہے۔ شوشا کا مشن اہلِ اسلام کے لیے تھا۔ فینڈر اس وقت صرف بائیس سال کا تھا۔ وہ تین زبانیں یعنی ترکی، تاتاری، آرمینی اور فارسی بول سکتا تھا۔ وہ اہلِ اسلام کے درمیان میں مسیحیت کی منادی کرتا تھا۔ منادی کے دوران میں اُس کو احساس ہوا کہ مشرقی ممالک میں وہ اُس طریقہ سے منادی نہیں کر سکتا جس طرح یورپ کے پادری مغربی ممالک میں کرتے ہیں۔ اہلِ اسلام کے پاس ایک مقدس کتاب قرآن تھی جس کو وہ آسمانی کتاب سمجھتے تھے اور وہ مسیحی کتب مقدسہ کو ترمیم شدہ تصور کرتے تھے۔ پس فینڈر نے قرآن وحدیث کا مطالعہ شروع کیا اور اسلامی فلسفہ اور دینیات سے واقفیت حاصل کرنے لگا۔ اس مطالعہ نے اُس پر روزِ روشن کی طرح ظاہر کر دیا کہ اُن کو کروڑہا مسلمانوں کو جو اللہ، قرآن اور رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں ان کو اسلام سے مسیحیت میں لانا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اسلام نے مسیحیت کا ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک مقابلہ کیا ہے۔ اور مشرقی کلیسیا کے لاکھوں مسیحی مسلمانوں تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرچکے تھے اور اسی کی وجہ سے شوشا کے متعدد مسیحی خاندان جن کا تعلق آرمینیا کی کلیسیا سے تھا مسلمان ہو گئے تھے۔ فینڈر کی دلی خواہش تھی کہ وہ ان مسلمانوں کو واپس مسیحی مذہب میں داخل کر دے۔

انہی دنوں میں اس نے ”میزان الحق“ پہلے پہل جرمن زبان میں لکھی تھی جو اُس کی حین حیات میں تیس ہزار سے زیادہ چھپ گئی۔ اور اس کا ترجمہ پہلے فارسی میں اور پھر انگریزی، اردو، مرہٹی، ترکی اور عربی زبان میں ہو گیا۔ اس کتاب کے لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی ممالک میں چند سال کام کرنے کے بعد اُس نے دیکھا کہ زبانی تقریروں اور مباحثوں کا بہت اثر نہیں ہوتا کیونکہ مسلمان مسیحی عقائد کی تائید میں قرآن اور اسلامی عقائد کے خلاف گفتگو سننے کے خواہش مند نہیں تھے۔ پس اس نے ایک ایسی کتاب لکھی جو اِن ضروریات کو پورا کرے۔ اور جس میں مسیحی عقائد کی تائید اور اسلامی عقائد کی مفصل تردید تھی۔ لیکن اُس وقت کوئی ایسی کتاب مشنریوں کے پاس موجود نہیں تھی۔ فینڈر خود ہنوز نوجوان تھا لہٰذا اُس نے اپنے ہم خدمتوں کو اس کمی کی طرف متوجہ کیا۔ لیکن چونکہ وہ ایسی کتاب لکھنے کے اہل نہ تھے فینڈر نے اپنے خیالات کو یکجا لکھنا شروع کر دیا اور یوں ہوتے ہوتے 1829ء میں میزان الحق تیار ہو گئی۔

1892ء میں وہ ایک مشنری کے ساتھ بغداد گیا کیونکہ اُس کو عربی سیکھنے کا شوق تھا اس زمانہ میں بغداد میں انجیل کی اشاعت کی مخالف تھی اور انجیل کے جانفزا پیغام سنانے کی سزا موت تھی۔ لیکن اُس نے کہا "مجھے اپنی جان کی پروا نہیں ہے۔ اگرخدا کو اس کی ضرورت ہے تووہ اُس کو خود محفوظ رکھے گا"۔ بغداد میں وہ عربی سیکھتا رہا۔ اس وقت تک میزان الحق ارمنی، ترکی، تاتاری اور فارسی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی تھی۔

