مرکزی مینیو کھولیں

دجاجہ ایکس اول [1] مشہور کہکشانی ایکس رے کا کہکشانی منبع ہے، جو شمالی مجمع الکواکب ہنس میں موجود ایک بلیک ہول سمجھا جاتا ہے۔[2] اس کی دریافت 1964ء میں ایک راکٹ کی اڑان کے دوران ہوئی اور یہ زمین سے نظر آنے والا سب سے طاقتور ایکس رے کا منبع ہے۔[3][4] دجاجہ ایکس اول وہ پہلا ایکس رے منبع ہے جس کو عام طور پر ایک بلیک ہول سمجھا جاتا ہے اور یہ اپنے اس گروہ میں وہ اجرام فلکی ہے جس پر سب سے زیادہ تحقیق کی گئی ہے۔ اب اس بھینچے ہوئے جسم کی کمیت کو سورج کی کمیت کا 14.8سمجھا جاتا ہے[5] اور یہ کسی بھی عام ستارے کی معلوم قسم میں سب سے چھوٹا یا بلیک ہول کے علاوہ دوسرے اجسام میں بھی سب سے چھوٹا ہے۔ اگر یہ اندازہ درست رہا تو اس کا واقعاتی افق تقریباً 44 کلومیٹرہوگا۔[6]

دجاجہ ایکس اول بلند کائنات والے ایکس رے ثنائی نظام سے تعلق رکھتے ہیں جن کا سورج سے فاصلہ 6070 نوری برس کا ہے اور ان میں ایک نیلا فوق دیو متغیر ستارہ شامل ہے جس کا نام HDE 226868 ہے[7] جو ان سے 0.2AUکے فاصلے پر یا زمین سے سورج کے فاصلے کے بیس فیصد پر موجود رہ کر چکر لگا رہا ہے۔ ستارے سے آنے والی نجمی ہوا ایکس رے کے منبع کے گرد پرت دار قرص کو مادّہ فراہم کرتے ہیں۔[8] اندرون قرص میں موجود مادّہ دسیوں لاکھوں ڈگری درجہ حرارت تک گرم ہو کر مشاہدہ کی جانے والی ایکس ریز کو پیدا کرتا ہے۔[9][10] دھاروں کا ایک جوڑا جو قرص کے عمود میں ترتیب پاتا ہے، وہ بین النجمی خلاء میں گرنے والے مادّہ کی توانائی کا کچھ حصّے لے کر جاتا ہے۔[11]

یہ نظام شاید اس نجمی انجمن سے تعلق رکھتا ہے جس کا نام دجاجہ OB3 ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ دجاجہ ایکس اول پچاس لاکھ برس کی عمر کا ہے اور یہ ایک مورث ستارے سے بنا ہے جس کی کمیت سورج کی کمیت سے 40 گنا زیادہ تھی۔ ستارے کی کمیت کا زیادہ تر حصّہ نجمی ہواؤں کی صورت میں اڑ چکا ہے۔ اگر یہ ستارہ ایک نوتارے کی طرح پھٹا تھا تو پیدا ہونے والی قوّت نے ستارے کی باقیات کو خارج کر دیا ہوگا۔ لہٰذا ستارہ براہ راست بلیک ہول میں منہدم ہو گیا ہوگا۔[12]

دجاجہ ایکس اول 1975ء میں طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ اور کپ تھورن کے درمیان ہونے والی دوستانہ سائنسی جنگ کا موضوع بھی رہا ہے، ہاکنگ نے شرط لگائی تھی کہ یہ بلیک ہول نہیں ہے۔ اس نے اپنی اس شرط کی ہار اس وقت تسلیم کی جب حاصل ہونے والے مشاہداتی اعداد و شمار نے اس بات کا عندیہ دیا کہ درحقیقت نظام میں ایک بلیک ہول موجود ہے۔ اس مفروضے کی تصدیق براہ راست مشاہدے کی کمی کی وجہ سے نہ ہو سکی تاہم اس کو عام طور سے بالواسطہ شواہد کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے۔[13]  

دریافت و مشاہدہ ترميم

خارج ہوتی ہوئی ایکس ریز ماہرین فلکیات کوکروڑوں ڈگری درجہ حرارت والے گیسی فلکی مظاہر کی تحقیق میں مدد کرتے ہیں۔ کیونکہ زمین کا کرۂ فضائی ایکس ریز کو روک دیتا ہے، لہٰذا سماوی ایکس ریز کے منبع کو اس وقت تک نہیں دیکھا جا سکتا جب تک آلات کو اتنے ارتفاع پر بلند نہیں کیا جاتا جہاں ایکس ریز کرۂ فضائی میں سرایت کر سکے۔[14][15] دجاجہ ایکس اول کو ان ایکس رے آلات کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا گیا تھا جن کو نیو میکسیکو میں واقع وائٹ اسٹینڈز میزائل رینج سے داغے گئے صوتی راکٹ کے ساتھ خلاء میں چھوڑا گیا تھا۔ اس طرح کے منبع کی نقشہ سازی کی کوششوں کے ایک حصّے کے طور پر ایک سروے 1964ء میں دو ایروبی ذیلی مداری راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔ راکٹوں میں گائیگر کاؤنٹر موجود تھے تاکہ ایکس رے اخراج کو آسمان کے 8.4° کے حصّے میں 1تا 15 انگسٹرم کی طول موج کو ناپ سکیں۔ یہ آلات پورے آسمان میں راکٹ کے گھومنے کے ساتھ پھرتے رہے اور کافی اچھے نقشے بنائے۔

ان سروے کے نتیجے میں مجمع النجوم مجمع الکواکب ہنس کے آٹھ نئے کائناتی ایکس ریز کے منبع دریافت ہوئے، بشمول دجاجہ ایکس آر (سابقہ دجاجہ ایکس اول)۔ جس جگہ پر اس کے واقع ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے وہاں پر کوئی نمایاں دوسرا ریڈیائی یا بصری منبع موجود نہیں ہے۔

اس پر لمبے عرصے کی تحقیق کرنے کی ضرورت کو محسوس کرکے 1963ء میں ریکارڈو جیاکونی اور ہرب گرسکی نے پہلے مداروی سیارچے کی تجویز پیش کی جو ایکس رے کے منبع کی تحقیق کرسکے۔ ناسا نے 1970ء میں اوہورو سیارچہ خلاء میں بھیجا،[16] جس نے نئے 300 کے قریب ایکس رے کے منبع دریافت کیے۔[17] دجاجہ ایکس اول کے اوہورو سے کیے گئے وسیع مشاہدے نے ایکس رے کی شدت میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کو دکھایا جو ایک سیکنڈ میں کئی مرتبہ واقع ہوتے ہیں۔[18] اس تیز رفتار اتار چڑھاؤ کا مطلب یہ ہے توانائی کی پیداوار لازمی طور پر نسبتاً چھوٹے علاقے میں ہونی چاہیے جس کا رقبہ لگ بھگ 10 کی قوّت نما 5 کلومیٹر ہوگا [19] اس کی وجہ یہ ہے کہ روشنی کی رفتار مزید دور کے علاقوں میں ہونے والے رابطوں میں رکاوٹ ہے۔ حجم کے موازنے کے لیے یہ سمجھ لیں کہ سورج کا نصف قطر لگ بھگ 1.4×106 کلومیٹر ہے ۔

