احمد یمنی شروانی

عالم، مصنف

شیخ احمد یمنی شروانی (پیدائش: 1786ء— وفات: 21 مئی 1840ء) عالم، فقیہ اور مصنف تھے۔ شیخ احمد شروانی مصنفین درسِ نظامی میں شمار کیے جاتے ہیں۔

احمد یمنی شروانی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1786  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الحدیدہ،  یمن  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 مئی 1840 (53–54 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پونہ ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عالم،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سوانحترميم

خاندان اور ابتدائی حالاتترميم

نام احمد ہے جبکہ والد کا نام محمد تقی ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے: احمد بن محمد تقی بن محمد علی بن ابراہیم شروانی۔ اپنے جد کی نسبت سے شروانی کہلاتے تھے۔آپ کا نسب صحابی رسول حضرت جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ (متوفی 78ھ مطابق 697ء) سے ملتا ہے۔ احمد شروانی کی پیدائش 1200ھ مطابق 1786ء میں یمن کے شہر حُدَیدہ میں ہوئی۔ احمد شروانی کے آبا و اجداد مدینہ منورہ سے ہجرت کرکے بغداد چلے گئے تھے اور بعد ازاں معاش کے سلسلے میں بغداد سے ہمدان آگئے تھے۔ احمدشروانی کے پردادا مرزا ابراہیم ہمدانی شہنشاہ فارس نادر شاہ افشار کے وزیر ہو گئے۔ اُنہوں نے نادر شاہ افشار کے مظالم کو دیکھتے ملازمت سے استعفا دے دیا اور نجف الاشرف میں سکونت اختیار کرلی۔اُن کے فرزندِ رشید مستوفی الملک محمد علی نادر شاہ افشار کے قہر و غضب کا شکار ہوکر قتل کردیے گئے۔ مستوفی الملک کے بیٹے محمد تقی روپوش ہو گئے اور شیخ محمد کا نام اختیار کرکے شروان نامی علاقہ میں رہنے لگے۔ بعد میں نجف الاشرف پہنچے اور سید مہدی طباطبائی مجتہدالعصر کے سامنے زانوئے تلمذ اِختیار کیا۔ نادر شاہ افشار کے زمانے میں شیخ محمد کے چچا مرزا محمد حسن خاں ہندوستان کے شہر بنارس آگئے لیکن اُن کی آمد کے تھوڑے ہی دِن کے بعد مرزا محمد حسن خاں کا اِنتقال ہو گیا۔ شیخ محمد کی اولاد سے اُن کا نباہ نہ ہو سکا اور وہ بنارس چھوڑ کر لکھنؤ چلے گئے۔ لکھنؤ میں اُن دِنوں نواب آصف الدولہ، وزیرالممالک اَوَدھ (متوفی 21 ستمبر 1797ء) کی حکومت تھی۔ اُنہوں نے خوب آؤ بھگت کی اور یہاں زِندگی آرام و آسائش میں بسر ہونے لگی۔کچھ مدت کے بعد محمد تقی یمن چلے گئے اور وہاں ایک تاجر سید محمد حیدر بغدادی کی بیٹی سے شادی کرلی جن کے بطن سے شیخ احمد شروانی پیدا ہوئے۔[1]

