ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل میرون لیزلی مڈلکوٹ (پیدائش: 6 جولائی 1931ء— وفات: 12 دسمبر 1971ء) پاک فضائیہ کے جنگجو پائلٹ تھے۔

میرون لیزلی مڈلکوٹ
معلومات شخصیت
پیدائش 6 جولا‎ئی 1931ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لدھیانہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 12 دسمبر 1971ء (40 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوخا، بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ انتھونی ہائی اسکول  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فلائیٹ پائلٹ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت پاک فضائیہ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1965ء،  پاک بھارت جنگ 1971ء،  جنگ استنزاف  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

 ابتدائی حالات ترمیم

یہ جولائی 1940ء میں لدھیانہ کے ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کا نام پرسی مڈلکوٹ اور والدہ کا نام ڈیزی مڈلکوٹ تھا۔ جب پاکستان بنا تو انکا گھرانہ بھی ہجرت کر کے لاہور میں بس گیا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ اینتھونی ہائی اسکول سے حاصل کی اور بعد ازاں لارنس کالج گھوڑا گلی مری سے استفادہ حاصل کیا۔ انھوں نے 1954ء میں پاکستان ایئر فورس شمولیت اختیار کی۔

کا رہائے نمایاں ترمیم

1965 کی پاک بھارت جنگ میں یہ کراچی کے PAF بیس مسرور میں F86 جہازوں کا ایک سکواڈرن کمانڈ کر رہے تھے۔ اسی جنگ کی ایک رات بھارتی جہازوں نے کراچی پر بھرپور حملہ کیا۔ سکواڈرن لیڈر مڈلکوٹ نے ایک F86 طیارے میں take off کیا اور آناً فاناً میں دشمن کے دو طیارے مار گرائے۔ ان طیاروں کے دونوں بھارتی پائلٹ بھی مارے گئے۔ پوری جنگ کے دوران مڈلکوٹ نے ایسی بہادری کا مظاہرہ کیا کہ ان کے زیر کمان افسر اور جوان بھی ان کی دیکھا دیکھی شیروں کی طرح لڑے۔ جنگ کے اختتام پر ان کی بہادری کے صلے میں انھیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔

شہادت ترمیم

1971 کی پاک بھارت جنگ میں مڈلکوٹ اردن کے دورے پر تھے کہ جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ انھوں نے حکومت سے اپنی فوراً واپسی کی درخواست کی جو مان لی گئی۔ ان کی واپسی کے دوسرے ہی دن ان کو امرتسر ریڈار کو تباہ کرنے کا مشن دیا گیا جس کو انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ناکارہ بنا دیا۔ اسی جنگ کے ایک مشن میں ونگ کمانڈر میرون لیزلی مڈلکوٹ کو دشمن کے ایک جنوبی ہوئی اڈے پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ انھوں نے دشمن کے کئی جہاز زمین پر ہی تباہ کر دیے۔ مگر جب واپس آ رہے تھے تو دو بھارتی MIG21 طیاروں نے انکا پیچھا کیا۔ ان کے اپنی گولیاں ختم ہو چکی تھیں۔ دشمن کے دو میزائلوں سے تو انھوں اپنا دفاع کر لیا مگر ایک تیسرے مزائل کا، جو بھارتی پائلٹ فلائٹ لیفٹننٹ بھارت بھوشن سونی نے مارا تھا، شکار ہو گئے۔ بھارتی پائلٹ نے انھیں بحیرہ عرب کے سمندر میں اس علاقے میں چھتری سے چھلانگ لگاتے دیکھا جو شارک مچھلیوں سے بھرا پڑا تھا۔ ان کی لاش کبھی نہیں ملی۔ وہ اکتیس سال کی بھرپور جوانی میں ہی شہید ہو گئے۔ جنگ کے بعد اس شہید ملت کی اس بے مثال بہادری پر ان کو ایک دوسرے ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ مڈلکوٹ کی شہادت پر اردن کے شاہ حسین نے نہ صرف ان کے اہل خانہ کے ساتھ ذاتی طور پر تعزیت کی بلکہ یہ درخواست بھی کی کہ اگر شہید کو پاکستان کے قومی پرچم کے ساتھ دفنایا جائے تو اس کے ساتھ اردن کے پرچم کو ان کے سر کے نیچے رکھا جائے۔ اس اعزاز کی وجہ 1967ء کے دوران میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں شہید کی خدمات تھیں

دیگر حالات ترمیم

ایک دن ان کی آٹھ سالہ بچی کواسکول کے ایک بچے نے کہا "تمھارا نام عجیب ہے آپ پاکستانی نہیں ہو آپ اس ملک کو چھوڑ دو"۔ یہ روداد سن کر بچی کے والد نے کہا کہ پاکستانی جھنڈے میں سبز حصہ مسلمانوں کی علامت ہے اور سفید حصہ لیزلی کے لیے ہے“۔[1]

مزید دیکھیے ترمیم

حوالہ جات ترمیم

مزیر مطالعہ ترمیم