ابو عبید بن مسعود بن عمرو بن عمیر بن عوف ثقفی، صحابی ہیں، بنو ثقیف سے تعلق تھا، پیغمبر اسلام کی حیات ہی میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ مختار ثقفی کے والد ہیں، اسی طرح عبد اللہ بن عمر کی بیوی "صفیہ بنت ابی عبد اللہ ثقفیہ" کے والد تھے، عمر بن خطاب نے انھیں عراق کا والی بنایا تھا لیکن کچھ ہی عرصے میں معرکہ جسر میں شہید ہو گئے۔[1]

ابو عبید بن مسعود ثقفی
 

معلومات شخصیت
پیدائش 6ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طائف   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 اکتوبر 634  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت راشدہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد مختار ثقفی   ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری خلافت راشدہ   ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاخ خلافت راشدہ کی فوج   ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں کسکر کی لڑائی ،  جنگ جسر   ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

احوال ترمیم

سنہ 13 ہجری میں خلیفہ دوم عمر بن خطاب کی خلافت کے چھوتے ہی دن تشکیل کی جانے والی پہلی جنگ کے امیر اور نمائندے یہی ابو عبید بن مسعود ثقفی تھے، اس جنگ میں بدری صحابہ بھی شامل تھے، لوگ ان کی قیادت میں آتے گئے یہاں تک کہ مدینہ منورہ اور اطراف ہی میں تقریباً ایک ہزار تعداد ہو گئی، اکثر لوگ بنو ثقیف کے تھے، ابو عبید اس میں اپنے پورے اہل خانہ کے حاضر تھے۔ انھوں نے کسکر کے صحرا میں فارسیوں کو شکست دی، بہت سارا مال غنیمت جمع کیا، پھر باقسیاثا میں جالینوس کو شکست دی، پھر وہاں سے حیرہ پہنچے۔

معرکہ جسر میں فوج کے امیر تھے، جو حیرہ اور قادسیہ کے درمیان مسلمانوں اور فارسیوں کے بیچ میں ہوا تھا، ابو عبید نے اس اس معرکہ میں دریائے فرات کو پار کر لیا تھا، فارسیوں نے پل کو توڑ دیا تھا، لیکن ہاتھی کے روندنے کی وجہ سے اس میں ان کی وفات ہو گئی، ان کے ساتھ ان معرکہ میں تقریباً اٹھارہ سو مسلمان بعض دریا میں غرق ہو کر اور بعض میں میدان لڑ کر شہید ہوئے۔

حوالہ جات ترمیم

  1. فصل الخطاب في سيرة ابن الخطاب أمير المؤمنين عمر بن الخطاب شخصيته وعصره، د.علي محمد الصلابي، طبعة مكتبة الصحابة - الشارقة، 2002م، الفصل الخامس: فقه عمر في التعامل مع الولاة، صـ 371: 377
  • 1ـ اختيار معرفة الرجال 1 / 341 . 2ـ اختيار معرفة الرجال1 / 340 . 3ـ اختيار معرفة الرجال1 / 342 . 4ـ الإرشاد 1 / 325 . 5ـ اللهوف في قتلى الطفوف : 196 .