محمد بن عبد اللہ کی ولادت مشہور قول کے مطابق ماہ ربیع الاول عام الفیل بمطابق 570ء یا 571ء کو ہوئی، نام محمد اور احمد جبکہ کنیت ابو القاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق محمد اللہ کی طرف سے انسانیت کی جانب بھیجے جانے والے انبیائے اکرام کے سلسلے کے آخری نبی ہیں جن کو اللہ نے اپنے دین کی درست شکل کی تبلیغ کے لیے دنیا میں بھیجا تھا اور محمد کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آیا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق محمد دنیا کی تمام مذہبی شخصیات میں سب سے کامیاب شخصیت تھے۔

محمد پر قرآن کی پہلی آیت چالیس برس کی عمر میں نازل ہوئی۔ ان کا وصال 63 سال کی عمر میں 632ء میں مدینہ میں ہوا، مکہ اور مدینہ دونوں شہر آج سعودی عرب میں حجاز کا حصہ ہیں۔ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف کے والد کا انتقال ان کی دنیا میں آمد سے تقریباً چھ ماہ قبل ہو گیا تھا اور جب ان کی عمر چھ سال تھی تو ان کی والدہ آمنہ بنت وہب بھی اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں "جس کی تعریف کی گئی"۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا عبد المطلب نے رکھا تھا۔ محمد کو رسول، خاتم النبیین، حضور اکرم، رحمت للعالمین اور آپ کے القاب سے پکارا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے نام و القاب ہیں۔ نبوت کے اظہار سے قبل رسول محمد نے اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ اپنی سچائی، دیانت داری اور شفاف کردار کی وجہ سے محمد عرب قبائل میں صادق اور امین کے القاب سے پہچانے جانے لگے تھے۔ بعد ازاں وہ اپنا کثیر وقت مکہ سے باہر واقع ایک غار میں جا کر عبادت میں صرف کرتے تھے، اس غار کو غار حرا کہا جاتا ہے۔ یہاں پر 610ء میں ایک روز جبریل (فرشتہ) ظاہر ہوئے اور محمد کو اللہ کا پیغام دیا۔


۔۔۔وثائق مزید۔۔۔