معمر بن راشد

عرب شیخ و محدث

معمر بن راشد عالم یمن اپنے وقت کے عظیم شیخ و محدث تھے۔

معمر بن راشد
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 713  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بصرہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 770 (56–57 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صنعاء  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نظام المدرسة مدرسة الحديث
أعمال صنف جامع معمر بن راشد
پیشہ محدث  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

نام ونسبترميم

نام معمر،کنیت ابو عروہ اوروالد کا اسم گرامی راشد تھا [2] بصرہ کے ایک شخص عبدالسلام بن عبدالقدوس کے غلام تھے،جنہیں خود قبیلہ ازدکی حدان نامی ایک شاخ سے نسبت ولأ حاصل تھی، اسی بالواسطہ نسبت کی وجہ سے ابو عروہ ازدی اورحدانی مشہور ہوئے،بنو حدان میں آکر جس مقام پر آباد ہوئے تھے، وہ بھی محلہ حدان کہا جانے لگا تھا۔[3]

وطن اورولادتترميم

۹۵ھ میں پیدا ہوئے،بصرہ کے رہنے والے تھے،لیکن پھر حالات سے مجبور ہوکر یمن میں مستقل بود وباش اختیار کرلی تھی [4] اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ یمن کے اکابر شیوخ سے اکتساب فیض کرنے کے لیے وہاں گئے،پھر جب فارغ ہونے کے بعد وطن مالوف واپسی کا عزم کیا تو اہلِ صنعاء جوان کے علم وفضل اورحسن اخلاق سے بے حد متاثر تھے،انہیں چھوڑنے پر راضی نہ ہوئے اورایک شخص نے انہیں مستقل طور پر یمن میں روکنے کے لیے یہ ترکیب نکالی کہ ان کا عقد وہیں کردیا؛چنانچہ پھر یمن ہی ان کا وطنِ ثانی بن گیا۔

طلبِ علمترميم

ابن راشد غلام ہونے کے باوجود تحصیل علم کی فطری استعداد اوربہت ذوق وشوق رکھتے تھے،بقول امام احمدؒ معمر اپنے عہد کے علماء میں سب سے زیادہ علم حاصل کرنے والے اوراس کے جویاں رہتے تھے۔ [5]چنانچہ اسی لگن اوراخلاص کا ثمرہ تھا کہ یمن کا سفر کرکے اس کے مرکز علم سے مستفید ہونے والوں میں انہیں اولیت کا فخر حاصل ہے، یمن میں اس وقت مشہور صحابی رسولﷺ حضرت ابوہریرہؓ کے آغوشِ تربیت کے پروردہ ہمام بن منبہؒ کا فیض جاری تھا،معمرؒ ان سے پوری طرح مستفید ہوئے [6]اس کے علاوہ بصرہ میں قتادہ اور رصافہ میں امام زہری کی خدمت میں حاضر ہوکر خصوصی تلمذ کا شرف حاصل کیاتھا،حضرت قتادہ سے سماعِ حدیث کے وقت معمر کی عمر صرف ۱۴ سال کی تھی، اس کم سنی میں انہو ں نے شیخ مذکور سے جو کچھ حاصل کیا تھا وہ آخر عمر تک مستحضر رہا جیسا کہ خود ان ہی کا بیان ہے۔سمعت قتادۃ ولی اربع عشرۃ سنۃ فما سمعتہ اذک کانہ مکتوب فی صدری [7] میں نے قتادہ سے چودہ سال کی عمر میں سماع حاصل کیا تھا اوران سے میں نے اس وقت جو کچھ سُنا تھا وہ گویا میرے قلب پر نقش ہوگیا تھا۔

تحصیل علمترميم

انہیں تحصیل علم کا سنہرا موقع میسر آیا قوت حفظ وضبط اور فہم و فراست کی دولت سے مالا مال تھے اس کی وجہ سے جب وہ مرکز علم بصرہ اور اس عہد کے دوسری علمی مراکز میں پہنچے تو وہاں کے شیوخ سے بڑے ذوق و شوق سے علم کی دولت حاصل کی اور اپنے وقت کے عظیم محدث و شیخ بن گئے معمر کا یہی ذوق طلب جس نے انہیں مدینہ منورہ اورپھر یمن کا سفر کر ایا عبد الواحد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے معمر سے پوچھا آپ کو امام زہری سے علم حاصل کرنے کا اتفاق کیسے ہوا توبتایا کہ میں ایک شخص کا غلام تھا اس نے مجھے کپڑے فروخت کرنے کے لیے مدینہ منورہ بھیجا میں نے جسمحلہ میں کاروبار شروع کیا تھا وہاں ایک شیخ رہتے تھے جن کے پاس لوگ بکثرت علم حاصل کرنے کے لئےآتے تھے میں نے اس موقع کوغنیمت جان کرعلم حاصل کرنا شروع کیا

