ارمیاہ یا یرمیاہ ایک نبی تھے جن کا نام قرآن میں براہ راست تو نہیں لیکن کچھ احادیث روایات میں ان کا ذکر ملتا ہے، اس کے علاوہ کتاب مقدس کے عہدنامہ قدیم میں بیشتر مقامات پر ملتا ہے۔ ان کا تعلق یعقُوب (یعقوب علیہ السلام) کے بیٹے لاوی کے خاندان سے تھا۔

ارمیاہ بن حلقیا
ارمیاہ کلیسا سیستن کی چھت پر
نبی، پیغمبر
پیدائش655 ق۔م
عنتوت، (کنعان موجودہ عناتا، فلسطین)
وفات570 یا 580 ق۔م
 مصر
مزارنامعلوم؛ ایک روایت کے مطابق شمالی آئرلینڈ میں
تہوار1 مئی (مشرقی راسخ الاعتقاد)
1 جنوری (حبشی)
30 اپریل (قبطی)
11 مئی (یروشلمی)
3 جولائی (مصری)

اسلام میں

ترمیم

ارمیا بن حلقیا کو بعض نبی اور بعض غیر نبی خیال کرتے ہیں۔ بہت ہی اختلاف ہے قرآن میں اشارتا کئی جگہ ذکر آیا ہے
تفسیر مظہری سورۃ الاسراء میں ہے
ہارون بن عمران کی اولاد میں سے ارمیاہ بن حلفیا کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ ابن اسحاق نے بیان کیا کہ یہی خضر تھے جن کا نام ارمیاہ تھا اور خضر لقب کیونکہ آپ (ایک بار) خشک گھاس پر بیٹھے تھے اور اٹھے تو وہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگی تھی‘ اللہ نے ارمیاہ کو بادشاہ کی ہدایت اور سیدھے راستے پر چلانے کے لیے مامور فرمایا۔[1] سو سال بعد دوبارہ اٹھنے والے واقعہ سورہ البقرہ کی آیت 259 کے تحت ابن کثیر لکھتے ہیں یہ گزرنے والے یا تو عزیر علیہ السلام تھے جیسا کہ مشہور ہے یا ارمیاہ بن حلفیا تھے۔[2] اسی آیت کی ضمن میں وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ جنت میں کتا اور گدھا داخل نہیں ہوں گے سوائے اصحاب کہف کے کتے اور ارمیاہ بن حلفیا کے گدھے کے یہ ارمیاہ ہیں جنہیں سوسال تک موت دی گئی اور پھر دوبارہ زندہ کیا گیا ارمیاء بن حلفیا۔[3] سورۃ البقرہ میں ذکر ہے
امام ابن عساکر نے جو یبر سے ضحاک کے سلسلہ سے ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ’’ ولقد اتینا موسیٰ الکتب‘‘ سے مراد ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات اکٹھی ایک ہی مرتبہ مفصل اور محکم عطا فرمائی۔ ’’ وقفینا من بعدہ بالرسل‘‘ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد یکے بعد دیگرے یہ رسول بھیجے۔ اشمویل بن بابل، مشتانیل، شعیابن امصیا، جزقیل، ارمیا بن حلقیا،[4]

حوالہ جات

ترمیم
  1. تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی،سورۃ الاسراء ،آیت7
  2. تفسیر ابن کثیر حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر ،البقرہ 259
  3. نہایۃ الأرب فی فنون الأدب ،مؤلف: احمد بن عبد الوهاب بن محمد بن عبد الدائم القرشي التيمي البكري، شهاب الدين النويري ،ناشر: دار الكتب والوثائق القومیہ، القاہرہ
  4. تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی ،سورۃ البقرہ،آیت87