الجامعۃ الاحمدیہ (السنیہ)

الجامعۃ الاحمدیہ (السنیہ)
مظہر تجلیات ربانی محرم اسرار رحمانی امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہ النورانی کے نام نامی سے منسوب
عارفان حق کی آماجگاہ نکہتوں سے معمور ومزین شہر قنوج کی عظیم دینی دانش گاہ
اہل سنت و جماعت کا مرکزی ادارہ الجامعۃ الاحمدیہ السنیہ
احمد نگر حمالی پورہ قنوج (صوبہ اترپردیش)،الھند

الجامعۃ الاحمدیہ (السنیہ)
Al jamiatul ahmadiya (assuniya).jpg
بانیبحر العرفان استاذ العلماء حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی صاحب قبلہ دام ظلہ
صدر دفترقنوج، بھارت
خدمت دائرہ کارتعلیم، دعوت، تصوف، صحت، فلاح عام، معیشت
مرکوزمحمدی فاونڈیشن، تعلیم، میڈکل کیمپ، فراہمی آب، اجتماعی شادیاں، قدرتی آفات میں ہنگامی امداد
طریقہ کارعطیات
شعار’’فلاح دارین‘‘
موقعِ حبالہ[1]

تعارف جامعہترميم

یہ ادارہ اتر پردیش کے تاریخی اور مشہور شہر قنو ج میں واقع ہے جو 4؍ رمضان المبارک ١٤٠٥ھ مطابق،١٩٨٥ء میں حضرت بحر العرفان مفتی آفاق احمد صاحب مجددی کی مساعی جمیلہ سے قیام پزیر ہوا۔ابتد اء ً چھوٹی سی جگہ میں چلنے والا یہ ادارہ بفضلہ تعالیٰ نہایت قلیل مدت میں پندرہ ایکڑ سے زیادہ قطعۂ آراضی پر پھیلی ہوئی مختلف عمارتوں پر مشتمل ہے ،جیساکہ آپ دیکھیں گے ،علاوہ ازیں ہندوستا ن کے مختلف صوبوں اور شہروں میں اس کی شاخیں دین و سنیت کی تبلیغ واشاعت میں ہمہ دم مصروف ِعمل ہیں اور جامعہ کے فارغین و فارغات علما ،فضلاء ،حفاظ و قراء نیز عالمات و فاضلات ملک و بیرون ملک کے متعددعلاقوں اور ہندوستان کے مختلف صوبوں جیسے یوپی ،ایم پی، دہلی، راجستھان، اے پی، بہار، مہاراشٹر پنجاب اور کشمیر وغیرہ میں مسلک حق کی ترویج و اشاعت کی گراں قدرخدمات انجام دے رہے ہیں

بانی جامعہ کا مختصر تعارفترميم

الجامعۃ الاحمدیہ کے بانی و مہتمم شیخ طریقت مناظر اہل سنت بحر العرفان استاذ العلماء حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی صاحب قبلہ دام ظلہ ہیں ،آپ نسباًصدیقی ،مسلکاً حنفی اور مشرباً نقشبندی مجددی ہیں۔ آپ کی ولادت 1959؁ء میں ضلع فرخ آباد کے ایک گاؤں بھڑونسہ میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے ایک مکتب اور قصبہ جراری کے ایک مکتب سے حاصل کی ، بعدہٗ شہر بدایوں میں عربی، فارسی، فقہ و حدیث وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرف کچھوچھہ مقدسہ میں عا لمیت و فضیلت کی مکمل تعلیم حاصل کی نیز وہیں سے سند فراغت بھی حاصل کی اور اسی جامعہ میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے ۔ ایک سال وہاں علم و فن کے گوہر لٹانے کے بعد اپنے پیر و مرشد کے حکم پر مدرسہ گلشن رضا چھپیہ گورکھپور میں تشریف لائے ،یہاں تین سال مسلسل دار العلوم کی ترقی کے لیے انتھک کوشش اور سعی پیہم کرتے رہے اور اسے ترقیوں کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ چند وجوہات کی بنا پر وہاں سے مستعفی ہو کر قنو ج شہر کو اپنی ہمہ جہت خدمات کے لیے منتخب فرمایا اور الجا معۃالاحمدیہ کی بنیاد رکھی ۔ جامعہ کی تعمیر و ترقی کے لیے آپ نے جن مشکلات کا سامنا کیا انھیں بیان کرنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے ،یہ مختصر تعارف اس کی گنجائش نہیں رکھتا۔الغرض وہ جامعہ جسے آپ نے ایک چھوٹی سی جگہ میں شروع کیا تھا آپ کی جہد مسلسل او ر بے انتہا محنت و مشقت نے آج اسے الجامعۃ الاحمدیہ کی شکل میں قوم کے سامنے پیش کر دیا۔آپ کو شیخ طریقت سرتاج ولایت واصل بارگاہ سبحان عارف باللہ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب قبلہ نقشبندی مجددی سجادہ نشین خانقاہ خیریہ کمالپور بنارس سے بیعت و ارادت کا شرف حاصل ہے۔چند سا ل ان کی صحبت بابرکت میں رہ کر آ پ نے باضابطہ سلوک مجددیہ کے مقامات طے فرمائے اور ان سے جمیع سلاسل مشہورہ کی اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ نیز گل بوستان برکاتیت رفیق ملت حضرت مولانا شاہ سید نجیب حیدر میاں صاحب نائب سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ سے بھی خاندان برکات میں رائج تمام سلاسل کی اجازت وخلافت آپ کو حاصل ہے ،یقیناً آپ کی ذات تقویٰ و طہارت ، علم و عمل اور اتباع سنت کی منھ بولتی تصویر ہے ۔ بحمدہٖ تعالیٰ اس وقت ہزاروں لوگ آپ کے دامن کرم سے وابستہ ہیں اور چاروں سلاسل مشہورہ بالخصوص نقشبندیہ مجددیہ کے فیضان سے مالامال ہو رہے ہیں ، نیز اس مادیت زدہ ماحول میں سیکڑوں لوگ باقاعدہ تصوف و روحانیت ،تصفیۂ قلب اور تزکیۂ نفس کی دولت اور ذکر وفکر کی سعادت آپ کے ذریعہ حاصل کر رہے ہیں ۔ علوم دینیہ کی نشر و اشاعت کے ساتھ ساتھ تصوف و روحانیت کو عام کرنے کے لیے آپ نے تحریک تصوف کے زیر اہتمام فروغ تصوف فاؤنڈیشن اور خانقاہ مجددیہ کا قیام فرمایا ،جن کے ذریعہ تصوف کی علمی و عملی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری و ساری ہے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم و فن میں مہارت تامہ کے ساتھ ساتھ تصوف و روحانیت میں ایسا ملکہ عطا فرمایا ہے کہ اس دور میں بلا مبالغہ نہا یت کم یاب ہے ۔ آپ جدیدیت و مادیت کے اس دور میں حدیث و تفسیر اور فقہ کی تعلیم کے ساتھ تصوف و روحانیت اور ذکر و مراقبہ میں ہر وقت مصروف رہتے ہوئے تبلیغی دورے بھی کرتے رہتے ہیں اور تصنیف و تالیف کا کا م بھی انجام دیتے ہیں