یمن میں سکونتترميم

مدینہ منورہ کے بعد معمر علم حاصل کرنے کیلئے یمن پہنچے جب وہ بصرہ لوٹنے لگے تو صناء کے باشندوں نے آپ کی علمی جلالت کی وجہ سے وہاں ٹھہرانے کا ارادہ کیا مرکزی شہر صنعاء کے قدر شناس اصحاب نے انہیں روکنے کیلئے شادی کر دی چنانچہ امام معمر نے صنعاء میں بودوباش اختیار کرلی

شیوخ و اساتذہترميم

آپ کے شیوخ کے اسمائے گرامی ثابت البناني، قتادة، الزهري، عاصم الأحول ايوب، الجعد أبي عثمان، زيد بن أسلم، صالح بن كيسان، عبد اللہ بن طاوس، جعفر بن برقان، الحكم بن إبان، اشعث بن عبد اللہ الحداني، إسماعيل بن أمية، ثمامة بن عبد اللہ بن أنس، بهز بن حكيم، سماك بن الفضل، عبد اللہ بن عثمان بن خثيم، عبد اللہ بن عمر العمري، يحيى بن أبي كثير، همام بن منبہ، هشام بن عروة، محمد بن المنكدر، عمرو بن دينار، عطاء الخراساني، عبد الكريم الجزري

فضل وکمالترميم

طلب علم میں اس کا جانکاہ محنت ولگن کے نتیجہ میں وہ فضل وکمال کے آسمان پر خورشید تاباں بن کر چمکے اورزبان خلق نے انہیں عالم الیمن کے لقب سے سرفراز کیا ،ابن جریج جیسے منتخب روزگار امام بھی معمر کی توصیف میں رطب اللسان ہیں؛چنانچہ وہ اپنے تلامذہ سے اکثر فرمایا کرتے تھے۔ علیکم بمعمر فانہ لم یبق فی زمانہ اعلم منہ [8]معمر کے فیضِ صحبت سے مستفید ہو،اس لیے کہ اپنے زمانہ میں ان سے بڑا کوئی عالم نہیں رہا۔ امام احمدؒ کا بیان ہے کہ ہم جب بھی معمرؒ کا دوسرے اہلِ علم سے موازنہ کرتے تو ہمیشہ معمر کو فوقیت حاصل ہوتی [9]ابن عماد حنبلیؒ ان کو "عالم الیمن ثقہ ورع"اورحافظ ذہبیؒ "احد الاعلام الثقات الامام الحجۃ" لکھتے ہیں۔ [10]

حدیثترميم

علم حدیث اوراس کے متعلقات میں ان کو خاص ملکہ حاصل تھا،ہزاروں حدیثیں ان کے خزانہ دماغ میں محفوظ تھیں، عبدالرزاق بن ہمام بیان کرتےہیں کہ: کتبت مع معمر عشرۃ الاف حدیث [11] میں نے معمرؒ سے دس ہزار حدیثیں لکھی ہیں۔ ان کے شیوخ حدیث کی تعداد بہت زیادہ ہے،جن میں اکابر تابعین اورممتاز اتباع تابعین کی کافی تعداد شامل ہے،امام زہری، ہشام بن عروہ، قتادہ،عمرو بن دینار،یحییٰ بن کثیر،ہمام بن منبہ ،ثابت البنانی،عاصم الاحول، ابو اسحاق السبیعی ،ایوب السختیانی ،زید بن اسلم، صالح بن کیسان ،عبداللہ بن طاؤس،سماک بن الفضل، اسماعیل بن علیہ، محمد بن المنکدر،کے نام خصوصیت کےساتھ قابلِ ذکر ہیں اورخود معمر کے فیضان صحبت سے شاد کام ہونے والوں میں سفیان ثوری،عبداللہ بن مبارک، غندر ، عبدالرزاق بن ہمام،سفیان بن عیینہ، ہشام بن یوسف،اسماعیل بن علیہ، یزید بن زریع،سعیدبن ابی عروبہ، ابن جریج،امام شعبہ،عیسیٰ بن یونس، معتمر بن سلیمان، محمد بن ثور اورعبداللہ بن معاذ کے نام نمایاں ہیں،علاوہ ازیں معمر کے شیوخ میں سے یحییٰ بن کثیر ابو اسحاق سبیعی،ایوب سختیانی اورعمروبن دینار نے بھی بایں ہمہ تبحر علم وفن ان سے روایت کی ہے،جو معمر کے علو مرتبت اوربلندی شان کی بین دلیل ہے۔[12]

