حزقی ایل یا حزقیال (عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں خدا کا زور۔/ᵻˈzi:ki.əl/؛ عبرانی: יְחֶזְקֵאל‎‎ Y'ḥez'qel، عبرانی تلفظ: [jəħezˈqel]) کتاب حزقی ایل اور عبرانی بائبل کے حامی مرکزی کردار ہے۔

حزقی ایل
Ezekiel by Michelangelo, restored - large.jpg
نبی، کاہن
پیدائش622 ق۔م
یروشلم
وفات570 ق۔م
بابل
محترم دریہودیت
مسیحیت (پروٹسٹنٹ، رومن کیتھولک، آرمینیا چرچ، مشرقی کیتھولک چرچ، راسخ الاعتقاد کلیسیا)
اسلام
بہائی فیتھ
مزارحزقی ایل کا مقبرہ، الکفل، عراق
تہواراگست 28 – آرمینیا چرچ
جولائی 23 – راسخُ الاعتقاد کلیسا اور رومن کیتھولک
جولائی 21 – لوتھریت

حیاتترميم

یہ اسیری دور کے ایک کاہن تھے جو عہد نامہ قدیم کے مطابق ایک نبی تھے اور یرمیاہ اور دانی ایل (دانیال) نبی کے ہمعصر تھے۔[1] یہ اسیری سے پہلے یہودیہ میں پلے بڑھے اور 597ق-م میں بخت نصر کے دور میں قیدی بنا کر بابل لائے گئے۔[2]اسیری کے پانچویں سال ان کو نبوت ملی۔[3]

تمہیدترميم

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیائے بنی اسرائیل کا طویل سلسلہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے ‘ صدیوں کے اس دور میں کس قدر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے ‘ ان کی صحیح تعداد رب العزت ہی جانتا ہے۔ قرآن عزیز نے ان میں سے چند پیغمبروں کا ذکر کیا ہے ان میں سے بعض کا ذکر تو تفصیل سے آیا ہے اور بعض کا اجمال کے ساتھ اور بعض کا صرف نام ہی مذکور ہے توراۃ میں قرآن عزیز کی بیان کردہ فہرست پر چند اور پیغمبروں کا اضافہ ہے اور ان کے واقعات اور حالات کا بھی۔ ان اسرائیلی پیغمبروں کے درمیان تاریخی ترتیب اختلافی مسئلہ ہے ‘ ہم ابن جریر طبری اور ابن کثیر کی ترتیب کو راجح سمجھتے ہیں اور اس لیے اسی کے مطابق ان پیغمبروں کے حالات زیر بحث لائیں گے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے بعد باتفاق توراۃ و تاریخ حضرت یوشع (علیہ السلام) منصب نبوت پر فائز ہوئے اور ان کے بعد ان کی جانشینی کا حق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دوسرے رفیق کا لب بن یوفنا نے ادا کیا۔ یہ حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ مریم بنت عمران کے شوہر تھے مگر نبی نہیں تھے۔ [4] طبری کہتے ہیں کہ ان کے بعد سب سے پہلے جس ہستی نے بنی اسرائیل کی روحانی اور دنیوی قیادت و راہنمائی کا فرض انجام دیا وہ حزقیل (علیہ السلام) ہیں۔

نام و نسب اور بعثتترميم

توراۃ میں ہے کہ وہ بوذی کا ہن کے بیٹے ہیں اور ان کا نام حزقی ایل تھا ١ ؎ عبرانی زبان میں ایل اسم جلالت ہے اور حزقی کے معنی قدرت اور قوت کے ہیں اس لیے عربی زبان میں اس مرکب نام کا ترجمہ ” قدرۃ اللّٰہ “ ہے کہتے ہیں کہ حضرت حزقیل (علیہ السلام) کے والد کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا تھا اور جب ان کی بعثت کا زمانہ قریب آیا تو ان کی والدہ بہت ضعیف اور معمر ہوچکی تھیں اس لیے اسرائیلیوں میں

حزقی ایل کی کتاب۔ بنی اسرائیل کے یہاں کاہن متبحر عالم و شیخ کامل کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ یہ ” ابن العجوز “ ١ ؎ کے لقب سے مشہور تھے۔ ٢ ؎ [5][6] حضرت حزقیل عرصہ دراز تک بنی اسرائیل میں تبلیغ حق کرتے اور ان میں دین و دنیا کی راہنمائی کا فرض انجام دیتے رہے۔

قرآن اور حزقیل (علیہ السلام)ترميم

قرآن عزیز میں حزقیل نبی کا نام مذکور نہیں ہے لیکن سورة بقرہ میں بیان کردہ ایک واقعہ کے متعلق سلف صالحین سے جو روایات منقول ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کا تعلق حضرت حزقیل (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ہے۔ کتب تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور بعض دوسرے صحابہ سے یہ روایت منقول ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑی جماعت سے جب ان کے بادشاہ یا ان کے پیغمبر حزقیل (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ فلاں دشمن سے جنگ کرنے کیلئے تیار ہو جاؤ اور اعلائے کلمۃ اللہ کا فرض ادا کرو تو وہ اپنی جانوں کے خوف سے بھاگ کھڑے ہوئے اور یہ یقین کر کے کہ اب جہاد سے بچ کر موت سے محفوظ ہوگئے ہیں دور ایک وادی میں قیام پذیر ہوگئے۔ اب یا تو پیغمبر نے ان کے اس فرار کو خدا کے حکم کی خلاف ورزی یا قضا و قدر کے فیصلہ سے روگردانی سمجھ کر اظہار ناراضی کرتے ہوئے ان کے لیے بددعا کی یا خود اللہ تعالیٰ کو ان کی یہ حرکت ناگوار ہوئی۔ بہرحال اس کے غضب نے ان پر موت طاری کردی اور وہ سب کے سب آغوش موت میں چلے گئے۔ ایک ہفتہ کے بعد ان پر حضرت حزقیل (علیہ السلام) کا گزر ہوا تو انھوں نے ان کی حالت پر اظہار افسوس کیا اور دعا مانگی کہ الٰہ العٰلمین ان کو موت کے عذاب سے نجات دے تاکہ ان کی زندگی خود ان کے لیے اور دوسروں کے عبرت و بصیرت بن جائے۔ پیغمبر کی دعا قبول ہوئی اور وہ زندہ ہو کر نمونہ عبرت و بصیرت بنے۔ ٣ ؎ [7] تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ اسرائیلی جماعت داوردان کی باشندہ تھی جو شہر واسط سے چند کوس پر اس زمانہ کی مشہور آبادی تھی اور یہ فرار ہو کر انیح کی وادی میں چلے گئے تھے وہیں ان پر موت کا عذاب نازل ہوا۔ قرآن عزیز میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ ھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِص فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْاقف ثُمَّ اَحْیَاھُمْط اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ } [8] (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے ہزاروں کی تعداد میں نکلے پھر اللہ نے فرمایا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ کردیا بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ “

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. (کتاب) حزقی ایل، 1:1، 15:3
  2. قاموس الکتاب، صفحہ 322
  3. حزقی ایل، 3:1
  4. (تاریخ ابن کثیر جلد ٢ ص ٢)
  5. (١ ؎ بڑھیا کا بیٹا۔
  6. ٢ ؎ تاریخ ابن کثیر جلد ٢ ص ٣۔ )
  7. (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر جلد ٢ ص ١٣٤ و روح المعانی جلد ٢ صفحہ ١٣٠ و تفسیر کبیر جلد ٢ صفحہ ٢٨٣)
  8. (البقرۃ : ٢/٢٤٣)