1971ء کے اپریل اور مئی کے مہینے میں لیڈن رصدگاہ سے تعلق رکھنے والے لک بریس اور جارج کے ملے نے اور ان سے الگ قومی ریڈیائی فلکیاتی رصدگاہ کے رابرٹ ایم جیامنگ اور کمپبل وئیڈ نے خود مختارانہ طور پر دجاجہ ایکس اول سے خارج ہونے والی ریڈیائی اخراج کا سراغ لگایا[20] اور ان کے درست ریڈیائی محل وقوع نے ایکس رے کے منبع کا اشارہ ستارے AGK2 +35 1910 = HDE 226868 کی جانب کیا۔[21][22] سماوی کرہ میں یہ ستارے چوتھے روشن ستارے ایٹا ہنس سے آدھے درجے کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک فوق دیو ستارہ ہے جو خود سے اس قابل نہیں ہے کہ مشاہدے میں آنے والی ایکس رے کا اخراج کر سکے۔ لہٰذا ستارے کے ساتھ کوئی دوسرا ضرور موجود ہوگا جو گیس کو کروڑ ہا ڈگری درجہ حرارت تک گرم کرتا ہے جس سے دجاجہ ایکس اول کے منبع کی اشعاع پیدا ہوتی ہیں۔

رائل گرینچ رصدگاہ سے تعلق رکھنے والے لوئیس ویبسٹر اور پال مرڈن [23] اور خود مختارانہ طور پر کام کرتے ہوئے ٹورنٹو یونیورسٹی کی ڈیوڈ ڈنلپ رصدگاہ سے تعلق رکھنے والے چارلس تھامس بولٹن نے 1971ء میں HDE 226868 کے ساتھ چھپے ہوئے ساتھی کی دریافت کا اعلان کیا۔[24] ستارے کے طیف کی ڈوپلر منتقلی کی پیمائش نے ساتھی کی موجودگی کو نہ صرف ظاہر کیا بلکہ مداروی عدد خاص کی مدد سے کمیت کا بھی تخمینہ لگایا۔[25] جسم کی اندازہ لگائی ہوئی زیادہ کمیت کی بنیاد پر انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ بلیک ہول ہو سکتا ہے کیونکہ بڑے سے بڑا نیوٹران تارا بھی سورج کی کمیت کے تین گنا سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔[26]

مزید مشاہدات نے حاصل ہونے والے ثبوتوں کو مزید مضبوط کیا، 1973ء کے آخر تک فلکیاتی سماج نے نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ دجاجہ ایکس اول کافی حد تک بلیک ہول جیسا ہی ہے۔[27][28] دجاجہ ایکس اول کے کیے جانے والی مزید درست پیمائشوں نے اس کے تغیر کو ایک ملی سیکنڈ تک کا بتایا۔ یہ وقفہ بلیک ہول کے گرد موجود مادّے کی پرت دار قرص میں ہونے والے اضطراب سے میل کھاتی ہے۔ ایکس ریز کے پھٹاؤ جو ایک سیکنڈ کے ایک تہائی تک جاری رہتے ہیں وہ بلیک ہول میں گرنے والے مادّے کے وقت کے دورانیے سے بھی میل کھاتے ہیں۔ [29]

 
دجاجہ ایکس اول  کی یہ تصویر ایک غبارے میں موجود دوربین، بلند توانائی تہ کی ہوئی بصریات (ہیرو) سے لی گئی ہے. ناسا کی تصویر. 

دجاجہ ایکس اول میں ہونے والی تحقیق اس کی دریافت سے لے کر اب تک مداروی اور زمینی آلات کی مدد سے بہت اچھی طرح سے کی جاچکی ہے۔[30] ثنائی نظام سے خارج ہونے جیسا کہ HDE 226868 اور دجاجہ ایکس اول اور متحرک کہکشانی مرکزے سے نکلنے والی ایکس رے کے درمیان مشابہت بتاتی ہے کہ ایک بلیک ہول سے پیدا ہونے والے مشترکہ توانائی کو پیدا کرنے والے نظام میں ایک چکر لگاتی ہوئی پرت دار قرص اور متعلقہ دھاریں ہوتی ہیں۔[31] اس وجہ سے، دجاجہ ایکس اول کو ایک ایسی جماعت کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے جس کو کوزار اصغر کہتے ہیں، کوزار یعنی مماثل نجمی ریڈیائی منبع جن کو اب سب سے دور دراز متحرک کہکشانی مرکزے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ثنائی نظام جیسے کہ HDE 226868 اور دجاجہ ایکس اول کی سائنسی تحقیق متحرک کہکشاؤں کے نظام کے کام کرنے کے اندرون کی مزید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔[32]

نجمی نظام ترميم

ثنائی نظام کا بھینچا ہوا جسم اور نیلا فوق دیو ستارہ اپنے مرکزی کمیت کے گرد ہر5.599829 دنوں میں ایک چکر پورا کرتا ہے۔[33] زمین سے دیکھنے پر، بھینچا ہوا جسم دوسرے ستارے کے پیچھے کبھی نہیں جاتا؛ بالفاظ دیگر نظام میں گرہن نہیں لگتا۔ بہرحال مداروی میدان کا جھکاؤ زمین کے بصری خط سے 27–65° تک غیر یقینی ہے۔ 2007ء میں ہونے والی تحقیق نے جھکاؤ کا اندازہ 48.0±6.8° لگایا، جس کا مطلب ہے کہ نصف محوار عظم تقریباً 0.2AU یا زمین سے سورج کے فاصلے کا بیس فیصد ہے۔ مداروی انحراف اتنا کم ہے کہ یہ لگ بھگ دائروی مدار ہی ہے۔[34] زمین کا اس نظام سے فاصلہ لگ بھگ 6,070 ± 390 نوری برس ہے۔ [35]

HDE 226868/ دجاجہ ایکس اول نظام خلاء کے ذریعہ مشترک حرکت کا اشتراک ایک ضخیم ستارے سے کرتے ہیں جس کا نام دجاجہ OB3 ہے جس کا سورج سے فاصلے لگ بھگ دو ہزار پارسیک ہے۔ اس سے ایسا لگاتا ہے کہ جیسے HDE 226868/ دجاجہ ایکس اول اور یہ OBرشتہ ایک ہی وقت اور ایک ہی جگہ بنا ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس نظام کی عمر لگ بھگ 5±1.5 ایم ہے۔ HDE 226868 کی حرکت دجاجہ OB3 سے 9±3 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے؛ یہ قدر عام طور پر پائے جانے والی نجمی انجمن جیسی ہی ہے۔ HDE 226868 کا انجمن کے مرکز سے فاصلہ 60 پار سیک کا ہے اور یہ علیحدگی لگ بھگ 7±2 ایم اے تک جا سکتی ہے- یہ قدر تقریباً انجمن کی عمر کے تخمینے سے بھی میل کھاتی ہے۔ 