1831ء میں وہ ایک قافلہ کے ہمراہ ایران کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے ایرانیوں کا لباس اختیار کر لیا۔ اگرچہ ایسا کرنے سے اسے اپنے تمام ملکی حقوق سے دستبراد ہونا پڑا۔ کیونکہ اگر اُس کو کوئی خطرہ درپیش آتا تو اُس کے ملک کا سفیر اُس کی حفاظت کا ذمہ دار نہ ہو سکتا۔ تمام قافلہ میں وہ اکیلا مسیحی تھا۔ کاروان والے اُس کو "ملائے فرنگ" کہتے تھے۔ دوران میں سفر وہ تاتاریوں اور کردوں میں مسیحیت کی اشاعت کرتا اور فارسی انجیلیں تقسیم کرتا گیا۔ راہ میں جب کرمان شاہ کے ملانوں کو خبر ملی کہ "ملائے فرنگ" اناجیل تقسیم کرتا پھرتا ہے تو وہ ایک بڑی تعداد میں فینڈر کے پاس گئے اور اس کے ساتھ بحث کرنے لگے لیکن جب جواب نہ دے سکا تو اُنہوں نے جامع مسجد میں اعلان کر دیا کہ اناجیل کو جلا دینا اور فینڈر کو قتل کردینا کار ثواب ہے۔ جس راہ سے وہ گذرتا تھا لوگ شور وغُل مچاتے تھے۔ وہ لکھتاہے "وہ مجھے ٹھٹھوں میں اڑاتے مجھ پر لعنت بھیجتے اور میرے منہ پر بار بار تھوکھتے تھے"۔

اگلے روز قافلہ وہاں سے روانہ ہوکر اصفہان پہنچا جو فینڈر کا منزل مقصود تھا۔ وہاں اُس نے یہودیوں، مسلمانوں اور آرمینیوں کو مسیحی کتب مقدسہ دیں۔ اصفہان میں اس کو ایک نوجوان آرمینی مسیحی ملا جس نے بشپ کالج کلکتہ میں تحصیل علم کیا تھا اور اصفہان میں ایک اسکول کھولنے کی کوشش میں تھا تاکہ اُس کہ ہم وطن انجیل جلیل کا مسرت انگیز پیغام سن سکیں۔ فینڈر اصفہان میں رہ کر نزدیک کے قصبوں میں بائبل اور دیگر کتب کو تقسیم کرتا اور ملانوں سے بحث کیا کرتا تھا۔ اُس کا یہ خیال تھا کہ اصفہان میں مُلانوں کو اشتعال دیے بغیر مسیحیت کی اشاعت کا کام کرنا چاہیے۔

1833ء میں وہ تہران سے ہوتا ہوا واپس شوشا کی طرف چلا گیا۔ وہاں جا کر اُس نے باسل کی کمیٹی کو ابھارا تاکہ اس کے شرکا مسیحیت کی تبلیغ اہلِ اسلام میں کرنے کے لیے مبلغین کو ایران بھیجیں۔ شوشا سے وہ شمکی اور بالو میں گیا جہاں سے وہ تبریز کو چلا گیا۔ اس جگہ اُس نے میزان الحق کی نظر ثانی کی۔ اس کام میں اُس نے ایک آزاد خیال ایرانی منشی اور ایک کٹر مُلا کی مدد لی۔ جس موخر الذکر نے اُس کے پاس آنے سے انکار کیا تو فینڈر اپنے مسودہ کو اُس کے پاس بھیجتا تھا۔ جب کام ختم ہو گیا تو ایرانی منشی نے کہا "جناب آپ کسی کو نہ بتائیں کہ میں نے اس کتاب کی تصنیف میں آپ کی مدد کی ہے لیکن یہ کتاب آزاد خیال ایرانیوں میں بہت مقبول ہوگی"۔ ملا نے کہلا بھیجا کہ "ہمیں افسوس ہے کہ یہ کتاب قرآن کے خلاف ہے۔ اور اگر ہمیں اس کے ناپاک مضامین کی پہلے اطلاع ہوتی توہم مدد کرنے کا کبھی وعدہ نہ کرتے" تبریز کے مسلمانوں میں فینڈر نے مسیحی کُتبِ مقدسہ تقسیم کیں اور ان کتابوں کی دو کشتیاں بھرکر نسطوری صدر اُسقف کو بھی روانہ کیں۔

