Padlock.svg اس صفحہ کو فی الحال ترامیم کے لیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے، اب اس میں ترمیم کے لیے صارف کو اندراج (registration) کر کے داخل نوشتہ (log in) ہونا لازم ہے۔ اس فیصلے کی وجوہات میں احتمالِ تخریب کاری و جانبداری، حذف شدگی سے قبل انتباہ، مضمون کی بہتری، اور یا پھر اسکی دائرہ المعارف میں شمولیت سے نااہلیت شامل ہوسکتی ہیں۔ تبدیلیوں پر بحث یا صفحہ کو غیرمحفوظ کرنے کے بارے میں گفتگو تبادلۂ خیال کے صفحہ پر کیجیۓ۔
اسلام
اللہ کا خطاطی نام، اللہ مسلمانوں کا واحد خدا ہے
اللہ کا خطاطی نام، اللہ مسلمانوں کا واحد خدا ہے

رہنما موجودہ: کوئی نہیں
اول خلیفہ: ابو بکر صدیق
آخر خلیفہ: عبد المجید ثانی (بمطابق اہل سنت)
بانی محمد بن عبد اللہ
مقام ابتدا مکہ، حجاز، غرب جزیرہ نما عرب۔
تاریخ ابتدا اوائل ساتویں صدی۔
ارکان شہادت ونماز وزکوۃ وصوم وحج
فرقے مُتفق علیہا: سنیت، شیعیت، اباضیت
غیر مُتفق علیہا: احمدیت، دروز، نصیریت۔
مقدس مقامات مسجد حرام، مکہ، Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
مسجد نبوی، مدینہ منورہ، Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
مسجد اقصیٰ، یروشلم، Flag of Palestine.svg فلسطین
قریبی عقائد والے مذاہب یہودیت، مسیحیت، مندائیت، بہائیت، سکھ مت
مذہبی خاندان ابراہیمی مذہب
پیروکاروں کی تعداد 1.8 بلین (2015ء) [1]
دنیا میں جنوب مشرقی ایشیا، وسط ایشیا، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، بلاد البلقان، اور باقی عالم میں مسلمان اقلیت ہیں۔
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

اسلام ایک توحیدی مذہب ہے جو اللہ کی طرف سے آخری رسول و نبی، محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخری الہامی کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریے کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن)[2] اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد[3] اس کو پڑھتے ہیں ؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ، غیر عرب یا عجمی[4] ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس، بوسیلۂ وحی، فردِ واحد (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراہم کرنے والی شریعت[2] ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔

لغوی معنیترميم

لفظ اسلام لغوی اعتبار سے سلم سے ماخوذ ہے، جس کے معنی اطاعت اور امن، دونوں کے ہوتے ہیں۔ ایسا در حقیقت عربی زبان میں اعراب کے نہایت حساس استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں کہ اردو و فارسی کے برعکس اعراب کے معمولی رد و بدل سے معنی میں نہایت فرق آجاتا ہے۔ اصل لفظ جس سے اسلام کا لفظ ماخوذ ہے، یعنی سلم، س پر زبر اور یا پھر زیر لگا کر دو انداز میں پڑھا جاتا ہے۔

  • سَلم جس کے معنی امن و سلامتی کے آتے ہیں۔
  • سِلم جس کے معنی اطاعت، داخل ہو جانے اور بندگی کے آتے ہیں۔

قرآنی حوالہترميم

  • اسلام کا ماخذ سَلم اپنے امن و صلح کے معنوں میں قرآن کی سورت الانفال کی آیت 61 میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (ترجمہ: اور اگر جھکیں وہ صلح (امن) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسا کرو اللہ پر۔ بے شک وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے)۔[5]
  • سلم (silm) کا لفظ اپنے اطاعت کے معنوں میں قرآن کی سورت البقرہ کی آیت 208 میں ان الفاظ میں آیا ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (ترجمہ: اے ایمان والو! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے اور نہ چلو شیطان کے نقشِ قدم پر بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)۔ حوالے کے لیے دیکھیے حوالہ برائے امن و صلح۔