قیامِ جامعہترميم

ابتدا ًحضرت بحرالعرفان صاحب قبلہ نے شہر قنوج کے محلہ حمالی پورہ کی مسجد میں تعلیم کا سلسلہ جاری فرمایا ،تھوڑ ے ہی دنوں میں آپ کے معتقد تلامذہ جو اس سے پہلے آپ سے پڑھ چکے تھے وہ تمام طلبہ آپ کے قیامِ قنو ج کے بارے میں معلوم ہوتے ہی پروانوںکی طرح ٹوٹ پڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے اچھی خاصی تعداد میں طلبہ جمع ہو گئے۔لہٰذا ان کے خور د و نوش اور قیام کا مسئلہ درپیش آیا اس وجہ سے آپ نے رات و دن محنت ومشقت کرکے محلہ ہی میں زمین خرید لی اور شہرو بیرون شہرسے چندہ کر کے جامعہ کے سنگ بنیاد کا پروگرا م رکھا۔اس طرح 4؍رمضان المبارک١٤٠٥ھ مطابق،١٩٨٥ء کو حضور عارف باللہ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خانصاحب نقشبندی بنارسی دام ظلہ کے دست مبارک سے جامعہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور تعمیر کا سلسلہ جاری ہو ا ۔ عجب بے کسی کا عالم تھا ،نہ کوئی مستقل فنڈ ،نہ احباب کا وسیع فیلڈ ، محض جذبہ و خلوص اور توکل کی بنیاد پر اتنے بڑے کام کا بیڑا اٹھا لیا۔معماروں کی اجرت اور میٹیریل کا بار تو مشکل سے اٹھا رہے تھے مزدوری کہاں سے دیتے ،اس لیے خود ہی بنیاد کھودتے ،مسالا بناتے اور تعلیم و تدریس کے ساتھ ساتھ پورا دن عمارت کے کام میں مشغول رہتے ، ساتھ میں آپ کے مخلص تلامذہ بھی محنت و مشقت کرتے ۔ جامعہ کی قدیم عمارت کی تعمیر کے سلسلے میں آپ کی محنت و جانفشانی کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگا یا جا سکتاہے کہ ایک مرتبہ اینٹ بھٹہ کے مالک نے کسی وجہ سے اینٹیں محلہ کے باہر ہی ڈلوا دیں دوپہر کا وقت تھا گرمی کے دن تھے آپ اسی وقت اٹھے او ر سر پر کپڑا باندھ کر اینٹیں سر پر رکھ کر ڈھونے لگے اہل محلہ نے جب آپ کو پسینہ میں شرابور اینٹیں ڈھوتے ہوئے دیکھا تو کئی لوگوں کے آنسو ں نکل پڑے اور آناً فاناًتمام لوگوں نے اینٹیں اٹھا کر جامعہ کے گراؤنڈ میں جمع کر دیں۔اس طرح جامعہ کی قدیم عمارت تعمیر ہوئی اور پھر سرکار امام ربانی کے فیضان اور حضور عارف باللہ مولانا شاہ احمد رضا خاں نقشبند ی صاحب قبلہ کی دعاؤں سے یہ کاروان ِ شوق اپنی منزل کی طرف اسباب کی کمی کے باوجود نہایت سرعت سے چل پڑا ،رفتہ رفتہ لوگ جڑتے گئے کام آگے بڑھتا گیا ، زمینیں خریدی جاتی رہیں ، عمارتیں تعمیر ہوتی رہیں اوراب آپ اسےاس منزل پر دیکھ رہے ہیں

قنوج کی تاریخی حیثیتترميم

قنوج ایک نہایت قدیم ،تاریخی شہر ہے۔ تاریخ ہندوستا ن کے مطابق قنوج دنیا کی دوسری یا تیسر ی آبادی ہے، جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے آباد کیا تھا ۔ قدیم زمانے میں یہ شہر پورے غیر منقسم ہندوستان کی راجدھانی رہا ہے۔تاریخ فرشتہ کے بیان سے اس کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،نیزعرصۂ دراز تک شمال ہند کی راجدھانی رہا۔اس شہر کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں تین صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مزارات مقدسہ ہیں ’’الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ‘‘میں بھی اس کی صراحت موجود ہے ،نیز مختلف سلاسل کے کئی بزرگوں کے مزارات بھی اس کی عظمت رفتہ کے گواہ ہیں ، جیسے حضرت حاجی شریف زندنی ( علیٰ اختلاف الروایۃ) حضرت بالاپیر ، حضرت سلطان پیر ، حضرت مخدوم اخی جمشید ،حضرت مخدو م جہانیاں رحمھم اللہ ، نیز خود حضرت خواجۂ ہندوستان غریب نواز قدس سرہٗ کے خاص خلیفہ حضرت شیخ احمد رحمۃ اللہ علیہ بھی یہاں تشریف لائے اور یہیں مدفون ہوئے ،آج بھی آپ کے نام سے محلہ احمدی ٹولہ آباد ہے۔اس کے علاوہ یہ شہر تجارت و معیشت کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے یہاں کا عطر پوری دنیا میں جاتاہے اور قنوج کو عطرو اتہاس کی نگری کہا جاتاہے ۔ اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے جس میں تقریباً 45؍ فیصد مسلم آبادی ہے او ر اہل سنت کو اکثریت حاصل ہے

محل وقوع جامعہترميم

قنوج شہر کانپور سے دہلی کو جانے والے جی ٹی روڈ پر کا نپور سے تقریباً 80 ؍ کلو میٹر جانب غرب ،اور دہلی سے تین سو چالیس کلومیٹر کی دوری پر جانب شرق واقع ہے۔اس کے محلہ شیخ پور ہ اور محلہ احمد نگر( حمالی پو رہ)میں نیز محلہ حاجی نگر پولس لائن روڈ پر الجامعۃ الاحمدیہ کی شاندار عمارتیں موجود ہیں

جامعہ کے چند اہم امور اورخصوصیاتترميم

(1) عام مدارس و مکاتب میں تعلیم کے سلسلے میں جو لاپرواہیاں اور کوتا ہیاں ہیں ،جامعہ کو ان سے پاک رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے ، جامعہ کے جملہ شعبہائے تعلیم میں ابتدا سے لے کر انتہا تک نہایت گہرائی سے تعلیم دی جاتی ہے اور ہر علم پر اس کی اہمیت اور افادیت کے لحاظ سے توجہ ہوتی ہے ،نیز ہر درجہ میں جس علم کے جتنے ضرور ی اصول و قواعد قابل حفظ ہیں انھیں حفظ کرایا جاتا ہے اور کوشش ہوتی ہے کہ طلبہ کو عربی عبارات بھی یاد ہوں ، قواعد اچھی طرح ذہن میں بیٹھیں اور انھیں ترجمہ پر خود قدرت ہو۔اورانھیں اس لائق بنانے پر خاص دھیان دیا جاتاہے کہ وہ تعلیم و تدریس وغیرہ میں اچھی اور عمدہ ملازمت حاصل کر کے باوقار زندگی کزار سکیں اور دین کا مفید کام کرسکیں ۔ (2)ہر درجہ میں انگریزی اور آخری درجہ میں کمپیوٹر کی ایسی تعلیم جس سے طلبہ مستقبل میں آئی۔ٹی ۔ آئی ،سے متعلقہ کورس کر سکیں اور باہنر بن سکیں ۔ اس کے علاوہ وہ جامعہ میں رہ کرمدرسہ بورڈ کے امتحانات دے سکتے ہیں جو ہائی اسکول ،انٹر ، بی۔اے، وغیرہ کے مساوی ہوں گے۔اور ان کی بنیادوں پر کسی بھی اسکول و کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ لے کر ایم۔اے اور پی۔ایچ۔ڈی وغیرہ کر سکتے ہیں۔نیز مرکزی حکومت کی جانب سے قائم کردہ ’’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ‘‘ کا عربی اردو ڈپلومہ بھی کر سکتے ہیں ۔ (3) روحانیت و تصوف کی تعلیم و تربیت ، صوفیہ کے اخلاق و آداب اور ان کی سیرتوں پر عمل پر زور دیا جاتاہے تاکہ اچھے اخلاق سے آراستہ ہو سکیں اور قوم و ملت کے لیے اپنے کردار و عمل سے جاذب نظر بن سکیں ۔ (4) عربی زبان و ادب میں خاص مہارت پیدا کی جاتی ہے اور تما م درجات کے طلبہ کو حسب مراتب اس لائق بنایا جاتا ہے کہ وہ اپنے علم یا ہنر کے ذریعہ خود کفیل ہو سکیں ،صرف امامت وغیرہ پر انحصار نہ رہو۔ (5)ہر درجہ میں طلبہ پر اس قدر محنت کی جاتی ہے کہ وہ اگلے درجے کے لیے بآسانی تیار ہوجاتے ہیں۔ (6) خارجی مسائل عامۃ الوقوع جواکثر متون سے طلبہ نہیں جان پاتے ہیں یا دور کے لحاظ سے جن کی سخت ضرورت ہے انھیں یا د کرایا جاتاہے۔نیز طلبہ و طالبات میں عمل و دعوت و تبلیغ کا جذبہ پیدا کیاجا تا ہے تاکہ وہ اسلا م و سنیت مخالف طاقتوں کا صحیح مقابلہ کر سکیں ۔ (7) نماز باجماعت کی پابندی ، فرائض و و اجبات و سنن وغیرہ کا حفظ ،مسنون دعائیں ،اخلاق نبوی و سیرت نبوی کا علم اور اس پر عمل ، اخلاق حسنہ کی تعلیم اور ان کے ساتھ آراستگی، اخلاق رذیلہ کی جانکاری او ران سے اجتناب پر سخت زور دیا جاتا ہے ،نیز خلاف مروت یا وہ کام جن سے علما کی طرف سے عوام میں بد ظنی یا کراہت پیدا ہو ان سے آگاہی اور پرہیز پر زور دیا جاتا ہے ۔ (8)قرآن و حدیث میں جن انبیا علیھم الصلوات والتسلیمات کے تذکرے اور ان کی سیرتیں بیان کی گئیں ہیں نیز کس کی بعثت کس زمانے میں ، کس علاقے میں ، کس قوم کی طرف ہو ئی ، اس قوم کے تمدنی اور مذہبی حالات کیا تھے، جغرافیائی اعتبار سے ان جگہوں کا محل وقو ع کیا تھا اسی طرح دیگر مجددین و مصلحین کے طرق دعوت اور ان کی کوششیں ، قابل تقلید سیرتیں وغیرہ بتانے پر کافی زور دیا جاتاہے ،نیز ضروری آیات و احادیث اور فقہی مسائل کا حل اور قواعد و ضوابط کو حفظ کرایا جاتاہے ۔ (9)علمی صلاحیتوں اور مناظرانہ قوتو ں کو بیدار کرنے کے لیے سا ل میں مختلف مقابلے ،مبا حثے اورمسابقے طلبہ کے درمیان ہوتے ہیں جن میں نئے نئے موضوعات و عنوانات ہوتے ہیں تاکہ ان کے اندر خارجی علم میں بھر پور وسعت پیدا ہو سکے۔ (10)جو طلبہ علوم اسلامیہ میں خاص صلاحیت نہیں حاصل کر سکتے ہیں انھیں دعوت و تبلیغ او ر امامت و مکاتب میں تعلیم کی ایسی تربیت دی جاتی ہے جس سے وہ لائق و صالح امام اور بچوں کے صحیح معلم بن سکتے ہیں وہ بھی ایسے ہنر سے آراستہ ہو سکتے ہیں جس کی وجہ سے وہ معقول ماہانہ آمدنی کر سکتے ہیں