ثقاہتترميم

اکثر علمائے جرح وتعدیل نے ان کی توثیق کی ہے،بالخصوص امام زہریؒ سے ان کی مرویات کا پایہ نہایت بلند ہے، ابن معینؒ کا بیان ہے کہ: "معمر اثبت الناس فی الزھری" [13] عجلی کا قول ہے: بصری سکن الیمن ثقۃ رجل صالح [14]وہ بصرہ کے رہنے والے تھے یمن میں سکونت اختیار کرلی تھی،ثقہ اورنیک انسان تھے۔ امام نسائیؒ کہتے ہیں "ھوثقۃ مامون"[15] علی بن مدینی اورابو حاتم معمر کا شمار ان علمائے کبار میں کرتے تھے،جن پر مشیخت اسناد ختم تھی۔ [16]

مناقب وفضائلترميم

ان گونا گوں علمی کمالات کے علاوہ ابن راشد اوربھی بہت سی انسانی خوبیوں کے حامل تھے،نیک طینتی،تقویٰ،صالحیت اوربلند ظرفی ان کے خاص جوہر تھے،حافظ ذہبی اور علامہ یافعی خامہ ریز ہیں "کان معمر صالحاً خیراً" [17] ابن سعد لکھتے ہیں: کان معمر جلالہ قدر ونبل فی نفسہ [18]اہلِ یمن ان ہی محاسن و اوصافِ حمیدہ کی بنا پر ان کے والہ وشیفتہ ہوگئے تھے، استغناء اوراخفائے عمل خیر کا یہ عالم تھا کہ ایک بار حاکمِ یمن، معن بن زائدہ نےانہیں کچھ سونا ہدیۃً بھیجا، معمر نے اسے نہ صرف واپس کردیا؛بلکہ اپنی شریک حیات کو سختی سے تنبیہ کردی کہ اگر تم نے کسی کو یہ بات بتائی،تو میں سخت اقدام کروں گا۔ [19]

وفاتترميم

آپ نے 58 سال کی عمر میں 153ھ میں وفات پائی۔[20]رمضان ۱۵۳ھ میں ان کا آفتاب حیات غروب ہوگیا [21] وفات کے وقت ۵۸ سال کی عمر تھی۔ [22]

حوالہ جاتترميم

  1. این کے سی آر - اے یو ٹی شناخت کنندہ: https://aleph.nkp.cz/F/?func=find-c&local_base=aut&ccl_term=ica=jo2015880093 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مارچ 2022
  2. (شذرات الذہب:۱/۲۳۵)
  3. (اللباب فی الانساب :۱)
  4. (الاعلام:۳/۱۰۵۸)
  5. (تہذیب التہذیب:۱۰/۲۴۴)
  6. (العبر فی خبر من غبر:۱/۲۲۱،ومرأۃ الجنان:۱/۳۰۳)
  7. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۷۱ ومیزان الاعتدال:۳/۱۸۸)
  8. (تہذیب التہذیب:۱۰/۲۴۵)
  9. (العبر فی خبر من غبر:۱/۲۲۰)
  10. (شذرات الذہب:۱/۲۳۵،ومیزان الاعتدال:۳/)
  11. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۷۱)
  12. (تہذیب التہذیب:۱۰/۲۴۴ ومرأۃ الجنان :۱/۳۲۳)
  13. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۷۱،ومیزان الاعتدال:۳/۱۸۸)
  14. (خلاصہ تذہیب وتہذیب الکمال:۳۸۴)
  15. (ایضاً)
  16. (تہذیب التہذیب:۱۰۲۴۴)
  17. (العبر فی خبر من غبر:۱/۲۲۱ ومراۃ الجنان:۱/۲۲۳)
  18. (طبقات ابن سعد:۵/۳۹۷)
  19. (میزان الاعتدال:۳/۱۸۸)
  20. محدثین عظام و حیات و خدمات، صفحہ 77ڈاکٹر محمد عاصم اعظمی، النوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی بلال گنج لاہور
  21. (العبر:۱/۳۲۰ ومرأۃ الحنان:۱/۳۲۳)
  22. (تہذیب التہذیب:۱۰/۲۴۵)