مہاراجا چندو لال (پیدائش: 1766ء— وفات: 15 اپریل 1845ء) حیدرآباد دکن کی مشہور شخصیت تھے جنہوں نے ریاست حیدرآباد کے وزیر اعظم کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیے۔چندو لال بیک وقت فارسی اور اردو کے شاعر بھی تھے۔ اپنے عہد وزارت میں چندو لال نے بیشتر اردو شعرا کو حیدرآباد دکن بلوایا اور وہیں اُنہیں سکونت اختیار کرنے کے بہترین انتظامات کیے۔

مہاراجا چندو لال لال
Chandu Lal, Brooklyn Museum (Cropped).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1766[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برہانپور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 15 اپریل 1845 (78–79 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت ہندوستانی
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائشترميم

چندو لال کی پیدائش 1766ء میں برہانپور میں ہوئی۔ اُن کے والد کا نام رائے نارائن داس تھا جو رائے بریلی سے ہجرت کرکے حیدرآباد دکن پہنچے اور وہیں سکونت اختیار کی۔ اُن کے آبا و اجداد ہندو تھے۔ آبا و اجداد میں راجا ٹوڈرمل بھی شامل تھے جو مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے وزیر مالیہ تھے۔ چندو لال کے خاندان نے ریاست حیدرآباد میں نظام الملک آصف جاہ اول کے عہدِ حکومت (1724ء- 1748ء) میں وزارت مالیہ کا ادارہ قائم کیا۔ اِس خاندان میں سے آخری وزیر اعظم ریاست حیدرآباد مہاراجہ سر کشن پرشاد ہوئے۔ریاست حیدرآباد میں اِس خاندان کو مال والا خاندان کہا جاتا تھا۔

وزیر اعظم و پیشکارِ ریاست حیدرآبادترميم

نواب سکندر جاہ کے عہدِ حکومت میں چندو لال کا بطور پیشکار مالیہ ریاست حیدرآباد 11 مئی 1806ء کو تقرر کیا گیا۔1819ء میں چندو لال کو مہاراجا کا خطاب تفویض ہوا اور ایک کروڑ روپئے انعام دیا گیا۔ 1822ء میں سات ہزاری سوار کا منصب عطاء ہوا۔ ناصر الدولہ، آصف جاہ چہارم کی طرف سے راجا راجگان کا خطاب تفویض ہوا۔ 1833ء میں بطور وزیر اعظم تقرر کیا گیا جس پر 5 ستمبر 1843ء تک فائز رہے۔

شاعریترميم

چندو لال کا تخلص شاداں تھا۔ اُنہوں نے اردو اور فارسی میں بیک وقت شاعری کی۔ وہ اردو شاعری اور ادب سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی فیاضی دربار کے اردو شعرا اور مصنفین کو اپنی طرف مائل کرتی تھی۔ انھوں نے دہلی کے ذوق اور بخش ناسخ جیسے شعرا کو ریاست حیدرآبار آنے کی دعوت دی لیکن انھوں نے کچھ مسائل کی وجہ سے آنے سے انکار کر دیا۔[حوالہ درکار] وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کے باجود وہ روزانہ مشاعرہ کا انعقاد کرتے اور اس میں حصہ لیا کرتے تھے۔[2]

وفاتترميم

چندو لال کا انتقال 78 سال کی عمر میں 15 اپریل 1845ء کو ہوا۔[3]

یادگارترميم

شہر حیدرآباد میں ایک محلہ آج بھی چندو لال بارہ دری کے نام سے مشہور ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/12262985X — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. قاسمی، شریف حسین (15 دسمبر 1990). "Chandu Lal Sadan: Maharaja, statesman and poet in Persian and Urdu". 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2014. 
  3. مالک رام: تذکرہ ماہ و سال، صفحہ 211۔ مطبوعہ دہلی 2011ء۔