4 درجے کے کہکشانی عرض البلد اور 71 درجے کے کہکشانی طول البلد کے ساتھ یہ نظام اندرونی طور پر اورئن دندانے میں واقع ہے جس کے ساتھ اندر ملکی وے کہکشاں[36] میں جہاں یہ دندانہ قوس کے بازو کے پاس پہنچتا ہے وہاں سورج واقع ہے۔ دجاجہ ایکس اول کو قوس کے بازو[37] سے نسبت دی جاتی ہے، ہرچند کہ ملکی وے کہکشاں کی ساخت ٹھیک طرح سے معلوم نہیں ہے۔   

بھینچا ہوا جسم ترميم

 
چاندرا ایکس رے رسد گاہ  سے  لی گئی دجاجہ ایکس اول کی تصویر  

بھنچے ہوئے جسم کی کمیت کے بارے میں کچھ غیر یقینی صورت حال ہے۔ نجمی ارتقائی نمونے 20±5 نجمی کمیت کی کمیت بتاتے ہیں، [38] جبکہ دوسرے تیکنیک 10 نجمی کمیت کا نتیجہ دیتی ہیں۔ جسم کے قریب سے خارج ہونے والی ایکس رے کے دورانیے کو ناپنے کے بعد جسم کی مزید درست مقدار 14.8±1 نجمی کمیت نکلتی ہے۔ تمام صورتوں میں جسم کا نتیجہ بلیک ہول کی صورت ہی نکلتا ہے [39] یعنی خلاء کا ایک ایسا حصّہ جس کا ثقلی میدان اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندرون سے برقی مقناطیسی اشعاع کو بھی مفر ہونے نہیں دیتا۔ اس علاقے کی سرحد کو واقعاتی افق کہتے ہیں اور اس کا مؤثر نصف قطر شوارز چائلڈ نصف قطر کہلاتا ہے، جو دجاجہ ایکس اول کے لیے لگ بھگ 26 کلومیٹر کا ہے۔[40] کوئی بھی چیز(بشمول مادّے اور فوٹونوں کے ) جو اس سرحد کے اندر موجود ہوگی وہ فرار ہونے کے قابل نہیں ہو سکتی۔[41]

اس طرح کے واقعاتی افق کی شہادت کا سراغ 1992ء میں شاید بالائے بنفشی شعاعوں کا استعمال ہبل خلائی دوربین پر لگے ہوئے تیز رفتار ضیا پیما سے مشاہدہ کرکے لگا لیا گیا تھا۔ جب خود روشن مادّے کے ڈھیر گھومتے ہوئے بلیک ہول کے اندر داخل ہو رہے تھے، تو ان کی اشعاع ضربوں کے سلسلے میں خارج ہو رہی تھی جس کی ثقلی سرخ منتقلی بعینہ وہی تھی جو اس مادّے کی ہوتی ہے جب وہ واقعاتی افق کے قریب پہنچتا ہے۔ یعنی کہ اشعاع کی طول موج بتدریج بڑھے گی جیسا کہ عمومی اضافیت پیش گوئی کرتی ہے۔ مادّہ ایک ٹھوس بھنچے ہوئے جسم سے ٹکراتا ہے جس سے وہ بھینچا ہوا جسم ایک حتمی توانائی کی بوچھاڑ کو چھوڑتا ہے یہ توانائی کی بوچھاڑ وہ مادّہ نہیں پھینکتا جو واقعاتی افق سے ہوتا ہوا بلیک ہول میں گرتا ہے۔ ایسے دو مرتے ہوئے سلسلے مشاہدہ کیے گئے ہیں جو بلیک ہول کے وجود سے میل کھاتا ہے۔[42]

خلاء میں موجود چاندرا ایکس رے رصدگاہ سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار پر بعد میں کیے گیا تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دجاجہ ایکس اول کسی بھی درجے کی طرف نہیں گھوم رہا۔[43][44] بہرحال 2011ء میں اعلان کردہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ انتہائی شدت کے ساتھ تقریباً 790 مرتبہ فی سیکنڈ کے ساتھ گھوم رہا ہے ۔[45]

پیدائش ترميم

دجاجہ OB3 انجمن میں سب سے بڑے ستارے کی کمیت سورج کی کمیت سے 40 گنا زیادہ ہے۔ کیونکہ زیادہ ضخیم ستارے تیزی سے ارتقائی منزل سے گزرتے ہیں، اس لیے ایسا لگتا ہے کہ دجاجہ ایکس اول کے مورث ستارے کی کمیت 40 گنا سورج کی کمیت سے زیادہ تھی۔ بلیک ہول کی کمیت کے حالیہ تخمینہ جات کو مد نظر رکھتے ہوئے، مورث ستارے نے لازمی طور پر 30 سورج جتنی کمیت کے مادّے کو کھویا ہوگا۔ اس کمیت کا کچھ حصّہ تو HDE 226868 کی وجہ سے غائب ہو گیا ہوگا، جبکہ باقی کے بارے میں زیادہ گمان یہ ہے کہ اس کو نجمی ہوا نے اڑا دیا ہوگا۔ HDE 226868 کے باہری کرہ میں موجود افزودہ ہیلیئم اس کمیت کی منتقلی کا ثبوت ہو سکتی ہے۔[46] ممکنہ طور پر مورث ستارا بھیڑیے ریٹ ستارے میں تبدیل ہو گیا ہوگا، جو اپنی کرۂ فضائی کا اچھا خاصا حصہ طاقتور نجمی ہواؤں کی صورت میں نکالتا ہے۔

اگر مورث ستارہ ایک نوتارے کی صورت میں پھٹا ہوگا تو ایسے ملتے جلتے اجسام کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ باقیات کے نظام سے نسبتاً زیادہ سمتی رفتار سے نکلنے کا امکان ہوتا ہے۔ جب جسم مدار میں قائم رہتا ہے، تب یہ عندیہ دیتا ہے کہ مورث پھٹے بغیر( یا زیادہ سے زیادہ بہت ہی ہلکے دھماکے کے نتیجے میں ) ہی بلیک ہوم میں براہ راست منہدم ہو گیا ہوگا۔

پرت دار قرص ترميم

 
دجاجہ ایکس اول کا چاندرا ایکس رے سے لیا گیا طیف  آئن زدہ لوہے کی وجہ سے  حاصل کردہ خاصیت  6.4 keV کے قریب کی چوٹی پرت دار قرص میں  بتاتا ہے، تاہم چھوٹی ثقلی طور پر سرخ منتلقی کی جانب رو بہ مائل ہے، ڈوپلر اثر کی وجہ سے چوڑی  کم توانائی کی طرف مڑی ہوئی ہے۔[47]

بھینچا ہوا جسم ایک مہین، پرت دار مادّے کی چپٹی قرص کے گرد چکر لگاسکتا ہے جس کو پرت دار قرص کہتے ہیں۔ یہ قرص تیز رفتار اندرون کی جانب حرکت کر ہوئی آئن زدہ گیسوں اور سست رفتار باہری گیسوں کے درمیان رگڑ سے پیدا ہونے والی حرارت سے شدید گرم ہوتی ہے۔ یہ ایک اندرونی گرم علاقے جہاں نسبتاً بلند سطح والی آئن زدہ مادّہ - پلازما کو بناتا ہے –اور ایک ٹھنڈے کم آئن زدہ باہری علاقے میں تقسیم ہے جو اندازہً شوارز چائلڈ کے نصف قطر سے 500 گنا یا 15,000 کلومیٹر جتنا ہے۔

