جموں وکشمیر

بھارت کے زیر انتظام کشمیر

جموں و کشمیر ایک بااختیار ریاست تھی۔ جس کا بیشتر علاقہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے پر پھیلا ہوا ہے۔ جموں و کشمیر کی سرحدیں جنوب میں ہماچل پردیش اور پنجاب، بھارت، مغرب میں پاکستان اور شمال اور مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ پاکستان میں بھارت کے قبضے میں علاقے کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر جموں، وادی کشمیر ، لداخ اور گلگت بلتسان میں منقسم ہے۔بھارت کے زیر انتظام سری نگر اس کا گرمائی اور جموں سرمائی دار الحکومت ہے۔اور پاکستان کے زیر انتظام مظفر آباد دار الحکومت ہے۔ وادی کشمیر اپنے حسن کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے جبکہ ۔ لداخ جسے "تبت صغیر" بھی کہا جاتا ہے، اپنی خوبصورتی اور بدھ ثقافت کے باعث جانا جاتا ہے۔ ریاست جموں اینڈ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے تاہم ہندو، بدھ اور سکھ بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔جموں اینڈ کشمیر کا کل رقبہ 85806 مربع میل ہے جو اس وقت چار حصوں میں منقسم ہے۔ ایک حصہ جسے "آزاد کشمیر" کا نام دیا گیا ہے دوسرا گلگت بلتستان، یہ دونوں پاکستان کے زیر قبضہ ہیں۔ تیسرا اور سب سے بڑا حصہ جموں اور سی نگر انڈیا کے قبضے میں پے جبکہ چوتھا حصہ جو اقصائی چن کا علاقہ ہے وہ 1962ء کی انڈیا چین جنگ میں چین نے بھارت سے چھین لیا۔اور1335مربع میل پاکستان نے چائینہ کو گفٹ کیا

ریاست جموں اور کشمیر
Flag of ریاست جموں و کشمیر
Flag

جموں و کشمیر کا نقشہ
دار الحکومتسری نگر (مئی-اکتوبر)
جموں (نومبر-اپریل)[1]
رقبہ
 • متناسقات33°27′N 76°14′E / 33.45°N 76.24°E / 33.45; 76.24
تاریخ
حکومت
گورنر 
• 1954–ء1965ء بطور صدرِ ریاست؛ 1965ء–1967ء
کَرن سنگھ (پہلا)
• 2018ء–2019ء[2]
ستیا پال ملک (آخری)
وزیر اعلٰی 
• 1947ء–1948ء بطور وزیر اعظم
مہر چند مہاجن (پہلا)
• 2016ء–2018ء[3]
محبوبہ مفتی (آخری)
مقننہریاست جموں و کشمیر
• ایوان بالا
جموں و کشمیر ودھان پریشد (36 نشستیں)
• ایوان زیریں
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی (89 نشستیں)
تاریخ 
• 
14 مئی 1948
• 
31 اکتوبر
سیاسی ذیلی تقسیمات22 اضلاع
ماقبل
مابعد
ریاست جموں و کشمیر
ریاست جموں و کشمیر
لداخ

3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کو منصوبہ پیش کیا گیا جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ راج برطانیہ کے زیر قبضہ ہندوستانی ریاستوں کو مذہبی اکثریت کی بنیاد پر انڈیا اور پاکستان کے ساتھ شمولیت کا حق حاصل ہو گا لیکن اگر کوئی ریاست خود مختار رہنا چاہے تو اسے مکمل آزادی کا حق حاصل ہو گا۔یہ فیصلہ ہندوستانی ریاستوں کے متعلق ہوا تھا جبکہ ریاست کشمیر کبھی ہندوستان کے حصہ نہیں رہی۔ مہاراجا ہری سنگھ نے انڈین اور پاکستانی سربراہان کو خطوط لکھے جس میں ان کو آگاہ کیا گیا کہ جموں کشمیر خود مختار ریاست رہے گی اور آپ سے مکمل سفارتی و تجارتی تعلقات بحال رہیں گے ان خطوط کا جواب پاکستان نے تو دے دیا لیکن بھارت نے وقت مانگا جبکہ 14اگست 1947ء کو پاکستان بنا15اگست کو بھارت اور 16اگست کو پاکستان نے ریاست جموں کشمیر کے مہاراجا ہری سنگھ کے ساتھ معائدہ جاریہ کیا۔لیکن 21 اور 22 اکتوبر 1947ء کی درمیانی شب کو پاکستان اس معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 10000مسلح قبائل جن کی پشت پنائی ریگولر آرمی کر رہی تھی نے جموں [4]کشمیر پر حملہ کر دیا جس کے بعد مہاراجا ہری سنگھ کو مجبورا انڈیا سے مدد مانگنی پڑی۔ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر انڈیا نے شرط رکھی کہ مہاراجا پہلے اپنی ریاست کا الحاق انڈیا سے کرے اس کے بعد انڈیا مدد کرے گا۔ اس صورت حال میں مہاراجا نے اس شرط پر معاہدہ کیا کہ یہ عارضی الحاق ہے۔ ریاست جموں کشمیر کا مستقل فیصلہ ریاست کے عوام کریں گے۔اس کے بعد دونوں ممالک نے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار دیں۔ بعد ازاں اقوام متحدہ نے مداخلت کر کے جنگ بندی کروائی۔

