ابن جبیر (پیدائش: یکم ستمبر 1145ء– وفات: 29 نومبر 1217ء) اندلس سے تعلق رکھنے والے قرون وسطی کے جغرافیہ نگار، سیاح تھے۔

ابن جبیر
(عربی میں: مُحمَّد بن أحمد بن جُبير بن سعيد الأندلسي الكناني ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 1 ستمبر 1145  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلنسیہ[1]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 نومبر 1217 (72 سال)[2][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسکندریہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ جغرافیہ دان،  شاعر،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسبترميم

ابن جبیر کا نام محمد بن احمد اور کنیت ابوالحسین ہے۔ نسب یوں ہے: محمد بن احمد بن سعید بن جبیر بن محمد بن عبد السلام بن جبیر الکتانی الاندلسی الشاطبی البلنسی ۔

پیدائشترميم

ابن جبیر کی ولادت شب ہفتہ 10 ربیع الاول 540ھ/یکم ستمبر 1145ء کو بلنسیہ، اندلس میں ہوئی۔ ان کا گھرانہ عرب تھا اور بنو کنانۃ قبیلے سے تھا۔ ان کے والد سرکاری خدمت گار تھے۔ ابن جبیر نے تعلیم شاطبۃ کے قصبے سے حاصل کی، جہاں ان کے والد ملازمت کرتے تھے۔ وہ بعد میں غرناطہ کے گورنر الموحدون کے مشیر بھی رہے.

مشرق کی جانب سفرترميم

انہوں نے غرناطہ کے حاکم کے کہنے پر حج کی خدمت کے لیے بحری راستے سے سفر اختیار کیا اور جبل طارق سے ہوتے ہوئے اسکندریہ پہنچے. انہوں نے اس بحری سفر کے دوران افریقہ میں ایک ایسے مسلمان گھرانے کو بھی دیکھا جس کی عورتوں اور بچوں کو بطور غلام فروخت کر دیا گیا۔ انہوں نے سسلی کے ساحل پر اپنے بحری جہاز کے شدید سمندری طوفان میں گِھر جانے کا بھی تذکرہ کیا. وہ مصر کے سلطان صلاح الدین بن یوسف کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔ قاہرہ میں مدرسوں کی کثرت سے وہ کافی متاثر نظر آتے ہیں۔ ابن جبیر نے مکہ، مدینہ، دمشق اور شام کی بھی سیاحت کی.

بطور سیاحترميم

محمد ابن جبیر دُنیا کے اُن چند سیاحوں کی صفِ اوّل میں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنی سیاحت میں ایک دُنیا کو شامل کر لیا ہے۔ یہ سفرنامہ کم و بیش آٹھ سو سال پہلے کا ہے۔ ابن جبیر کا تعلق غرناطہ (اندلس) سے تھا۔ یہ دراصل ان کا سفرنامہ حج ہے، جو انہوں نے ذی الحج 578ھ میں شروع کیا اور صقلیہ، شام، مصر، فلسطین، عراق، لبنان اور حجاز مقدس کے مکمل احوال و آثار اور مشاہدات کو سمیٹتے ہوئے محرم 581ھ غرناطہ واپس پہنچنے پر مکمل کیا۔

اس سفرنامے کی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہ دوسری صلیبی جنگوں کے زمانے کی مستند تاریخی دستاویز ہے۔ ابن جبیر جہاں جہاں سے گزرے؛ انہوں نے وہاں کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی حالات کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مذہبی عقائد و نظریات اور رسوم و رواج تک تفصیل سے بیان کر دیے ہیں۔ مزید برآں جس انداز و اسلوب میں یہ سفرنامہ لکھا گیا ہے، اس سے پہلے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ ابن بطوطہ جیسے سیّاحِ عالم نے اپنے شہرہ آفاق سفرنامے میں متعدد جگہوں پر ’’سفرنامہ ابن جبیر‘‘ کو بہ طور حوالہ پیش کیا ہے۔ یہ سفرنامہ فصیح عربی زبان میں ہے۔ اس کے متعدد قلمی نسخے دُنیا کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں اور تقریباً تمام ترقی یافتہ زبانوں میں اس کے تراجم ہو چکے ہیں.

وفاتترميم

ابن جبیر نے دوبارہ 1217ء میں مشرق کی طرف سفر اختیار کیا مگر اب کے فرشتۂ اَزل نے انہیں موقع نہ دیا اور وہ اسکندریہ میں فوت ہو گئے.

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. عنوان : Ibn Jubair — شائع شدہ از: دائرۃ المعارف بریطانیکا 1911ء
  2. جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119473070 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/ibn-jubayr — بنام: Ibn Jubayr — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  4. دائرۃ المعارف یونیورسل آن لائن آئی ڈی: https://www.universalis.fr/encyclopedie/ibn-djubayr/ — بنام: IBN DJUBAYR — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا انک.
  5. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: https://id.worldcat.org/fast/226436/ — بنام: Muḥammad ibn Aḥmad Ibn Jubayr — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. بنام: Muḥammad ibn Aḥmad Ibn Jubair — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/63136 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017