ہرچند کہ یہ بہت زیادہ اور ناقابل پیش گوئی متغیر، دجاجہ ایکس اول آسمان میں نظر آنے والا مخصوص سخت ایکس رے – جس کی توانائی کچھ30 سے لے کر سینکڑوں KeV تک کی ہوتی ہے - کا مستحکم روشن منبع ہے۔ ایکس ریز کم توانائی والے فوٹون اندرونی پرت دار قرص میں پیدا ہوتی ہیں اور تب مزید توانائی کومپٹن انتشار کے ذریعہ بہت ہی بلند درجہ حرارت والے الیکٹرانوں کو جیومیٹری والی موٹی تہ میں دیتی ہے، تاہم قریباً شفاف خول اس کے گرد ملفوف ہو جاتا ہے جبکہ کچھ مزید مہین قرص کی سطح کا پرتو بھی اس پر پڑتا ہے۔[48] ایک متبادل امکان یہ ہے کہ ایکس ریزبجائے قرص کے خول کے شاید دھار کی بنیاد سے ہی کومپٹن انتشار میں ہو جاتی ہوں۔[49]

دجاجہ ایکس اول سے خارج ہونے والی ایکس ریز کا اخراج ایک ایسے تکراری نمونے میں ہوتا ہے جس کو مماثل میعادی اہتزاز کہا جاتا ہے۔ بھینچے ہوئے جسم کی کمیت اس فاصلے کا تعین کرتی ہے جس پر آس پاس کا پلازما ان مماثل میعادی اہتزاز کو خارج کرنا شروع کرتا ہے، اخراجی علاقہ کمیت میں کمی کے ساتھ کم ہوتا ہے۔ اس تیکنیک کا استعمال دجاجہ ایکس اول کی کمیت کا تخمینہ لگانے کے لیے کیا گیا اور دوسرے طریقوں سے حاصل کردہ کمیت کو بھی اس طریقے سے حاصل کردہ کمیت کی مقدار سے جانچا گیا۔[50]

مستحکم دورانیے کے ساتھ دھڑکنیں یا ضربیں جو بعینہ نیوٹران ستارے کے گھماؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ضربوں کی طرح ہی ہوں، دجاجہ ایکس اول سے آتی ہوئی کبھی نہیں دیکھی گئیں۔[51][52] نیوٹران ستارے سے آتی ہوئی ضربیں نیوٹران ستارے کے مقناطیسی میدان کی وجہ سے بنتی ہیں، بہرحال مسئلہ اثباتی غیر بال ضمانت دیتا ہے کہ بلیک ہول کے مقناطیسی میدان نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر، ایکس رے ثنائی V 0332+53 کو ممکنہ طور پر بلیک ہول اس وقت تک سمجھا جاتا رہا جب تک اس سے آتی ہوئی ضربیں نہیں ملیں۔[53] دجاجہ ایکس اول نے کبھی بھی ایسے ایکس رے کے پھٹاؤ نہیں دکھائے جس طرح سے نیوٹران ستارے میں ہوتے ہیں۔[54] دجاجہ ایکس اول ناقابل پیش گوئی ایکس رے کی دو حالتوں کے درمیاں ڈولتا رہتا ہے، ہرچند کہ ایکس رے مسلسل ان دونوں حالتوں کے درمیان تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ سب سے عام حالت، ایکس رے "کثیف" کی ہوتی ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر ایکس رے میں بلند توانائی ہوتی ہے۔ کم صورت والی حالت، ایکس رے "لطیف" کی ہوتی ہے جس میں زیادہ تر ایکس رے کی توانائی پست ہوتی ہے۔ لطیف حالت زیادہ متغیر دکھائی دیتی ہے۔ کثیف حالت کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ غیر شفاف پرت دار قرص کے اندرونی حصّے کے گرد موجود غلاف میں بنتی ہوگی۔ لطیف حالت اس وقت وقوع پزیر ہوتی ہے جب قرص بھینچے ہوئے جسم کے قریب (ممکنہ طور پر 150کلومیٹر تک ) کھینچ کر آ جاتی ہے اور ٹھنڈی ہوتی ہے یا غلاف کے خارج کر دیتی ہے۔ جب نیا غلاف پیدا ہوتا ہے تو دجاجہ ایکس اول واپس کثیف حالت میں پلٹ جاتا ہے۔[55]

دجاجہ ایکس اول کا طیفی بدلاؤ افقی حرارتی حمل کے بہاؤ کے حل کے دو جزو ترکیبی چکرابرتی اور ٹیٹارچک سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ کثیف حالت کیپلری قرص سے فوٹونوں کے بیچ کی کومپٹن (جب کِسی ہلکے کیمیائی عنصر سے ٹکڑا کر ایکسرے کی شُعاعیں مُنتشر ہوتی ہیں تو اِن میں بعض کے طول موج میں اِضافہ ہو جاتا ہے)کے الٹ ہونے سے اور سینبول کے گرم الیکٹرانوں سے سینبول میں پیدا ہونے والے سنکروٹران (سرع برقیات) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ تفصیلات چکرابرتی اور مینڈل سے میل کھاتی ہیں۔

دجاجہ ایکس اول سے نکلنے والا ایکس رے ہر 5.6 دن میں تبدیل ہوتی ہے بطور خاص بہتر ہم وقوع کے دوران جب مداروی اجسام زمین کے ساتھ سب سے قریبی قطار میں ہوتے ہیں اور بھینچا ہوا جسم سب سے زیادہ دور ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اخراج جزوی طور پر نجمی مادّے کی وجہ سے مسدود ہوتا ہے، یہ نجمی مادّہ شاید ستارے HDE 226868 کے نجمی ہواؤں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اخراج میں لگ بھگ 300 دنوں کا تعدد ہوتا ہے جس کی وجہ قرص کی پیش روی ہو سکتی ہے۔[56]

دھاریں ترميم

جب پرت دار مادّہ بھنچے ہوئے جسم کی طرف گرتا ہے تو یہ ثقلی قوت سکنہ کو کھو دیتا ہے۔ اس چھوڑی ہوئی توانائی کا کچھ حصّہ ذرّات کی دھار کی صورت میں منتشر ہو جاتا ہے، یہ دھاریں پرت دار قرص سے عمودی سیدھ میں آ جاتی ہیں اور باہر کی جانب اضافی سمتی رفتار سے نکلتی ہیں۔ (یعنی ذرّات روشنی کی رفتار کے قابل ذکر حصّے کی رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔) دھاروں کا جوڑا پرت دار قرص کو اضافی توانائی اور زاویائی حرکت سے جان چھڑانے کا ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ان مقناطیسی میدانوں سے وجود میں آتے ہوں جو بھنچے ہوئے جسم کی گیس کے ارد گرد موجود ہوتے ہیں۔[57]

