چندرگپت موریا

موریہ شہنشاہ
(چندر گپت موریا سے رجوع مکرر)

چندر گپت موریا (Chandragpta Maura) ہندوستان کی موریا سلطنت کا بانی تھا۔ عام روایات کے مطابق یہ نند چندر خاندان کا فرد تھا جوکسی بنا پر راجا کی ناراضی سے ڈر کر پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ پنجاب میں چندر گپت پنجاب و سرحد کے غیر مطمئن قبائل کا رہنما بن گیا۔ اس نے اپنے وزیر چانکیا یا کوٹلیا کی مدد سے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ چندر گپت یونانی اثرات کو زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔ چندر گپت سے تاریخ ہند کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جو شمالی ہند کے اتحاد اور ہندو تمذن کی نشونماہ نظام حکومت کی توسیع اور برہمنت کے اثر و رسوخ کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہلا حکمران ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کرکے ایک متحدہ حکومت کی بنیاد رکھی اور اپنی مملکت کو خلیج بنگال سے لے کر بحیرہ عرب تک وسیع کیا۔ اس نے اپنے چوبیس سالہ (322ء تا 298ء ق م) دور میں بڑی بڑی جنگیں لڑیں، جس میں سب سے اہم جنگ سکندر کے سالار سلوکس Seleuces سے لڑی۔

چند گپت موریا
سمراٹ چکرورتیں
سنگِ احمر سے تراشا گیا ایک جوان شخص کا مجسمہ۔
برلا مندر، دلی میں چندر گپت موریا کا بت
موريا شہنشاہ
322 ق م - 298 ق م
پیشرودھنا نند
جانشیناشوک اعظم
شریک حیاتدوردھرا اور سیلیوکس نکیٹر کی ایک بیٹی
نسلبندو سار
خاندانموریا شاہی خاندان
پیدائش340 ق م

پاٹلی پتر، بہار، بھارت
وفات298 ق م

شروبیلگولا، کرناٹک[1]

چندر گپت کے کارنامے

ترمیم

چندر گپت جوانی کے عالم میں تخت پر بیٹھا اور اس نے صرف چوبیس سال حکومت کی۔ جس وقت وہ تخت و تاج سے دست بردار ہوا یا مرگیا اس کی عمر زیادہ سے زیادہ پچاس سال کی ہوگی۔ اپنی زندگی کے اس تھوڑے سے عرصہ میں اس نے بڑے بڑے کام کیے مقدونی فوجوں کو ہندوستان سے نکالنا، سلوکس نکوٹار کو کامل شکست دے کر ملک سے نکالنا، کم سے کم ایک طرف سے لے کر دوسری طرف تک تمام شمالی ہند کو زیر کرنا، ایک زبر دست فوج تیار کرنا اور ایک عظیم انشان اور وسیع سلطنت کا کامل نظم و نسق، یہ تمام کارنامے ایسے ہیں جو کسی طرح بھی بے وقعت نہیں ہو سکتے ہیں۔ چندر گپت کی طاقت ایسی مستحکم ہو چکی تھی کہ نہایت امن و امان کے ساتھ اس کے بیٹے اور پوتے تک منتقل ہو گئی اور یونانی بادشاہوں نے اس سے اتحاد و ارتباط کی خواہش کی یونانیوں نے سکندر اعظم اور سلوکس کے ہندوستانی حملوں کی یاد کو پھر کبھی تازہ نہ کیا اور صرف اسی کفایت کی اس کے باشاہوں کے ساتھ تین پشتوں تک دوستانہ مصلحتی اور تجارتی تعلقات قائم رکھے۔

اٹھارہ برس کے عرصہ میں اس نے مقدونی افواج کو پنجاب و سندھ سے باہر نکالا، سلوکس نکوٹار کو ذلیل کیا اور اپنے آپ کو بلاشرکت غیر سے کم از کم شمالی ہند اور آریانہ کے ایک بڑے حصہ کا شہنشاہ بنا لیا۔ یہ اس کے ایسے کارنامے ہیں جو اس کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دنیا کے عظیم انشان بادشاہوں کی صف میں جگہ پائے۔ وہ سلطنت جو چندر گپت کی سلطنت کی طرح وسیع ہو اور جس میں مختلف عناصر جمع ہو گئے ہوں کمزور شخص کے ہاتھ میں رہے نہیں سکتی ہے۔ وہ زبردست ہاتھ جس نے اس سلطنت کو حاصل کیا ہو اس پر حکومت کرنے میں کامیاب بھی ہوا ہو اور تمام نظم و نسق کا کام نہایت درشتی کے ساتھ کیا جاتا تھا۔ سلوکس کے واپس جانے کے چھ 6 سال بعد چندر گپت مرگیا۔

