گوتم گمبھیر ( ربط=| اس آواز کے بارے میں اس آڈیو کے متعلق تلفظ ؛ 14 اکتوبر 1981 میں پیدا ہوا) ایک ہندوستانی سیاستدان اور سابق کرکٹ کھلاڑی ہے جس نے کھیل کے تمام فارمیٹس کھیلے ہیں۔ وہ 2019 سے لوک سبھا کے موجودہ ممبر ہیں۔

گوتم گمبھیر
Gautam Gambhir
Gauti.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 14 اکتوبر 1981 (39 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نئی دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ کرکٹ کھلاڑی،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کرکٹ  ویکی ڈیٹا پر (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل کا ملک Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P1532) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے کھیل (2019)
ارجن ایوارڈ  (2009)  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایک کرکٹر کی حیثیت سے وہ بائیں ہاتھ کے اوپننگ بلے باز تھے۔جنہوں نے دہلی کے لئے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی اور انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور دہلی ڈیر ڈیولز کی کپتانی کی۔ انہوں نے 2003 میں بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل (ون ڈے) کیریئر کی شروعات کی تھی اور اگلے سال آسٹریلیا کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا۔ انہوں نے 2010 کے آخر سے لے کر 2011 کے آخر تک چھ ون ڈے میچوں میں ہندوستانی ٹیم کی کپتانی کی اور ہندوستان نے تمام چھ میچ جیت لئے۔ انہوں نے 2007 ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں (54 گیندوں پر 75 رن) اور 2011 کرکٹ ورلڈ کپ (122 گیندوں پر 97 رن) بنائے اور دونوں کے فائنل میں ہندوستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ گمبھیر کی کپتانی میں، کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے 2012 میں اپنا پہلا آئی پی ایل ٹائٹل جیتا تھا اور 2014 میں دوبارہ اعزاز اپنے نام کیا تھا۔

اکتوبر 2018 میں ، 2018 وجے ہزارے ٹرافی کوارٹر فائنل کے دوران اس نے لسٹ اے کرکٹ میں اپنا 10ہزارواں سکور بنایا۔ [1] دسمبر 2018 میں انہوں نے ہر طرح کی کرکٹ سے سبکدوشی کا اعلان کیا۔ [2]

2019 میں انہوں نے ہندوستان کی دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور مشرقی دہلی سے لوک سبھا کے انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔

ابتدائی اور ذاتی زندگیترميم

گمبھیر نئی دہلی میں سیما گمبھیر اور دیپک گمبھیر کے ہاں پیدا ہوا۔ ان کے والدٹیکسٹائل کا کاروبارکرتے ہیں اور ان کی والدہ گھریلو خاتون تھیں۔ گمبھیر کی ایک بہن ایکتا ہے جو اس سے دو سال چھوٹی ہے۔ [3] گمبھیر کو اس کی پیدائش کے اٹھارہ دن بعد اس کے دادا دادی نے گود لیا تھا اور تب سے ان کے ساتھ رہے تھے۔ [4] گمبھیر نے 10 سال کی عمر میں کرکٹ کھیلنا شروع کیا۔ انہوں نے اپنی تعلیم ماڈرن اسکول نئی دہلی سے حاصل کی اور ہندو کالج یونیورسٹی آف دہلی سے گریجویشن کیا۔ وہ 90 کی دہائی میں اپنے ماموں پون گلاٹی کی رہائش گاہ پر قیام پذیر ہوئے۔ گمبھیر گلاٹی کو ہی اپنا سرپرست مانتا ہے اور اہم میچوں سے پہلے اکثر اسے فون کرتا تھا۔ گمبھیر کے کھیل کی تربیت دہلی میں لال بہادر شاستری اکیڈمی کے سنجے بھردواج اور راجو ٹنڈن نے کی۔ گمبھیر کو 2000 میں بنگلور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی پہلے انٹیک کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔

 
سنہ 2008 میں گمبھیر

واپسیترميم

بین الاقوامی کرکٹ سے لمبے عرصے تک عدم موجودگی کے بعد 8 اکتوبر 2016 کو گھمبیر کو ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی فارم کا مظاہرہ کرنے کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سیریز کے لئے واپس بلایا گیا تھا۔ [5]

ریٹائرمنٹترميم

 
ہندوستانی صدر رام ناتھ کووند 16 مارچ 2019 کو گوتم گمبھیر کو پدما شری ایوارڈ پیش کرتے ہوئے

گمبھیر نے 6 دسمبر 2018 کو رنجی ٹرافی میں آندھرا کرکٹ ٹیم خلاف دہلی کرکٹ ٹیم کے آخری میچ سے قبل 3 دسمبر 2018 کو ہر طرح کی کرکٹ سے سبکدوشی کا اعلان کیا تھا۔ [6] گمبھیر نے اپنی آخری اننگز میں 112 رنز بنائے ، فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 43 ویں سنچری۔ [7] گوتم گمبھیر نے پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے اپنی نئی اننگز کا آغاز اس وقت کیا جب انہوں نے 17 جون 2019 کو لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے حلف لیا تھا۔

دیگر کامترميم

گمبھیر نے مشرقی دہلی کے اپنے انتخابی حلقے میں دل کھول کر کام کیا ہے ، خواتین کی حفاظت کے معاملے سے نمٹنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں جس سے حالیہ دنوں میں دہلی کو پریشان کن حالت سے کچھ بہتری کی امید ہوئی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Vijay Hazare Trophy: Gautam Gambhir reaches major milestone on 37th birthday". Times Now News. اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2018. 
  2. "Gautam Gambhir retires from all cricket". ESPN Cricinfo. اخذ شدہ بتاریخ 04 دسمبر 2018. 
  3. "A knight's tale". TOI. 10 June 2011. اخذ شدہ بتاریخ 03 اکتوبر 2012. 
  4. The Telegraph – Calcutta : Weekend. Telegraphindia.com (13 May 2006). Retrieved on 23 December 2013.
  5. "Gambhir back in Test squad after two years". ESPNcricinfo. اخذ شدہ بتاریخ 26 اپریل 2018. 
  6. "Gautam Gambhir to retire from all cricket". ESPNcricinfo (بزبان انگریزی). 4 December 2018. اخذ شدہ بتاریخ 05 دسمبر 2018. 
  7. "Gambhir's fairy-tale finish, and a Laxman-Dravid reprise". ESPN Cricinfo. اخذ شدہ بتاریخ 09 دسمبر 2018. 

بیرونی روابطترميم