کفیل الرحمن نشاط عثمانی

ہندوستانی مسلم عالم

کفیل الرحمٰن نشاط عثمانی (5 مارچ 1942 – 1 اگست 2006) ایک ہندوستانی مسلم عالم، فقیہ اور شاعر تھے۔ انہوں نے دار العلوم دیوبند کے مفتی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ عزیز الرحمن عثمانی کے پوتے تھے۔

کفیل الرحمن نشاط عثمانی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 5 مارچ 1942[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 1 اگست 2006 (64 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مزار قاسمی  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند
جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر،  مفتی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عثمانی کی پیدائش 5 مارچ 1942 کو دیوبند میں ہوئی تھی۔ انہوں نے دار العلوم دیوبند اور جامعہ علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے فتاوی عالمگیری کا اردو زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ ان کی وفات 1 اگست 2006 میں ہوئی۔

نام اور نسبترميم

ان کا نام کفیل الرحمٰن تھا اور  ان کا نسب کفیل الرحمٰن ابن جلیل الرحمٰن ابن عزیز الرحمن عثمانی ابن فضل الرحمن عثمانی ہے۔[2]

سوانح حیاتترميم

عثمانی 5 مارچ 1942 کو دیوبند کے عثمانی خانوادے میں پیدا ہوئےـ ان کے والد جلیل الرحمٰن عثمانی تھے جو عزیز الرحمن عثمانی کے بیٹے تھے اور دار العلوم دیوبند میں تجوید اور قیراءت کے استاد تھےـ

عثمانی نے 1961ء میں دار العلوم دیوبند سے فضیلت اور  1975ء میں جامعہ علی گڑھ سے عربی میں ایم اے کی سند حاصل کیں۔ سید فخر الدین احمد اور محمد طیب قاسمی ان کے اساتذہ تھے۔

1971ء میں عثمانی دار العلوم دیوبند میں بطور مفتی مقرر ہوئے۔ انہوں نے 32 سال تک اپنی خدمات انجام دیں، اِس دوران انہوں نے پچاس ہزار سے زیادہ مذہبی احکامات جاری کیے۔ وہ ایک شاعر بھی تھے، انہوں نےاردو شاعری کی صنف غزل، حمد، نعت، نظم، مرثیہ اور قصیدہ لکھے۔

عثمانی کا انتقال 1 اگست 2006ء کو ہوا، انہیں قاسمی قبرستان میں ان کے دادا عزیز الرحمن عثمانی کی قبر کے پاس دفنایا گیا۔[2] ان کی نماز جنازہ ان کے بڑے بھائی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے پڑھائی۔[2]

ادبی کارنامےترميم

مصنف کی حیثیت سے عثمانی  نے اپنا شعری مجموعہ شناسہ، زیارتِ قبور، حیاتِ ابن عباّس، حیاتِ سلمان فارسی، حیاتِ ابو ہریرہ، سراج العدہ اور  آئینئہ بدعت لکھا۔

عثمانی نے عربی اور فارسی زبان سے اردو زبان میں "درسِ نظامی" سے متعلق متعدد کتابوں کا ترجمہ اور تشریح کیں۔ عربی-اردو ترجموں میں سراج المعنی، سراج الوِقایہ (شرح لوقایہ کا اردو ترجمہ اور تفسیر)، سراج المطالب، تفہیم المسلم (شبیر احمد عثمانی کی فتح الملہم کا اردو ترجمہ اور تفسیر) اور فتاوی عالمگیری شامل ہیں۔ فارسی-اردو ترجموں میں گلزارِ دبِستاں، تحفتہ المواحّدین، مسائلِ عربائین اور بہاالدین نقشبند کی رباعیات شامل ہیں۔

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی: https://id.loc.gov/authorities/n2012201898
  2. ^ ا ب پ نور عالم خلیل امینی، پس مرگ زندہ، صفحہ 784 

کتابیاتترميم

  • نور عالم خلیل امینی. "مفتی دار العلوم دیوبند: مولانا کفیل الرحمن نشاط عثمانی". پس مرگ زندہ (ایڈیشن پانچواں، فروری 2017). دیوبند: ادارہ علم و ادب. صفحات 777–789.