جین روایات بیان کرتی ہیں کہ چندر گپت موریا مذہباً جین تھا اور اس موقع پر جب بارہ سال علی التصال قحط پڑا تو وہ تخت و تاج سے دست بردار ہو گیا اور جین کے ایک بزرگ بھدراہاہو کے ہمراہ ہند کی طرف چلا گیا اور سنیاسی کی حثیت سے موجودہ ریاست میسور کے سراون بلگول کے مقام پر رہتا رہا۔ بالآخر اسی جگہ جہاں اب بھی اس کا نام یادگار ہے فاقہ کرکے جان دے دی۔ غالباً اس روایت میں کچھ نہ کچھ حقیقت ہے۔

یونانی اثرات کی عدم موجودگی

ترمیم

موریا سلطنت کسی بھی صورت سے سکندر اعظم کی عالی شان ناپائیدار فوجی مہم کا نتیجہ نہ تھی۔ انیس مہینے جو اس کو ہندوستان میں گذرے تمام تباہ کن جنگوں کی نذر ہو گئے اور اس کی موت کی وجہ سے اس کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے اور چندر گپت کو ضرورت نہ تھی کہ وہ سلطنت کے مفہوم کو سکندر کی مثال حاصل کرے۔ اس کے اور اس کے ہم وطنوں کی نظر کے سامنے کیانی سلطنت کا عظیم انشان کارخانہ موجود تھا اور یہی سلطنت تھی جس نے اس کے دل و دماغ پر اثر کیا تھا۔ انھوں نے اسی کے نمونے پر اپنی سلطنت کے آئین کو بنایا جس حد تک وہ خالص ہندی نہ تھے۔ چندر گپت کے دربار اور انتظام میں جہاں کہیں غیر ممالک کے اثر کا شائبہ جن کا ذکر ہماری متفرق اسناد میں پایا جاتا ہے وہ یونانی نہیں بلکہ ایرانی ہیں۔ صوبے دار کے لیے سترپ کا ایرانی خطاب ایک بڑے عرضہ چوتھی صدی عیسوی تک ہندوستان میں مروج رہا۔

پاٹلی پتر

ترمیم

سلوکس نے اپنے ایک سفیر میگھستینز Maghasthenes کو اس کے دربار میں بھیجا، جس نے اس عہد کے حالات تفصیل سے قلمبند کیے ہیں۔ میگھستینز پاٹلی پتر کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ شہر نو 9 میل چوڑا اور ڈیرھ میل لمبا تھا۔ اس کے گرد لکڑی کی مظبوط فصیل تھی جس میں چونستھ 46 دروازے تھے اور اس کے اوپر پانچ سو500 برج تھے۔ فصیل کے باہر ایک وسیع اور عمیق قندق تھی جس میں دریائے سون کا پانی بھرا ہوا تھا۔ شہر کے اندر چندر گپت موریا کا محل تھا جو لکڑیوں کا بنا ہوا تھا اور بہت عالی شان تھا۔ اس کے ستونوں اور دیواروں پر سونے کا پانی پھرا ہوا تھا اور ان پر سونے کی بیلیں اور چاندی کے پرندے منقوش تھے۔ تمام عمارتیں ایک وسیع میدان میں تھیں۔ جس میں مچھلی کے تلاب اور انواع قسم کے نمائشی درخت اور بیلیں پائی جاتی تھیں۔ ہم تک صرف پاٹلی پتر دارلسلطنت کے انتظام کی تفصیل پہنچی ہے۔ مگر ہم اس سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ سلطنت کے اور بڑے شہروں یعنی ٹیکسلا، اجین وغیرہ کا بھی اسی اصول سے انتظام ہوتا ہوگا۔ راجا اشوک کے صوبوں کے نام سے فرمان میں کلنگ کے شہر ٹوسل کے ان افسروں کو مخاطب کیا گیا ہے جو اس کے انتظام کے مجاز تھے۔

