بو علی شاہ قلندر

خلجی زمانے کے ولی

ﺣﻀﺮﺕ ﺷﺎﮦ ﺷﺮﻑ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﻮﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺭحمۃ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺁﭖ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎﺋﮯ ﮐﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻣﺠﺎﺫﯾﺐ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻣﺸﺎﺋﺦ ﭼﺸﺖ ﮐﮯ ﺭﺍﮨﻨﻤﺎﺷﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻮﻡ ﺩﯾﻨﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﺎﺭﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﺎﮨﺪﮦ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ، ﺟﺐ ﺟﺬﺏ ﻭ ﺳﮑﺮ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﻠﻤﯽ ﯾﺎﺩ ﺩﺍﺷﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺎ، ﺧﺎﻧﻮﺍﺩۂ ﭼﺸﺖ ﺍﮨﻞ ﺑﮩﺸﺖ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ۔ ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺮﯾﺪ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻔﺎﺀ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼ ﺗﮭﺎ۔ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﻼﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﻠﺠﯽ ﺍﻭﺭ جلال الدین خلجی ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﮯ حلقۂ ﻣﺮﯾﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔

سّید شاہ شرف الدین المعروف بوعلی شاہ قلندر

معلومات شخصیت
پیدائش 605ھ رمضان المبارک جمعہ
پانی پت
وفات 724ھ [[13 رمضان بمطابق سیر الاقطاب] منگل 3 شنبہ۔ (کل عمر :119 سال)
پانی پت، بوڈھا کھیڑا کرنال، بھارت
رہائش پانی پت
گنجہ  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت متحدہ ہندوستان
دیگر نام حسینی، فخری اور ہاشمی
والدین سید سالار فخر الدین

بی بی حافظہ جمال

ان دونوں حضرات کے روضے پانی پت کے شمال میں واقع ہیں
عملی زندگی
پیشہ صوفی،شاعر،قلندر،مست الی یوم الست
وجہ شہرت امام سلسلہ عالیہ قلندریہ
متاثر سید غوث علی شاہ قلندر ،کرنال ہریانہ انڈیا مفتی جمال الدین قلندر بغدادی ،روات راولپنڈی پاکستان


نام ونسبترميم

اسم گرامی: حضرت شاہ شرف الدین۔لقب: بو علی قلندر۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: کہ حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر بن سالار فخر الدین زبیر بن سالار حسن بن سالار عزیز بن ابوبکر غازی بن فارس بن عبدالرحمٰن بن عبدالرحیم بن دانک بن امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ (اقتباس الانوار:516)۔آپ علیہ الرحمہ پانی پت کےقدیم باشندے ہیں۔چنانچہ آپکے والدین یعنی سالار فخر الدین اور بی بی حافظہ جمال کے مزارات پانی پت کے شمال کی طرف اب بھی موجود ہیں۔(ایضا:516)

ﺳﯿﺮﺍﻻﻗﻄﺎﺏ ﮐﮯ ﻣﺼﻨﻒ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﺑﻮﺣﻨﯿﻔﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠۂ ﻧﺴﺐ ﭼﻨﺪ ﻭﺍﺳﻄﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺳﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺷﯿﺦ ﺷﺮﻑ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺑﻦ ﺳﺎﻻﺭ ﻓﺨﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﻦ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﺳﺎﻻﺭ ﻋﺰﯾﺰ ﺑﻦ ﺍﺑﺎﺑﮑﺮ ﻏﺎﺯﯼ ﺑﻦ ﻓﺎﺭﺱ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺫﺍﻟﮏ ﺑﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﻧﻌﻤﺎﻥ ﺍﺑﻮﺣﻨﯿﻔﮧ ﮐﻮﻓﯽ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﺑﻦ ﻧﻌﻤﺎﻥ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻋﻨﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ۔

ﺳﯿﺮﺍﻻﻗﻄﺎﺏ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﮕﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﯾﻮﮞ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﻣﺮﯾﺪ ﻭ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺷﯿﺦ ﻋﺎﺷﻖ ﺧﺪﺍﺩﺍﺩ، ﺷﯿﺦ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﺪﺍﻝ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺷﯿﺦ ﺑﺪﺭﺍﻟﺪﯾﻦ ﻏﺰﻧﻮﯼ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺨﺘﯿﺎﺭ ﺍﻭﺷﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ۔

بوعلی قلندر کہلانے کی وجہ تسمیہترميم

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےجب آپ کودریاسےباہرنکالاآپ اسی وقت سےمست الست ہو گئے ،ہر وقت حالتِ جذب میں رہنے لگے،اور اسی دن سے شرف الدین بوعلی قلندرکہلانےلگے۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:87)۔( رافضی ملنگوں نے عوام میں یہ مشہور کیا ہوا ہےکہ اللہ تعالیٰ نےحضرت شرف الدین قلندرسےپوچھا مانگ کیا مانگتا ہے: حضرت قلندر نےعرض کیا باری تعالیٰ! مجھے مولا علی جیسا بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:علی نہیں بن سکتا۔تجھے علی جیسا بنانے کےلئےمجھے دوسرا کعبہ بنانا پڑےگا۔لہذا تجھے ’’بو علی‘‘ بنادیتا ہوں،مولا علی کی خوشبو۔یعنی مولا علی بنانا تو آسان ؟،اور کعبہ مشکل ہے۔لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔تونسوی غفرلہ)

تاریخِ ولادتترميم

آپ کی ولادت باسعادت 605ھ،مطابق 1209ء کو پانی پت (ہند) میں ہوئی۔

تحصیلِ علمترميم

آپ نے اکتسابِ علم میں بہت کوشش کی۔حدیث،فقہ،صرف ونحو،تفسیرمیں اعلیٰ قابلیت حاصل کی،عربی و فارسی زبان میں عبورحاصل تھا،آپ نےجلدہی تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی۔آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہوکررُشدوہدایت میں مشغول ہوئے۔مسجدقوت الاسلام میں وعظ فرماتے تھے اور یہ سلسلہ بارہ سال تک جاری رہا۔ بیعت وخلافت: آپ کی بیعت وخلافت میں بہت اختلاف ہے۔بعض کاخیال ہے کہ آپ مریدوخلیفہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی(رحمتہ اللہ علیہ)اورتعلیم یافتہ حضرت شیخ شہاب الدین کےعاشق تھے۔بعض کاخیال ہےکہ آپ مریدوخلیفہ حضرت نجم الدین قلندرکےتھے۔بعض کےنزدیک آپ مریدوخلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین عاشق خداکےتھے،جومریدوخلیفہ حضرت امام الدین ابدال کے تھےاوروہ مریدوخلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی(رحمتہ اللہ علیہ)کےتھے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ مریدوخلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء(رحمتہ اللہ علیہ)کےہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ کو مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے نسبت اویسیہ تھے،اور مولا علی پاک ہی آپ کے مربی اور مرشد ہیں،نیز آپکی باطنی تربیت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی فرمائی