انحطاط علم کے اسبابترميم

اسلامی اور عربی علوم و فنون میں انحطاط و زوال کے اسبا ب میری ناقص نظر میں یہ ہیں (1)نا اہل اساتذہ سے تعلیم دلانا ۔ (2)نئے طرق تعلیم سے گریز۔ (3) ابتدائی درجات میں لاپرواہیاں۔ (4) جس درجے کے لائق طالب علم نہیں ہے اس میں لے لینا۔ (5)ناغوں کی کثرت۔ (6) اوقات درس و مطالعہ و تکرار کی پابندی نہ کرنا نیز انکو صحیح طریقے سے عمل میں نہ لانا ۔ (7)دنیا کی طرف رغبت و میلان اور ان امور کی طرف توجہ جن سے دنیا حاصل ہو (8)مظاہر جمیلہ سے عشق والفت اور شہوات نفس کا غلبہ۔ (9)علوم دینیہ سے بے رغبتی ۔ (10) ذمہ دارا ن مدارس اور اساتذہ کا اپنے فرائض منصبی کو ادا نہ کرنا ۔ (11)زمانے کے تقاضوں سے نصاب ونظام کو دور رکھنا۔ (12)مدارس و جامعات کے انتظام و انصرام صحیح نہ ہونا کہ نہ صفائی کا اہتمام،نہ دیدہ زیب درسگاہیں اور دار الاقامہ(ہاسٹل)،نہ کھانے پینے کے صحیح طریقے، نہ مناسب طعام ،نہ کوئی خاص ڈسپلن ۔ (13)مدارس وجامعات کی چہار دیواری میں کئی کئی سال طلبہ گزارتے ہیں اس کے باوجود اچھے اخلاق و اعمال اور وسیع فکر اور قائدانہ جوہر ان میں پیدا کرنے کی بجائے انھیں نہایت بد اخلاق ، بد عمل ، تنگ نظر کم علم ،وغیرہ بنانا اس کو بھی انحطاط و زوال میں بہت دخل ہے۔ان آخری جو وجہوں کو اسباب انحطاط میںا س لیے شمار کیا کہ ان کی وجہ سے عام طور پر شرفاء اہل ثروت وغیرہ مدار س سے بھاگے اور انھوں نے اپنے بچوں کے لیے دنیا کا راستہ چنا۔نیز مدارس میں زکوٰۃ لینے کا اس قدر چرچاہو ا اور آج بھی ہے اس کابھی اہل ثروت پر بہت اثر پڑا۔ ایک اور وجہ بھی دخیل ہے کے مدارس کے فارغین عموما ً جنرل نالج جدید ایجادات اور انگریزی الفاظ سے ناواقف ہیں مگر دنیوی تعلیم یافتہ طبقے کی مجالس میں ان چیزوں میں بے جا دخل دے دیتے ہیں جس سے وہ ہمیں نہایت نا اہل سمجھنے لگے اور ان کی نگاہوں میں ہمارا وقار گر گیا ۔ اسی طرح اسٹیجوں اور ممبروں پر ہمارے مقررین اور خطباء کی ناقص رہنمائی ،لب و لہجہ کی غیر سنجیدگی ، لایعنی باتوں ، قصوں کہانیوں اور افسانوں کا بیان ،دنیوی تعلیم یافتہ طبقے پر بے جا تنقید، انگریزی تعلیم کا مذاق ،باہمی چپقلش ،رد کا غیر معقول طریقہ وغیرہ بھی دنیوی شرفاء و معززین اور اہل دول کی نظر میں ہماری حقارت کااور دوری کا سبب بنا ہوا ہے اس طر ح کی اور بھی بہت سی جزوی چیزیں ہیں ۔ غرض کہ اسباب انحطاط و زوال کو سامنے رکھ کر جب تک ہم انکا ازالہ نہیں کریں گے اور ان کے مقابل اسباب ترقی نہیں اپنائیں گے اس وقت تک ہم انحطاط پر قابو نہیں پاسکتے

اجمالی تعارفترميم

آراضیترميم

13؍ایکڑ سے زائد یعنی تقریباً65000؍ اسکوائر میٹر اس کے علاوہ تقریبا68؍ایکڑ وہ زمین ہے جس پر یونیورسٹی کی تعمیر ہونا ہے جو قنوج شہر سے تقریبا12؍ کلو میٹر کی دوری پر موجود ہے ۔

عمارتیںترميم

  • (1)الفاروق دار التدریس برائے طالبات 12؍ ہال
  • (2)قدیم دار الاقامہ ہاسٹل برائے طالبات 17؍ہال
  • (3)الفاروق دار التدریس ’’جدید آراضی پر ‘‘برائے طلبہ 7؍ہال
  • (4)الفاروق دار الاقامہ برائے طلبہ 18؍ہال
  • (5)وارثی ہائر سیکنڈر ی پبلک اسکول(انگلش میڈیم) 18؍ کمرے
  • (6)مرکز الدعوۃ والارشاد یعنی (خانقاہ مجددیہ ) 5؍ کمرے 2؍ ہال
  • (7)میسکو پبلک اسکول حاجی نگر پولس لائن روڈ بڑی زمین پر 12؍ ہال
  • (8) اسٹاف روم 4؍ہال
  • (9)الوارث ہاسٹل برائے طلبہ انگلش 7؍ہال
  • (10) ریاض حسین لائبریری 5؍ کمرے، ایک ہال 40x80کا
  • (11)احمد رضا مرکز تربیت افتاء 2؍ ہال

جامعہ کا تنظیمی خاکہترميم

امیرو ناظم جامعہ :بحرالعرفان حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی نقشبندی صاحب

مجلس علماترميم

  • (1)بحرالعرفان حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی قنوج
  • (2)حضرت مولانا اخلاق احمد مجددی صاحب قنوج
  • (3)حضرت مولانا آفتاب عالم نوری صاحب ۔ قنوج
  • (4)حضرت مولانا شاہد رضا مجددی صاحب۔ قنوج
  • (5)حضرت مولانا ہاشم مجددی صاحب۔ قنوج
  • (6)حضرت مولانا ابوالقیس مجددی صاحب۔ بنارس
  • (7)حضرت مولانا آصف رضا صاحب۔ قنوج
  • (8)حضرت مولانا آفتاب عالم صاحب مجددی ۔ دیوریا
  • (9)حضرت مولانا احمد سعید مجددی صاحب۔ قنوج
  • (10)حضرت مولانا ضیاء القمر مجددی صاحب۔ امروہہ
  • (11)حضرت مولانا عبد العزیز مجددی صاحب۔ قنوج