بادشاہ اور دربار

ترمیم

یہاں شاہی دربار وحشیانہ اور عیش و عشرت کی شان سے نمودار تھا۔ سونے کے آّفتابے اور پیالے جن میں بعض چھ چھ فٹ ہوتے تھے۔ نہایت عمدہ مرصع اور شاہانی کرسیاں۔ تانبے کے برتن جو جوہرات سے ہوتے تھے اور زر بفت کے زرق برق لباس ہر طرف نظر آتے تھے اور ان کی وجہ سے عام درباروں کے مواقع کی چہل پہل اور شان و شوکت زیادہ ہو جاتی تھی۔ جب کبھی بادشاہ مہربانی کرکے شاہی جشنوں کے کے موقع پر رعایا کے سامنے ظاہر ہوتا تو وہ سونے کی ایک پالکی میں سوار ہوتا تھا۔ جس میں موتیوں کی جھالر ٹکی ہوتی تھی اور خود بادشاہ کا ملبوس خاص نہایت باریک ململ ہوتی تھی، جس پر قرمز اور سونے کا کام ہوتا تھا۔ جب کبھی چھوٹے سفر پر کہیں جاتا تھا تو گھوڑے پر سوار ہوتا تھا۔ لیکن مسافت اگر ذرا طولانی ہوتی تھی ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جس کا ساز و سامان سونے کا ہوتا تھا۔ راجا ہمیشہ سانڈوں، مینڈھوں، ہاتھیوں، گینڈوں اور دوسرے جانوروں لڑائیاں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ دو آدمیوں کی لڑائیاں بھی اس کے لیے تفریح و طبع کا باعث ہوتی تھی۔ ایک عجیب و غریب سامان تفریح بیلوں کی ڈور تھی۔ اس میں شرطیں لگائی جاتی تھیں۔ بادشاہ نہایت دلچسپی سے اس کا تماشاہ دیکھا کرتا تھا۔ اور بیلوں کو گاڑیوں میں جوت کر ڈوراتے تھے اور ان کے علاوہ گھوڑے بھی گاڑیوں میں جوت کر انھیں بھی ڈوراتے تھے۔ راجا کا سب سے بڑا سامان تفریح شکار تھا۔ یہ نہایت تکلف اور نمود سے کیا جاتا تھا۔ ایک گھرے ہوئے میدان میں جانور چبوترے تک جانور لائے جاتے تھے، جہاں راجا بیٹھتا تھا اور وہیں بیٹھے بیٹھے ان کا شکار کرتا تھا۔ لیکن اگر شکار کھلے میدان ہوتا تھا راجا ہاتھی پر سوار ہوتا تھا۔ جب وہ شکار کے لیے شکار پر جاتا تھا تو اس کے ہم رکاب عورتوں کی فوج کا ایک دستہ ہوتا تھا۔ جن کو دوسرے ملکوں سے خرید کر لائے تھے اور یہ تمام ہندی راجاؤں کے دربار کا ایک ضروری جزو ہوا کرتی تھیں۔ شاہی گذر کی سرکوں کو دونوں جانب رسی بنی ہوتی تھی اور اس کے پار جانے کی سزا موت تھی شاہی شکار کے دستور کو چندرا گپتا کے پووتے اشوک نے 952 ق م میں موقوف کر دیا تھا۔ عام طور پر راجا محل میں زیادہ رہتا تھا اور عورتوں کی فوج اس کو گھیرے رہتی تھی۔ محل سے باہر صرف بھینٹ چرھانے یا فوج کشی یا شکار کے موقعوں پر نکلا کرتا تھا۔ غالباً توقع کی جاتی تھی کہ کم از کم ہر روز ایک مرتبہ رعایا کے سامنے آئے، جو عرائض پیش کریں وہ سنے اور بذات خود ان کے مقدمات کا تصفیہ کرے۔ راجا کو چمپی کرانے میں خاص لطف آتا تھا اور دستور یہ تھا کہ جب وہ رعایا کے سامنے ظاہر ہو تو ساتھ چمپی کرتا جاتا تھا۔ جب وہ لوگوں کے مقدمے سنتا تو چار نوکر آبنوس کے تکیوں سے اس کو چمپی کرتے جاتے تھے۔ ایرانی دستور کے مطابق جس کا اثر ہندی درباروں اور نظم و نسق پر بھی پڑا تھا۔ راجا اپنی سالگرہ میں نہایت تزک و احتشام سے اپنے سر کے بال دھوتا تھا۔ سالگرہ کے موقع پر بڑی عید منائی جاتی تھی اور اس موقع بڑے بڑے امرا سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ بیش بہا نذرانے راجا کی خدمت میں پیش کریں۔ اس تزک و احتشام اور شان اور شوکت اور ہر قسم کی حفاظت کے باوجود راجا کبھی بھی سازشوں اور بغاوتوں سے بے خوف نہ ہوتا تھا۔ راجا کی زندگی سازشوں کی وجہ سے اس طرح متواتر خطرے میں رہتی تھی کہ وہ دن کے وقت سونے یا دو راتوں کو لگاتار ایک ہی کمرے میں سونے کو خطرناک سمجھتا تھا۔ (ناٹک نویس نے ہمارے سامنے نہایت بین طور پر وہ سین کھنچ دیا ہے کہ کس طرح زیرک اور تیز فہم برہم مشیر ساشوں اور زہر خوانی کا سوراخ لگایا کرتا تھا اور کس طرح ان بہادر لوگوں کا کھوج لگایا کرتا تھا جو زیر زمین راستوں میں چھپے رہتے تھے)۔ جو چندرا گپت کے سونے کمرے میں جاتے تھے تاکہ رات کے وقت اس میں داخل ہو ہوں اور سوتے ہوئے اسے قتل کر دیں۔

فوجی نظام

ترمیم

اس عہد کی طرح موریہ بھی نیم فوجی حکومت تھی اور طاقت کا دارو مدار فوج پر تھا۔ وہ اپنی فوج کے بل پر ہی اپنی حکومت قائم کی اور لوگوں کے دلوں پر اپنی ہیبت قائم رکھ سکے۔ موریا عہد میں فوج کی تعداد میں اضافہ ہوا اور اس کی تعد بڑھ کر چھ لاکھ سے بھی تجاوز ہو گئی۔ پلینی Pliny کے بیان کے مطابق چندر گپت کی فوج میں چھ لاکھ 600000 پیادہ 30000 تیس ہزار سوار اور نو ہزار 9000 ہاتھی شامل تھے۔ مگھشنز کے بیان کے مطابق اس عظیم انشان فوج کی نگرانی ایک مجلس کے سپرد تھی جو تیس اراکین پر مشتمل تھی اور جو مزید چھ ذیلی مجلسوں میں تقسیم بٹی ہوئی تھی۔ ہر ذیلی مجلس کے سپرد فوج کا خاص حصہ تھا۔ پہلی امیر بحر کی ہمراہی میں بحری جنگ کے معاملات۔ دوسری باربرداری، سامان رسد اور فوجی خدمات جس میں طبلچیوں، سائیسوں، گھسیاروں اور دیگر کاری گروں کو مہیا کرنا۔ تیسری پیادہ فوج۔ چوتھی سوار فوج کا انتظام۔ پانچویں رتھوں کا انتطام۔ چھٹی ہاتھیوں کا انتظام۔ نیایت قدیم زمانے میں ہندی فوج عام طور پر چار حصوں یعنی سواروں، پیادے، ہاتھی اور رتھوں میں تقسیم کیا جاتا تھا اور طبعی طور پر فوج کے ہر حصہ ایک جدا گانہ افسر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔ مگر اس نظام میں رسد اور امیر بحر کا کے محکمے کا اضافہ چندر گپت کی جدت طبع معلوم ہوتی ہے۔ اس کا یہ فوجی نظام بظاہر مکمل تھا۔ چندر گپت کے فوجی نظام میں بھی کوئی یونانی اثر نہیں پایا جاتا ہے اور یہ مبنی ہے اس قدیم ہندی نمونے پر۔ یہ اس کی عظیم انشان فوج محض ایک ترقی یافتہ صورت اس عظیم فوج کی تھی جو کسی زمانے میں مگدھ میں موجود تھی۔ ہندی بادشاہ عموماً فتح کے لیے زیادہ تر ہاتھیوں پر اعتماد کرتے تھے۔ ان سے اتر کر جنگی رتھوں اور پیادہ فوج کی کثرت پر سوار فوج نسبتاً کم اور بیکار ہوتی تھی۔ اس کے برخلاف سکندر نے نہ ہاتھیوں سے کام لیا اور نہ رتھوں سے بلکہ اس نے تمام انحصار نہایت اعلیٰ درجے کے قواعدداں رسالے پر کیا۔ جس کو وہ نہایات ہنر مندی اور جلاوت سے کام لاتا تھا۔ خاندان سلوکس کے بادشاہ بھی ایشائی طریقہ پر کار بند ہوئے اور اسی پر قناعت کی اور ہاتھیوں پر بھروسا کرنے لگے۔ مگھیشنز کے بیان کی تصدیق کسی اورذرائع سے نہیں ہوتی ہے پھر بھی اس سے اتنا اندازہ ہوجاتا ہے کہ موریا عہد میں فوج کا محکمہ منظم اور مستحکم تھا۔ اشوک نے عدم تشدد کے اصول کو اپنایا اور اس محکمہ کی طرف سے غفلت برتی۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ملک فوجی لحاظ سے کمزور ہو گیا اور داخلی انتشار کے ساتھ عرصہ تک بیرونی حملوں کا شکار ہوتا رہا۔

ملکی نظام

ترمیم

چندر گپت کی سلطنت کے اندورنی اور ملکی انتظامت کی جتنی تفصلیں ہم تک پہنچی ہیں اگرچہ وہ اتنی وسیع تو نہیں جتنی کہ چاہیے تھی مگر بہرحال اس قدر تو ہیں کہ ہم اس کے ذریعے سے اس زمانے سے اس کے زمانے کے سلسلہ حکومت کو کافی ددافی طور پر سمجھ سکیں۔ دالسلطنت یعنی پاٹلی پتر میں نظن و نسق کے لیے مجلس بلدیہ مقرر تھی، جس میں تیس آدمی شامل تھی اور محکمہ جنگ کی طرح چھ کمٹیوں میں تقسیم تھی یہ کمٹیاں دراصل عام معمولی پنچایتوں کی ایک سرکاری صورت تھی تھی جس کے ذریعے سے قدیم زمانے سے ہندوستان کی مختلف ذاتیں اور پیشہ ور اپنے باہمی قضیوں کا فیصلہ کیا کرتے تھے۔ بلدیہ کی پہلی کمیٹی کے ذمے صنعت و حرفت کے متعلق تمام معاملات کی نگرانی کرتی تھی اور غالباً مزدوری کی شرح کا تعین بھی اسی کے ہاتھ میں تھا اور شاید ہر وقت اس امر کے لیے تیار رہتی ہو کہ کاریگروں کو مجبور کرے کہ عمدہ اور خالص چیزیں استعمال کریں اور حکومت نے جتنی مزدوری ان کے لیے مقرر کردی ہو اتنا ہی تمام دن میں انجام دیں۔ صناع اور کاریگروں کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ خاص طور پر شاہی ملازم ہیں اور کوئی شخص کسی صناع کے ہاتھ یا آنکھ کو گزند پہنچا کر اس کی کار کردگی کم کردیتا ہے تو اس کی سزا موت ہوا کرتی تھی۔ بلدیہ کی دوسری کمیٹی کے اختیار میں غیر ممالک میں رہنے والوں اور مسافروں کے معاملات تھے اور وہ وہی فرائض ادا کیا کرتے تھے جو کل محکمہ خارجہ کے افسر ادا کرتے ہیں۔ تمام اجنبیوں کو سرکاری افسر اپنی نگاہوں میں رکھتے تھے اور ان کے لیے ان کے حسب حثیت مکان بدرقہ اور ضرورت کے وقت طبی امداد پہنچاتے تھے۔ جو اجنبی مر جاتے ان کی تجہیز و تکفین معقول طور پر کی جاتی تھی۔ ان کی جائدادوں کا انتظام اسی کمیٹی کے اراکین کرتے اور ان کا منافع ان کے وارثوں کو بھیجتے رہتے۔ ان تمام کام انتظامات کا وجود ہی اس بات کا نہایت بین ثبوت ہے کہ تیسری صدی قبل مسیح میں ہندوستان کی موریا سلطنت کے تعلقات بیرونی سلطنتوں کے ساتھ قائم تھے اور کاروبار کے لیے غیر ممالک کے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد دارلسطنت آتی جاتی رہتی تھی۔ تیسری پنچایت کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ اموات اور پیدائش کا باقیدہ طور پر اندراج کرتی رہے اور ہم کو صاف بتایا گیا کہ یہ انداراج اول حکومت کو اعداد سے باخبر رکھنے کے لیے اور دوسرے محاصل کے عائد کرنے میں آسانی کے لیے ہوا کرتی تھی۔ یہ محصول جس کا ذکر کیا گیا ہے کچھ رقم فی کس کے حساب سے سالانہ وصول کیا جاتا تھا۔ چوتھی کمیٹی کے سپرد تجارت اور بیوپار کے اہم معاملات تھے۔ یہ لوگ خرید و فرخت کا انتظام اور بندوست کرتے تھے اور باضابطہ مہر کیے ہوئے اوزاران اور پیمانوں کے استعمال پر لوگوں کو مجبور کرتے تھے۔ سوداگر اجازت نامہ کے لیے ایک محصول ادا کرتے تھے اور وہ سوداگر جو ایک سے زاید اشیاء کا بیوپار کرتا تھا دگنا محصول ادا کیا کرتا تھا۔ ایسے ہی اصول سے پانچوی کمیٹی دست کاروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔ ایک عجیب و غریب قانون کی رو سے پرانے مال اور نئے مال کو جدا جدا رکھنا ہوتا تھا اور اس قائدے کی خلاف ورزی کرنے والا سزا کا مستوجب تھا۔ اس قانون کی اصل وجہ یہ تھی کہ پرانے مال کا لین دین خواہ خرید و فروخت کے لیے ہو اور خوا رہن رکھ نے کے لیے ممنوع تھا۔ تادقتیکہ اس کے لیے حکومت سے اجازت نہ حاصل کر لی جائے اور یہ اجازت چند شرطوں سے دی جاتی تھی۔

چھٹی کمیٹی کا کام یہ تھا کہ فروخت شدہ اسباب کی قیمت سے ایک برائے نام حصہ محصول کے طور پر وصول کررے اور اس محصول کی ادائیگی سے چشم پوشی کی سزا بھی موت ہوا کرتی تھی۔ فروحت شدہ اشیاء پر اس قسم کا محصول کا رواج عام طور پر ہندوستان میں رہا ہے مگر شاذ و نادر ہی اس کو سنگین سزا کا مرتب سمجھا جاتا تھا جیسا کہ چندر گپتا کے زمانے میں۔