1833ء میں وہ واپس جرمنی میں اپنے گھر گیا۔ اس سال اُس کی شادی صوفیا ریوس (Sophia Reuss) سے ہو گئی جو ماسکو کے ایک سینٹیر کی بیٹی تھی۔ اُس کو بھی زبانوں کی تحصیل کا خاص ملکہ تھا۔ وہ نہایت دیندار اور دانشمند عورت تھی اور مسیحیت کی تبلیغ کی خاطر ایذا و دکھ اٹھانے کے لیے ہروقت تیار تھی۔ 1834ء میں دونوں میاں بیوی شوشا واپس آ گئے۔ 1835ء میں فینڈر کی بیوی وفات پاگئی۔ اسی سال شہنشاہ رُوس نے شوشا میں تبلیغی کام کی ممانعت کردی۔ شہنشاہ نے حکم دیا کہ اگر مشنری کھیتی باڑی کا کام سکھانے یا تجارت وغیرہ کے لیے شوشا میں رہنا چاہیں تو حکومت کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ اُن کو انجیل سنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یوں ایک مسیحی سلطنت نے شوشا کا مشن بند کر دیا۔

فینڈر اور اس کا دوست مبلغ کرائیس 1837ء میں ہندوستان گئے۔ وہ ایران اور خلیج فارس سے ہوتے ہوئے تیرہ ماہ کے بعد کلکتہ پہنچے۔ وہاں چرچ مشنری سوسائٹی کے مشنری وائی براؤ (Wybrow) اور بردوان کے "رسولوں کا ساول رکھنے والے" مشنری وائٹ بریخٹ (Weit Brecht) نے (جو فینڈر کا رشتہ دار تھا) اُن کا خیرمقدم کیا۔ 1840ء میں فینڈر اور کرائیس نے باسل کمیٹی سے قطع تعلق کر لیا اور چرچ مشنری سوسائٹی نے اُن کو قبول کرکے آگرہ روانہ کر دیا۔ ہندوستان پہنچتے ہی فینڈر نے اردو سیکھی اور میزان الحق کو مکمل کیا۔ بمبئی اور کلکتہ کے احباب کی مدد سے اُس نے اپنی فارسی تالیفات چھپوا کر بنارس، آگرہ اور بمبئی روانہ کیں۔

فینڈر نے دوسری شادی ایک انگریز خاتون ایملی سونبرن (Emily Swimburne) کے ساتھ کی۔ یہ خاتون بھی ایک مشنری تھی۔ دونوں میاں بیوی آگرہ کو دریا کی راہ روانہ ہوئے اور 1841ء کے آخر میں آگرہ بخیر یت پہنچ گئے۔ آگرہ میں اُنہوں نے گنجان آبادی کے درمیان میں جگہ رہائش اختیار کی۔ یہ مکان بشپ کوری (Corrie) نے خرید کر سی۔ ایم۔ ایس کو نذر کر دیا تھا۔

فینڈر برسرِ بازار لوگوں میں مسیحیت کی منادی کیا کرتا تھا۔ اور روزانہ آگرہ اور اُس کے گردونواح میں جاکر کتب مقدسہ کو تقسیم کرتا تھا۔ اہل ہنود کو وہ خدائے واحد پر ایمان لانے کی اور اہل اسلام کو ابن اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا تھا۔ اُسکی کتاب میزان الحق مولوی صاحبان کے پاس موجود تھی اور مولوی صاحبان کے اور فینڈر کے درمیان میں بحث کا سلسلہ جاری رہا۔

1845ء میں آگرہ کے ایک سرکاری افسر نے میزان الحق کے جواب میں کتابِ استفسار لکھی۔ لکھنؤ کے مولوی محمد ہادی نے فینڈر کی کتاب مفتاح الااسرار کے جواب میں کشف الاستار لکھی جس کا جواب الجواب فینڈر میں حل الاشکال میں دیا۔ فینڈر اپنے یورپین احباب سے درخواست کی کہ وہ اُس کو کتب الٰہیات بھیجا کریں تاکہ وہ مسلمان علما کا تسلی بخش جواب دے سکے۔ خصوصاً وہ ایسی کتب کا خواہش مند تھا جس میں کتب مقدسہ کے اختلافات کے جواب ہوں کیونکہ مسلمان علما اسٹراس (Strauss) فیورباخ (Feverbach) اور انگریزی ملاحدہ کی کتب کا مطالعہ کرکے اعتراض پیش کیا کرتے تھے۔

فینڈر نے منادی کے لیے شہر کے گنجان حصہ میں دو دکانیں کرایہ پر لے لیں۔ وہ لکھتا ہے "لوگ مجھ پر ہنستے تھے اور میرا مضحکہ اڑاتے تھے لیکن جس جگہ وہ ایسا کرتے میں وہاں اگلے دن ضرور پہنچتا۔ جب اُنہوں نے یہ دیکھا کہ میں ٹلنے والا شخص نہیں ہوں تواُنہوں نے ہنسی مذاق کرنا بند کر دیا۔ اب میں بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام کرتا ہوں۔"