اسلام کیا ہے؟ترميم

یہاں وضاحت، اسلام کیا ہے؟ کو دوبارہ درج کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اس کا جواب مضمون کے ابتدائیہ میں آچکا ہے۔ جہاں تک رہی بات اس سوال کی کہ اسلام ہے کیا؟ یعنی وہ کیا اجزاء ہیں کہ جو اسلام کی تشکیل کرتے ہیں؟ تو اس وضاحت کی الگ سے ضرورت مختلف خود ساختہ فرقوں کے باعث پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک درکارِ لازم حیثیت رکھتی ہے۔ ماسوائے چند (جیسے اھل القرآن)[6] تمام فرقے قرآن اور سیرت النبی (سنت) ہی کو اسلامی تعلیمات کی بنیاد قرار دینے پر نا صرف اجتماع رکھتے ہیں بلکہ اپنے اپنے طور اس پر قائم ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں جیسے اھل سنت۔[7] اور اھل حدیث[8] وغیرہ۔ یہی دعویٰءِ اصلِ اسلام، اھل تصوف سے متعلق کتب و دستاویزات میں بھی دیکھا جاتا ہے[9] اھل تشیع فرقے والے سنت پر ایک خاص اور محتاط نقطۂ نظر بیان کرتے ہیں اور سنیوں کے برعکس ان کے نزدیک جو سنت (حدیث)، اھل بیت سے منحرف ہوتی ہو وہ مستند نہیں، مزید یہ کہ اس فرقے میں قرآن اور سنت کی بجائے قرآن اور اھل بیت کا تصور بھی ملتا ہے۔[10]

قرآنترميم

سنتترميم

اجزائے ایمانترميم

    1. ایمان باللہ
    2. ایمان بالملائکہ
      1. ایمان بالکتب
      2. ایمان بالرسالت
        1. ایمان بالقدر
        2. ایمان بالآخرت
         
        عکس 1۔ ایمان کے اجزا (بالائی سرخ لکیر) کو بیان کرنے والا ایک مشہور کلمہ جسے ایمان مفصل کہا جاتا ہے۔

        ارکانِ اسلامترميم

        پانچ_ارکانِ_اسلام: تعارفی_کلمات
        کلمۂ شہادت مسلمان کی جانب سے بنیادی اقرار؛ خالق اور رسول پر یقین کی گواہی دینا شہادت کہلاتا ہے۔
        نماز معینہ اوقات پر دن میں پانچ بار عبادت (نماز) فرض ہے ؛ جو انفرادی یا اجتماعی طور پر ادا کی جاسکتی ہے۔
        روزہ ماہ رمضان میں طلوع تا غروبِ آفتاب، خرد و نوش سے پ رہی ز رکھنا۔ بعض حالتوں میں غیر لازم یا ملتوی ہو جاتا ہے۔
        زکوۃ اپنی ضروریات پوری ہوجانے کے بعد مفلسوں کی امداد میں اپنے مال سے چالیسواں حصہ ادا کرنا۔
        حج اگر استطاعت اور اہلِ خانہ کی کفالت کا سامان ہو تو زندگی میں ایک بار، مکہ (کعبہ) کی جانب سفر و عبادت کرنا۔

        تاریخِ اسلامترميم

        خلافت راشدہترميم

        661ء تا 1258ءترميم

        خلافت تا خلافتیںترميم

        طوائف الملوک تا استعماریتترميم

        اجمالی جائزہترميم

        • یقیناً ہم نے بھیجا ہے تم کو حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔
          اور نہیں ہے کوئی امت مگر ضرور آیا ہے اس میں کوئی منتبہ کرنے والا۔ (قرآن؛ 35:24)

        اسلام و دیگر مذاہبترميم

        مذکورہ بالا آیت سے دوسرے مذاہب کے بارے میں اسلام کے نظریے کی وضاحت سامنے آجاتی ہے۔

