راجہ عزیز بھٹی

1965ء کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے پاک فوج کے میجر جنہیں بعد میں حکومت پاکستان نے نشانِ حیدر کے اعزاز سے نوازا۔
(راجہ عزیز بھٹی شہید سے رجوع مکرر)

میجر راجا عزیز بھٹی شہید (پیدائش: 16 اگست 1928ء— وفات: 12 ستمبر 1965ء) پاک فوج میں سٹاف آفیسر تھے جو پاک بھارت جنگ 1965ء میں شہید ہوئے۔ اُنہیں بعد از شہادت نشان حیدر سے نوازا گیا۔

راجہ عزیز بھٹی
معلومات شخصیت
پیدائش 6 اگست 1928  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برطانوی ہانگ کانگ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 ستمبر 1965 (37 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بركى، لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن لادیاں،  تحصیل کھاریاں،  ضلع گجرات  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ زرینہ اختر (جون 1946–12 ستمبر 1965)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی پاکستان ملٹری اکیڈمی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی،  اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ پچیسویں پنجابی رجمنٹ (سترہویں پنجاب رجمنٹ)  ویکی ڈیٹا پر (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ میجر (1962–1965)  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات

سوانحترميم

آپ 16 اگست 1928ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔[1][2] پاکستان بننے سے پہلے آپ پاکستان منتقل ہوئے اور ضلع گجرات کے گاؤں لادیاں میں رہائش پزیر ہوئے۔ آپ نے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور 1950ء میں پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ پاکستان کے نامور سپوت راجا عزیز بھٹی شہید (نشان حیدر) 6 -اگست 1923ء کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد راجا عبد اللہ بھٹی اپنی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد یہ گھرانہ واپس لادیاں گجرات چلا آیا جو ان کا آبائی گاؤں تھا۔ راجا عزیز بھٹی قیام پاکستان کے بعد 21 جنوری 1948ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شامل ہوئے۔ 1950ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولر کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں انہیں شہید ملت خان لیاقت علی خان نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا پھر انہوں نے پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی اور 1956ء میں ترقی کرتے کرتے میجر بن گئے۔ 6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔ اس کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔ 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی۔ میجر عزیز بھٹی کو اس صورت حال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا تو انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔ انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا۔ دشمن اپنے چھوٹے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھا مگر راجا عزیز بھٹی نہ صرف اس کے شدید دبائو کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔ اسی دوران دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ ان پر آن لگا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس دن 12 ستمبر 1965ء کی تاریخ تھی۔ 26 ستمبر 1965ء کو صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان نے پاک فوج کے 94 افسروں اور فوجیوں کو جنگ ستمبر میں بہادری کے نمایاں کارنامے انجام دینے پر مختلف تمغوں اور اعزازات سے نوازا۔ ان اعزازات میں سب سے بڑا تمغا نشان حیدر تھا جو میجر راجا عزیز بھٹی شہید کو عطا کیا گیاتھا۔ راجا عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔[3]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم