شاہ نصیر

ہندوستانی شاعر


شاہ نصیر دہلوی یا محمد نصیر الدین ناصر (پیدائش: 1756ء— وفات: 23 نومبر 1837ء) اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کے ابتدائی چار عشروں تک اردو زبان کے مشہور شاعر، میر تقی میر، مرزا غالب اور اُستاد ابراہیم ذوق کے ہم عصر تھے۔تخلص نصیر تھا۔

شاہ نصیر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1756  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 نومبر 1837 (80–81 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدر آباد،  ریاست حیدر آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Captured flag of the Mughal Empire (1857).png مغلیہ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

نام و نسبترميم

شاہ نصیر کا نام محمد نصیر الدین اور عرف میاں کلو تھا اور عموماً لوگ اُنہیں پیار سے ’’میاں کلو‘‘ کے نام سے ہی پکارتے تھے۔ مولانا محمد حسین آزاد کا بیان ہے کہ رنگت کے سیاہ فام تھے، اِسی لیے گھرانے کے لوگ ’’میاں کلو‘‘ کہتے تھے۔[1] نام کے ابتداء میں ’’شاہ‘‘ کا لفظ سادات سے نسبت اور تصوف سے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ شاہ صدر جہاں (میر جہاں) کی اولاد میں سے تھے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد درگاہ کے سجادہ نشین ہوئے۔ آپ کے والد شاہ غریب (شاہ غریب اللہ) ایک خوش طینت و نیک سیرت بزرگ تھے۔ [2] مولانا آزاد کا بیان ہے کہ: ’’والد شاہ غریب نام ‘ ایک بزرگ تھے کہ اپنی غربت ِ طبع اور خاکساریٔ مزاج کی بدولت اسم بامسمیٰ تھے۔ نیک نیتی کا ثمرہ تھا کہ نام کی غریبی کو امیری میں بسر کرتے تھے۔ شہر کے رئیس و اَمیر سب ادب کرتے تھے مگر وہ گوشۂ عافیت میں بیٹھے اپنے معتقد مریدوں کو ہدایت کرتے تھے[3]۔ آپ کے والد شاہ غریب کا اِنتقال بروز یکشنبہ (اتوار) 13 ذیقعد 1182ھ مطابق 19 مارچ 1769ء کو مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے عہدِ حکمرانی میں دہلی میں ہوا۔ شاہ غریب کا مزار دہلی میں روشن پورہ میں نئی سڑک پر ہے۔[4]

پیدائشترميم

شاہ نصیر کی پیدائش دہلی میں ہوئی۔ عمدہ منتخبہ میں ہے کہ: ’’اصلش اَز دہلی‘‘ [5]۔ مولانا آزاد نے بھی یہی لکھا ہے کہ: ’’ وطن اُن کا خاص دہلی تھا‘‘ [6]۔ لیکن شاہ نصیر کے کسی تذکرہ نگار نے اُن کا سالِ پیدائش یا زمانہ پیدائش کے متعلق کوئی اِشارہ نہیں کیا۔ مصحفی نے اپنے تذکرہ ’’ریاض الفصحاء‘‘ میں شاہ نصیر کے سفرہائے لکھنؤ کے ضمن میں لکھا ہے کہ:درین نزدیکی دو سہ بارہ مشار الیہ باین دیار آمدہ،۔۔۔ عمرش از شصت متجازو خواہد بود‘‘ [7]۔ شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی نے اپنا تذکرہ ’’ریاض الفصحاء‘‘ کو 1221ھ سے 1236ھ کے وسطی زمانہ میں مرتب کیا ہے۔ پندرہ سال کے اِس وقفہ کے ساتھ شاہ نصیر کے سنین عمر کا تعین انتہائی دشوار ہے، لیکن سیاقِ عبارت اور بعض دوسرے قرائن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصحفی نے شاہ نصیر سے متعلق یہ کلمات غالباً 1230ھ سے 1235ھ کے مابین کسی سال میں لکھے ہیں کہ اِس وقت (شاہ نصیر) کی عمر ساٹھ سال سے زائد ہے۔ اِس اعتبار سے ازروائے قیاس اُن کی پیدائش 1170ھ سے 1175ھ کے مابین کسی سال میں ہونی چاہیے۔ اُن کے زمانہ پیدائش کے بارے میں یہ بات قرین اِمکان کہی جاسکتی ہے کہ انتخابِ کلیات شاہ نصیر کے دیباچہ نگار نے اُنہیں مہاراجا چندو لال کا ہم عصرقرار دیا ہے جو کہ سنہ 1175ھ مطابق 1762ء میں پیدا ہوئے تھے [8]۔ لیکن دیباچہ نگار کا یہ بیان جدید تحقیق کی رو سے درست قرار نہیں پاتا کیونکہ مہاراجا چندو لال کی پیدائش 1179ھ مطابق 1766ء میں برہانپور میں ہوئی تھی۔
اِس ضمن میں شاہ نصیر کے سنین عمر کے تعین میں ایک اور بیان سے بھی مدد ملتی ہے جو کہ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہؔ کا ہے۔ نواب موصوف نے اپنے تذکرہ ’’گلشن بے خار‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’ اَز شصت سال بہ مشقِ سخن می پردازد‘‘ [9]۔ تذکرۂ گلشن بے خار کا زمانہ تالیف 1248ھ تا 1250ھ ہے۔ اُس وقت تک نواب شیفتہؔ کے علم کے مطابق شاہ نصیر کی مشقِ سخن کو ساٹھ برس بیت چکے تھے۔ جس کے یہ معنی ہوئے کہ شاہ نصیر نے مشق سخن غالباً 1190ھ تا 1192ھ کے مابین شروع کی۔ اگر اُس وقت اُن کی عمر پندرہ اور بیس برس کے درمیان مان لی جائے تو اُن کی پیدائش کا زمانہ وہی 1170ھ سے 1175ھ کے مابین ہوگا۔

