الیکزینڈر کداکن (انگریزی: Alexander Kadakin) بھارت میں روس کے روس کے سفیر تھے۔ وہ ہندی اور انگریزی سے کئی کتابوں کا روسی زبان میں ترجمہ کر چکے تھے۔ وہ پچاس سائنسی مضامین ہندوستان اور روس کے جرائد میں شائع کر چکے تھے۔ وہ 2004ء میں روسی سكھ کے معزز سفارتکار کا خطاب حاصل کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک استاد اور روسی قدرتی سائنس اکیڈمی کے رکن تھے۔ وہ ایک ماہر السنہ بھی تھے۔ روسی کے علاوہ انگریزی، ہندی، اردو، فرانسیسی اور رومانیانی زبان جانتے تھے۔[2]

الیکزینڈر کداکن
(روسی میں: Александр Михайлович Кадакин ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
The Ambassador-Designate of Russia, Mr. Alexander M. Kadakin presented his credentials to the President, Smt. Pratibha Devisingh Patil, at Rashtrapati Bhavan, in New Delhi on November 20, 2009.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 22 جولا‎ئی 1949  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کیشیناو  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 جنوری 2017 (68 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نئی دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات عَجزِ قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Russia.svg روس  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ماسکو اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی تعلقات  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سفارت کار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن  (2018)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیدائشترميم

كداكن کی پیدائش 22 جولائی، 1949ء کو سوویت یونین کے کیشیناو شہر میں ہوا۔ وہ بنیادی طور پر روسی تھے۔[2]

تعلیمترميم

كداكن نے سوویت یونین کے خارجہ امور کی وزارت کے تحت ماسکو سرکاری ادارے (یونیورسٹی) سے آنرز کے ساتھ 1972ء میں اپنی گریجویشن کی تعلیم مکمل کی۔[2]

کامترميم

كداكن 1972ء سے 2017ء تک مختلف روسی سفارتی خدمات سے جڑے ہوئے تھے۔ اپنی اس مدت کے دوران ہی 1979 - 85 کے درمیان وہ ماسکو بین الاقوامی امور کے ریاستی ادارے کے مطالعۂ ہند (Indian Studies) شعبے میں مددگار پروفیسر بھی رہے۔[2] بھارت میں روسی سفارت میں انہوں نے 25 سے زیادہ سال خدمت کی ہے۔ اس کے لیے انہیں 24 مئی 2013ء کو دہلی میں تقریب میں دہلی سٹڈی گروپ نامی ادارے کے صدر وجئے جولی کی طرف سے تمغۂ اعزاز بھی پیش کیا گیا تھا جو دہلی سے تعلق رکھنے والے سابق رکن پارلیمان ہیں۔[3]

حوالہ جاتترميم

بیرونی روابطترميم