سیرت وخصائصترميم

غواص بحرِ عشق ومحبت،سالار قافلۂ میخانۂ وحدت،امام العارفین،قدوۃ السالکین،عارف اسرارِ رحمانی،واصل انوار ربانی،حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندر رحمۃ اللہ علیہ۔حضرت بو علی قلندر علیہ الرحمہ اولیائے کبار،اور مشائخِ نامدار میں سے ہیں۔آپ علیہ الرحمہ صاحبِ کرامت وفضیلت بزرگ ہیں۔آپ خاندانی،نسبی،علمی شرافتوں اورفضیلتوں سے مالا مال تھے۔آپ کے والد گرامی اور والدہ ماجدہ صاحبِ تقویٰ وکرامت تھے۔آپ کے والدین نےآپ کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی،آپ کاشمار اس وقت کےفاضلین وواعظین میں ہونے لگا۔آپ نے تیس سال تک قطب مینار دہلی میں تدریس فرمائی۔[1]۔ ایک مرتبہ آپ مسجد میں لوگوں کو وعظ فرما رہے تھےکہ مسجدمیں ایک درویش آیااوربآوازبلندیہ کہہ کر چلاگیاکہ "شرف الدین جس کام کےلئےپیداہواہےاس کوبھول گیا،کب تک اس قیل وقال میں رہے گا"۔یعنی حال کی طرف کب آؤ گے۔بس اس فقیر کی صدا ایک چوٹ بن کر دل پر لگی۔ویرانے کی طرف عبادت وریاضت میں مشغول ہو گئے،پھرطبیعت پر جذب کی کیفیت کا غلبہ ہو گیا۔جب جذب و سکر کی انتہا ہو گئی تو اپنی تمام کتابوں اور قلمی یاد داشتوں کو دریا میں پھینک دیا،اور دریا میں مصروفِ عبادت ہو گئے۔آپ ایک عرصے تک دریامیں کھڑے رہے۔پنڈلیوں کاگوشت مچھلیاں کھاگئیں۔حضرت خضر علیہ السلام سےملاقات ہوئی،اسی طرح بارہ سال گزرگئے۔ ایک روزغیب سےآواز آئی۔"شرف الدین!تیری عبادت قبول کی،مانگ کیامانگتاہے"۔دوبارہ پھرآوازآئی کہ۔"اچھاپانی سےتونکل"۔آپ نےعرض کیاکہ"خودنہیں نکلوں گاتواپنےہاتھ سےنکال"۔توحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نےاپنے ہاتھ مبارک سےآپ کودریا سےنکالا۔اس سےوجدانی کیفیت اوراستغراق میں مزید اضافہ ہو گیا۔ آخر آپ مجذوب ہو گئے اور جذب و شوق میں اس قدر مستغرق ہوئے کہ دائرہ تکلیف شرعی سے باہر ہو گئے۔۔ شیخ محمد اکرم قدوسی صاحبِ اقتباس الانوار فرماتے ہیں: ’’حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فردِ کامل اور مظہر کل تھے اور آپ کا تفرد کلی (مکمل فرد ہونا) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے طفیل تھا کیونکہ آپ کو حضرت امیرالمومنین علی سے بلاواسطہ تربیّت حاصل ہوئی تھی۔ جس کی بدولت آپ جمیع کمالات و ولایت و خلافت ِکبریٰ پر فائز ہوئے۔اسی طرح حضرت بو علی قلندر کی نسبت اویسیہ حاصل ہوئی،اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپ کے مربی تھے۔ اس فقیر راقم الحروف کو ابتدائے سلوک میں جس قدر فیوض و برکات حضرت بوعلی قلندر سے حاصل ہوئے اگر انکو بیان کیا جائے تو ایک مستقل کتاب وجود میں آجائیگی‘‘۔ [2]

حالتِ جذب میں احترامِ شریعتترميم

اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: حقیقی مجذوب کی علامت یہ ہے کہ حالتِ جذب میں بھی شریعتِ مصطفیٰﷺ کی مخالفت نہیں کرےگا،اور شریعتِ مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرےگا۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت:217)۔ حضرت بو علی شاہ قلندر پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجذوب کی پہچان دُرُود شریف سے(بھی) ہوتی ہے۔اس کے سامنے دُرُود پاک پڑھا جائے تو مُؤدَّب (یعنی با ادب)ہوجاتا ہے ۔ آپ علیہ الرحمہ نےتیس سال تک سخت سےسخت مجاہدےکئے۔ہروقت عبادت الٰہی میں مشغول ومستغرق رہتےتھے۔آپ پرجذب الٰہی اس درجہ غالب تھاکہ آپ کو اپنی خبرنہ تھی۔قلندرانہ روش اورمجذوب ہونےکےباوجود آپ شریعت کا بہت احترام کرتےتھے۔ایک مرتبہ ایسا ہواکہ آپ کی مونچھوں کےبال بڑھ گئےکسی کی ہمت نہ تھی کہ آپ سےکہتاکہ مونچھوں کےبال کٹوادیں۔