1845ء میں وہ دریائے جمنا کی راہ دہلی پہنچا۔ یہاں کے لوگوں کے پاس بھی میزان الحق تھی اور اُس نے علما اسلام کے ساتھ جامع مسجد میں مناظرہ کیا۔ 1851ء میں فینڈر اپنی بیوی اور بچوں کی بیماری کی وجہ سے پہلی دفعہ انگلستان گیا۔ وہاں اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر جرمنی میں اپنے رشتہ داروں کی ملاقات کوگیا اور 1852ء کے آخر میں نہرسویز کی راہ سے بمبئی پہنچا۔ وہاں سے وہ بیل گاڑی میں سفر کرتا ہوا فروری 1853ء میں واپس آگرہ پہنچ گیا۔ جب فینڈر انگلستان میں چھٹی پر تھا اُن دنوں میں چرچ مشنری سوسائٹی نے تھامس والپی فرنچ (Thomas Valpy French) کو 1851ء میں آگرہ میں مشن کالج کھولنے کے لیے روانہ کیا۔ آگرہ میں دوسال کے قیام کے بعد فرنچ نے فینڈر سے ملاقات کی اور فرنچ نے فینڈر کے قدموں میں بیٹھ کر اسلام کا مطالعہ کیا۔ اور تادم مرگ اُس کا مداح رہا۔ آگرہ میں پہنچ کر فینڈر نے دیکھاکہ جو بیج اُس نے بویا تھا وہ بے پھل نہیں رہا۔ اہل اسلام مسیحی کتب مقدسہ کا مطالعہ کرتے تھے۔ دو مسلمان رئیس مسیحیت کے حلقہ بگوش ہو گئے۔ اُس کی کتاب میزان الحق دُوردُور پہنچ گئی تھی۔

پشاور کے میجر مارٹن نے فینڈر کو لکھا کہ یہاں ایک ایرانی ہے جو بپتسمہ پانا چاہتا ہے۔ یہ ایرانی تہران کے ایک تاجر کا بیٹا تھا۔ ایک آرمینی نے اُس کو ایران میں میزان الحق دی تھی۔ یہ ایرانی نوجوان مذہبی کتب پڑھنے کا شوقین تھا۔ اُس نے پشاور میں کرنیل ویلیہ (Col. Whelle) کو بازاری منادی کرتے سنا تھا۔ وہ میزان الحق پڑھ کر دوسال تک مسیحیت و اسلام کے عقائد کا موازانہ کرتا رہا اور بلاآخر مسیحی ہو گیا۔

ایسٹر 1857ء میں آگرہ میں فینڈر کا معرکتہ آلار مباحثہ علمائے اسلام کے ساتھ ہوا۔ فرنچ اس کا مددگار تھا۔ فینڈر اس مباحثہ کی بابت لکھتا ہے: "یہاں کے (آگرہ) کے علمائے اسلام دہلی کے علما کے ساتھ مل کر گذشتہ دوتین سال سے کتابِ مقدس کا اورہماری کتابوں کا اور مغربی علما کی تنقیدی کتُب اورتفاسیر کا مطالعہ کر رہے تھے تاکہ وہ کتاب مقدس کو غلط اورباطل ثابت کرسکیں۔ اس کانتیجہ یہ ہواکہ دہلی کے عالم مولوی رحمت اللہ اور دیگر علما نے کتابِ استفسار، ازالہ الاوہام، اعجاز عیسوی وغیرہ کتب لکھیں۔"

"جنوری 1854ء میں جب میں یہاں نہیں تھا تو مولوی رحمت اللہ آگرہ آیا تاکہ اپنے احباب کے ساتھ اُن کتب کو چھپوانے کا انتظام کرے اس اثناء میں وہ مذہبی گفتگو کے لیے فرنچ کے پاس چند دفعہ آیا اور مجھے نہ پاکر افسوس ظاہر کیا۔ جب میں آیا تو اُس نے اپنے ایک دوست کی معرفت مباحثہ کے لیے کہلوا بھیجا اگرچہ میں جانتا تھا کہ مباحثوں کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا پھر بھی میں نے مباحثہ کا چلینج منظور کر لیا مباحثہ کی شرائط طے پائیں کہ مولوی رحمت اللہ اہل اسلام کی طرف سے ڈاکٹر وزیر خان کی مدد کے ساتھ مباحثہ کرے اور مسیحیوں کی طرف سے میں مسٹر فرنچ کی طرف سے مباحثہ کروں۔ مضمون زیربحث یہ قرار پائے (1)مسیحی کتُب مقدسہ میں تحریف واقع ہوئی ہے اور وہ منسوخ ہوچکی ہیں(2) الوہیتِ مسیح اوتثلیث (3) رسالتِ محمدی:"

