عبد اللہ بن جعفرؓ بن ابی طالب صحابی رسول تھے۔حضرت جعفر طیار ؓ کے صاحبزادے تھے۔

عبد اللہ بن جعفر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 622  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایتھوپیا  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 700 (77–78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ زینب بنت علی
ام کلثوم بنت علی  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد محمد بن عبد اللہ بن جعفر،  عون بن عبد اللہ بن جعفر  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد جعفر ابن ابی طالب  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ اسماء بنت عمیس  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسبترميم

عبد اللہ نام، ابو جعفر کنیت، عبد اللہ رسول اللہ ﷺ کے چچرے بھائی اور حضرت جعفرؓ طیار کے صاحبزادے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب بن عبدالمطلب ابن ہاشم بن عبد مناف قرشی ہاشمی طلبی ،ماں کا نام اسماء تھا۔ ننھالی شجرہ یہ ہے ،اسماء بنت عمیس بن معبد بن تمیم بن مالک بن قحافہ بن عامر بن ربیعہ بن معاویہ بن زید بن مالک بن نسر۔

پیدائشترميم

عبد اللہ کے والد حضرت جعفرؓ مہاجرین کے اس زمرۂ اول میں ہیں جنھوں نے مشرکین مکہ کے جو روستم سے تنگ آکر سب سے پہلے وطن چھوڑا اورمع بال بچوں کے حبشہ کی غریب الوطنی اختیار کی، عبد اللہ اسی غربت کدے میں پیدا ہوئے، اس وقت تک اورکسی حبشی مہاجر کے بچہ نہ پیدا ہوا تھا،اس لحاظ سے عبد اللہ حبشی مہاجرین کی جماعت میں پہلے بچہ ہیں، جو ارض حبشہ میں پیدا ہوئے۔ 7ھ میں خیبر کے زمانہ میں جعفر حبشہ سے مدینہ آئے، اس وقت عبد اللہ کی عمر،سات برس کی تھی،عبد اللہ بن زبیربھی ان ہی کے ہم وصف (یہ مدنی مہاجرین کے پہلے بچے ہیں) اورہم سن تھے، آنحضرتﷺ نے ان دونوں کمسن صحابیوں سے مسکرا کر بیعت لی۔[1]

حضرت جعفرؓ کی شہادت اوررسول اللہ کی تولیتترميم

حبشہ کی واپس کے کچھ ہی دنوں بعد حضرت جعفرؓ نے غزوۂ موتہ میں جام شہادت پیا، آنحضرتﷺ کو سخت قلق ہوا، اورعبداللہ کی صغر سنی اور یتیمی کی وجہ سے ان پر غیر معمولی شفقت فرمانے لگے،اسی زمانہ میں فرمایا کہ عبد اللہ خلقاً اور خلقا مجھ سے مشابہ ہیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کے دعا کی کہ "خدایا ان کو جعفر کے گھر کا صحیح جانشین بنا، اوران کی بیعت میں برکت عطا فرما اورمیں دنیا اور آخرت دونوں میں آلِ جعفر کا ولی ہوں۔[2] آنحضرتﷺہرطرح سے یتیم عبد اللہ کی ولدہی فرماتے تھے،ایک مرتبہ یہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے،آنحضرتﷺ ادھر سے گذرے تو ان کو اٹھا کر اپنے ساتھ سواری پر بٹھا لیا، [3] اسی شفقت کے ساتھ عبد اللہ رسول اللہ ﷺ کے دامن عاطفت میں پرورش پاتے رہے،ان کا دسواں سال تھا کہ شفیق بابا کا سایۂ شفقت سر سے اٹھ گیا۔