نظام تعلیم و تربیتترميم

  • (1)شعبہ عربی کے طلبہ او ر طالبات کے لیے ایک سبجکٹ انگلش اور ضروری عصری تعلیم لازم ہے ۔
  • (2)شعبہ انگلش میں ’’سی۔ بی۔ ایس۔ ای ‘‘بورڈ کے نصاب کے ساتھ عربی قرآن کی تعلیم کا ایسا ن انضمام کیا گیا ہے کہ طلبہ آٹھویں درجے تک پہنچ کر قرآن کو قواعد تجوید کے مطابق پڑھنے لگیں اور قرآن کا ترجمہ کرنے لگیں اور قرآن سمجھنے لگیںاس میں ضروری قواعد نحو و صرف بھی شامل ہیں اور نویں و دسویں درجے تک عربی زبان میں حدیث اور گیارہویں و بارہویں میں فقہ کی تعلیم رکھی گئی ہے ۔
  • (3) طلبہ اور طالبات کو دو حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے ،

(1)ذھین و فطین طلبہ و طالبات جو ہر درجے میں کامیاب ہوں ایسے طلبہ و طالبات کے لیے بعد فراغت دو راستے رکھے گئے ہیں (الف)جامعہ ازہر (مصر) جاکر مزید علوم عربیہ کی تعلیم حاصل کریں یا جامعہ کے شعبۂ تخصیص میں داخل ہو کر کسی خاص علم میں خاص مہارت حاصل کریں یا جامعہ سے عربی اردو میں( ایم۔اے) کر کے (پی۔ ایچ۔ڈی) کریں یا تربیت افتاء وغیرہ کے شعبے میں داخلہ لے کر مفتی بنیں یا شعبہ ٔ مشق تصنیف و تالیف میں داخل ہوکر مصنف و مؤلف اور ترجمہ نگار و مضمون نگار بنیں یا ملک و بیرون ملک اچھی لائق جگہوں میں بڑی مساجد کے امام و خطیب وغیرہ ۔ (ب) عصری مفید تعلیمی اداروں میں داخل ہو کر( ایم۔ سی۔ اے )۔( بی۔ سی۔ اے ) اور دیگر مفید کورسیز کر سکیں یا یونیورسٹی میں داخلہ لے کر( بی۔ یو۔ ایم۔ ایس )وغیرہ کریں ۔ نیز جامعہ کی برانچوں اور شاخوں کے صدر مدرس پرنسپل یا مینیجر و مہتمم وغیرہ بنیں جبکہ وہ ان فنون میں تخصیص کر لیں ۔ (2)کند ذھن طلبہ جو عربی علوم و فنون میں کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں ان کے لیے علٰحدہ چار سالہ کورس ہے جسے وہ ہمارے یہاں مندرجہ ذیل خصوصیات کے حامل ہوں گے 1 ؎ اچھی آواز ہو تو مساجد کے امام 2؎ مکاتب کے معلم 3؎ مقرر و خطیب 4؎ اسلام وسنیت کے داعی و مبلغ 5؎ اکاؤنٹ کا کام سیکھ کر دفتر کے اکاؤنٹیٹ 6؎ انتظامی امور میں اگر صلاحیت رکھتے ہوں گے تو مکاتب و مدارس کے مینیجر و مہتمم 7؎ جامعہ کی شاخوں کے اردو کے معلم و غیر ہ ۔

  • (4) درجہ حفظ کے طلبہ کے لیے بھی عصری علوم میں جانے کے راستے رکھے گئے ہیں ۔
  • (5)درجۂ خصوصی :اسکول و کالج کے جو طلبہ ضروری عربی اسلامی معلومات حاصل کر نے کے خواہاں ہیں ان کے لیے یہ تین سالہ درجۂ خصوصی رکھا گیا ہے ،جس میں قرآن کو قواعد تجوید کے مطابق پڑھنا او ر ترجمہ پر قدرت پیدا کرنا اور اس کے ساتھ ضروری فقہ، حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ نیز عربی بولنے کی قدر ت اور ان میں وعظ و تقریراور دعوت و تبلیغ کی صلاحیت پیدا کیا جاتی ہے اور سیرت نبوی ﷺ سے آگاہ کیا جا تا ہے ۔

نوٹ : معلوم ہو کہ اس درجہ میں وہ طلبہ بھی داخلہ لے سکتے ہیں جنھوں نے حفظ او ردور مکمل کر لیا ہے اور قلت وقت کی وجہ سے وہ باضابطہ درجۂ فضیلت تک تعلیم حاصل نہیں کر سکتے ہیں ۔

  • (6)ایک سالہ دینی کورس :اسکول و کالج یا عام اردو خواں حضرات جو ضروری اسلامی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کے لیے ایک سالہ کورس رکھا گیاہے جس میں قرآن کی تصحیح اچھی طرح اردو پڑھنا اور عقائد و اعمال کی ضرور ی تعلیم نیز صلاحیت ہونے پر داعی و مبلغ اور مکتب کے لیے اردو کا معلم بنا نے کی کوشش کی جاتی ہے اور اخلاق نبوی ﷺ سے آراستہ کیا جاتا ہے ، نیز اذکار و اشغال صوفیہ سے باخبر کیا جاتا ہے ، خیال رہے کہ یہ چیز ہمارے یہاں طلبہ طالبات کے جملہ عربی و انگلش شعبوں میں رکھی گئی ہے اختیاری طور پر ۔

نوٹ : یہ سارے کورس طلبہ و طالبات میں مشترک ہیں جو خواتین بھی اس طرح کے کورس کرنا چاہیں کر سکتی ہیں ۔

  • (7) اسکول و کالج کے طلبہ و طالبات کو خار ج وقت میں روزانہ دو گھنٹے کا قرآن اور عربی سکھانے کے لیے ایک سینٹر بنایا گیا ہے جس میں وہ داخلہ لے کر اسلامی عقائد و علوم اور عربی زبان و ادب سے واقفیت حاصل کر سکتے ہیں ۔

داخلہترميم

نئے طلبہ کو جامعہ میں داخلہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی درخواستیں رمضان المبارک تک مہتمم جامعہ کے نا م ارسال کریں،منظور ی ملنے پر 11؍ شوال تک جامعہ میں حاضر ہوکر ٹیسٹ دیں ،کامیاب ہونے والے طلبہ کو بشرط گنجائش داخلہ دیا جاتا ہے۔نیز تعلیم کا آغاز 13؍ شوال سے ہوجاتا ہے۔

ڈگریاںترميم

ہمارے جامعہ سے فارغ وہنے والے طلبہ کو حسب صلاحیت درج ذیل ڈگریاں حاصل ہوتی ہیں ، (1) عا لمیت (2) فضیلت (3) تخصص فقہ حنفی (4) تخصص ادب عربی (5) حفظ (6) قرأ ت حفص (7) قرأت سبعہ وعشرہ و غیر ہ ،نیز (8) اردو زبان میں ڈپلومہ(9)عربی زبان میں ڈپلومہ (10) مولوی (11) منشی (12) عالم (13) فاضل (14) کامل، مدرسہ بورڈ وغیرہ کی ڈگریاں تفویض کی جاتی ہیں۔

امتحاناتترميم

شعبہ جات کے امتحانات مندرجہ ذیل طریقوں پر ہوتے ہیں

  • (1) درس نظامی اور حفظ و قرأت سال میں دو امتحانات

(الف )شش ماہی (ب) سالانہ

  • (2) جامعۃ المحصنات او ر وارثی پبلک انٹر کالج نیز سرہند پبلک اسکول میں سال میں تین امتحانات