"بحث دودن تک رہی۔ پہلے روز تقریباً ایک سو مسلمان علما مولوی رحمت اللہ کی مدد کے لیے جمع تھے۔ دوُسرے روز اُن کی اس سے دُگنی تعداد تھی۔ دوسری صبح پہلی تقریر میری تھی۔ میں نے کہا کہ قرآن انجیل کا مصدق ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیاکہ قرآن مروجہ انجیل کا مصدق نہیں کیونکہ وہ مُحرف ہے میں نے کہا کہ اچھا تم اُس انجیل کو پیش کرو جو غیر محرف ہے اور جس کا قرآن مصدق ہے اور یہ بتاؤ کہ تحریف کب اور کہاں واقع ہوئی۔ مولوی رحمت اللہ سے اس کا جواب بن نہ آیا اورکہنے لگے کہ مغربی علما مثلا ہارن (Horne) مکائلس (Michaelis) وغیرہ خیال کرتے ہیں کہ اناجیل میں اختلاف قرات موجو دہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ انجیل محرف ہے۔ میں نے جواب دیا کہ اختلافِ قرات سے تحریف لازم نہیں آتی۔ اس کا جواب مولوی صاحب نہ دے سکے میں نے کہا کہ دو باتوں میں سے جسے چاہو اختیار کرلو یا اس کا امر کا اقرار کرو کہ انجیلی عبارت مصون و محفوظ ہے اور جب الوہیتِ مسیح اور تثلیث پر بحث ہو تو ہمارے عقائد کی تائید میں اُس کی عبارت کو مانو اور یا اگلے روز ثبوت پیش کرو جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ ہماری مروجہ انجیل کے الفاظ احکام اور عقائد انجیل کے اُن نسخوں سے مختلف ہیں جو زمانہ محمد سے پہلے موجود تھے۔ مولوی صاحب نے دونوں باتوں سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ آپ کے انکار کا یہ مطلب ہے کہ ہم مباحثہ جاری نہ رکھیں۔ مولوی صاحب نے بحث ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور جلسہ برخاست ہو گیا۔ اس پر اہل اسلام نے شور مچایا کہ اُن کی فتح ہو گئی ہے۔ لیکن مجھے یقین واثق ہے کہ گو جاہل مسلمان اپنی کم عقلی اور جہالت کی وجہ سے اس مباحثہ میں اپنی فتح تصور کرینگے لیکن خدا اپنے طریقہ سے بہت لوگوں کو راہِ ہدایت پر لائيگا۔"

فینڈر کا یہ مباحثہ کامیاب رہا تھا۔ اس کی ایک تصنیف کے مطابق اُن علما اسلام میں سے جو مولوی رحمت اللہ کے حامی تھے دو علما اس مباحثہ کے چند سال بعد مسیحی ہو گئے یعنی ایک مولوی صفدر علی اور دوسرا مولوی عماد الدین۔

فینڈر کے مباحثہ نے شمالی ہند کے کونے کونے میں ہلچل مچادی۔ اُس کی کتاب میزان الحق کو پڑھ کر اُن لوگوں کے دل جو تحقیق حق میں سرگرداں تھے اسلامی تعلیم سے بدظن ہو گئے اور متعدد مسلمان مسیحی ہو گئے۔ اُن میں سید ولائت علی خاص آگرہ تاج گنج بستی کے تھے جو 1857ء میں دہلی میں ایامِ فساد میں قتل کردیے گئے۔

