شاعر، مزاح نگار،[1][2] اصلی نام شیر محمد خان تھا اور تخلص انشا. آپ 15 جون 1927ء کو جالندھر کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔[1][2][3] 1946ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے اور 1953ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1962ء میں نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ٹوکیو بک ڈولپمنٹ پروگرام کے وائس چیئرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگرام ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے۔ روزنامہ جنگ کراچی اور روزنامہ امروز لاہورکے ہفت روزہ ایڈیشنوں اور ہفت روزہ اخبار جہاں میں ہلکے فکاہیہ کالم لکھتے تھے۔ دو شعری مجموعے، چاند نگر اور اس بستی کے کوچے میں 1976ء شائع ہوچکے ہیں۔ 1960ء میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔

ابن انشا
Insha.jpg

معلومات شخصیت
پیدائش 15 جون 1927  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پھلور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 جنوری 1978 (51 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات لیمفو ما  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت پاکستانی
عرفیت انشا
عملی زندگی
صنف غزل
تعليم ایم اے
مادر علمی جامعہ کراچی
جامعہ پنجاب  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ اردو شاعر، مزاح نگار، سفر نامہ نگار اور کالم نگار
کارہائے نمایاں اردو کی آخری کتاب
چلتے ہو تو چین کو چلیے
خمارِ گندم
دنیا گول ہے
ابن بطوطہ کے تعاقب میں
اعزازات
ابن انشا دستخط.svg
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

کتابیاتترميم

شاعریترميم

  • اس بستی کے اک کوچے میں [2][4]
  • چاند نگر[2]
  • دلِ وحشی[2]
  • بلو کا بستہ (بچوں کے لیے نظمیں)

سفر نامےترميم

ابن انشاء نے یونیسکو کے مشیر کی حیثیت سے متعدد یورپی و ایشیائی ممالک کا دورہ کیا تھا۔ جن کا احوال اپنے سفر ناموں میں اپنے مخصوص طنزیہ و فکاہیہ انداز میں تحریر کیا۔ اُن کے سفرنامے درج ذیل ہیں۔

  • آوارہ گرد کی ڈائری
  • دنیا گول ہے[2]
  • ابن بطوطہ کے تعاقب میں
  • چلتے ہو تو چین کو چلئے[2]
  • نگری نگری پھرا مسافر[2]

مضامینترميم

مکتوباتترميم

  • خط انشا جی کے [2]

تراجمترميم

  • اندھا کنواں

انتقالترميم

آپ کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن میں ہوا۔ کراچی میں تدفین ہوئی. 1978ء کو ہی صدارتی تمغا حسن کارکردگی ملا

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب "Ibn-e-Insha remembered". Times of Ummah.com. 12 January 2012. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2012. 
  2. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ "34th death anniversary of Ibn-e-Insha today". Dunya News.TV. 11 January 2012. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2012.  الوسيط |archiveurl= و |archive-url= تكرر أكثر من مرة (معاونت); الوسيط |archivedate= و |archive-date= تكرر أكثر من مرة (معاونت)
  3. "Ibn-e-Insha: nagri nagri phira musafir". Pakistaniat.com. 6 February 2008. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2012. 
  4. "31st death anniversary of Ibne Insha observed". Daily Times.com.pk. 12 January 2009. 24 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2012.