مرکزی مینیو کھولیں
عزت مآب
محمد ہدایت اللہ
تفصیل=

ساتویں نائب صدر بھارت
مدت منصب
31 اگست 1979 – 30 اگست 1984
صدر نیلم سنجیوا ریڈی
ذیل سنگھ
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بسپا دانپہ جتی
وینکٹارمن Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Acting صدر بھارت
مدت منصب
20 جولائی 1969 – 24 اگست 1969
وزیر اعظم اندرا گاندھی
Fleche-defaut-droite-gris-32.png وی وی گیری (قائم مقام)
وی وی گیری Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
Chief Justice of India 11th
مدت منصب
25 فروری 1968 – 16 دسمبر 1970
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Kailas Nath Wanchoo
Jayantilal Chhotalal Shah Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 17 دسمبر 1905  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 18 ستمبر 1992 (87 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی ٹرینٹی کالج، کیمبرج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ منصف،  ووکیل،  وسیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

محمد ہدایت اللہ(17دسمبر 1905ء-18ستمبر1992ء)بھارت کے قائم مقام صدر تھے۔ وہ بھارت کے گیارہویں چیف جسٹس تھے جو 25 فروری 1968ء سے 16 دسمبر 1970ء اور 1979ء سے 1984ء تک چھٹے نائب صدر کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔ وہ بھارت کے قائم مقام صدر کی حیثیت سے 20 جولائی 1969ء سے 24 اگست 1969ء تک رہے۔ اور پھر 6 اکتوبر 1982ء سے 31 اکتوبر 1982ء تک بھی رہے[1]۔اس کے علاوہ وہ ماہر تعلیم، مصنف اور ماہر لسانیات بھی تھ[2][3]ہے۔ ان کا بھائی محمد اکرام اللہ نامور پاکستانی سفیر تھا جس کی بیوی شائستہ سہروردی اکرام اللہ ، شہید حسین سہروردی کی بھتیجی تھی جو کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی تقسیم سے پہلے وزیر اعظم ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستانی اسمبلی کے پہلے رکن بھی تھے۔ 1905ء میں خان بہادر حافظ ولایت اللہ کے معروف اعلیٰ گھرانے میں ہدایت اللہ پیدا ہوا۔ ان کے دادا منشی قدرت اللہ ورانسی کے وکیل تھے۔ ان کا والد ایک شاعر تھا جو آل انڈیا مشاعرہ کا رکن تھا اور یقیناً اس نے اردو میں نظمیں بھی لکھیں۔ ایسا اس لیے بھی تھا کہ جسٹس ولایت اللہ کو اپنی زبان سے بہت محبت تھی۔ ولایت اللہ 1897ء میں علی گڑھ یونیورسٹی کے گولڈ میڈلسٹ تھے اور مشہور ریاضی دان سر ضیاء الدین احمد اور سر سید احمد خان کے پسندیدہ شاگرد تھے۔ انہوں نے 1892ء تک آئی سی ایس اور 1929ء تا 1933ء مرکزی قانون ساز اسمبلی میں رکن کے طور پر کام کیا۔ ہدایت اللہ کے بڑے بھائی اکرام اللہ (آئی سی ایس اور بعد میں خارجہ سیکرٹری پاکستان) اور احمد اللہ (آئی سی ایس ، چیف ٹیرف بورڈ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تھے) عالم اور کھلاڑی بھی تھے۔ دوسری طرف وہ اردو زبان میں شاعری کی بھی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ 1922ء میں انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائیاسکول رائےپور سے مکمل کی۔ ہدایت اللہ نے مورس کالج ناگ پور میں داخلہ لیا۔ جہاں وہ 1926ء میں فلپ سکالر کے طور پر نامزد کیے گئے۔ جب 1926ء انہوں نے گریجویشن کی تو انہیں ملک گولڈ میڈل سے نوازا۔ بھارتیوں کے بیرون ملک میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے رجحان کی پیروی کرتے ہوئے ہدایت اللہ نے ٹرینیٹی کالج یونیورسٹی آف کیمبرج میں 1927ء سے 1930ء تک تعلیم حاصل کی اور بی اے اور ایم اے کی ڈگری وہاں سے حاصل کی۔

حوالہ جاتترميم

  1. "Former Vice Presidents of India"۔ Secretariat of Vice President of India۔ مورخہ 17 اکتوبر 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 ستمبر 2014۔
  2. Desai، P. D.، Justice. "Full Court Reference in Memory of The Late Justice Mohammad Hidayatullah". (1992) 4 SCC (Jour) 10. http://www.supremecourtcases.com/index2.php?option=com_content&itemid=99999999&do_pdf=1&id=543۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 ستمبر 2014. 
  3. "Speech by Shri I. M. Chagla" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Bombay High Court۔ صفحہ 7۔ مورخہ 28 ستمبر 1992 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 ستمبر 2014۔