حلیہترميم

شاہ نصیر کی رنگت سیاہ فام، اور دراز قد تھے۔داڑھی تھی ۔ [10] [11]

تحصیل علمترميم

شاہ نصیر کی تعلیم و تربیت دہلی میں ہی ہوئی اور اُن کے والد نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔ حکیم قدرت اللہ قاسم نے لکھا ہے کہ: ’’ و این محمد نصیر بسیار با ناز و نعمت پرورش یافتہ، والدِ ماجدش استادی ادیب و خدامِ متعددہ متکفل آموزش بروی گماشتہ بود‘‘ [12]۔ مگر تکمیلِ علوم کی نوبت نہیں آئی جس کا اندازہ اِس اَمر سے بھی ہوتا ہے کہ حکیم قدرت اللہ قاسم، غلام ہمدانی مصحفی اور احد علی یکتا‘ صاحبِ تذکرہ ’’دستور‘‘ کی رائے اُن کی علمیت کے بارے میں اچھی نہیں ۔ حکیم قدرت اللہ قاسم نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ کہ وہ رموزِ فن سے بھی واقف نہیں۔ صاحب مجموعۂ نغز نے لکھا ہے کہ: ’’ اَز اَحوالِ فن و قواعدِ سخن چنداں آگہی ندارد‘‘[13]۔ اول الذکر دونوں تذکرہ نگار مصنفین شاہ نصیر کے معاصر ہیں اور اِن میں سے حکیم ابوالقاسم میر قدرت اللہ تو شاہ نصیر کے خاندان سے بخوبی واقف تھے اور خود شاہ نصیر کی پیدائش اُن کے سامنے ہی ہوئی ہے ۔[14]
تحصیل علم کی طرف سے شاہ نصیر کی بے توجہی یا اِس کی کوشش میں اُن کی ناکامی کا سبب کیا ہے؟ اِس کے متعلق اُن کے معاصر تذکرہ نگاروں اور بالخصوص حکیم قدرت اللہ نے بھی کچھ نہیں لکھا۔ ممکن ہے کہ اِس بے توجہی کا سبب اُن کے گھرکا پرآسائش ماحول ہو جس نے اُن کو طلبِ علم سے محروم رکھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ والد کی بے وقت وفات نے اُن کی توجہ کو تحصیلِ علوم و فنون سے ہٹا کر شعر و سخن کی طرف مبذول کردیا ہو، جو کہ اُس زمانہ کے شریف زادوں کا ایک دلچسپ مشغلہ بن چکا تھا۔

سخن گوئیترميم

شاہ نصیر نے اپنے والد کی وفات کے بعد شاعری شروع کی۔ آغازِ شاعری کے ساتھ ہی شاہ محمدی مائلؔ کی شاگردی اختیار کرلی۔ قاسم کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شاہ محمدی مائلؔ شاہ نصیر کے خسر بھی تھے۔ صاحب مجموعۂ نغز نے لکھا ہے کہ: ’’ مختصر کلام بعد رحلت آن صاحبِ اقتدار این ستودہ کردار شوقِ ریختہ گوئی بہم رسانیدہ‘‘ [15]۔ شاہ نصیر کے والد شاہ غریب کی وفات 13 ذیقعد 1182ھ مطابق 19 مارچ 1769ء کو ہوئی ہے اور اِس اعتبار سے شاہ نصیر کا زمانۂ سخن گوئی گویا 1182ھ مطابق 1769ء میں شروع ہوتا ہے ۔ صاحبِ تذکرہ گلشن بے خار کے مطابق سخن گوئی کا زمانہ 1190ھ یا 1192ھ مطابق 1776ء یا 1778ء کے قریب قریب شروع ہوتا ہے۔ 1201ھ مطابق 1787ء میں شاہ محمدی مائل فوت ہوئے تو شاہ نصیر نے سخن گوئی میں کسی کی شاگردی اِختیار نہ کی۔ اُن کی طباعی، قوتِ مَشق اور جوہر سخن نے بہت جلد دہلی کی ادبی محافل اور مشاعروں میں اُن کا نام اور کلام چمکا دیا اور وہ خود درجۂ اُستادی پر فائز ہو گئے [16]۔ بقول صاحب مجموعۂ نغز’’دہلی کے اکثر تازہ مَشق اُن سے سلسلہ تلمذ رکھتے ہیں‘‘ [17]۔ مولانا آزاد کا بیان ہے کہ: ’’ شاہ عالم کے زمانے ہی میں شاعری جوہر دکھانے لگی تھی اور خاندانی عظمت نے ذاتی کمال کی سفارش سے دربار تک پہنچا دیا تھا[18]۔