فرنچ فینڈر کو نہایت عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ چنانچہ وہ کہتا ہے "گو مرحوم ڈاکٹر فینڈر بزرگ ہنری مارٹن کا سا دماغ اور لیاقت نہیں رکھتے تھے تاہم میدان مباحثہ میں یکتا تھے وہ اپنے ہمعصر مشنریوں میں جو اہل اسلام میں کام کرتے تھے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے مرحوم خود وفات پایا گیاہے۔ لیکن اُس کا کام زندہ ہے اور کلیسیا کے لیے ایک غیر فانی وراثت چھوڑ گیا ہے۔ مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں نے اُس کے آگے زانوئے شاگردی تہ کیا ہواہے۔ فینڈر کی یاد میرے دل میں ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ فینڈر اور ڈف دوشخص ہیں جن کے کام نے مشنریوں کوسب سے زیادہ متاثر کیاہے۔ خدا کرے کہ ہمارے مشنری قلم کے زور کے اثر کو محسوس کرکے اُس کام کو جاری رکھیں جو فینڈر نے شروع کیا ہے" سر ولیم میور نے 1854ء میں اس بابت لکھا کہ "اہل اسلام کے ساتھ مباحثہ کرنے والوں میں وہ لائق ترین شخص ہے"۔

آگرہ کی کلیسیا میں 1848ء میں فینڈر نے ایک پنچایت قائم کی یہ شمالی ہند میں موجودہ زمانہ کی طرز کی پہلی پنچائت تھی۔ فینڈر لکھتا ہے کہ "کلیسیا کے قیام کے لیے اور اپنی مدد کے لیے میں نے ایک پنچائت قائم کی ہے۔ پنچائت کے شرکاء کوک لیسیا منتخب کرتی ہے۔ پنچائت کے ارکان چرچ وارڈن کا کام بھی کرتے ہیں۔ اور تادیبی اُمور کو سر انجام دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص بپتسمہ چاہتاہے تو بپتسمہ دینے سے پہلے پنچائت کی صلاح لی جاتی ہے۔ گذشتہ دوسال سے جماعت کہ شرکاء باقاعدہ چندہ دیتے ہیں جس کا انتظام پنچائت کے ہاتھوں میں ہے"۔

1854ء میں فینڈر اپنی بیوی کو جو انگلستان سے واپس آگئی تھی لانے کے لیے کلکتہ گیا۔ وہاں کلکتہ کے بشپ نے اس کا تقرر دوبارہ کر دیا کیونکہ اس سے پہلے اُس کا تقرر لوتھرن طریقہ پرہوا تھا۔ اوروہ واپس آگرہ آ گیا۔

جب چرچ مشنری سوسائٹی نے یہ فیصلہ کیاکہ پشاور میں مشن قائم کیا جائے تو اُنہوں نے 1854ء میں فینڈر کو اورپادری رابرٹ کلارک (Robert Clark) کو وہاں بھیجا۔ ڈاکٹر فینڈر پشاور میں برسرِ بازار مسیحی کتب مقدسہ کی تعلیم دیتا اور مسیح مصلوب کی منادی کرتا تھا۔ ڈاکٹر فینڈر ہندوستانی واعظین کے ساتھ ہر شام کو بازاروں میں اور شارع عام پر اپنے مسیحیت کی منادی کرتا تھا۔ پشاور میں وہ تعلیم یافتہ اشخاص کے ساتھ اُردو اور فارسی میں کلام کرتا۔ افغانوں کے ساتھ پشتو میں اور مولوی صاحبان کے ساتھ عربی زبان میں گفتگو کرتا تھا۔ اُس کے علم ولیاقت کو دیکھ کر کسی مولوی کو مباحثہ کرنے کی جرات نہیں پڑتی تھی۔ فینڈر نے پشاور کے تمام علما کو میزان الحق بھیجی۔ بعض نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ بعض نے اُس کو ہاتھ لگانے سے انکار کر دیا۔ حافظ محمد عظیم نے عربی میں ذیل کا مکتوب بھیجا۔ "قسیس ڈاکٹر فینڈر صاحب۔ آپ کی مرسلہ کتابیں بغیر پڑھیں واپس کر رہا ہوں۔ خدائے اکبر نے ہم کو صراط مستقیم پر چلایا ہے اور ہمارا علمِ عقل اور مکاشفہ اندرونی اور بیرونی ثبوت پر قائم ہے۔ پس ہمیں گمراہ لوگوں کی جھوٹی کتابوں سے کچھ تعلق اور واسطہ نہیں۔ اُن کی نسبت قرآن شریف میں وارد ہے کہ اُن کے دلوں پر خدا نے مہر لگادی ہے اوراُن کی آنکھوں پر پردہ چھاگیا ہے۔ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ عاقل کے لیے اشارہ کافی ہے"۔