(الف) سہ ماہی (ب) شش ماہی (ج)سالانہ

علوم اسلامیہترميم

تفسیر ، حدیث ،فقہ ، اصول فقہ ، اصول تفسیر ، اصول حدیث ، کلام ،بحث مناظرہ ،

فنونترميم

نحو، صرف، فصاحت و بلاغت، منطق، فلسفہ

زبانیںترميم

عربی ، اردو ، فارسی ، انگلش، ہندی

نصابترميم

الجامعۃ الاحمدیہ ایسے افراد تیار کرنے کی کوشش کرتاہے جو علوم و فنون میں مہارت رکھنے کے ساتھ قائدانہ اوصاف و صلاحیت سے آراستہ ہوں اور دین و سنیت کی تبلیغ و اشاعت کا جذبہ صادق رکھتے ہوں ، تاکہ ہر محاذ پر قوم کی صحیح رہنمائی کر سکیں ،اسی لیے مندرجہ ذیل نصاب کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دینی تربیت اور تعمیر ظاہر و باطن کا خاص طور پرلحاظ رکھا جاتاہے ۔ جامعہ کے نصاب کا اجمالی خاکہ یہاں پیش کیا جارہاہے اس وقت جو نصا ب رائج ہے وہ گیارہ سال کا ہے (1 ) ابتدائی (پرائمری)3 ؍ سال (2) ثانوی 4؍ سال (3) عا لمیت 2؍ سال (4) فضیلت ،2؍ سال

پرائمری میں درج ذیل مضامین کی تعلیم دی جاتی ہےترميم

(1) قرآن کریم (2) دینیات (3) اخلاق (4)معاشرت (5)اردو زبان (6) ہندی زبان (7)سائنس(8) حساب (9) جغرافیہ (10) اردو قواعد (11)ابتدائی انگریزی (12) عام معلومات

ثانوی درجات کے مضامین حسب ذیل ہیںترميم

(1)فارسی قواعد (2) فارسی ادب (3) فارسی انشاء (4) اردو ادب(5)عقائد (6) فقہ(7) سیرت (8)حدیث (9) اصول فقہ (10)عربی صرف (11)عربی نحو (12)بلاغت (13)عروض و قوافی (14) عربی انشاء (15)عربی ادب (16) منطق(17) فلسفہ (18) تاریخ (19)حساب (20)سائنس (21) انگریزی انشاء (22)انگریزی ادب (23 ) عام معلومات (24 ) تجوید قرآن (25) کمپیوٹر

عالمیت اور فضیلت میں درج ذیل فنون شامل نصاب ہیںترميم

(1)درس قرآن (2)تفسیر (3)حدیث (4) اصول حدیث(5) فقہ (6)اصول فقہ (7)فرائض (8)عقائد و کلام (9)بلاغت (10)تاریخ اسلام (11)عربی ادب و انشاء (12) انگریزی ادب و انشاء(13) منطق (14)فلسفہ (15)مناظرہ (16) سیاسیات (17)سائنس (18)فن تعلیم و تربیت (19)تاریخ فقہ (20) تجوید قرآن (21)کمپیوٹر۔

لائبریریترميم

جامعہ میں حسب ضرورت متعددلائبریریاں ہیں ۔

عربی لائبریریترميم

جامعہ میں عربی زبان و ادب سے متعلق کتب وافر مقدار میں موجود ہیں جن کے لیے سینٹرل لائبریری میں ایک کمرہ مخصوص ہے ۔

ریاض حسین لائبریریترميم

جامعہ کی سینٹرل لائبریری جس میں درسی و غیر درسی کتب کے علاوہ تفسیر ،اصول تفسیر ،حدیث اصول حدیث ،فقہ ، اصو ل فقہ ، مناظرہ ، رد وہابیہ اور غیر مقلدین و قادیانیت و شیعیت وغیرہ کے رد سے متعلق ہزاروں کتابیں موجود ہیں ۔

رضا دار المطالعہترميم

40x80 کا ایک عظیم الشان ہال جو طلبہ کے مطالعہ و تکرار اور ہفتہ واری بزم نیز اصلاحی اور تنظیمی پروگراموں کے لیے مخصوص ہے جس میں میز کرسی اور لائٹ وغیرہ کا معقول انتظام رہتاہے ۔

شعبہ جات کا اجمالی خاکہترميم

(1)دار الافتاء (2) دار التخصیص (3) درس نظامی (4) دار التحفیظ و القرأت (5) روضۃ الاطفال (پرائمری مکتب ) (6)جامعۃ المحصنا ت (7)کلیۃ الدعوۃ و الارشاد (خانقاہ مجددیہ)(8) شعبۂ تصنیف و تالیف (9) شعبۂ تصوف (10)شعبہ ٔ دعوت و تبلیغ (11) دائرۃ الخیرات (شعبہ ٔ نشر و اشاعت)(12) امامت ٹریننگ سینٹر (13) المعصوم کمپیوٹر سینٹر(14) الوارث اسلامی ریسرچ سینٹر (15) احمدیہ ڈگر کالج(16) وارثی پبلک اسکول( انگلش میڈیم ہائی اسکول)(17) میسکو پبلک اسکول (پرائمری انگلش میڈیم اسکول)۔

جامعہ کے موجودہ شعبہ جات کی تفصیلترميم

  • (1)دار الافتاء : اس شعبہ کے ذریعہ قدیم و جدید فقہی مسائل حل کیے جاتے ہیں نیز ذہیں و فطین فاضل طلبہ کو فتویٰ نویسی کی مشق کرائی جاتی ہے ۔
  • (2) دار التخصیص:تفسیر،حدیث،فقہ،اور عربی زبان و ادب یا کسی بھی اسلامی علم و فن میں خاص مہارت پیداکر انے کا زبر دست شعبہ۔
  • (3)درس نظامی : از اعدادیہ تا فضیلت اسلامی علوم و فنون کی اعلیٰ تعلیم ۔
  • (4) دار التحفیظ و القرأ ت : ترتیل،حدر اور قواعد تجوید کی رعایت کے ساتھ قرآن شریف حفظ کرایا جاتا ہے نیز قرأت حفص ، سبعہ ،او ر عشرہ کی عمدہ تعلیم ۔
  • (5) روضۃ الاطفال : چھوٹے بچوں کے ناظرہ ، دینیات اور پرائمری درجات کی اچھی تعلیم کا بہترین مکتب ۔
  • (6)جامعۃ المحصنات : لڑکیوں کی دینی و عصر تعلیم و تربیت کا بہترین رہائشی مرکز جس میں لڑکیوں کو درجۂ پرائمری اور درس نظامی از اعدادیہ تا فضیلت عمدہ تعلیم دی جاتی ہے ، نیز انگلش زبان ،ریاضی ،حساب ،اور عربی ادب کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ امور خانہ داری اور دستکاری کی تربیت سے بھی آراستہ کیا جاتاہے ۔

بحمدہٖ تعالیٰ مقامی لڑکیوںکے علاوہ تقریبا500؍ بیرونی لڑکیاں اس ادارے میں زیر تعلیم ہیں ،جن کے قیام و طعام اور پردے کا معقول انتظام ہے ،اس ادارے کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کی طالبات و فارغات قرب و جوار کے مختلف شہروں ، ضلعوں ،اور قصبات میں خواتین کے اجتماعات کے ذریعے اسلامی خواتین میں دعوت و تبلیغ کا اہم فریضہ انجام دے رہی ہیں اور ان میں علمی و عملی بیداری پیدا کر رہی ہیں ۔

  • (7)کلیۃ الدعوۃ و الارشاد’’شعبۂ تصوف‘‘:(خانقاہ مجددیہ ) اس ادارے سے مختلف امور انجام پاتے ہیں ۔

(الف) تصوف و سلوک کی تعلیمات اور اس کے آداب سے واقفیت اور مختلف سلاسل کے اذکار و اشغال نیز روحانیت و طریقت کی تحصیل کے عملی طریقے سکھائے اور بتائے جاتے ہیں۔اور پیر و شیخ طریقت کو کیسا ہونا چاہیے، ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ ان سب سے آگاہ کیا جاتاہے ۔ (ب) تصوف و سلوک کی مفید کتب کے تراجم اور ان کی تشریحات اور علم تصوف پر تحقیق و ریسرچ کا کام ہوتاہے ۔ (ج) تصوف و روحانیت کے تعلق سے جو لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں یاصوفیا ء کرام کی شان میں گستاخیوں کے مرتکب ہوتے ہیں ،ان کی صحیح رہنمائی کی جاتی ہے ۔

  • (8) دار التصنیف و التالیف : اس شعبے کے ذریعہ اصول تحریر کے مطابق مختلف زبانوں میں مفید کتابوں کی تصنیف و تالیف اور ترجمہ نگاری کی مشق کرائی جاتی ہے ۔
  • (9)شعبہ ٔ دعوت و تبلیغ : اس شعبہ سے مندرجہ ذیل امو ر وابستہ ہیں ۔

(الف) جامعہ کے طلبہ کو دعوت و تبلیغ کے اصو ل کی تعلیم دی جاتی ہے اور عملی مشق کے لیے انکو مختلف شہروں اور مواضعات میں وفود اور قافلوں کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔ (ب) جہاں اماموں اور معلمین کی ضرور ت ہوتی ہے وہاں صالح امام اور لائق معلم فراہم کیے جاتے ہیں ۔ (ج)خاص کر ان مواضعات میں توجہ دی جاتی ہے جہاں مسلمان،غیر مسلموں کے مقابل کم تعداد میں ہیں اور مساجد و مکاتب بھی نہیں ہیں وہاں کے لوگوں کو اسلامی عقائد و احکام مختلف طریقوں سے سکھائے جاتے ہیں ۔ (د)ایسے مواضعات مذکورہ میں حسب ضرورت مساجد کی تعمیرات کا انتظام کیا جاتاہے ۔ (ہ)اسکولوں، کالجوں وغیرہ کے طلبہ کو اسلامی عقائد و اعمال سکھائے جاتے ہیں اور ان میں جذبۂ دعوت پیدا کیا جاتا ہے ۔ (و) اردو ،ہندی ، وغیرہ میں مفید اور معلوماتی کتابیں تعلیم یافتہ لوگوںتک پہنچائی جاتی ہیں ۔ (ز) اس شعبہ کے ذریعے ان جگہوں پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے جہاں اسلام و سنیت کے لیے خطرات زیادہ ہوتے ہیں ۔ (ح) جامعہ کی حسب ضرورت مختلف جگہوں پر شاخوں کا قیام بھی اسی شعبہ سے متعلق ہے۔ (ط)جن جگہوںپر حفاظ و علما نہیں ہیں یا اسلامی اثرات کم ہیں وہاں کے لوگوں کو تعلیم کی طرف رغبت دلا کر ان کے بچوں اور بچیوں کو جامعہ یا اس کی شاخوں میں لا کر انھیں بہترین تعلیم و تربیت دی جاتی ہے ۔

  • (10)تنظیم اہل السنۃ:اس شعبے سے خاص مقاصد یہ ہیں۔

(1) علما و مشائخ اہل سنت کو باہم مربوط کرنا۔ (2) ائمہ مساجد وغیرہ کو محافل و مجالس خصوصی کے ذریعہ اور نیٹ کے ذریعہ جملہ فرق باطلہ کے عقائد فاسدہ سے آگاہ کرنا اور ان کے جملہ اعتراضات و سوالات کے جوابات سکھانا ۔ (3) دینی دعوت و تبلیغ کی اہمیت و افادیت اور اس کے لزوم و وجوب کا احساس دلانا اور منظم طور پر اسلام و سنیت کی نشر و اشاعت کرنے کی ترغیب دینا۔یہ وہ تمام شعبے ہیں جن کا خاص تعلق علوم عربیہ دینیہ سے کی نشر و اشاعت اور تہذیب اخلاق اور اہل سنت کو باہم مربوط کرنے سے ہے ۔

  • (11)دائرۃ الخیرات : یہ دراصل جامعہ کا نشرو اشاعت کا شعبہ ہے ،خود جامعہ کے طلبہ و طالبات اور مدرسین کے عمدہ مضامین مقالے اور تصنیفات و تالیفات نیز مفید کتب کے تراجم یا تشریحات کے ساتھ کتابیں شائع کی جاتی ہیں نیز اس سے متعلق ایک مکتبہ مجددیہ بھی ہے جہاں سے مختلف مصنفین کیمفید کتابوں کو فراہم کیا جاتا ہے ۔
  • (12) امامت ٹریننگ سینٹر : جامعہ احمدیہ اور دیگر مدارس و جامعات کے طلبہ کو امامت ،مکاتب و مدارس میں تعلیم اور دعوت و تبلیغ کی تربیت دی جاتی ہے اوران کو تصحیح قرآن ، ضروری عقائد و مسائل ،اور اصول دعوت و تبلیغ اور مکاتب میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کی تعلیم و تربیت کے مفید طریقے سکھائے جاتے ہیں ۔
  • (13) الوارث اسلامی ریسرچ سینٹر :مختلف اسلامی علوم و فنون ادیان و مذاھب ،انگلش و زبان و ادب،اور عظیم شخصیات جیسے اہم موضوعات پر فارغ التحصیل علما و فضلاء نیز عصری تعلیم یافتہ حضرات کے لیے تحقیق ( ریسرچ) کی تابناک آماجگاہ۔
  • (14) المعصوم کمپیوٹر سینٹر :جامعہ کے اس شعبے میںطلباء و طالبات کو کمپیوٹر کی بیسک تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو عربی انگلش میں کتابت (Typing)ڈزائننگ ،اور ٹیلی نیز اس کے علاوہ طلبہ و طالبات کو حسب مراتب مزید کورسیز سکھائے جاتے ہیں۔
  • (15) وارثی پبلک انٹر کالج : English Medium High School)) اس میں نرسری سے ہائی اسکول تک کی تعلیم دی جاتی ہے نیزعصر ی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت لازم و ضروری ہے اور کوشش یہ ہے کہ ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے طلبہ کے اندر اسلامی مزاج ، دینی عقائد و اعمال کی اچھی واقفیت ،دوسروں کو انگریزی زبان میں دعوت و تبلیغ کا جذبہ اور طریقہ نیز اردو زبان و بیان پر بہترین قدرت پیدا کردی جائے ۔ الحمد للہ یہ شعبہ اپنی پوری کامیابی کے ساتھ ترقی کی راہوں پر گامزن ہے ۔
  • (16)سرھند پبلک اسکول :( English Medium School) یہSIRHIND PUBLIC SCHOOL )

اس میں پلے گروپ سے پرائمری تک((P.G. TO PRIMARY کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھااسکول ہے جس میں پڑھنے والے بچوں میں انگلش تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو اور عربی زبان کی ایسی صلاحیت پیدا کردی جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ نرسری سے آٹھویںتک پہنچ کر قرآن کریم کا ترجمہ اردو اور انگلش زبان میں اچھی طرح کر نے کے لائق ہو سکیں۔نیز اس شعبے میں بھی عصر ی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم و تربیت لازم و ضروری ہے۔

  • (17) بورڈنگ:آپ کو یہ جان کر بڑی خوشی ہوگی کہ سرہندپبلک اسکول کا ہاسٹل بھی ہے جس میںصاحب استطاعت حضرات سے نہایت کم فیس قیام وطعام اور تعلیم و غیر ہ کی لی جاتی ہے اور غیر مستطیع پچاس طلبہ و طالبات کا مفت میں سب انتظام کیا گیا ہے۔

عصری تعلیم کے شعبوں میں دینیات کا شمولترميم

جامعہ کی طرف سے جو بھی عصری علوم و فنون کے شعبے قائم ہوں گے خواہ پبلک اسکول ہو یا کالجیز سب میں دینیات لا زم و ضروری ہوں گی۔جو بنیادی طور پر یوںتقسیم کی جاسکتی ہیں۔

  • (1) تصحیح قرآن کے لیے بقدر ضرورت قرأت ۔
  • (2)عربی زبان اس قدر کہ وہ قرآن و حدیث کو سمجھ سکیں ،او ر ممالک عرب میں ملازمتیں ملنے کی صورت میںوہ مافی الضمیر کو ان کی زبان میں ادا کر سکیں ۔
  • (3) عقائد حقہ کی اس قدر تعلیم کہ وہ اسلام و کفر ، حق و باطل او ر سنت و بدعت میں فرق کر سکیں ۔
  • (4)فقہ کی اتنی تعلیم کہ وہ روز مرہ پیش آنے والے مسائل کو جان سکیں اور عمل کر سکیں ،مذکورہ تعلیم سب کے لیے ہوگی باقی مزید اسلامیات میں مہارت کے لیے گرمیوں کی چھٹی کے موقع پر وہ جامعہ سے خصوصی رابطہ کر کے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔
  • (5) دسویں جماعت کے بعد ان کے لیے تخصص ، پھر ایم۔اے کے بعد ریسرچ و تحقیق بھی کر سکتے ہیں ۔ خواہ انگریزی میں یا عربی یا اردو میں ۔

