سرزمین شام

مشرق وسطی میں ایک خطہ

شام یا لیونت (انگریزی: The Levant) مشرق وسطٰی کے ایک بڑے علاقے کے لیے استعمال ہونے والی ایک غیر واضح تاریخی اصطلاح ہے۔ یہ علاقہ مغرب میں بحیرہ روم، مشرق میں صحرائے عرب کے شمالی حصوں اور بالائی بین النہرین اور شمال میں کوہ ثور کے درمیان واقع ہے۔ لیونت میں کوہ قفقاز، جزیرہ نما عرب یا اناطولیہ کا کوئی حصہ شامل نہیں سمجھا جاتا۔

لیونت

یہ اصطلاح انگریزی میں پہلی بار 1497ء میں استعمال ہوئی جس کا مطلب "وینیٹیا کے مشرق میں بحیرہ روم کی سرزمین" کو واضح کرنا تھا۔ لیونت قرون وسطٰی کی فرانسیسی زبان کے لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب "ابھرنا" ہے اور اس ضمن میں اس خطے کو ابھرتے سورج کا علاقہ سمجھا جا سکتا ہے اور اسے عربی کے لفظ مشرق کا متبادل سمجھا جا سکتا ہے یعنی وہ علاقہ جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔

19 ویں صدی کے سفرناموں میں یہ اصطلاح سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں مشرقی علاقوں کے لیے استعمال ہونے لگی۔

لیونتیائی باشندوں کی اصطلاح خاص طور پر اطالویوں کے لیے استعمال ہوتی ہے خصوصاً وینس اور جینووا، فرانسیسی اور دیگر جنوبی یورپی نسل کے باشندوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو صلیبی جنگوں، بازنطینی سلطنت اور عثمانی سلطنت کے ادوار میں ترکی یا بحیرہ روم کے مشرقی ساحلوں پر رہتے تھے۔ ان افراد کے آبا و اجداد دراصل بحیرہ روم کی بحری مملکتوں کے رہنے والے تاجر تھے۔

1920ء سے 1946ء تک فرانس کے زیر قبضہ سوریہ اور لبنان لیونت ریاستیں (بلاد شام) کہلاتے تھے۔

آج کل لیونت کی اصطلاح ماہرین آثار قدیمہ اور تاریخ دان خطے کی قبل از تاریخ، قدیم اور قرون وسطٰی کی تاریخ کے حوالے سے استعمال میں رہتی ہے خصوصاً جب وہ صلیبی جنگوں کا ذکر کرتے ہیں۔

علاقے

ترمیم

متعلقہ مضامین

ترمیم