وفاتترميم

شاہ نصیر نے نے بروز جمعرات 25 شعبان 1253ھ مطابق 23 نومبر 1837ء کو 80 یا 81 سال کی عمر میں حیدر آباد، دکن میں وفات پائی۔ حیدرآباد، دکن میں درگاہ حضرت موسیٰ قادری میں دفن ہوئے۔ مؤرخین نے مادۂ تاریخ ’’چراغ گل‘‘ سے نکالا ہے۔[19] تذکرہ نگاروں بشمول مالک رام، کالی داس گپتا رضاؔ اور ڈاکٹر کاظم علی خاں نے سالِ وفات 1838ء لکھا ہے جو کہ غلط ہے۔ [20] [21]

کتابیاتترميم

  • نواب محمد مصطفیٰ خاں شیفتہ: تذکرۃ الشعراء ’’گلشن بے خار‘‘، طبع نفیس اکیڈیمی، کراچی، دسمبر 1963ء
  • شاہ محمد نصیر الدین: کلیات شاہ نصیر، دو جلدیں، مطبوعہ مجلس ترقی ادب، لاہور، نومبر 1971ء
  • شاہ نصیر: انتخاب کلیات شاہ نصیر، مطبوعہ اعلیٰ پریس، میرٹھ، نومبر 1877ء
  • محمد حسین آزاد: آب حیات، مطبوعہ مطبع مفید عام، لاہور، 1887ء
  • حکیم ابوالقاسم میرقدرت اللہ المتخلص بہ قاسم: مجموعۂ نغز، مرتبہ محمود شیرانی، مطبوعہ نیشنل اکادمی، دہلی، اکتوبر 1973ء
  • مولوی کریم الدین: طبقات شعرائے ہند، طبقہ سوم ، ناشر سید شاہ عطاء الرحمٰن شاہ کاکوی، مطبوعہ دارالمصنفین، شبلی اکیڈیمی، اعظم گڑھ،1967ء
  • مولوی محمد عالم شاہ فریدی دہلوی: مزارات اولیائے دہلی، مطبوعہ جید برقی پریس، دہلی
  • اعظم الدولہ میر محمد خاں سرور: عمدہ منتخبہ۔
  • ڈاکٹر کاظم علی خاں: توقیت غالب، مطبوعہ انجمن ترقی اُردو (ہند)، دہلی، 1999ء
  • مالک رام: تذکرۂ ماہ و سال، قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان،، دہلی، 2011ء
  • کالی داس گپتا رضاؔ: دیوان غالب جدید۔

مزید دیکھیںترميم

حوالہ جاتترميم

  1. محمد حسین آزاد: آب حیات، صفحہ 416۔
  2. کلیات شاہ نصیر: جلد1 ، ص 11۔
  3. محمد حسین آزاد: آب حیات، صفحہ 416۔
  4. مزارات اولیائے دہلی: صفحہ 162۔
  5. اعظم الدولہ میر محمد خاں سرور: عمدہ منتخبہ، صفحہ 752۔
  6. محمد حسین آزاد: آب حیات، صفحہ 416۔
  7. غلام علی ہمدانی مصحفی: ریاض الفصحاء، صفحہ 337-338۔
  8. کلیات شاہ نصیر، جلد 1، صفحہ 13۔
  9. نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ: تذکرۂ گلشن بے خار، ص 319۔
  10. مولوی کریم الدین: طبقات شعرائے ہند، طبقہ سوم ، صفحہ 1۔
  11. محمد حسین آزاد: آب حیات، صفحہ 416۔
  12. حکیم قدرت اللہ قاسم: مجموعۂ نغز، جلد 2، ص 272۔
  13. حکیم قدرت اللہ قاسم: مجموعۂ نغز، جلد 2، ص 272۔
  14. حکیم قدرت اللہ قاسم: مجموعۂ نغز، جلد 2، ص 272۔
  15. حکیم قدرت اللہ قاسم: مجموعۂ نغز، جلد 2، ص 272۔
  16. کلیات شاہ نصیر: دیباچہ، صفحہ 18۔
  17. محمد حسین آزاد: آب حیات، صفحہ 416۔
  18. محمد حسین آزاد: آب حیات، صفحہ 417۔
  19. مالک رام: تذکرۂ ماہ و سال، صفحہ 390۔ مطبوعہ دہلی، 2011ء
  20. ڈاکٹر کاظم علی خاں: توقیت غالب، باب ششم،صفحہ 30۔
  21. مالک رام: تذکرۂ ماہ و سال، صفحہ 390۔