        اسلام میں انبیاترميم

        قرآن ہی کی سورت 35 (فاطر) کی آیت 24 کے مطابق، قرآن میں درج 25 انبیاء و مرسال[11] کے علاوہ اسلامی عقائد کے مطابق ایسے انبیا اکرام بھی ہیں کہ جن کا ذکر قرآن میں نہیں آتا، قطعہ بنام اجمالی جائزہ میں درج آیت سے یہ بات عیاں ہے کہ ہر امت میں نبی (یا انبیا) بھیجے گئے، اس سلسلے میں ایک حدیث بھی مسند احمد بن حنبل اور فتح الباری بشرح صحیح البخاری میں آتی ہے جس میں پیغمبران کی تعداد 124000 بیان ہوئی ہے۔[12][13][14]؛ ظاہر ہے کہ ان میں ان مذاہب کے وہ اشخاص منطقی طور پر شامل ہو جاتے ہیں کہ جن کو آج ان مذاہب کی ابتدا کرنے والا یا ان مذاہب کا خدا مانا جاتا ہے ؛ مثال کے طور پر سدھارتھ گوتم بدھ مت اور دیگر مذاہب کی ابتدا کرنے والے[15]، گوتم بدھ کے بارے میں بعض علما کا خیال ہے کہ یہ پیغمبر ذو الکفل علیہ السلام (الانبیاء آیت 85) کی جانب اشارہ ہے اور kifl اصل میں سنسکرت کے لفظ (Kapilavastu) کو تشبیہ ہے، [16] گو یہ خیال سنی[16] اور شیعہ [17] کے علاوہ خود بدھ مذہب والوں میں بھی پایا جاتا ہے[18] لیکن چونکہ گوتم بدھ کا نام براہ راست قرآن میں نہیں آتا اس لیے متعدد علما اس وضاحت کو تسلیم نہیں کرتے۔ قرآن کی رو سے یہ تمام اشخاص خدا کی طرف سے وہی پیغام اپنی اپنی امت میں لائے تھے کہ جو آخری بار قرآن لایا، مگر ان میں تحریف پیدا ہو گئی۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار کی تعداد کے بارے میں متعدد نظریات دیکھنے میں آتے ہیں اور بہت سے علما کے نزدیک یہ عدد کوئی معین یا ناقابل ترمیم نہیں ہے[19]

        اسلام پر انتقادترميم

        مزید دیکھیےترميم

        حوالہ جاتترميم

        1. آخر اسلام کیوں دنیا کا تیزی سے ترقی پاتا ہوا مذہب ہے – Pew Research Center
        2. ^ ا ب Is the Qur'an for Arabs Only? By Abul A'la Mawdudi آن لائن موقع آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ islamonline.net [Error: unknown archive URL]
        3. مسلم آبادی 1.6 ارب آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ dimension.ucsd.edu [Error: unknown archive URL] اور 1.82 ارب کا بیان
        4. Learning Arabic at Berkeley By Sonia S'hiri اسی کروڑ آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ ls.berkeley.edu [Error: unknown archive URL]
        5. اردو ترجمے کے ساتھ ایک موقع بنام آسان قرآن آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ asanquran.com [Error: unknown archive URL]
        6. ahl al-quran at oxford islamic studies online آن لائن صفحہ
        7. the ahle sunnat wal jamaat آن لائن صفحہ آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ nooremadinah.net [Error: unknown archive URL]
        8. Ahl-i Hadith آن لائن بیان
        9. see: sachal sarmast at dargahs of india and the world آن لائن صفحہ آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ aulia-e-hind.com [Error: unknown archive URL]
        10. shia encyclopedia at scribd آن لائن صفحہ آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ scribd.com [Error: unknown archive URL]
        11. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ messengers نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
        12. فتح الباری بشرح صحیح البخاری آن لائن آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ hadith.al-islam.com [Error: unknown archive URL]
        13. پاکستان لنک نامی ایک موقع آن لائن بیان آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ pakistanlink.com [Error: unknown archive URL]
        14. دارالافتاء پر ایک بیان آن لائن موقع آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ askimam.org [Error: unknown archive URL]
        15. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ آن لائن مضمون نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
        16. ^ ا ب تنظیم اسلامی کی ویب سائٹ پر بیان القرآن؛ Surah An-Nisa (Ayat 158-176) آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ tanzeem.org [Error: unknown archive URL] (پیڈی ایف فائل)
        17. ایک شیعہ موقع پر ایک لاکھ چوبیس ہزار کے عدد کا ذکر آن لائن مضمون آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ www26.brinkster.com [Error: unknown archive URL]
        18. قرآن میں گوتم بدھ کے بارے میں بدھ موقع آن لائن
        19. darul ifta; question آن لائن ربط آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ darulifta-deoband.org [Error: unknown archive URL]

        ملاحظاتترميم

        کتابیاتترميم

        دائرۃ المعارفترميم

        مزید پڑھیےترميم

        بیرونی روابطترميم