ان جدا جدا محکموں کے فرائض کے علاوہ جن کی تفصیل اوپر دی گئی ہے۔ مجلس بلدیہ کے اراکین کا فرض تھا کہ بہیت مجموعی شہر کے تمام معاملات کی نگرانی کریں اور بازاروں، مندروں، بندگاہوں اور عام طور پر تمام عمارت ہائے مجموعہ کی تنظیم و ترتیب اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ دور دراز صوبوں کی حکومت نائبین سلطنت کے سپرد کی جاتی تھی جو عموماً شاہی خاندان کے افراد ہوا کرتے تھے۔ نائبین کے متعلق ہماری معلومات راجہ اشوک کے زمانے میں چندرگپتا کے زمانہ کی نسبت زیادہ ہے۔

آبپاشی

ترمیم

ہندوستان میں آبپاشی کا مناسب انتظام ایک نہایت ہی اہم امر ہے اور اس بات سے چندر گپت کی سلطنت کی خوبی معلوم ہوتی ہے کہ اس نے ایک خاص محکمہ آبپاشی قائم کیا تھا، جس کا یہ فرض تھا کہ زمینوں کی پیمائش کرے اور پانی نالیوں کا ایسا انتظام کرے کہ ہر ایک شخص کو حصہ رسدی معتدبہ مقدار میں پانی مل سکے۔ اراضی کی پیمائش کی طرف سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ پانی کا محصول ضرور لگایا جاتا ہوگا اور نالیوں کے ذکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آبپاشی کا نظام باکل باقیدہ تھا۔ پشی گپتا جو چندر گپتا کا کی حکومت کی طرف سے مغربی صوبوں کا عامل تھا دیکھا کہ ایک چھوٹی سی ندی کو روکنے سے آبپاشی کے لیے ایک نہایت عمدہ تالاب بن سکتا ہے۔ چنانچہ اس نے ایک جھیل سندر سن (یعنی خوبصورت) نامی قلعے کی مشرقی جانب ایک پہاڑی اور اس کے آگے کتبے کی چٹان تک مشرقی زمین کو لے کر تیار کی۔ مگر اس سے سوا اور ضروری نالیاں بنانے میں کامیاب نہ ہوا۔ چندر گپتا کے پوتے اشوک کے زمانے میں اس کے نائب راجا تشاسف ایرانی کی زیر نگرانی جو اس وقت کا گورنر تھا تیار ہوئیں۔ یہ سود مند تعمیر جو موریاؤں کے عہد حکومت میں تیار ہوئی تھی چار سو سال تک کام دیتی رہیں۔ لیکن 051ء؁ کے ایک طوفان نے جو غیر معمولی طور پر شدید تھا اس کے بند کو توڑ دیا اور اس کے ساتھ ہی اس جھیل کو فنا کر دیا۔ یہ امر کہ سلطنت کے ایک ایسے دور دراز صوبے میں آبپاشی کے کام پر اتنا روپیہ اور محنت صرف کی گئی صٓف ظاہر کرتا ہے کہ موریا خاندان کے راجا کھیتوں کے لیے پانی بہم پہنچانا اپنا ایک اہم فرض تصور کرتے تھے۔ ہندوستان کے دیسی قانون کی رو سے ہمیشہ تمام مزروغہ زمین بادشاہی ملک قرار دی گئی ہے اور بادشاہ کا یہ حق تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لگان یا محصول وصول کرے جو یا تو اس کی پیداوار یا اس پیداوار کی قیمت کا ایک معتدبہ حصہ ہوتا تھا۔ اس زمانے میں بندوبست اراضی کی تفصیل ہم تک نہیں پہنچی اور ہم کو یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا ہر سال نیا بندوبست ہوا کرتا تھا یا اس سے زیادہ مدت میں برائے نام تمام پیدا وار کا چوتھائی حصہ سرکار محصول کے طور پر جمع کیا کرتی تھی۔ جیسے کہ اس زمانے میں بھی ہوتی ہے اور یہ ناممکن تھا کہ تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے۔ اس کے علاوہ چند اور غیر مصرحہ ابواب میں بھی وصول کیے جاتے تھے۔ چونکہ فوج میں سپاہی پیشہ نوکر رکھے جاتے تھے اور ان کے لیے جنگجو اقوام سے منتخب کیا جاتا تھا اس لیے کاشکار فوجی خدمت سے مستثنیٰ تھے اور مگھیشنز نہایت تعجب اور حیرت سے بیان کرتا ہے کہ عین اس وقت جب دو حریف بادشاہوں کی فوجوں میں مقابلہ ہو رہا اور کاشکار نہایت اطمینان سے امن کے ساتھ کام کرتا تھا۔

