صفی الرحمٰن مبارک پوری

صفی الرحمٰن مبارک پوری
معلومات شخصیت
پیدائش 6 جون 1943  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مبارکپور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 1 دسمبر 2006 (63 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سوانح نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]، عربی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

صفی الرحمن مبارکپوری سیرت النبی کے موضوع پر لکھی گئی عالمی انعام یافتہ کتاب الرحیق المختوم کے مصنف ہیں۔

پیدائشترميم

صفی الرحمن 6 جون 1943ء کو اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں مبارکپور سے ایک میل کے فاصلے پر واقع گاؤں حسین آباد میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی زندگیترميم

آپ نے اپنی ابتدائی زندگی گھر پر ہی گزاری اور اپنے دادا اورچچا سے قرآن کی تعلیم حاصل کی

تعلیمی زندگیترميم

ابتدا میں مدرسہ عربیہ دار التعلیم سے عربی اور فارسی زبانوں کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1954ء میں مدرسہ احیاء العلوم مبارکپور میں داخلہ لیا۔

تصانیفترميم

اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو عربی اور اردو، ہردو زبانوں میں انشاوتحریرکاعمدہ ذوق اورسلیقہ عطاکررکھاتھا۔ آپ نے اردو و عربی میں کئی کتابیں لکھیں۔

اردوترميم

الرحیق المختومترميم

آپ کی شہرہٴ آفاق تصنیف الرحیق المختومسیرتِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر مستند ترین دستاویز مانی جاتی ہے یہ کتاب اُنہوں نے اصلاً عربی میں لکھی اوربعد میں اس کو اردو کے حسین قالب میں بھی خودہی ڈھالا۔

انکارِحدیث حق یا باطلترميم

صحفِ یہود و نصاریٰ میں محمد (ص) کے متعلق بشارتیںترميم

اسلام اورعدمِ تشددترميم

( 1984ئ)مطبوع۔ یہ مولانا موصوف کی اہم تقریر تھی جسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔

تاریخِ مکہترميم

تاریخِ مدینہترميم

تاریخِ آلِ سعودترميم

تذکرہ محمد بن عبد الوہابترميم

یہ اصلاً محکمہ شرعیہقطرکے قاضی شیخ احمد بن حجر کی عربی تالیف کا ترجمہ ہے لیکن اس میں کسی قدر ترمیم و اضافہ کیا گیا ہے۔

قادیانیت اپنے آئینے میںترميم

عربیترميم

الرحیق المختومترميم

آپ کی شہرہٴ آفاق تصنیف الرحیق المختوم سیرتِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر مستند ترین دستاویز مانی جاتی ہےرابطہ عالم اسلامی کی جانب سے آپکی اس کتاب کوسیرت النبیصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موضوع پرلکھی گئی کتابوں میں سے اول قراردیاگیا۔ مرحوم نےعربی زبان میں ہیالرحیق المختوم کااختصاربھی روضة الأنوار في سیرة النبي المختار کے نام سے کیاتھا

اتحاف الکرام تعلیق بلوغ المرامترميم

یہ کتاب دراصل حافظابن حجر عسقلانی کی کتاببلوغ المرام کی شرح ہے

شرح أزہار العربترميم

أزہار العرب علامہ محمد سورتی کاجمع کردہ نفیس عربی اشعار پرمشتمل ایک منتخب اور ممتاز مجموعہ ہے۔ یہ شرح 1963ء میں لکھی گئی مگر قدرے ناقص رہی او رطبع نہیں کرائی جاسکی۔

منۃ المنعمترميم

یہ عربی میں صحیح مسلمکی شرح ہے جو منة المُنعم کے نام سے چار جلدوں میں دارالسلام ہی کی طرف سے شائع ہوئی ہے

ترجمہ و توضیح کتاب الاربعین للنوویترميم

ترجمہ الکلم الطیب لابن تیمیہترميم

المصابیح فی مسالۃ التراویح للسیوطیترميم

بہجۃ النظر فی مصطلح اہل الاثرترميم

الفرقۃ الناجیہ و الفرق الاسلامیۃ الاخریترميم

تفسیر ابن کثیر کی تلخیص اور اردو ترجمہٴ قرآن احسن البیان کی نظرثانی کا مبارک کام بھی شیخ کے نمایاں کاز میں سے ہیں ۔

وفاتترميم

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی وفات 1 دسمبر 2006ء کو بروزجمعہ اپنے آبائی گاؤں مبارکپور ہوئی۔ آپ کو بروز ہفتہ 2 دسمبر 2006ء بعد نمازِ ظہر ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ نمازِ جنازہ مفتی یاسر صفی الرحمٰن نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد شریک ہوئے ۔

حوالہ جاتترميم

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14526554r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14526554r — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