تعلیم و تدریسترميم

شیخ احمد نے معروف علمائے عصر محسن النخعی، محمد بن عزّ الدین حسین شیخ بہاء الدین عاملی (متوفی یکم ستمبر 1621ء)، علی الزبیری اور ابراہیم الصنعائی سے اِکتساب علم کیا۔ عنفوانِ شباب میں ہندوستان چلے آئے اور مختلف شہروں کی سیاحت کے بعد کلکتہ پہنچے۔ کلکتہ میں مدرسہ عالیہ کے سیکرٹری ڈاکٹر لیمسڈاؤن (Lamsdown) سے ملاقات ہوئی۔ لیمسڈاؤن نے مدرسہ عالیہ میں عربی زبان کی تدریس کی خدمت پر شیخ احمد کو مامور کیا۔ مدرسہ عالیہ میں شیخ احمد کتنی مدت تک رہے؟ اِس کے متعلق مدرسہ عالیہ کا تاریخ نگار لکھتا ہے کہ: ’’اِس (اَمر) کا پتہ نہ چل سکا کہ آپ کتنے دِنوں تک مدرسے میں رہے، البتہ ڈاکٹر لیمسڈاؤن کے سیکرٹری رہنے کا زمانہ 1821ء سے شروع ہوتا ہے۔ اِس سے ظاہر ہے کہ آپ اِس کے بعد تشریف لائے ہوں گے اور 1830ء سے پہلے چلے گئے ہوں گے کیونکہ اِس سال ڈاکٹر لیمسڈاؤن مدرسہ عالیہ سے رخصت ہو گئے تھے۔‘‘[2]

مدرسہ عالیہ سے ترکِ تعلق کے بعد کولکتہ سے لکھنؤ آگئے اور نواب اودھ غازی الدین حیدر شاہ (متوفی 19 اکتوبر 1827ء) کے مصاحب بن گئے۔ رکن الدولہ سید محمد اسماعیل خاں رِضوی مرشدآبادی کی بیٹی سے شادی ہوئی۔ نواب اودھ غازی الدین حیدر شاہ کی وفات کے بعد لکھنؤ سے اُن کا دِل اُچاٹ ہو گیا اور لکھنؤ چھوڑ کر بنارس چلے گئے۔ بنارس میں قیام کے دوران ہی وہ نواب جہانگیر محمد خان، نواب بھوپال کے اتالیق مقرر ہوئے اور ریاست بھوپال چلے گئے۔ غالباً یہ واقعہ 1830ء کے بعد پیش آیا ہوگا۔

وفاتترميم

ریاست بھوپال میں نواب جہانگیر محمد خان کے ابتدائی زمانہ حکومت تک رہے۔ بعد ازاں بمبئی کی سیروسیاحت کرتے ہوئے پونہ پہنچے۔ پونہ میں قیام کے دوران ہی 19 ربیع الاول 1256ھ مطابق 21 مئی 1840ء کو انتقال ہوا۔[3][4] شیخ احمد شروانی کے بیٹے محمد عباس شروانی رفعتؔ مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ دہلوی (متوفی 15 فروری 1869ء) کے شاگرد تھے۔

تصانیفترميم

شیخ احمد شروانی کی تصانیف یہ ہیں:

  • نفحۃ الیمن: یہ کتاب اُنہوں نے مدرسہ عالیہ، کلکتہ کے دورانِ قیام میں لکھی تھی۔ مدتِ دراز تک مدرسہ عالیہ کے نصاب میں شامل رہی۔
  • عجب العجائب بمایفید الکتاب : یہ عربی مکتوبات کا مجموعہ ہے۔
  • الجوہر الوقاد فی شرح قصیدہ بات سعاد
  • مناقب حیدریہ: یہ کتاب نواب اودھ غازی الدین حیدر شاہ کی تعریف و منقبت میں لکھی گئی تھی۔ ت
  • اج الاقبال فی تاریخ ملک بھوپال
  • حدیقۃ الافراح
  • منہج البیان
  • الشافی
  • جوارس التفریح
  • بحرالنفائس
  • المکاتیب: مولوی رشید الدین خان دہلوی کے مکاتیب کا مجموعہ ہے۔[5]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. اختر راہی: تذکرہ مصنفین درس نظامی، صفحہ 61۔
  2. تاریخ مدرسہ عالیہ: جلد دؤم،  صفحہ 183۔
  3. مالک رام: تلامذہ غالب، صفحہ 127، مطبوعہ 1957ء۔
  4. اختر راہی: تذکرہ مصنفین درس نظامی، صفحہ 62۔
  5. اختر راہی: تذکرہ مصنفین درس نظامی، صفحہ 64۔