دجاجہ ایکس اول کی دھاریں حرارت کو مؤثر طور پر خارج نہیں کرتیں لہٰذا یہ برقی مقناطیسی طیف میں موجود توانائی کا کچھ حصّہ ہے چھوڑتی ہیں۔ یعنی کہ یہ تاریک نظر آتی ہیں۔ دھاروں کی سمت نظر کا تخمینہ 30°ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ آگے بڑھتا رہے۔ ایک دھار بین النجمی درمیانی خلاء کے نسبتاً کثیف حصّے سے ٹکرا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ایک توانائی سے لبریز حلقہ بناتا ہے جس کا سراغ اس سے خارج ہونے والے ریڈیائی شعاعوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تصادم ایک سحابیہ بنا رہا ہے جس کا مشاہدہ بصری طول موج میں کیا جا سکتا ہے۔ اس سحابیہ کو بنانے کے لیے دھار کی اوسط قوّت کا تخمینہ 4–14×1036 erg/s یا (9±5)×1029 Wہے ۔[58] یہ توانائی سورج سے نکلنے والی توانائی سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔[59] دوسری طرف کوئی اس طرح کا حلقہ نہیں ہے کیونکہ اس دھار کا سامنا جس بین النجمی خلاء سے ہو رہا ہے اس کی کمیت کم ہے۔[60]

2006ء میں دجاجہ ایکس اول وہ پہلا نجمی کمیت والا بلیک ہول نکلا جس نے گیما شعاعوں کے اخراج کو بلند توانائی والی پٹی لگ بھگ 100 GeVسے اوپر میں خارج کرنے کا ثبوت دیا۔ اشارے کا مشاہدے اسی وقت ہوا جب سخت ایکس رے کا شعلہ نکلا جس سے ان دونوں کے درمیان کسی ربط کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ ایکس رے کا شعلہ دھار کی بنیاد میں اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب گیما شعاعیں HDE 226868کے نجمی ہوا سے متعامل ہو کر پیدا ہوتی ہیں۔[61]

HDE 226868ترميم

 
HDE 226868 دجاجہ ایکس اول ثنائی نظام کے بارے میں ایک مصور کا تخیل. ای ایس اے / ہبل کا خاکہ 

HDE 226868 ایک فوق دیو ستارہ ہے جس کی طیفی جماعت O9.7 lab ہے یہ جماعت O اور جماعت B ستاروں کے درمیان کنارے پر واقع ہے۔ اس کی سطح کا درجہ حرارت کا اندازہ 31,000 کیلون لگایا گیا ہے اور کمیت سورج کی کمیت سے تقریباً 20 تا 40 گنا زیادہ ہے۔ نجمی ارتقائی نمونوں پر انحصار کرتے ہوئے 2,000پارسیک کے تخمینہ جاتی فاصلے پر اس ستارے کا نصف قطر شمسی نصف قطر کے 15 تا 17 گنا تک کے برابر ہو سکتا ہے اور اس کی روشنی سورج کی روشنی کے مقابلے میں لگ بھگ تین لاکھ سے چار لاکھ گنا تک زیادہ ہو سکتی ہے۔ موازنے کے لیے، بھینچا ہوا

نظام HDE 226868 سے شمسی نصف قطر کے 40 گنا تک یا ستارے کے اپنے نصف قطر سے دگنے فاصلے پر چکر لگا رہا ہے۔ HDE 226868 کی سطح ضخیم ساتھی کی قوّت ثقل کی وجہ سے ثقلی طور پر بگڑی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے ایک آنسو کی شکل سی بن گئی ہے اور یہ گھومنے کے چکر میں مزید بگڑ گئی ہے۔ اس کی وجہ سے ستارے کی بصری روشنی ہر 5.6دن میں ثنائی مدار کے دوران بدلتی ہے، جب یہ خط نظر کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے تو بصری روشنی کا اثر سب سے کم ہوتا ہے۔ بیضوی تراشوں والی روشنی کے تغیر کا نمونہ ستارے کی سطح کی عضو ی تاریکی اور ثقلی تاریکی کا نتیجہ ہے۔

جب HDE 226868 کے طیف کا موازنہ اس سے ملتے جلتے ستارے ایپیسلون الجبار سے کیا جاتا ہے تو بعد الذکر میں ہیلیئم کی بہتات جبکہ اس کے ماحول میں کاربن کی قلت نظر آتی ہے۔ HDE 226868 کے بالائے بنفشی اور ہائیڈروجن الف طیفی خطوط ایک ملتے جلتے ستارے پی دجاجہ کی طرح کے خصائص دکھاتے ہیں جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ستارے کے گرد گیسوں کا غلاف موجود ہے اور یہ ستارے سے 1500 کلومیٹر فی سیکنڈ کی اسراعی رفتار سے دور جا رہا ہے۔

اس قسم کے طیفی ستاروں کی طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ HDE 226868 اپنی کمیت نجمی ہواؤں میں اڑا رہا ہے جس کا تخمینہ فی برس 2.5×10−6 سورج کی کمیت کے لگایا گیا ہے۔ یہ کمیت ایک سورج کی کمیت کو چالیس لاکھ برس میں کھونے کے برابر ہے۔ بھینچے ہوئے جسم کا ثقلی اثر لگتا ہے کہ اس نجمی ہوا کی ہیئت کو بدل رہا ہے جس کی وجہ سے بجائے کروی متشاکل ہوا کے مرتکز ہوا کی جیومیٹری بنتی ہے۔ بھینچے ہوئے جسم کی حرارت کے گرد ایکس ریز موجود ہوتی ہیں جو اس نجمی ہوا کو آئن زدہ کر دیتی ہے۔ جب جسم اپنے5.6 دن کے مدار کے دروان نجمی ہوا کے مختلف علاقوں میں سے گزرتا ہے، تو بالائے بنفشی خطوط، ریڈیائی اخراج اور ایکس ریز سب کے سب تغیر پزیر ہوتے رہتے ہیں۔

HDE 226868 کا روچ گوشہ ستارے کے گرد خلاء کا وہ علاقہ ہے جہاں چکر لگاتا ہوا مادّہ ثقلی طور پر بندھا ہوا رہتا ہے۔ وہ مادّہ جو اس گوشے سے آگے نکل جاتا ہے وہ چکر کاٹتے ہوئے ساتھی میں گر جاتا ہے۔ روچ گوشے کے بارے میں خیال ہے کہ وہ HDE 226868 کی سطح سے کافی قریب ہوگا تاہم وہ چھلک نہیں رہا ہوگا، لہذا نجمی سطح پر موجود مادّہ اس کے ساتھی کی وجہ سے اتر نہیں رہا ہوگا۔ بہرحال ستارے سے نکلنے والی نجمی ہوا کا کافی برا حصّہ بھینچے ہوئے جسم کی پرتی قرص میں اس وقت گرتی ہے جب وہ اس گوشے کو پار کرتی ہے۔

