رام جیٹھ ملانی
رام جیٹھ ملانی (14 ستمبر 1923ء – 8 ستمبر 2019ء)[2] بھارت کے ایک وکیل اور سیاست دان تھے۔ وہ وزیر قانون و انصاف، حکومت ہند اور بار کونسل آف انڈیا کے صدر نشین بھی رہ چکے ہیں۔ رام جیٹھ ملانی عدالت عظمیٰ کے سب سے مہنگے وکیل سمجھے جاتے تھے۔ انھوں نے کئی مقدمات میں یک طرفہ وکالت کی اور متعدد اہم مقدمات ایسے بھی رہے جن کی بنا پر انھیں شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رام جیٹھ ملانی نے محض 17 برس کی عمر میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرکے[3] تقسیم ہند سے قبل موجودہ پاکستان کے ایک قصبہ میں وکالت شروع کر دی تھی جو ان کا آبائی وطن تھا۔ ان کی پہلی شادی درگا جیٹھ ملانی اور دوسری شادی رتنا جیٹھ ملانی سے ہوئی۔[4] تقسیم کے بعد وہ ہجرت کرکے ممبئی آگئے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کی۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ وفات سے دو برس قبل 10 ستمبر 2017ء کو انھوں نے وکالت کے پیشہ سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔
رام جیٹھ ملانی | |||||||
---|---|---|---|---|---|---|---|
وزیر قانون و انصاف | |||||||
مدت منصب 1 مئی 1996 – 1 جون 1996 | |||||||
وزیر اعظم | اٹل بہاری واجپائی | ||||||
| |||||||
مدت منصب جون 1999 – جولائی 2000 | |||||||
وزیر اعظم | اٹل بہاری واجپائی | ||||||
| |||||||
وزیر شہری ترقی | |||||||
مدت منصب 19 مارچ 1998 – 14 جون 1999 | |||||||
وزیر اعظم | اٹل بہاری واجپائی | ||||||
رکن پارلیمان، راجیہ سبھا | |||||||
مدت منصب 8 جولائی 2016 – 8 ستمبر 2019 | |||||||
مدت منصب 5 جولائی 2010 – 4 جولائی 2016 | |||||||
مدت منصب 2006 – 2009 | |||||||
مدت منصب 1994 – 2006 | |||||||
مدت منصب 3 اپریل 1988 – 2 اپریل 1994 | |||||||
رکن پارلیمان، لوک سبھا | |||||||
مدت منصب 1977 – 1984 | |||||||
| |||||||
معلومات شخصیت | |||||||
پیدائش | 14 ستمبر 1923ء شکارپور، پاکستان |
||||||
وفات | 8 ستمبر 2019ء (96 سال) نئی دہلی |
||||||
رہائش | 2، اکبر روڈ، نئی دہلی[1] | ||||||
شہریت | ![]() ![]() ![]() |
||||||
جماعت | بھارتیہ جنتا پارٹی | ||||||
عملی زندگی | |||||||
مادر علمی | کراچی | ||||||
پیشہ | وکیل ، سیاست دان | ||||||
درستی - ترمیم ![]() |
چھٹی اور ساتویں لوک سبھا میں وہ ممبئی سے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے رکن پارلیمان تھے۔ اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں وہ وزیر قانون و انصاف بھی رہ چکے ہیں، البتہ بھارت کے انتخابات، 2004ء میں انھوں نے لکھنؤ لوک سبھا حلقہ سے اٹل بہاری کے خلاف ہی کوشش کی۔ 2010ء میں وہ پھر بی جے پی میں آئے اور راجستھان سے انھیں راجیہ سبھا میں بھیجا گیا۔ اسی وجہ سے انھیں موقع پرست بھی کہا جاتا ہے۔[5]
رام جیٹھ ملانی بھارت کے وکلا کے حلقوں میں ایک معروف نام تھا۔ ان کا اصل میدان فوجداری تھا مگر انھوں نے کئی ہائی پروفائل خانگی مقدمات کی بھی پیروی کی۔ 1993ء سے 1998ء تک وہ ان وکلا میں سے تھے جنھوں نے نرسمہا راؤ سود خوری معاملہ اور ہرشد مہتا معاملہ میں ہرشد مہتا کی وکالت کی۔[6] 7 مئی 2010ء کو انھیں سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن، بھارت کا صدر منتخب کیا گیا۔[7][8]
ذاتی زندگی
ترمیمرام جیٹھ ملانی کی ولادت برطانوی ہند کی بمبئی پریزیڈنسی کے صوبہ سندھ میں واقع شکار پور (موجودہ پاکستان) میں ہوئی۔[9] 13 برس کی عمر میں اسکول میں انھیں آگے کے درجہ میں بھیج دیا گیا اور 17 برس میں انھوں نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرلی۔ اس وقت وکیل بننے کی کم از کم عمر 21 برس تھی لیکن ایک خصوصی درخواست کے تحت انھیں 18 سال کی عمر میں وکالت کی اجازت مل گئی۔[4] اس زمانہ میں سندھ میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں تھی اسی لیے انھیں ایل ایل ایم بھی بمبئی یونیورسٹی سے کرنا پڑا۔[1]
حوالہ جات
ترمیم- ^ ا ب "Members Webpage – Rajyasabha"۔ Rajyasabha, Parliament of India۔ 2011-05-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-02-09
- ↑ "Ram Jethmalani, eminent lawyer and former Union law minister, passes away". The Times of India (بزبان انگریزی). Retrieved 2019-09-08.
- ↑ "Ram Jethmalani's most candid interview on Modi, BJP and his sole ambition in life at 94}"۔ youtube.com
- ^ ا ب
- ↑ "Archived copy"۔ 22 جولائی 2011 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 دسمبر 2010
{{حوالہ ویب}}
: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: آرکائیو کا عنوان (link) - ↑ "Will he walk away?"۔ India Today۔ 14 جون 1993۔ 2016-10-31 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-10-31
- ↑ "Jethmalani new SCBA president"۔ The Hindu۔ Chennai, India۔ 8 مئی 2010۔ 2010-05-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-08-04
- ↑ Legally India۔ "Breaking: Ram Jethmalani elected as SCBA president to repair damage done"۔ 12 مئی 2010 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2010
- ↑ "Top most Indian Lawyer: Sindhi Genius Of Indian Law : Ram Jethmalani"۔ The Sindhu World۔ 27 دسمبر 2012 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2013