وقائع نویس اور نگرانی

ترمیم

چندر گپتا دور دراز مقامات کے حکام پر خاص لوگوں یعنی وقائع نویسوں کے ذریعے اپنی نگرانی قائم رکھتا تھا۔ جن کو یونانی مصنفین نے منتظم اور مہتم لکھا ہے اور ان کا ذکر اشوک کے فرامین میں شاہی ملازمین (پلسانی کا ستون کا فرمان نمبر 6) یا اخبار نویس کے نام سے کیا گیا ہے (پٹنی وید کا سنگی فرمان نمبر 6) ان افسروں کا یہ کام تھا کے واقعات پر نظر رکھیں اور خفیہ طور پر ان کی خبر صدر حکومت کو دیتے رہیں۔ ایرین کا بیان ہے کہ ایسے افسر ہندوستان میں خود مختار اقوام کی حکومتیں اور شاہی حکومتیں دونوں مقرر کرتی تھیں۔ یہ حکومتیں اس بات کی کسر نہ کرتی تھیں کہ چھاؤنی یا بازار کی فاحشہ عورتوں کو ان وقائع نویسوں کے شریک کے طور پر استعمال کریں اور یقناً یہ عورتیں اکثر اپنے افسران بالا دست کے پاس بہت سے خفیہ بازاری چہ می گوئیوں کے حالات پہنچاتی ہوں گی۔ ایرین کے خبر رساں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ یہ خبریں جو بھیجی جاتی تھیں ہر حال میں درست ہوتی تھیں۔ مگر اس بیان کی صحت کے متعلق بیان کی صحت کے متعلق شک و شبہ کی گنجائش ہے۔ باوجود اس امر کے قدیم ہندوستان کی اقوام اپنی ریاست گوئی اور دیانت داری میں دور دراز ممالک میں شہرت رکھتی تھی۔ مرکزی حکومت مقامی عمال کے ذریعے تمام چیزوں کی نہایت سخت نگرانی کرتی تھی اور اس کی ایسی ہی نگرانی آبادی کی تمام جماعتوں اور ذاتوں پر قائم تھی۔ یہاں تک کہ برہمن منجم اور جوتشی اور قربان گاہ کے مذہبی پیشوا جن کو مگھیشنز غلطی سے ایک علاحدہ جماعت قرار دیتا ہے اس سرکاری نگاہداشت سے نہ بچ سکتے تھے اور ان کو ان کی پیشن گوئیوں سے صحیح یا غلط ہونے کے مطابق یا تو انعام و اکرام تقسیم ہوتا تھا اور یا ان کو سزا دی جاتی تھی۔ کاریگروں اور صناعوں کے طبقہ میں اسلحہ سازوں اور جہاز سازوں کو سرکار کی طرف سے تنخواہ ملتی تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ ان کو سوائے سرکار کے اور کسی کے کام کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ لکڑی کاٹنے والے، نجار، لوہار اور کان کن بعض خاص قواعد کے پابند تھے۔ مگر ان قواعد کا ذکر ہم تک نہیں پہنچا۔

ضابطہ تعزیرات

ترمیم

عوام الناس کی ایمان داری اور دیانت داری اور جرائم کے عمل کا ثبوت میگستیز کے اس بیان سے ملتا ہے کہ جب چندر گپتا کے پراؤ میں جس میں 400000 آدمی جمع رہتے تھے تو روزانہ چوری کی مقدار آٹھ انگریزی پونڈ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ مگر جب کوئی جرم سرز ہوتا تو اس کی سزا بہت سخت دی جاتی تھی۔ ْقطع عضو کے خفیف زخم دینے کی سزا کو بھی ویسا زخم لگایا جاتا تھا اور اس کے علاوہ اس کا ہاتھ بھی کاٹ ڈالا جاتا تھا۔ اگر زخمی کوئی کاریگر ہوتا جو شاہی ملازم ہو تو اس کی سزا موت ہوتی تھی۔ چھوٹی گواہی دینے کے جرم کی سزا ہاتھ اور پاؤں کا قطع کرنا تھی اور غیر مصرحہ جرموں کی سزا یہ دی جاتی تھی کہ مجرم کے سر کے بال کٹوادیے جاتے تھے اور یہ سزا تمام سزاؤں میں سب سے زیادہ شرمناک سمجھی جاتی تھی۔ کسی متبرک درخت کو گزند پہنچانا، فرخت شدہ مال پر بلدیہ کے محصول سے گریز کرنا اور شاہی جلوس میں جب کہ وہ شکار کے لیے جا رہا ہو دخل دینا۔ یہ سب ایسے جرائم جن کی سزائے موت تھی۔ درشتی اور سختی کی ان بیان کی ہوئی مثالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قانون تعزیرات بہ ہیئت مجموعی نہایت سخت اور ظالمانہ ہوگا اور انسانی زندگی کی اس میں کچھ زیادہ پروا نہ کی جاتی ہوگی۔

