بٹ ایک قبیلہ ہے جو جموں و کشمیر کے دونوں حصوں اور پاکستان بھارت اور یورپ , امریکہ میں آباد ۔ بٹ قوم ہندو اور مسلمان دونوں میں پائے جاتے ہیں۔ سر والٹر لارنس اپنی تاریخ میں ان کی اصل ہندوؤں کی اعلی ذات کھشتری سے ثابت کرتے ہیں راج ترنگنی کے مصنف سمیت کئی مصنفین نے بٹ کو کھش قبیلہ کی ایک شاخ لکھا ہے[1]

1891ء کی مردم شماری کی ریاستی رپورٹ میں بٹ قبیلے کو جنگجو راجپوت قبیلہ لکھا ہے جن کا کام کشمیر کی سرحدوں کی حفاظت کرنا تھا اور اس قبیلے سے کئی حکمران بھی گذرے ہیں ہی بتایا گیا ہے۔بلکہ راج ترنگنی کلہن میں بھی بٹ کو جنگجو راجپوت قبیلہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جو کے بھٹ کے نام سے بھی مشہور ہیں اور صدیوں سے مسلمان ہیں۔.

سلطان سکندر بت شکن(1394ء تا1417ء)کشمیر کا مشہور بادشاہ تھا اس کا وزیر اعظم ایک ہندو تھا جو بٹ برہمن فرقہ سے تھا اور اس کا نام سیہ بٹ تھا جب اس نے اسلام قبول کر لیا تو اس کا نام سیف الدین رکھا گیا اور بادشاہ کی طرف سے"ملک" کا خطاب ملا۔ملک سیف الدین بٹ اس قوم کا پہلا مسلمان تھا۔اس کے علاوہ تاریخ میں کئی نام ملتے ہیں جو بٹ برہمن سے تھے اور کافی شہرت رکھتے تھے جیسے مہاراجا للتا دتیہ کے دور میں متر بٹ، راجا جیا پیڈ کے دور مین دیو بٹ،راجا سنگرام کے دور میں بھو بٹ،رانی کوٹہ کے زمانہ میں پچہ بٹ کا نام تاریخ کے صفحوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ ان کے علاوہ سلطان حسن شاہ (1475ء تا 1487ء) کا سپہ سالار تازی بٹ ایک مسلمان بٹ ہی تھا جس نے تاتار خان حاکم پنجاب کو شکست دی اور سیالکوٹ کو تباہ کیا۔ 1581ء میں بعہد یوسف شاہ وزیر اعظم چک بٹ کا محمد بٹ تھا۔یہی محمد بٹ تھا جس نے اکبر کی فتح کشمیر کے وقت اپنے اثر و رسوخ سے 1586ء میں فتنہ و فساد رفع کرا دیا تھا۔مغل دور حکومت میں بھی اس قوم کے کئی فرزند آسمان شہرت و ترقی پر آفتاب بن کر چمکتے رہے، ان میں ابدال بٹ، حاجی محمد اسلم، شیخ داود بٹ،مالو اور ممہ بٹ پانپوری علم و عمل اور تجارت و دربار داری میں بہت ممتاز تھے۔[1]موجودہ دور میں کشمیر میں مشہور بٹ شخصیت مقبول بٹ شہید ہیں ۔

بٹ پاکستان میں اور بھارت میں بھٹ بولا جاتا ہے یہ قوم خود میں کئی گوت رکھتی ہے یہ لوگ کشمیر سے تب نکلنا شروع ہوئے جب راجا دیو راج 1242ء میں ان کو مسلمان ہونے پر طرح طرح سے تکالیف پہنچائی، اس قوم کے کافی لوگ پنجاب میں آ گئے اور یہی اپنا کام کاج کرنے لگے۔ گوجرانوالہ میں ان کی تعداد کافی زیادہ ہے اور خیبر پختونخوا کے اضلاع خصوصا پشاور اور سوات میں بھی موجود ہیں۔

سوات کے شمالی علاقہ جات جو کالام اور بحرین کے درمیان ایک چھوٹے سے گاؤں میں بھی ان کی ایک نسل آباد ہوئی۔

اس کے علاوہ بعد میں بہت سارے لوگ کالام اور بحرین میں


بھی آباد ہوئے جن میں عبد الستار بٹ ولد عبد العزیز جو 1956ء میں بیس سال کی عمر میں سوات آئے اور ادھر ہی آباد ہوئے ان کے چار بیٹے ( اقبال حسین بٹ،فداحسین بٹ، آفتاب حسین بٹ اور شوکت حسین بٹ) ہیں اور چار بیٹیاں ہیں اور پشتو زبان بولتے ہیں۔ عبد الستار بٹ کی اولاد تعلیم کے لیے مشہور ہے اور ان کی شرح خواندگی سو فیصد ہے۔

سوات کے علاقہ بحرین کی مشہور شخصیت ولی بٹ تھے جو کشمیری تھے اور بحرین کالام کے علاقوں میں کافی با اثر اور مشہور تھے، ان کی اولاد بھی سوات میں آباد ہے۔ اسی طرح کالام میں بھی بٹ آباد ہیں جو محمد سعید بٹ کی اولاد ہے اور کالام کی زبان (کوہستانی) بولتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی کافی بٹ لوگ آباد ہیں ۔ 1965ء میں (بدھل راجوری) جموں سے محمد رمضان کے پڑپوتے ، غلام رسول بٹ کے پوتے محمد رمضان زرگر کے تین بیٹوں میں سے ایک عبد الاحد زرگر (حسن ابدال) پاکستان تشریف لائے۔ ان کے بڑے بیٹے محمد ایوب بٹ کی اولاد حسن ابدال میں ہے اور یہ پنجابی زبان بولتے ہیں جبکہ دو بیٹوں محمد یوسف اور محمد بشیر بٹ کی اولاد ایبٹ آباد میں رہائش پزیر ہے۔ایبٹ آباد کے علاقے موہار کلاں میں میراحمد بٹ کی اولاد موجود ہے۔ جو ہندکو زبان بولتے محمد یوسف کا بڑا بیٹا محمد عارف بٹ مظفرآباد کشمیر میں سیکشن آفیسر ہے۔

مشاہیر ترمیم

حوالہ جات ترمیم

  یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1. ^ ا ب محمدالدین فوق۔ مکمل تاریخ اقوام کشمیر۔ صفحہ: صفحہ نمبر 288 تا 291 اور 579تا 585