پشاور میں ڈاکٹر فینڈر نے ایک اورکتاب تصنیف کی جس میں آگرہ اوردہلی کے علمائے اسلام کے اعتراضات کے مفصل جوابات تھے۔ مئی 1857ء کے بے امنی اور فساد کے ایام میں بعض احباب نے ڈاکٹر فینڈر کو یہ صلاح دی کہ وہ پشاور شہر میں برسرِ بازار تبلیغ کرنا چند ماہ کے لیے بند کر دے تاکہ اُس کا جان ومال محفوظ رہے۔ اُس نے جواب دیاکہ وہ صرف مسیحی مذہب کی تعلیمات کے مطابق عمل کرے گا۔ چنانچہ اُن ایام میں اُس نے صرف دویا تین روز بازاری تبلیغ بند کی ورنہ وہ ہر روز برسرِ بازار اپنے دین کا پیغام لوگوں کو سناتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ خدا نے یہ ہولناک دن برطانوی گورنمنٹ پر اس لیے بھیجے کیونکہ وہ ہندوستان میں بُت پرستی کی معاون اور مسیحیت کی مددگار ہونے سے خائف رہی ہے۔

سر ہربرٹ ایڈورڈز نے ڈاکٹر فینڈر کی نسبت کہا "کون شخص ہے جس نے فینڈر کے پُرمحبت چہرہ کوایک دفعہ دیکھا ہو اوراُس کو دیکھ کر متاثر نہ ہوا ہو؟ خدا نے اُس کو مشنری ہونے کے لیے خاص لیاقت عطا فرمائی تھی۔ اُس کا دماغ بڑا زبردست تھا اورساتھ ہی وہ شیر دل واقع ہوا تھا۔ وہ ایک زندہ دل ،جفاکش اورمحنتی انسان تھا۔ اُس کو ایشیائی ممالک کے لوگوں کا تجربہ حاصل تھا۔ اورہندوستان بھر میں علمائے اسلام کے ساتھ مباحثہ کرنے میں وہ لاثانی تھا۔ وہ مسیحیت اورمسیحی عقائد کو ایشیائی نکتہ خیال سے لوگوں کے سامنے پیش کرتا تھا۔ اُس کی کتابوں میں یورپین علما کے خیالات نظر تک نہیں آتے۔ خوش مزاجی اُس کے چہرے سے ٹپکتی تھی اور کوئی شخص اُس کے ساتھ دیر تک خفا نہیں رہ سکتا تھا"۔ جب ایامِ فساد ختم ہو گئے توڈاکٹر فینڈر، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ ہوتا ہوا انگلستان چلا گیا کیونکہ پشاور میں اُس کی بیوی کی صحت خراب رہتی تھی۔

1858ء میں چرچ مشنری سوسائٹی نے ڈاکٹر فینڈر کو قسطنطنیہ بھیجا۔ وہاں کے لوگوں نے اُس کی کتاب میزان الحق کے فارسی ترجمہ کا مطالعہ کیا ہوا تھا۔ جب وہاں پہنچا تو اُس کو معلوم ہواکہ اُس کی کتاب کا جواب تیار ہو رہا ہے۔ قسطنطنیہ میں کُتبِ مقدسہ اور دیگر مذہبی کتابیں اُس جگہ فروخت کی جاتی تھیں جہاں مقدس کرسسٹم نے کلیسیا کی ابتدائی صدیوں میں وعظ منادی کی تھی۔ اور جو اب مسجد بنادی گئی تھی۔ ایک روز ایک لخت بغیر کسی اطلاع کے سلطانِ ترکی کے حکم سے ترکی مسیحی قید کردیے گئے۔ مسیحی کتب مقدسہ ضبط کی گئیں اور مسیحیوں کی عبادت گاہوں اوردُکانوں پر جہاں ان کتب کی فروخت ہوتی تھی قفل لگادیے گئے۔ تُرکی گورنمنٹ نے ذیل کے احکام صادر کردیے:

"ترکی گورنمنٹ اس امر کی اجازت نہیں دیتی کہ اسلام پر کسی طرح کا حملہ برسرِ بازار یا علانیہ کیا جائے۔ وہ مشنریوں کو یا اُن کے کارندوں کو اسلام کے خلاف منادی کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس طرح کی کوشش ترکی گورنمنٹ کی نظر میں قومی مذہب پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ وہ کسی مباحثہ کی کتاب کو برسرِ بازار یا علانیہ طور پر تقسیم کرنے یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتی"۔ برطانوی سفیر نے ان احکام پر رضامندی ظاہر کردی۔ گو بعد میں بصد مشکل دکانیں کھلوائی گئیں لیکن اپنی جان کے ڈر کے مارے کوئی شخص اُن دُکانوں کے نزدیک نہیں پھٹکتا تھا۔ لیکن ان حالات میں بھی ڈاکٹر فینڈ اپنا کام برابر کرتا رہا۔ قسطنطنیہ میں اُس کی بیوی کی حالت نہایت خراب ہو گئی اور وہ 1865ء میں اپنے بیوی بچوں کو انگلستان چھوڑنے چلا گیا۔