آخرکارمولاناضیاءالدین سنامی سےرہانہ گیا۔مولاناضیاءالدین سنامیرحمتہ اللہ علیہ نےاس کو خلاف ِشرع سمجھ کرآپ کی داڑھی پکڑی اورقینچی ہاتھ میں لےکر آپ کی مونچھوں کےبال کاٹ دیے۔آپ نےکوئی اعتراض نہ کیا۔اس واقعہ کےبعدآپ اپنی داڑھی کو چوماکرتےتھےاورفرماتےتھے:"یہ شریعت محمدی ﷺ کےراستے میں پکڑی جاچکی ہے"۔ [3] آپ نےکئی کتابیں لکھی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "حکم نامہ شرف الدین"کےنام سےمشہو رہے۔آپ شاعربھی تھے۔آپ کاکلام حقائق ومعارف ،ترک وتجرید،عشق ومحبت کی چاشنی میں ڈوباہوا ہے۔آپ کےخطوط مشہورہیں۔یہ خطوط آپ نے اختیارالدین کےنام تحریرفرمائےہیں۔آپ کےخطوط تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔آپ کے مرید اور خلفاء کا ایک سلسلہ تھا جو برصغیر کے علاوہ عالم اسلام میں پھیلاہوا تھا۔ دہلی کے حکمران علاء الدین خلجی اور جلال الدین خلجی بھی آپ کے حلقۂ مریدین میں شامل تھے۔

تاریخِ وصال، روضہ مبارک،اور اولادترميم

آپ کا وصال 13/رمضان المبارک 724ھ،مطابق ستمبر1324ء کو بڈھا کھیڑا موضع کرنال میں ہوا،سانحہء وصال جب ہوا تو آپ شغل ہوائی میں ایک درخت کی شاخ پکڑے ہوئے منہ بجانب آسمان کیے بصورت تصویر کھڑے تھے،جب آپکا وصال ہوا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کے استاد حافظ سراج الدین مکی کو خواب میں آکر آپ کے جسد اطہر کو پانی پت لاکر تجہیز و تدفین کا حکم فرمایا،جب سراج الدین مکی کرنال پہنچے تو لوگوں نے قلندر پاک کی تدفین کردی تھی

تو حافظ سراج الدین مکی نے فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق قلندر پاک کے جسد اطہر کو پانی پت لے جانے کی کوشش کی تو اہل کرنال مانع ہوئے،اور جسد اطہر نا لے جانے دیا،تو سراج الدین مکی ایک مصنوعی جنازہ بناکر پانی پت کی طرف یہ کہتے ہوئے چل پڑے کہ اگر آپ کامل ہیں تو خود ہی آجائیں گے،تو اتفاق سے ایک امیر سیر کرتا ہوا وہاں آنکلا،اس نے جنازہ دیکھ کر پوچھا کہ کس کا جنازہ ہے تو بتایا گیا کہ حضرت بوعلی قلندر کا جنازہ ہے،تو اس نے زیارت کی خواہش کی

جب خالی چارپائی سے کپڑا ہٹایا گیا تو وہاں قلندر پاک کا جسد اطہر موجود تھا،جسے بعد ازاں پانی پت دفن کر دیا گیا

۔آپ کامزار پرانوار پانی پت ، بڈھا کھیڑا موضع کرنال ،باگھوٹی نزد پانی پت تینوں جگہوں میں مرجعِ خلائق ہے۔یہ آپکی ایک واضح کرامت ہے اور طالبین صادق تینوں مقام سے فیض کا حصول کر سکتے ہیں،کیونکہ جس جگہ آپ ایک دفعہ بیٹھ گئے،وہ جگہ قبلہ گاہء خلائق ہو گئی تو قبر انور کا مرتبہ تو اللہ اکبر

[4]

آپ کا روضہ انور اور اس سے متصل مسجد کو،مہابت خان (جو مغل شہنشاہ جہانگیر کی فوج کا ایک افسر تھا) نے بڑی عقیدت اور محبت سے تیار کروایا

اور مہابت خان کی اپنی قبر بھی سید بوعلی شاہ قلندر کے روضے کے نزدیک ہی ہے

علاوہ ازیں پانی پت کی مشہور شخصیات،جیسا کہ ابراہیم لودھی(جو لودھی خاندان کا آخری چشم و چراغ تھا،جسے پانی پت کی پہلی جنگ میں ظہیر الدین محمد بابر نے ہراکر ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی) اور مولانا الطاف حسین حالی کی قبور بھی قلندر پاک کے روضہ سے زیادہ دور نہیں ہیں