جامعہ کی دینی و علمی سرگرمیاںترميم

یعنی مختلف محافل و مجالس 13؍ محرم الحرام کو الجامعۃ الاحمدیہ میں سالانہ سیمنار منایا جا تا ہے جو مندرجہ ذیل شخصیات کی حیات و دینی خدمات سے متعلق ہوتا ہے ۔ * (1)حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ ۔ * (2)حضرت خواجہ غریب نواز قدس سرہٗ ۔ * (3)حضرت مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ ۔ * (4)حضرت وارث علی قدس سرہٗ۔

  • (5)ائمہ اربعہ خصوصاً حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

* (6)اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ و الرضوان ۔* (7)و دیگر متعدد شخصیات۔

سالانہ مسابقےترميم

جامعہ کے طلبہ کی علمی و فکر صلاحیتوں کو ابھارنے اور انکو مستحکم کرنے کے لیے درج ذیل عنوانات پر طلبہ کے مابین سالانہ مسابقے کرائے جاتے ہیں ۔ (1) سیر نبوی ﷺ (2) عقا ئدحقہ و باطلہ (3) قرآء ت (4) حفظ قرآن ، (5) تاریخ اسلام ،(6) معلومات عامہ اسلامیہ (7) نحوی، صرفی و ادبی، (8) تخصیص ۔

انجمنیںترميم

ہمارے جامعہ میںجدید طرز پر چند انجمنوں کا انعقاد ہوتا ہے ۔* (1) ہفتہ واری اجتماعی انجمن بروز جمعرات بعد نماز مغرب منعقد ہوتی ہے جس میں طلبہ کو نعت پڑھنے ، وعظ و تقریر کرنے کی مشق ان کی اصلاح کے ساتھ کرائی جاتی ہے اس میں ہر درجے ( تخصص ،درس نظامی ، حفظ و قرأت اور روضۃ الاطفال )کے سبھی طلبہ حصہ لیتے ہیں ۔

  • (2) ہفتہ واری عربی انجمن( النادی العربی ) بروز جمعرات ساتویں گھنٹی میں نماز ظہر تک منعقد ہوتی ہے جس میں طلبہ کو عربی زبان میں مہارت کے لیے ان سے عربی میں تقاریر کرائی جاتی ہیں، اس میں صرف درس نظامی و تخصص کے طلبہ شرکت کرتے ہیں ۔
  • (3) کلیۃ الدعوۃوالارشادکے تحت ہفتہ واری پروگرام، جس میں طلبہ کو مراتب دعوت ، طرق دعوت ،تبلیغ کا حسین انداز ، ینز داعی کے اندر کیسے اوصاف ہونے چاہیے اور کیسے نہیں ،حالات کے پیش نظر کیسی گفتگو کہاں کرنی چاہیے وغیرہ دعوت و تبلیغ سے متعلق متعدد عنوانات پر بیانات ہوتے اور طلبہ کو تربیت دی جاتی ہے اور ان میں مجاھدانہ فکر ،اور بلند حوصلے پیدا کیے جاتے ہیں۔اس محفل میں بھی سبھی طلبہ شریک ہوتے ہیں اور یہ محفل بروز جمعرات بعد نماز عشاء درود خوانی کی محفل کے بعد منعقد ہوتی ہے جس میں خود حضرت بانی و مہتمم جامعہ اکثرموجود رہ کر تربیت فرماتے ہیں ۔
  • (4) انجمن تعلیم مسائل : اس میں درجہ حفظ و قرأت و ابتدائی درجوں کے طلبہ شریک ہوتے ہیں جس میں انکوطہارت( وضو و غسل) کے مسائل،سنن و واجبات و نواقض کا حفظ،اذان و نمازکی تربیت ،کے علاوہ انکو مسنون دعائیں ، خطبہ نکاح ، خطبہ ٔ جمعہ ، خطبات عیدین ،شش کلمے ، ایمان مجمل و ایمان مفصل ،اور قرآنی سورتیں اور آیات و مختلف رکوعات طلبہ کو زبانی یاد کرائے جاتے اور ان سے طلبہ کے سامنے بیان کرائے جاتے ہیں جس سے ان کی اصلاح بھی ہوتی ہے اور مسائل کا علم بھی ،نیزانھیں عام محافل میں بیان کرنے کا سلیقہ بھی آتا ہے۔اور عمل پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

تفصیل تعطیلات الجامعۃ الاحمدیہترميم

  • (1) 9؍تا 13؍ ذی الحجہ (عید الاضحی) 5؍ یوم * (2) 10؍و 11؍محرم الحرام 2؍ یوم۔
  • (3) 24؍و25؍ صفر عرس اعلیٰ حضرت 2؍یوم ۔ * (4) 12ربیع الاول عید میلا د النبی ﷺ 1؍ یوم
  • (5) 11؍ ربیع الثانی 1؍یوم * (6) 22رجب المرجب 1؍ یوم
  • (7)15؍اگست یوم آزادی ہند ا ؍ یوم * (8) 26 ؍ جنوری یوم جمہوریہ 1؍ یوم
  • (9) مدرسہ بورڈ کے امتحانات 7؍ یوم

جامعہ کی شاخیںترميم

  • (1)جامعہ حکیم عبد الحئی قائم گنج ضلع فرخ آباد یو۔پی
  • (2)الجامعۃ الخیریہ شہر سیوان بہار
  • (3) دار العلوم فیضان غریب نواز چتوڑ گڑھ راجستھان
  • (4) مدرسہ فیضان بالاپیر شہر قنو ج یو۔پی
  • (5) مدرسہ وارثیہ ملاّواں ضلع ہردوئی یو۔پی
  • (6) مدرسہ عربیہ اھل سنت ہدایت الاسلام، بسنت پور ضلع دیوریا یو۔پی
  • (7) دار العلوم وارثیہ دیدار گنج ضلع قنوج یو۔ پی
  • (8) مدرسہ گلشن احمدیہ تالگرام ضلع قنوج یو۔پی
  • (9)مدرسہ بزم اسلام موضع ساکن ضلع جھانسی یو۔پی
  • (10) مدرسہ مجددیہ گلشن آفاق موضع پپلوتی خورد تحصیل حسن پور ضلع امروہہ

دیگر خدماتترميم

(1)تعمیر مساجد (2)امداد غرباء (3)مکاتب و مدارس کا قیام (4)غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادیاں کرانا۔

تعمیر مساجدترميم

جہاں مسجدیں نہیں ہیں وہاں تعمیرکرانا، خاص کر ان مواضعات میں جہاں غیر مسلموں کا غلبہ ہے اور مسلمانوں کے مکانات کہیں دس کہیں بیس ،کہیں پچاس یا اس سے کچھ زیادہ ہیں اور غیروں کے غلبہ و تسلط اور اسلامیوں سے دوری کی وجہ سے ایسے لوگوں میں زیادہ تر رسم و رواج ہندوانہ ہیں حتیٰ کہ بعض جگہوں پر بہتوں کے نام بھی ہندوانہ ہیں ۔ ایسے مسلمانوں میں جہالت سے فائدہ اٹھاکر قادیانیت زیادہ داخل ہورہی ہے ،جامعہ کا منصوبہ ہے کہ آبادی کے اعتبار سے ایسے مواضعات میں خصوصیت کے ساتھ مساجد و مکاتب کا انتظام کیا جائے اور ان میں دینی و دنیوی تعلیم کو رواج دینے کی کوشش زیادہ کی جائے گی۔جامعہ کی طرف سے ایسے مواضعات کی ،کہ کہاں کتنی آبادی ہے ،کتنی بڑی مسجدچاہیئے ،کیا خرچ آئیگا ،پورا پتہ اور وہاںکے بعض ذمہ داروں کے نام ،موبائل نمبر کے ساتھ پوری رپورٹ شائع ہوا کرے گی ۔ تاکہ اھل خیر حضرات وہاں خود جاکر ،دیکھ کر صحیح امداد کر سکیں ۔

امداد غرباءترميم

جن جگہوں پر مسلم کم تعداد میں ہیں اور معاشی حالات اچھے نہیں ہیں جامعہ اپنے خصوصی معاونین کے ذریعہ ان غرباء و مساکین کو حلال ذریعہ معاش فراہم کر کے انھیں خود کفیل بنانے کی کوشش کرتاہے، نیز ان کے بچے ،بچیوں کو جامعہ کی شاخوں میں تعلیم و تربیت ،قیام و طعام ،علاج و معالجہ ،کپڑے بستر ،وغیرہ مفت فراہم کیے جاتے ہیں ۔ {مکاتب و مدارس کا قیام } جہاں اہل سنت کے مکاتب و مدارس نہیں ہیں یا ہیں مگر ضرورت کو پورا نہیں کر پا رہے ہیں وہا ں جامعہ کی طرف سے ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں گے جن میں ایک ہی طرح کا نصا ب و نظا م اور ڈسپلن رائج ہوگا ،اور جامعہ کیتمام شاخوں میں، معیارِ تعلیم و تربیت وہی ہوگا جو مرکز میں ہوگا۔اور ہر ادارے کو اس طرح چلایا جائے گاکہ وہ سنت وسنیت کی ترویج و اشاعت کا کام خاص کر اس علاقے میں کر سکے ۔