عہدِ مرتضویترميم

خلفائے ثلثہ کے زمانہ میں عبد اللہ کمسن تھے،اس لیے کہیں نظر نہیں آتے، جنگ صفین میں اپنے دوسرے اہل خاندان کے ساتھ اپنے چچا حضرت علیؓ کے ساتھ تھے اوران کی حمایت میں شامی فوج سے لڑے [4] التوائے جنگ کے عہدِ نامہ پر حضرت علیؓ کی جانب سے شاہد تھے ،ابن ملجم نے جب حضرت علیؓ کو شہید کیا تو ان کے قصاص میں عبد اللہ ہی نے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر بدلہ لیا تھا۔[5]

عبد اللہ اور معاویہترميم

گو عبد اللہ امیر معاویہ کے مخالف تھےاور حضرت علیؓ کی حمایت میں ان سے لڑے تھے، لیکن امیر نے اس کا کوئی ناگوار اثر نہیں لیا تھا اور عبد اللہ کو بہت مانتے تھے اورہمیشہ ان کے ساتھ سلوک کرتے رہتے تھے،عبد اللہ اکثر ان کے پاس شام جایا کرتے تھے امیر معاویہ ان کی بڑی خاطر تواضع کرتے تھے اور نقد وجنس دیکر واپس کرتے تھے،بعض بعض مرتبہ ایک ایک مشت لاکھوں کی رقم ان کو دیدی۔[6] امیر معاویہ کی بیوی فاختہ کو عبد اللہ پر امیر کی یہ نوازشیں سخت ناپسند تھیں اور وہ انہیں عبد اللہ سے برگشتہ کرنے کے لیے عبد اللہ کی عیب جوئی میں لگی رہتی تھیں، عبد اللہ کبھی کبھی گانا سن لیا کرتے تھے، ایک مرتبہ جبکہ عبد اللہ امیر معاویہ کے یہاں تھے،رات کو گانا سن رہے تھے،فاختہ نے گانے کی آواز سنی تو انہیں امیر معاویہ کو عبد اللہ کے خلاف بھڑکانے کا موقع مل گیا؛چنانچہ انہوں نے جاکر امیر سے کہا جسے تم اتنا عزیز رکھتے ہو چل کر دیکھو اس کے گھر میں کیا ہو رہا ہے، امیر گئے تو گانا ہورہا تھا،سن کر لوٹ گئے،یہ شروع رات کا وقت تھا، پچھلے پہر کو عبد اللہ قرآن کی تلاوت میں مصروف ہو گئے، امیر معاویہ کے کانوں میں آواز پہنچی تو بیوی سے جاکر کہا تم نے ہمیں جو سنوایا تھا اب وہ چل کر اس کا جواب سن لو۔[7]

وفاتترميم

80 ھ میں مدینہ میں وفات پائی، اموی گورنر ابان بن عثمان نے اپنے ہاتھوں سے غسل دیکر کفن پہنایا اورجنازہ کو کندھا دیا،جب جنازہ جنت البقیع کی طرف چلا، تو سارے مدینہ میں کہرام بچ گیا،غلام گریبانوں کے ٹکڑے اڑا رہے تھے اور عوام ہر طرف سے جنازہ پر ٹوٹ پڑتے تھے،آبان کو پہلے سے اس ہجوم کا علم تھا، اس لیے اس نے جنازہ کے تخت میں اٹھانے کے لیے دو لکڑیاں لگوادی تھیں اورخود کندھا دیے ہوئے تھا، اس ہجو م میں کسی نہ کسی طرح جنازہ جنت البقیع پہنچا کر خود نمازِ جنازہ پڑھائی اور جعفر طیارؓ کی آخری یاد گار کو پیوند خاک کیا، آبان عبد اللہ کے اوصاف سے اس قدر متاثر تھے کہ مٹی دیتے وقت روتے جاتے تھے اورکہتے جاتے تھے،خدا کی قسم تم بہترین آدمی تھے، تم میں مطلق شر نہ تھا، تم شریف تھے تم صلہ رحمی کرتے تھے،تم نیک تھے، ان کی قبر کا یہ کتبہ مدتوں ان کی یاد دلاتا رہا۔[8] مقیم الی ان یبعث اللہ خلقہ لقاءک لایرجی وانت قریب ترجمہ: جب تک خدا اپنی مخلوق کو دوبارہ نہ زندہ کرے آرام سے قبر میں مقیم رہو، اگرچہ تم بہت قریب ہو لیکن تم سے ملاقات کی کوئی امید نہیں۔ تزید بلی فی کل یوم ولیلۃ و تنسی کما تبلی وانت حبیب ترجمہ:تم شبانہ یوم ہٹے جاتے ہو اورجس قدر ہٹے جاتے ہو، بھولتے جاتے ہو حالانکہ تم محبوب ہو۔