سڑکیں اور سواریاں

ترمیم

سڑکوں کا انتظام ایک خاص محکمے کے افسران کے ہاتھ میں تھا اور ہر آدھا کوس کے فاصلے پر ستون تعمیر کیے گئے تھے تاکہ وہ فاصلے کی علامت اور نشان کا کام دے سکیں۔ ایک شاہراہ جو جو مسافت میں 0000ا سٹیڈیا تھی جو شمال مغربی سرحد کو دار السلطنت سے ملاتی تھی۔ سٹرپیو کے بیان کے مطابق ہر کس وا ناکس مجاز نہ تھا کہ گھوڑا یا ہاتھی رکھے۔ ان کا رکھنا صرف بادشاہوں کا منصف سمجھا جاتا تھا۔ مگر اس کا اطلاق تمام ملک پر کیا جائے تو بلاشبہ یہ غلط ہے اور ایرین کے تفصیلی اور قابل فہم بیان سے اس کی صحت ہوتی ہے کہ عام طور پر سواری کے لیے گھوڑے، اونٹ گدھے اور ہاتھی استعمال ہوتے تھے۔ ان میں سے ہاتھی صرف امیر اور دولت مند لوگ کام میں لاتے تھے اور وہ خاص طور پر بادشاہوں کی خدمت کے شایاں سمجھے جاتے تھے۔ گدھوں کے سوا جن کو کہ آج کل نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مزید اسٹرپیو مزید بیان کرتا ہے کہ ہاتھی یا اونٹ پر سوار ہونا یا چار گھوڑوں والی رتھ استعمال کرنا اعلیٰ رتبہ کا نشان تھا۔ لیکن ہر شخص مجاز تھا کہ وہ گھوڑے پر سوار ہو یا رتھ میں جوتے۔

تہذیب کا بلند معیار

ترمیم

یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ سکندر اعظم کے زمانے میں شمالی ہند تہذیب کے بلند مرتبے پر پہنچ چکا تھا اور یہ تہذیب یقناً چند گذشتہ صدیوں کے ارتقا کے بعد ہی پیدا ہوئی ہوگی۔ بدقسمتی سے اب تک ایسی کوئی یاد گار دریافت نہیں ہوئی جو کامل یقین کے ساتھ چندر گپت یا اس کے بیٹے کے زمانے کی کہی جاسکے اور اس وجہ سے آثار قدیمہ کے ماہر اب تک کوئی بین شہادت پیش نہ کرسکے جو یونانی مصنفین کے بیان کو ثابت کرتی ہو ہندوستانی عمارتیں اور فنون لطیفہ کی سب سے قدیم مثالیں سوائے چند مثالیں سوائے چند غیر ضروری مستثنیٰ اشیاء کے اشوک ہی کے زمانے کی ہیں۔ لیکن پاٹلی پتر، وسالی ٹیکسلا اور دوسرے قدیم اور مشہور مقامات کھودے گئے اور ان جؤکی تفتیش و تحقیق کماحقہ کی کئی تو یہ ممکن ہے کہ موریا خاندان کے اوائل اور اس سے بھی قدیم زمانے کے آثار طاہر ہوجائیں اور محققین کی سعی اور مشکور ہو۔ یہ بات ممکن نہیں کہ کسی عمارت کے ایسے کھنڈر پائے جائیں جسے پہنچان سکیں۔ کیوں کہ قدیم ہند کی بڑی بڑی عمارتیں عام طور پر لکڑی کی بنائی جاتی تھیں اور اینٹ کو صرف بنیاد رکھنے اور ستون کے نیچے کے حصوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اشوک کے زمانے سے پہلے کی کسی پتھر کی بنی ہوئی عمارت کے نشانات اب تک دریافت نہیں ہوئے ہیں۔ چندر گپت کے زمانے سے بہت پہلے فن تحریر آبادی کی بعض جماعتوں میں عام طور پر رائج ہو چکا تھا۔ اس زمانے میں یونانی مصنفین کی تحریروں کے مطابق درختوں کی چھال اور روئی کے کپڑے کو بطور کاغذ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن یہ تعجب کی بات ہے کہ اس زمانے کا کوئی کتبہ اس وقت تک ایسا دستیاب نہیں ہوا جو زیادہ پائیدار چیز پر کندہ کیا گیا ہو۔ مگر غالباً پتھر یا دھات پر کندہ کیے ہوئے کتبے موجود ہیں اور ممکن ہے کہ جب کبھی اصلی قدیم جگہوں پر کھودا جائے اور ان کی تحقیق کی گئی تو وہ دریافت ہوں۔

حوالہ جات

ترمیم
  • ماخذ ڈاکٹر معین الدین، قدیم مشرق جلد دؤم
  • وسینٹ اے سمتھ۔ قدیم تاریخ ہند
  1. Chandragupta Maurya and his times By Radha Kumud Mookerji, 4th ed. 1966, p.40. ISBN 81-208-0405-8; 81-208-0433-3

بیرونی روابط

ترمیم