حاجی فقير محمد سومرو (پیدائش: یکم مارچ، 1955ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے سندھی اور اردو زبان کے سفرنامہ نگار، محقق، کالم نگار اور مضمون نگار ہیں۔ ان کی دو کتابیں سومرن جو شجرو اور روح پرور سفر شائع ہو چکی ہے جبکہ خفتگانِ جنت ابقیع اشاعت کے مراحل میں ہے۔

فقیر محمد سومرو
Faqeer Muhammad Soomro (cropped).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 مارچ 1955 (65 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہنگورجا،  ضلع خیرپور،  سندھ،  پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ محقق،  سفرنامہ نگار،  کالم نگار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان سندھی،  اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل سفر نامہ،  شجرہ،  سندھ کی تاریخ،  مضمون  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

حالات زندگیترميم

حاجی فقير محمد سومرو یکم مارچ 1955ء کو ضلع خیرپور کے تاریخی شہر ہنگورجا میں مولوی اللہ بخش سومرو کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے پرائمری اور سيکنڈری تعليم آبائی شہر سے حاصل کی۔[1]

ادبی خدماتترميم

فقير محمد سومرو کو بچپن سے لکھنے کا شوق تھا۔ ابتدا میں انہوں نے مختصر مضامین اور کالم لکھنے شروع کیے۔ ان کی مختلف موضوعات پر مشتمل تحریریں  مختلف  اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی اب تک دو کتابیں سومرن جو شجرو اور روح پرور سفر شائع ہو چکی ہیں۔ فقير محمد سومرو محض مصنف نہیں بلکہ ایک ہنر مند شخصیت بھی ہیں۔ انہوں نے حصولِ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے آبائی بڑھئی کے پیشے کو جاری رکھا۔ فقیر محمد بڑھئی (کارپنٹری) کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ اس نے عرب امارات، دبئی، ابوظہبی اور سعودی عرب میں بھی اپنے ہنر کا لوہا منوایا۔ وہ بلدیہ عظمی کراچی میں سب اورسیئر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔  علم و ادب سے منسلک ہونے کی وجہ سے انہیں کتابوں سے دلچسپی اور لگن ہے۔ ان کے والد بزرگوار مولوی اللہ بخش سومرو بھی اپنے وقت کے جید علما میں شار ہوتے تھے۔[2]

تصانیفترميم

  • سومرن جو شجرو (تحقیق، 2013ء، ناشر: پیکاک پرنٹرز اینڈ پبلشرز کراچی)[3]
  • روح پرور سفر (سفر نامہ، 2019ء، ناشر: محمدی لائبریری ہنگورجا، ضلع خیرپور)

ناقدین اور اہلِ علم کے تاثراتترميم

روح پرور سفر حج کے موضوع پر لکھے گئے دیگر تمام سفرناموں سے قطعی مختلف ہے کیونکہ یہ قلمی کاوش سے زیادہ قلبی کاوش کا نتیجہ ہے۔ اس کا مصنف کوئی قلمکار نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہے جس کی تمام عمر لکڑی کو تراشتے خراشتے ہوئے گزری ہے اور جس نے قلم کے بجائے اپنے ہاتھوں میں آری اور بسولہ سنبھالے رکھا۔

حاجی فقیر محمد سومرو نے اس کتاب کی تالیف میں بڑی عرق ریزی کی ہے۔ مصنف کی کوشش یہی رہی کہ ہر حوالہ مصدقہ ہو۔ سچ پوچھیے تو مخلص مصنف نے مختلف معلومات، واقعات اور حوالہ جات کو کتاب کی صورت میں یکجا کرکے عازمین و زائرین کی رہنمائی میں آسانی کا ایک دروازہ کھولا ہے۔ یہ مصنف و مولف کی ایک تاثراتی تحریر ہے جسے انھوں نے بلا تکلف و تصنع جوں کا توں کاغذ پر اتار کر نہایت سادگی کے ساتھ واردات قلب کے طور پر پیش کر دیا ۔[4] (شکیل فاروقی، سینئر کالم نگار، کراچی

حوالہ جاتترميم