فضل وکمالترميم

آنحضرتﷺ کی وفات کے وقت عبد اللہ بہت کم سن تھے، ان کی عمر دس سال سے زیادہ نہ تھی تاہم ہر وقت کے ساتھ کی وجہ سے آپ کی چند احادیث ان کے حافظہ میں محفوظ رہ گئی تھیں، جو حدیثیوں کی کتابوں میں موجود ہیں، ان میں سے دو متفق علیہ ہیں، اسمعیل اسحاق، معاویہ عروہ بن زبیر، ابن ابی ملیکہ اور عمر بن عبدالعزیزؓ نے ان سے روایت کی ہے۔[9]

اخلاقترميم

اوپر گذر چکا ہے کہ آنحضرتﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا تھا کہ "عبد اللہ صورۃاورسیرۃمیرے مشابہ ہیں " عبد اللہ کی زندگی اس ارشاد گرامی کی عملی تصدیق تھی آبان ان کی تدفین کے وقت ان کے یہ اوصاف گناتا تھا، خدا کی قسم تم بہترین آدمی تھے، تم میں کسی قسم کا شر نہ تھا، تم شریف تھے،تم صلہ رحمی کرتے تھے تم نیک تھے [10]علامہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ عبد اللہ کریم النفس، فیاض خوش طبع خوش خلق ،عفیف ،پاکدامن اورسخی تھے۔[11]