سورج اور HDE 226868 ستارے کے درمیان موجود گیس اور دھول ستارے کے ظاہری حجم کونہ صرف کم بلکہ رنگ کو بھی سرخی مائل کر دیتی ہے – سرخ روشنی بین النجمی وسیلے سے زیادہ آسانی سے گزر سکتی ہے۔ بین النجمی معدومیت کی تخمینی قدر 3.3 کی ہے۔ داخل اندازی کرنے والے مادّے کے بغیر HDE 226868 پانچویں عظمت والا سترہ ہوتا اور چشم عریاں سے دیکھا جا سکتا تھا۔

اسٹیفن ہاکنگ اور کپ تھورن ترميم

دجاجہ ایکس اول طبیعیات دان اسٹیفن ہاکنگ اور کپ تھورن کے درمیان شرط کی وجہ بن گیا تھا جس میں ہاکنگ نے اس علاقے میں بلیک ہول کے وجود پر شرط لگائی تھی۔ ہاکنگ نے بعد میں اس کو "بیمہ پالیسی" کی طرح کا بیان کیا تھا۔ اس کی کتاب وقت کا مختصر سفر کا اقتباس درج ذیل ہے ،

یہ میرے لیے ایک طرح سے بیمہ پالیسی کی طرح تھا۔ میں نے بلیک ہولز پر کافی کام کیا تھا اور وہ سب کا سب ضائع ہو جاتا اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ بلیک ہول کا وجود نہیں ہے۔ تاہم اس صورت میں شرط جیتنے کی خوشی میں میری تشفی ہو جاتی اور چار برس تک مجھے ذاتی آنکھ کا جریدہ مفت میں ملتا رہتا۔ اگر بلیک ہول کا وجود نہیں ہوتا تو کپ کو ایک برس تک پینٹ ہاؤس کا رسالہ مجھے دینا پڑتا۔ جب ہم نے 1975ء میں شرط لگائی تھی تو ہم اس بات کے لیے 80% پر امید تھے کہ دجاجہ ایکس اول ایک بلیک ہول ہی تھا۔ اب 1988ء میں، میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم 95% پر امید ہیں تاہم شرط کا فیصلہ ہونا اب بھی باقی ہے۔

وقت کے مختصر سفر کی دسویں سالگرہ کے موقع پر تازہ ترین معلومات کے مطابق ہاکنگ یہ شرط ہار گیا تھا کیونکہ بعد کے مشاہداتی اعداد و شمار نے بلیک ہول کے وجود کے حق میں ثبوت فراہم کر دیے تھے۔ اپنی کتاب بلیک ہول اور وقتی خم میں، تھورن نے بتایا کہ ہاکنگ نے شرط کی ہار اس وقت اس کے دفتر میں آ کر مانی جب وہ روس میں تھا، ہاکنگ نے شرط کو ڈھونڈا اور اس پر دستخط کیے۔

