ہلال جرٔات نشان حیدر کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا فوجی اعزاز ہے۔ یہ اعزاز 1957ء میں پاکستان کے اسلامی جمہوریہ بننے کے بعد شروع کیا گیا۔ یہ اعزاز افواج پاکستان کو جنگ میں بہادری اور جرأت کے مظاہرہ پر دیا جاتا ہے۔

ہلالِ جرأت
عطا کردہ پاکستان
قسمعسکری اعزاز
اہلیتافواج
(بری فوج, بحریہ اور فضائیہ)
عطا برائے"...فضائی، بری اور فضائیہ افواج کے آفیسرز کو دیا جاتا ہے"
صورتحالموجودہ اعزاز
فیتۂ ہک2
عرفیتHJ
شماریات
تاسیس16th مارچ 1957ء[1][2]
دیگر اعزاز
اعلیٰ
(نشان حیدر)
ادنی
(ستارۂ جرأت)

(تمغۂ امتیاز)

تفصیل

ترمیم

یہ اعزاز پاکستان کی فضائی، بری اور بحری فوج کے بہادر سپاہیوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز برطانیہ کے "برٹش ڈسٹنگواشڈ سروس آرڈر" (British Distinguished Service Order) اور امریکا کے "یونائیٹڈ سٹیٹس ڈسٹنگواشڈ سروس کراس (United States Distinguished Service Cross) کے برابر ہے۔ اس اعزاز کے ہمراہ بیس ہزار روپے یا پانچ ایکڑ اراضی بھی دی جاتی ہے۔

شکل و صورت

ترمیم

ہلال جرإت سونے كے تمغے كی شكل كا ہوتا ہے جس كی پشت پر عربی رسم الخط میں ہلال جرإت كے الفاظ كندہ ہوتے ہیں۔ اس كے ساتھ یكساں ناپ كی سرخ، سبز اور سرخ رنگ کی 3 پٹیاں آویزاں ہوتی ہیں۔

اعزاز حاصل کرنے والے

ترمیم

ہلال جرأت حاصل کرنے والے پہلے چار سپاہیوں میں

اعزاز حاصل کرنے والوں کی فہرست

ترمیم

پاک فوج

ترمیم

پاکستان/ بنگلہ دیش فوج

ترمیم

پاک فضائیہ

ترمیم
  • ایئر مارشل نور خان
  • گروپ کیپٹن ظفر مسعود
  • سکوارڈن لیڈر سرفراز احمد رفیقی
  • ایئر مارشل عبد الرحیم خان
  • ایئر کموڈور انعام الحق خان

پاک بحریہ

ترمیم
  • وائس ایڈمرل افضل رحمان خان
  • ریئر ایڈمرل محمد شریف

مزید دیکھیے

ترمیم

ملاکا اسٹک

اعزازی شمشیر (پاکستان)

تمغائے امتیاز

تمغائے بسالت

تمغائے جرات

ستارہ بسالت

ستارہ جرأت

ستارۂ امتیاز

نشان امتیاز

نشان حیدر

ہلال امتیاز

ہلال جرأت

بیرونی روابط

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. Megan Robertson۔ "Crescent of Courage (Hilal-i-Jur'at)"۔ Medals.org۔ 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 06 جون 2009