اس وجہ سے جموں کشمیر ستر سال سے زائد عرصے سے دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باعث تقسیم ہند کے قانون کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔علاقہ عالمی سطح پر متنازع قرار دیا گیا ہے۔اقوام متحدہ اور باقی بڑی اہم عالمی تنظیموں نے جموں کشمیر کے حق آزادی کو تسلیم کیا ہے۔اور سلسلے اپنی ثالثی کی پیش کی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جس میں وادی کشمیر میں مسلمان 95 فیصد، جموں میں 33.45 فیصد اور لداخ میں 46.41 فیصد ہیں۔ جموں میں ہندو 62.55 فیصد اور سکھ 3.28 فیصد ہیں اور لداخ میں بودھ 39.65 فیصد اور ہندو 12.11 فیصد ہیں۔اور پاکستان کے زیر انتظام میں 99.9 مسلمان ہیں۔ جموں کشمیر کا شرح خواندگی 98 فیصد سے زائد ہے۔

جموں کشمیر کے لوگ اپنی بہترین صلاحیتوں کے باعت جموں کشمیر،انڈیا،پاکستان اور بیرون ممالک میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔اور مختلف شعبہ زندگی میں اپنی صلاحتیوں کے جوہر دیکھا رہے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ یہ لوگ اپنے طور جموں کشمیر کی تحریک آزادی کو کامیاب کرنے میں ہر سطح پر حصہ ڈال رہے ہیں۔

تحریک آزادی کو کمزور کرنے کے لیے 5 اگست 2019ء کو بھارت نے آئین ہند کی دفعہ 370 کو ختم کرنے اور ریاست کو دو یونین علاقوں میں تقسیم کر دیا۔متنازع علاقے کو اپنا علاقہ لکھ دیا – لیکن اس کے بعد تحریک آزادی مزید شدید ہو گئی ہے۔عوام کے اس شدید رد عمل کے باعث بھارت نے پوری وادی میں سخت کرفیو نافذ کر دیا۔ ریاست بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل اور موبائل کنیکشن بند اور مقامی سیاسی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا۔[5] گھر گھر تلاشی کے دوران ہزاروں بے گناہ نوجوانوں اور نوعمر لڑکوں کو گرفتار کرکے غائب کر دیا ہے۔

بھارت کے ان پیش قدمی کے اقدام کی وجہ سے چین بھارت، بھارت پاکستان سرحدی تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ سنجیدہ ماہرین کے مطابق اگر کشمیر کا حل جلد نہ کیا گیا تو یہ تیسری بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن کر کروڑوں لوگوں کی موت کا باعث بن سکتی ہے۔جس کے اثرات صدیوں ختم نہیں ہوں گے۔

نگار خانہ

ترمیم

حوالہ جات

ترمیم
  1. The Hindu Net Desk (8 May 2017)۔ "What is the Darbar Move in J&K all about?"۔ The Hindu (بزبان انگریزی)۔ 10 نومبر 2017 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 فروری 2019 
  2. "Satya Pal Malik sworn in as Jammu and Kashmir governor"۔ The Economic Times۔ Press Trust of India۔ 23 August 2018۔ 23 اگست 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 اگست 2018 
  3. demolish the kashmir freedom movement -ram-madhav-4542011.html "BJP-PDP alliance ends in Jammu and Kashmir LIVE updates: Mehbooba Mufti resigns as chief minister; Governor's Rule in state" تحقق من قيمة |url= (معاونت)۔ فرسٹ پوسٹ۔ 19 June 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2018 [مردہ ربط]
  4. "China Pakistan 1963" (PDF)۔ 2015/04۔ 25 اکتوبر 2021 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 اکتوبر 2021 
  5. "Jammu Kashmir Article 370: Govt revokes Article 370 from Jammu and Kashmir, bifurcates state into two Union Territories"۔ The Times of India (بزبان انگریزی)۔ 2019-08-05۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2019