مزید دیکھیے ترميم

حوالہ جات ترميم

  1. بویر ایس و دیگر (1965), "کائناتی ایکس ریز کے منبع ", سائنس 147 (3656): 394– 398، Bibcode:1965Sci...147..394B, doi:10.1126/science.147.3656.394,PMID 17832788
  2. اسٹاف (2004-11-05)، مشاہدات: ایکس رے کی طول موج میں دیکھنا، ای ایس اے، حاصل کردہ 2008-08-12
  3. لیون، والٹر؛ وین در کلس، مچل، بھینچے ہوئے نجمی ایکس رے کے منبع، کیمبرج یونیورسٹی پریس، صفحہ 159، ISBN 0-521-82659-4
  4. "2010ء ایکس رے منبع"، فلکی المناک (یو ایس نیول رصدگاہ)، حاصل کردہ 2009-08-04
  5. اوروسز،جیرومی (1 دسمبر2011ء)، "دجاجہ ایکس اول میں موجود بلیک ہول کی کمیت"، ای پرنٹ، حاصل کردہ 2012-03-24
  6. ہارکو، ٹی (28 جون 2006ء)، بلیک ہولز، ہانگ کانگ یونیورسٹی، حاصل کردہ 2008-03-28
  7. [1401.1035] HDE 226868/ دجاجہ ایکس اول ثنائی نظام کے اجزاء کی کمیتیں
  8. گیز، ڈی آر؛ بولٹن، سی ٹی۔(1986)، " HDE 226868=دجاجہ ایک اول کا بصری طیف۔ II – طیف تصویر پیمائی اور کمیت کا تخمینہ"، فلکی طبیعیاتی جریدہ، حصّہ اول 304: 371–393, Bibcode:1986ApJ...304..371G,doi:10.1086/164171
  9. نیاکشن، سرگئی؛ ڈوو، جیمز بی۔ (3 نومبر1998)، دجاجہ ایکس اول کے مقناطیسی شعلوں سے نکلنے والی ایکس ریز: عبوری تہ کا کردار، arXiv:astro-ph/9811059,Bibcode:1998astro.ph.11059N
  10. ینگ، اے جے و دیگر۔ (2001)، "دجاجہ ایکس اول میں ایک مکمل اضافی آئن زدہ پرت دار قرص"، شاہی فلکیاتی سوسائٹی کی ماہانہ اطلاعات 325 (3): 1045–1052, arXiv:astro-ph/0103214, Bibcode:2001MNRAS.325.1045Y,doi:10.1046/j.1365-8711.2001.04498.x
  11. گالو، ایلینا، فینڈر، روب (2005)، " بلیک ہول ایکس رے ثنائی نظام میں پرتوں کی صورت اور دھاروں کی پیدائش"، میموریز ڈیلا سوسائٹا ایسٹرو نومیکا اٹالینا 76: 600–607,arXiv:astro-ph/0509172, Bibcode:2005MmSAI..76..600G
  12. میرابل، آئی، فیلکس؛ روڈریگو ،ایراپان (2003)، "تاریکی میں بلیک ہول کی پیدائش"، سائنس 300 (5622): 1119–1120, arXiv:astro-ph/0305205,Bibcode:2003Sci...300.1119M, doi:10.1126/science.1083451,PMID 12714674
  13. اسٹاف (27 فروری 2004ء)، کہکشانی داخلہ یا سب سے بڑا راستہ؟، سوین برن یونیورسٹی، حاصل کردہ 2008-03-31
  14. ہربرٹ، فرائیڈ مین (2002)، " کرۂ راونیہ سے بلند توانائی کی فلکیات – ایک ذاتی تجربہ"، خلائی سائنس کی ایک صدی، اسپرنگر، ISBN 0-7923-7196-8
  15. لیو، سی زی؛ لی، ٹی پی (1999)، "دجاجہ ایکس اول میں ایکس رے طیفی تغیرات"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 611 (2): 1084–1090, arXiv:astro-ph/0405246,Bibcode:2004ApJ...611.1084L, doi:10.1086/422209
  16. اسٹاف (26 جون 2003ء) اوہورو سیارچہ، ناسا، حاصل کردہ 2008-05-09
  17. جیاکونی، ریکارڈو (8 دسمبر2002ء)، ایکس رے فلکیات کا آغاز، نوبیل فاؤنڈیشن حاصل کردہ 2008-03-24
  18. اوڈا، ایم و دیگر(1999)، "اوہورو سے دجاجہ ایکس اول سے آنے والی ایکس رے ضربوں کے مشاہدات"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 166: L1–L7, Bibcode:1971ApJ...166L...1O,doi:10.1086/180726
  19. یہ وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سیکنڈ کے ایک تہائی حصّے میں پورا کرتی ہے ۔
  20. کرسٹین، جے و دیگر(1971)، " دجاجہ ایکس اول کی بصری شناخت پر"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 168: L91–L93, Bibcode:1971ApJ...168L..91K,doi:10.1086/180790
  21. بریس، ایل ایل ای؛ ملی، جی کے (23 جولائی 1971ء)، "طبیعیاتی سائنسز:دجاجہ ایکس اول سے خارج ہونے والی ریڈیائی شعاعوں کا اخراج"، نیچر232 (5308): 246,Bibcode:1971Natur.232Q.246B, doi:10.1038/232246a0, PMID 16062947
  22. بریس، ایل ایل ای؛ ملی، جی کے (1971ء)، "ایکس رے منبع سے متغیر ریڈیائی اشعاع کا اخراج"، ویروفنٹلیچنجن ریمیس اسٹرن وارٹ بیمبرگ 9 (100): 173,Bibcode:1972VeBam.100......
  23. ویبسٹر، بی لوئیس، مرڈن، پال (1972ء)، دجاجہ ایکس اول – ثنائی طیف بین بھاری ساتھی کے ساتھ؟" نیچر 235 (2): 37–38,Bibcode:1972Natur.235...37W, doi:10.1038/235037a0
  24. بولٹن، سی ٹی(1972ء)، " HDE 226868کے ساتھ دجاجہ ایک اول کی شناخت"، نیچر 235(2): 271–273, Bibcode:1972Natur.235..271B, doi:10.1038/235271b0
  25. لومینیٹ، جین پیری (1992ء)، بلیک ہولز، کیمبرج یونیورسٹی پریس، ISBN 0-521-40906-3
  26. 305: 871–877, arXiv:astro-ph/9608059,Bibcode:1996A&A...305..871B
  27. رولسٹن، بروس (10 نومبر1997ء)، پہلا بلیک ہول، ٹورنٹو یونیورسٹی،اصل کی 7 مارچ 2008ء کی دستاویزات، حاصل کردہ 2008-03-11
  28. شپمین، ایچ، ایل؛ یو، زی؛ وائی ڈبلیو(1975ء)، " تہرے ستارے کے نمونوں کی بصورت ظاہر تاریخ برائے دجاجہ ایکس اول بلیک ہول کے سبوت"، فلکی طبیعیاتی خط 16 (1): 9–12, Bibcode:1975ApL....16....9S, doi:10.1016/S0304-8853(99)00384-4
  29. روتھس چائلڈ، آر ای؛ و دیگر(1974ء)، دجاجہ ایکس اول میں ملی سیکنڈ موجودہ ساخت"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 189: 77–115, Bibcode:1974ApJ...189L..13R,doi:10.1086/181452
  30. اسٹاف(٣ مارچ 2003ء)، V* V1357دجاجہ – بلند کمیت کا دھرا ایکس رے، سینٹر ڈی ڈونیس ایسٹرونومک ڈی اسٹارس بورگ، حاصل کردہ 2008-03-03
  31. کویرڈنگ، المر؛ جیسٹر، سیبیسچین؛ فینڈر، روب (2006ء)، " متحرک کہکشانی مرکزے میں پرتوں کی حالت اور ریڈیائی شور: دہرے ایکس رے کے ساتھ مشابہت"، شاہی فلکیاتی سوسائٹی کی ماہانہ اطلاعات 372 (3): 1366–1378, arXiv:astro-ph/0608628, Bibcode:2006MNRAS.372.1366K, doi:10.1111/j.1365-2966.2006.10954.x
  32. برینیرڈ، جم (20 جولائی 2005ء)، متحرک کہکشانی مرکزوں سے آنے والی ایکس ریز، فلکی طبیعیاتی تماشائی، حاصل کردہ 2008-03-24
  33. بروک سوپ، سی؛ و دیگر (1999ء)، "دجاجہ ایکس اول کے مدار کی ایک بہتر جنتری"، فلکیات اور فلکی طبیعیات 343: 861–864, arXiv:astro-ph/9812077,Bibcode:1999A&A...343..861B
  34. بولٹن،سی،ٹی (1975ء)، "دجاجہ ایک اول کے بصری مشاہدات اور نمونے"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 200: 269–277, Bibcode:1975ApJ...200..269B,doi:10.1086/153785
  35. ریڈ، مارک جے؛ و دیگر (دسمبر2011ء)، " دجاجہ ایکس اول کا مُثَلّثیاتی ظاہری ہٹاؤ"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 742 (2): 83, arXiv:1106.3688,Bibcode:2011ApJ...742...83R, doi:10.1088/0004-637X/742/2/83