وفاتترميم

1870ء میں جب فرنچ ملتان گیا تو وہاں کے ایک مولوی نے جو مولوی رحمت اللہ اور ڈاکٹر وزیر خان کا دوست تھا اُس کو بتایا کہ جب قسطنطنیہ میں ڈاکٹر فینڈر کی وعظ منادی اور کتابوں کا شہرہ ہوا تو سلطان نے مولوی رحمت اللہ کو بلوا بھیجا تاکہ ڈاکٹر فینڈر سے مباحثہ کرے۔ لیکن مولوی رحمت اللہ کے دار الخلافہ میں پہنچنے سے پہلے ڈاکٹر فینڈر وفات پاچکا تھا۔ کیونکہ جب فینڈر انگلستان پہنچا تواُس کی اپنی صحت خراب ہو گئی اور اُس کی حالت روز بروز ابتر ہوتی گئی۔ بلاآخر یکم دسمبر 1865ء کو وہ ابدی آرام میں داخل ہو گیا۔ اس کے آخری الفاظ یہ تھے "میں اپنے گھر جا رہا ہوں"۔

جب فرنچ 1890ء میں انگلستان گیا تو وہ مرحوم کی قبر کی زیارت کرنے کو گیا، وہ لکھتاہے "کل (11 ستمبر) میں دہلی کے مسٹر کیلی (Kelly) کو ہمراہ لے کر اپنے پُرانے اُستاد ڈاکٹر فینڈر کی قبر کی زیارت کرنے کے لیے ہیم (Ham) گیا۔ ہم دونوں نے قبر کے پاس گھٹنے ٹیک کر ہندوستان کے کام کے لیے دعا مانگی"۔

تصنیفاتترميم

فینڈر نے میزان الحق کے علاوہ ذیل کتب تصنیف کیں:

  1. طریق الحیات میں گناہ اورکفارہ پر مفصل بحث کی گئی ہے۔
  2. مفتاح الاسرار میں الوہیتِ مسیح اور مسئلہ تثلیث پر زبردست بحث کی گئی ہے۔ اس کے جواب میں مولوی محمد ہادی نے جو لکھنؤ کے عالم تھے ایک رسالہ کشف الاستار لکھا جس کے جواب الجواب میں فینڈر صاحب نے 1847ء میں حل الاشکال کوتصنیف کیا جو 1884ء میں لدھیانہ سے شائع ہوئی۔
  3. مراسلات۔ اس رسالہ میں وہ خطوط درج ہیں جو فینڈر اور مولوی سید آل حسن نے ایک دوسرے کو ایک تحریری مناظرہ کے دوران میں 1844ء اور 1845ء میں لکھے تھے۔ مراسلات میں مناظرہ کے مضامین یہ تھے: تحریف بائبل، الوہیت مسیح اور تثلیث، رسالتِ محمدی۔ یہ مراسلات حل الاشکال کے ساتھ شائع کیے گئے۔
  4. اختتام دینی مباحثہ۔ اس میں فینڈر نے آگرہ کے مباحثہ کے مضامین کو مفصل بیان کیا ہے۔ اس کے آخر میں ضمیمہ کے طورپر دوخط ہیں جواُس نے مولوی رحمت اللہ کو اور ڈاکٹر وزیر خان کو 1854ء میں اُن کی کتاب" رسالہ مباحثہ مذہبی" کے جواب میں لکھے تھے۔ یہ کتاب 1855ء میں سکندرہ میں چھپی۔

حوالہ جاتترميم

  • History of the Church Missionary Society ,4 Volumes , by Engene Stock
  • Report of the Punjab Missionary Conference 1863. (A.P.Mission Press, Ludhiana)
  • غذائے روح از صفدر علی
  • واقعات عمادیہ از عماد الدین لاہز
  • Life of Bishop French 2Vol by Herbert Briks.
  • Karl Gottlied Pfander (James Nisbet & Co. London) by Emily Headland.