فیاضیترميم

ان تمام اوصاف میں فیاضی اورسخاوت کا وصف بہت غالب تھا، سیر چشمی اوردریا دلی ان کے خمیر میں داخل تھی،زمانہ اسلام میں جزیرۃ العرب میں دس فیاض مشہور تھے ،عبد اللہ ان میں بھی سب سے زیادہ فیاض تھے اوران کی فیاضی کو کوئی نہ پہنچ سکتا تھا، ایک مرتبہ ان کی غیر معتدل فیاضی پر کسی نے ٹوکا تو جواب دیا، خدا نے میری ایک عادت ڈال دی ہے میں نے اس عادت کے مطابق دوسروں کو بھی عادی بنادیا ہے، مجھ کو ڈر ہے کہ اگر میں یہ عادت چھوڑدوں تو خدا مجھے دینا چھوڑدیگا۔[12] ایک مرتبہ ایک حبشی نے ان کی مدح میں اشعار کہے،اس کے صلہ میں انہوں نے اس کو بہت سے اونٹ ،گھوڑے،کپڑے اوردرہم و دینار دیے، کسی نے کہا یہ حبشی اتنے انعام واکرام کا مستحق نہ تھا، جواب دیا اگر وہ سیاہ ہے،تو اس کے بال سپید ہوچکے ہیں، اس نے جو کچھ کہا ہے اس کے لحاظ سے وہ اس سے بھی زیادہ کا مستحق ہے،جو کچھ میں نے اسے دیا ہے وہ کچھ دن میں ختم ہوجائے گا اوراس نے جو مدح کی ہے وہ ہمیشہ باقی رہے گی۔[13] ایک مرتبہ تاجر شکر لے کر مدینہ آئے ،اس وقت بازار سرد تھا،تاجروں کو گھاٹا آیا،عبد اللہ نے حکم دیا کہ سب شکر خرید کر لوگوں میں تقسیم کردیجائے۔[14] یزید نے اپنے عہدِ حکومت میں ان کو بہت بڑی رقم بھیجی ،انہوں نے اسی وقت کھڑے کھڑے کل رقم مدینہ والوں میں تقسیم کردی اورایک حبہ بھی گھر نہ آنے دیا، عبد اللہ ابن قیس نے اس شعر میں: وما کنت الا کالا غرابن جعفر رای المال لایبتعی فابقیٰ لہ ذکرا ترجمہ:تم اس معزز ابن جعفر کی طرح ہو، جس نے سمجھا کہ مال فنا ہوجائے گا، اوراس کا ذکر خیر باقی رہے گا۔ اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔[15] زیاد بن اعجم پانچ مرتبہ ان کے پاس دیتوں میں امداد کے لیے آیا، انہوں نے پانچوں مرتبہ ان کی طرف سے دیت ادا کی اس نے ان اشعار میں اپنی منت پذیری کا اظہار کیا:[16] مالناہ الجزیل فما قل کا واعطی فوقت بنیتنا ذرادا ترجمہ:ہم نے اس سے بہت سا مال مانگا اس نے تامل نہیں کیا اورہماری امید سے زیادہ دیا۔ واحسن ثم احسن ثم عدفا فاحسن ثم عدت لہ فعادا ترجمہ:اوراس نے بار بار بھلائی کی اورجب جب ہم اس کے پاس گئے اس نے بھلائی کا اعادہ کیا۔ یہ چند واقعات بطور نمونہ لکھ دیے گئے ورنہ اس قسم کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں، واجنادہ فی جودہ وحکمہ وکرمہ کثیرۃ لا تحصیٰ۔[17] ان غلط بخششوں کی وجہ سے اکثر مقروض رہتے تھے؛چنانچہ حضرت زبیر ؓبن عوام کے دس لاکھ کے مقروض تھے،حضرت زبیرؓ کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادہ عبد اللہ ؓبن زبیر نے عبد اللہ ابن جعفر سے کہا کہ والد کی یادداشتوں میں دس لاکھ کا قرض تمہارے ذمہ ہے انہوں نے کہا ہاں بالکل صحیح ہے، میں ہر وقت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں جب چاہے لے لو۔[18]

ناجائز آمدنی سے پرہیزترميم

لیکن ان کثیر اخراجات اور غیر محدود فیاضیوں کے باوجود کبھی ناجائز مال کا ایک حصہ بھی نہ لیتے تھے اوررشوت کی بڑی بڑی رقموں کو ٹھکرادیتے تھے،ایک مرتبہ دیہی علاقہ کے زمینداروں نے اپنے کسی معاملہ میں انہیں حضرت علیؓ کے پاس گفتگو کرنے کے لیے بھیجا ان کی وساطت سے زمینداروں کے موافق فیصلہ ہو گیا،اس صلہ میں انہوں نے چالیس ہزار کی رقم پیش کی،عبد اللہ نے اس کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا میں بھلائی کو فروخت نہیں کرتا۔[19]

حوالہ جاتترميم

  1. (اصابہ:4/48)
  2. (مستدرک حاکم:3/527)
  3. (اخبار الطوال:191)
  4. (ایضاً:228)
  5. (مستدرک حاکم:3/567)
  6. (مستدرک حاکم:3/567)
  7. (استیعاب:1/354)
  8. (اسدالغابہ:2/134)
  9. (تہذیب الکمال:193)
  10. (اسد الغابہ:3/34)
  11. (استیعاب:1/354)
  12. (استیعاب:1/354)
  13. (ایضاً)
  14. (اصابہ:4/49)
  15. (ایضاً)
  16. (مستدرک حاکم:3/567)
  17. (اصابہ:4/49)
  18. (اسد الغابہ:3/134)
  19. (اصابہ:4/49)