  36. گرسکی، ایچ؛ و دیگر (1971ء)، "دجاجہ ایکس اول کا فاصلاتی تخمینہ از بنیاد کم توانائی ایکس رے طیف"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 167: L15,Bibcode:1971ApJ...167L..15G, doi:10.1086/180751
  37. گویبل، گریگ، 7.0ملکی وے کہکشاں، عام استعمال کی دستاویزات، حاصل کردہ 2008-06-29
  38. زیولکووسکی، جے (2005ء)، " HDE 226868/ دجاجہ ایکس اول ثنائی نظام کے حصّوں کی کمیت پر ارتقائی قدغن"، شاہی فلکیاتی سوسائٹی کے ماہنامہ اطلاعات358 (3): 851–859, arXiv:astro-ph/0501102,Bibcode:2005MNRAS.358..851Z, doi:10.1111/j.1365-2966.2005.08796.x یاد داشت: نصف قطر اور تابانی کے لیے دیکھیے جدول اول d=2 kpc کے ساتھ۔
  39. اسٹرومیر،ٹوڈ،شاپوشنیکوف، نیکولائی؛ شارٹل، نوربرٹ (16 مئی 2007ء)، بلیک ہول کا وزن کرنے کی نئی تیکنیک، ای ایس اے، حاصل کردہ 2008-03-10
  40. روسلر، او، ای؛ کیپیرس، ایچ؛ ڈیبنر، ایچ ایچ؛ ال نسچ، ایم ایس (1998ء)، "لگ بھگ بلیک ہولز: ایک نیا پرانا نمونہ"، کیوس، سولیٹونس اور فراکٹلس 9 (7): 1025–1034,Bibcode:1998CSF.....9.1025R, doi:10.1016/S0960-0779(98)80004-0
  41. اسٹاف (9 جنوری 2006ء)، سائنس دانوں نے بلیک ہول سے ناقابل واپسی مقام ڈھونڈ لیا، میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، 23 جنوری 2006ء کو اصل سے دستاویزی صورت میں لیا گیا، حاصل کردہ 2008-03-28
  42. ڈول، جوزف ایف (2001ء)، دجاجہ ایکس آر اول میں دم توڑتی ضربوں کے سلسلے: واقعاتی افق کا ثبوت؟"، پیسفک فلکیاتی سوسائٹی کی مطبوعات 113(786): 974–982, Bibcode:2001PASP..113..974D, doi:10.1086/322917
  43. ملر، جے ایم؛ و دیگر(جولائی 20–26, 2003)، کہکشانی بلیک ہولز میں لوہے کے اضافی خطوط: حالیہ نتائج اور اے ایس سی اے دستاویزات کے خطوط"، عمومی اضافیت پر ہونے والے دسویں سالانہ مارسیل گروسمین اجلاس کی کارروائی، ریو ڈی جینیرو، برازیل صفحہ 1296, arXiv:astro-ph/0402101, Bibcode:2005tmgm.meet.1296M,doi:10.1142/9789812704030_0093, ISBN 9789812566676
  44. روئے، اسٹیو؛ واٹزیک، میگن (17 ستمبر2003ء)، "لوہے کی چادر" گھومتے ہوئے بلیک ہول کے ثبوت، چاندرا پریس روم، حاصل کردہ 2008-03-11
  45. گو، لیجن؛ و دیگر (9 نومبر 2011ء)، دجاجہ ایکس اول میں موجود بلیک ہول میں شدید گھماؤ"، فلکی طبیعیاتی جریدہ (امریکی فلکیاتی سوسائٹی) 742 (85): 85, arXiv:1106.3690, Bibcode:2011ApJ...742...85G, doi:10.1088/0004-637X/742/2/85
  46. پوڈسیاڈلوسکی، فلپ؛ سول، رپاپورٹ؛ ہان، زانون (2002ء)، "ثنائی بلیک ہول کی تخلیق و ارتقا پر"، شاہی فلکیاتی سوسائٹی کی ماہانہ اطلاعات 341 (2): 385–404, arXiv:astro-ph/0207153,Bibcode:2003MNRAS.341..385P, doi:10.1046/j.1365-8711.2003.06464.x
  47. اسٹاف (30 اگست 2006ء)، دجاجہ ایکس اول کے، ایکس ٹی ای J1650-500 & GX 339-4 کی مزید تصاویر، ہارورڈ – اسمتھسونین مرکز برائے فلکی طبیعیات/ چاندرا ایکس رے مرکز، حاصل کردہ 2008-03-30
  48. لنگ، جے سی؛ و دیگر (1997ء) " گیما شعاع کا طیف اور دجاجہ ایکس اول کی بیٹس سے مشاہدہ ہونے والی تغیر پذیری"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 484 (1): 375–382,Bibcode:1997ApJ...484..375L, doi:10.1086/304323
  49. کیلآفس، این؛ جیانیوس، ڈی؛ سالٹس، ڈی (2006ء)، "کثیف/ لطیف حالت میں ثنائی بلیک ہول میں طیف اور میعادی تغیر پذیری"، خلائی تحقیق میں پیش رفت 38 (12): 2810–2812, Bibcode:2006AdSpR..38.2810K, doi:10.1016/j.asr.2005.09.045
  50. ٹیٹارچک، لیو، شاپوشنیکوف، نیکولائی؛ (9 فروری 2008ء)، "دھرے ایکس رے میں نرم طیفی حالتوں کی جانب ہونے والے طاقتور انحطاط کی تغیر پذیری کی نوعیت۔ دجاجہ ایکس اول میں مقدمے کا جائزہ"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 678 (2): 1230–1236, arXiv:0802.1278,Bibcode:2008ApJ...678.1230T, doi:10.1086/587124
  51. فیبین، اے سی؛ملر، جے ایم (9 اگست 2002ء)، "بلیک ہول نے اپنے اندرونی راز افشا کر دیے، سائنس 297 (5583): 947–948, doi:10.1126/science.1074957,PMID 12169716
  52. وین، ہین چن (مارچ 1998ء)، دجاجہ ایکس اول کا دس مائیکرو سیکنڈ کا وقتی تجزیہ، اسٹینفرڈ یونیورسٹی، صفحہ 6 Bibcode:1997PhDT.........6W
  53. اسٹیلا، ایل؛ و دیگر۔(1985ء)، "تیز رفتار متغیر عبوری ایکس رے V0332 + 53 سے دوسری 4.4سیکنڈ کی ایکس رے ضربوں کی دریافت"، فلکی طبیعیاتی جریدہ، حصّہ دوم – خطوط بنام مدیر 288: L45–L49, Bibcode:1985ApJ...288L..45S,doi:10.1086/184419
  54. نارائن، رمیش (2003ء)، "بلیک ہول کے واقعاتی افق کا ثبوت"، فلکیات اور ارضی طبیعیات 44 (6): 77–115, Bibcode:2003A&G....44f..22N, doi:10.1046/j.1468-4004.2003.44622.x
  55. ٹورس، ڈیاگو ایف؛ و دیگر۔ (2005ء)، "دجاجہ ایکس اول کے قرص کی اندرون میں پیش دستی کی کھوج"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 626 (2): 1015–1019, arXiv:astro-ph/0503186, Bibcode:2005ApJ...626.1015T, doi:10.1086/430125
  56. کٹاموٹو، ایس؛ و دیگر۔(2000ء)، "دجاجہ ایکس اول کی جنجا کل آسمان نگران مشاہدات"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 531 (1): 546–552, Bibcode:2000ApJ...531..546K,doi:10.1086/308423
  57. بیگلمین، مچل سی۔(2003ء)،" بلیک ہولز کے ثبوت"، سائنس 300 (5627): 1898–1903, Bibcode:2003Sci...300.1898B, doi:10.1126/science.1085334,PMID 12817138
  58. رسل، ڈی ایم؛ و دیگر(2007ء)، "دجاجہ ایکس اول کا دھاروں کی طاقت والا بصری سحابیہ"، شاہی فلکیاتی سوسائٹی کی ماہانہ اطلاعات 376 (3): 1341–1349, arXiv:astro-ph/0701645, Bibcode:2007MNRAS.376.1341R, doi:10.1111/j.1365-2966.2007.11539.x
  59. سیک مین، آئی – جولیانا؛ بوتھروئیڈ، آرنلڈ آئی؛ کریمر، کیتھلین ای (1993ء)، "ہمارا سورج III۔ حال و مستقبل"، فلکی طبیعیاتی جریدہ 418: 457–468,Bibcode:1993ApJ...418..457S, doi:10.1086/173407
  60. گالو، ای؛ و دیگر (2005ء)، "نجمی بلیک ہول دجاجہ ایکس اول کی توانائی میں ایک تاریک دھار کا غلبہ" نیچر436 (7052): 819–821, arXiv:astro-ph/0508228,Bibcode:2005Natur.436..819G, doi:10.1038/nature03879, PMID 16094361
  61. البرٹ، جے؛ و دیگر۔(2007ء)، "نجمی کمیت والے بلیک ہول دجاجہ ایکس اول سے آنے والی بہت بلند توانائی کی گیما اشعاع کی تابکاری"، فلکیاتی طبیعیاتی جریدے کے خطوط 665 (1): L51–L54,arXiv:0706.1505, Bibcode:2007ApJ...665L..51A, doi:10.1086/521145

بیرونی روابط ترميم