غریبوں کی شادیاںترميم

جامعہ کا ایک خاص کارنامہ یہ بھی ہے کہ آغاز 2010ء؁سے صدر جامعہ کی جانب سے غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادیاں کرائی جاتی ہیں،جس سے غریب ماں باپ کے سروں سے بہت بڑا بوجھ دور ہوجاتا ہے ، بفضلہ تعالیٰ یہ کا م پوری ذمہ داری کے ساتھ جامعہ کی جانب سے ہر سال بخوبی انجا دیا جاتاہے ، اب تک کہ کثیر تعدا د میں بچیوں کی شادیاں کرائی جاچکی ہیں ، جس کا شہر اور اطراف کے کئی ضلعوں کے مسلمانوں میں کافی اثر قائم ہے ۔

درد مندانہ اپیلترميم

ہم تمام اہل ثروت اور درد مند حضرات سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیں کہ اگر خداوند قدوس کی رضا کے لیے کوئی مدد کر رہے ہیں،تو اپنا پرایا نہ دیکھیں ،بلکہ خود یا اپنے کسی معتمد آدمی سے تحقیق کرائیں اورمستحق جگہ کی مدد کریں ۔ واضح رہے کہ اس وقت (2013ء میں )جامعہ کے تمام شعبوں میں پچاس سے زائد اساتذہ و ملازمین اور تقریباً ایک ہزار طلبہ و طالبات موجود ہیں جن کے قیام و طعام ، علاج و معالجہ اور دیگر ضروریات کا بار جامعہ کے کندھوں پر ہے اور روز افزوں اخراجات کے باوجود کو ئی مستقل آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے لہٰذا تمامی حضرات سے گزارش ہے کہ ا پنے خصوصی تعاون سے جامعہ کی امداد کرکے اس دینی قلعہ کو مزید استحکا م بخشیں اور دارین کی سعادتوں سے مالا مال ہوں ۔

مستطیع و غیر مستطیع طلبہ و طالباتترميم

  • تعلیم و طعام کے اعتبار سے طلبہ چند قسم کے ہوں گے

(1) مستطیع جو ہر فیس دے سکتے ہیں ،تعلیم کی بھی ، قیام و طعام کی بھی ۔ (2)غیر مستطیع یہ کئی قسم کے ہوں ۔(1) وہ طلبہ جو داخلہ فیس ، یونیفارم فیس ،کتابوں کی قیمت ،ادا کر سکتے ہیں ان پر ضروری ہوگا کہ وہ یہ فیس جمع کریں ۔ (2)وہ طلبہ جو ا س قدر غریب کہ یہ بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں ، اگر جامعہ کے پاس گنجائش ہوگی تو جامعہ کی طرف سے ورنہ جامعہ اہل خیر حضرات کو متوجہ کریگا تاکہ وہ غیر مستطیع ہر قسم کے طلبہ کے لیے امداد کریں اور ان کے لباس و کتب خرید دیں او ر دیگر اخراجات پورے کریں طالبات میں بھی یہی نظام ہوگا ۔

ذرائع آمدنی اور مصارفترميم

فی الحا ل جامعہ کے ذرائع آمدنی یہ ہیں

  • (1) زکوٰۃ و فطرہ ، یہ رقم زیادہ ان طلبہ پر خرچ ہوتی ہے جو اس کے مستحق ہیں
  • (2)چرم قربانی :عام طور پر طلبہ و طالبات کی خوراک اور بوقت ضرورت کتب دینیہ اور تنخواہ مدرسین میں۔
  • (3) وہ چندہ جو کسی خاص مد کے لیے کوئی دیتا ہے وہ اسی مد میں خرچ ہوتا ہے ، مطبخ کے نام پر دیتا ہے تو مطبخ میں، اگرکوئی قید نہیں ہوتی ہے تو مہتمم کی صوابدید کے مطابق جہاں ضرورت ہوتی ہے خرچ ہوتا ہے ۔
  • (4) طالبات سے خوراکی اور داخلہ فیس وغیرہ یہ مطبخ پہ اور بچنے کی صورت میں جامعۃ المحصنات کی مرمت ،پتائی اور دیگر اس کے کاموں میں خرچ ہوتی ہے ۔

معلوم رہے کہ اس ادارے کے جو اخراجات ہیں وہ 25؍ فیصدبھی ان کی آمدنی سے پورے نہیں ہوپاتے ہیں بلکہ ان کو جامعہ کے چندے سے پوراکیاجاتا ہے ۔

  • (5) سرکاری اور اسکول سے ہونے والی آمدنی تعمیر عمارات ، بجلی سرکاری کاموں وغیرہ میں خرچ ہوتی ہے ۔(6)جس قدر دینی مجالس و محافل سالانہ منعقد ہوتی ہیں ان کے اخراجات اہل خیر حضرات اپنی جیب خاص سے پورے کرتے ہیں ۔

تعاو ن کے طریقےترميم

اگر آپ جامعہ کا تعاون کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل طریقوں پر کر سکتے ہیں!

  • (1) جامعہ کا کوئی مستقل شعبہ یا کمرہ بنو ا دیں ۔
  • (2) جامعہ کی لائبریری کے لیے دینی کتب خرید دیں یا کوئی کتاب چھپوا دیں ۔
  • (3) کسی مدرس کی ماہانہ تنخواہ اپنے ذمہ لے لیں ۔
  • (4) جامعہ کے کسی ایک یا چند طلبہ کی خوراکی اپنے ذمہ لے لیں یا کسی یتیم بچہ ؍بچی کے جملہ اخراجات کھانے ، پینے ، لباس ، وغیرہ کی ذمہ داری قبول کر لیں ۔
  • (5) مطبخ میں کام آنے والی چیزیں جیسے غلہ ، تیل ،چاول ، او رمسالہ وغیرہ پورے سال کا یا کچھ حصہ اپنے ذمہ لے لیں یا دیگر مصارف مطبخ قبول کر لیں ۔
  • (6) درس گاہوں کے لیے فرش یا طلبہ کی رہائش کے تخت و غیر ہ اپنے ذمہ لے لیں ۔

منصوبےترميم

قوم و ملت کی ترقی وبہبود کے لیے جامعہ کے منصوبے یہ ہیں ۔

  • (1) انجینیرنگ کالج : اہل اسلام کو دینی سمجھ کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ قوموں کے دوش بدوش کھڑا کرنے کے لیے انجینیرنگ کورسیز کا عظیم مرکز ۔
  • (2)احمدیہ گرلس کوچنگ سینٹر : یہ وہ شعبہ ہے جس میں شہر کی اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والی طالبات کی انگلش تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام ہوگا۔
  • (3)مجدد الف ثانی گرلس یونیورسٹی :جس کا پورا منصوبہ تیار ہوچکا ہے اور مستقبل قریب میں انشاء اللہ المولیٰ الکریم اس کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا ،تعلیم و تہذیب اور اسلامی کلچر کے اعتبار سے یہ نہایت انوکھی اور نرالی یونیورسٹی ہوگی ۔
  • (4)عباس بوائز یونیورسٹی :یہ اسلامی تہذیب و تمدن کی حامل لڑکوں کی یونیورسٹی ہوگی اس کا بھی نقشہ وغیرہ تیار ہوچکا ہے
  • (5) احمدیہ ڈگری کالج : قوم و ملت کے افراد کی اعلیٰ تعلیم کا ایسا مرکز جس میں اعلیٰ ڈگریوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو اسلامی عقائد و اعمال میں پختہ بنانا اور ان کو دینی مسائل سے آگاہ کرنا نیز اردو ، عربی ، کی معتد بہ تعلیم سے آراستہ کرنا لازمی ہوگا۔
  • (6)حضرت احمد رضا نقشبندی :آئی۔ آئی۔ ٹی (I.I.T.)کوچنگ سینٹر۔