گوپی ناتھ کوی راج

گوپی ناتھ کوی راج (انگریزی: Gopinath Kaviraj) (7 ستمبر 1887ء-12 جون 1976ء) سنسکرت کے اسکالر اور فلسفی تھے۔ ان کا تقرر پہلی دفعہ 1914ء میں بطور لائبریرین ہوا تھا۔ وہ 1923ء تا 1937ء گورنمنٹ سنسکرت کالج، واراناسی میں پرنسپل رہے۔ وہ سرسوتی بھاونا گرنتھمالا کے ایڈیٹر بھی تھے۔

گوپی ناتھ کوی راج
Gopinath Kaviraj 1988 stamp of India.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 7 ستمبر 1887[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 جون 1976 (89 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنارس  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)[2]
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فلسفی،  مہتمم کتب خانہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سنسکرت[3]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Tantrik Vangmaya Mein Shakta Drishti) (1964)[4]
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن 
IND Padma Vibhushan BAR.png پدم وبھوشن برائے ادب اور تعلیم   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

1964ء میں ساہتیہ اکیڈمی نے انہیں تانترک وانگ مایا مین شکت درشنی کے لیے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز سے نوازا۔ اسی سال انہیں حکومت ہند کی جانب سے بھارت کا دوسرا بڑی شہری اعزاز پدم وبھوشن دیا گیا۔ 1917ء میں انہیں ساہتیہ اکیڈمی فیلوشپ دیا گیا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

کوی راج کے والد کا نام ویکنتھ ناتھ بنگالی زبان کے فلسفی تھے۔ ان کی ولادت بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کے گاوں دھمرائی میں ہوئی۔ گاں میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کے ایل جنلی ہائی اسکول، ڈھاکہ میں ساتویں درجہ میں داخلہ لیا اور دسویں تک وہیں تعلیم مکمل کی۔[5] ان کا پیدائشی نام بگچی تھا مگر انہوں نے اپنے لیے کوی راج منتخب کیا جو انہیں خوب بھاتا تھا۔

1906ء میں وہ جے پور چلے گئے اور چار برس بعد انہوں نے مہاراجا کالج، جےپور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ جامعہ الٰہ آباد سے انہوں نے ایم اے کی ڈگری لی۔[6] 1910ء میں وہ بنارس چلے گئے اور اعلیٰ حاصل تعلیم پر توجہ دینی شروع کی۔

1924ء میں وہ گورنمنٹ سنسکرت کالج کے پرنسپل بن گئے اور بعد میں وہ وارانسی کے سمپرن آنند سنسکرت یونیورسٹی کے پرنسپل رہے۔ وہ سرسوتی بھاونا کے چیف ایڈیٹر تھے۔ وہ روحانی متون پر تحقیق کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ 1937ء میں انہوں نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا کیونکہ ان کے گرو سوامی وشودھ آنند کی وفات ہو گئی تھی۔ بعد کے دنوں میں انہوں نے تنتر میں ریسرچ بھی کیا اور سادھنا بھی کی۔ وہ کاشی کے دلدادہ تھے اور بنارس سے باہر کبھی نہیں گئے البتہ پدم وبھوشن اعزاز وصول کرنے انہیں دہلی جانا پڑا تھا۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb129753087 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. https://libris.kb.se/katalogisering/jgvx0j82254lnvn — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 16 اکتوبر 2012
  3. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb129753087 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  4. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#SANSKRIT — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اپریل 2019
  5. "Sri Sri Anandamayi Ma's Devotees". Anandamayi Ma. اخذ شدہ بتاریخ 26 ستمبر 2014. 
  6. Sinha، Biswajit (1 جنوری 1996). Encyclopaedia of Indian Writers. Eastern Book Linkers. صفحہ 29. ISBN 9788189975548. اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2015.