آپکی لاتعداد اولاد پاراچنار میں رہائش پزیر ہے،جن کے پاس اصل سلسلہ نسبی کے نسخہ جات موجود ہیں

بعض شعرا نے آپ کے سن وصال کو اشعار میں یوں بیان کیا ہے

ﭼﻮﮞ ﺷﺮﻑ ﺍﺯ ﺟﮩﺎﮞ ﻋﻔﺖ ﺭﻓﺖ

ﻣﺘﺼﻞ ﺷﺪ ﺑﻮﺻﻞ ﺭﺏِّ ﻭ ﺩﻭﺩ

ﺳﺎﻝ ﻭﺻﻠﺶ ﺷﺮﻑ ﻭﻟﯽ ﺯﻣﺎﮞ

724ﮪ

ﻧﯿﺰ ﻓﺮﻣﺎ ﺷﺮﻑ ﻭﻟﯽ ﻣﺤﻤﻮﺩ 724ﮪ

ﺷﺮﻑ ﺳﻌﯿﺪ ‏( 724ﮪ ‏)

ﺯﯾﺐ ﻋﺎﻟﻢ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﻣﺴﻌﻮﺩ‏( 724ﮪ ‏)

ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺍﺟﻞ ‏( 724ﮪ ‏)

ﻣﻌﺪﮞ ﺍﺳﺮﺍﺭﻣﺤﻤﻮﺩ ‏( 724ﮪ ‏) ﺷﺮﻑ ﻣﺤﺒﻮﺑﯽ ‏( 724ﮪ ‏) ﻣﺎﻟﮏﻋﺎﻟﯽ ﻗﺪﺭ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ‏( 724ﮪ ‏) ﻃﺎﻟﺐ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺳﺮﻭﺭ ﻋﻠﯽ ‏( 724ﮪ

کچھ واقعاتترميم

وہاں ہندوستان کے بادشاہ کو ایک مسئلہ درپیش تھا۔ اور بادشاہ نے اس دور کے علما کو حکم دیا کہ ہفتے کے اندر اس مسئلے کا حل تلاش کرکے نہ لائے تو سب کی گردنیں اُڑا دیے جائینگے، علما بے حد پریشان تھے۔

السیّد شاہ ابو شرف الدینؒ اپنے ہمراہ سات اُونٹ لدھے ہوئے خلیج گنگنا جمنا کے کنارے بیٹھے ہوئے ہر دن ایک ایک اُونٹ کتابیں دریا میں پھینکتے جا رہے تھے اور کسی بھی کتاب میں حل نظر نہیں آ رہا تھا۔ اور آخری یعنی ساتویں دن آپؒ کے لبوں سے بے ساختہ ایک جملہ نکلا کہ “تکبر عزازیل را خار کرد“ چونکہ آپؒ کتابی و مادی علم پر بڑا فخر کیا کرتے تھے۔

حضرت السیّد شاہ ابو شرف الدینؒ خلیج میں اتر کر وضو کر رہے تھے کہ اچانک ایک پتا (مُہنڈہ) کا اپنی طرف آتے دیکھا، پتا آکر آپؒ کے سامنے روکھا، آپؒ بزرگوار نے دیکھا کہ یہ پتا تو ہمارے گاؤں باغ لیلیٰ دُراوی شلوزان کی ہے۔ پتا اٹھا کر دیکھا تو مسئلے کا حل تحریر تھا اور نیچے برادر بزرگوار حضرت السیّد شاہ انورؒ کا مہرنگین تھا، دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ عہد و پیمان کیا تھا کہ ہم دونوں میں سے جس کا بھی علم افضل ہوگا تو وہ مرشد اور دوسرا مرید ہوگا۔ آپؒ نے وہ پتا بار بار چھوما اور پڑھا جس پر سارا ماجرا لکھا ہوا تھا کہ “اے برادر و مرید من، نا راحت نا باشید“ یہ لڑکی جس سے بادشاہ کی شادی ہوئی ہے، یہ لڑکی اس بادشاہ خدا بندہ کی اپنی صاحبزادی (دختر) ہے، قدرت کو منظور نہیں کہ وہ ان سے ہم بستری (جماع) کرے، آپؒ نے آواز دی کہ مبارک ہو مسئلے کا حل مل گیا، علما دوڑے، پوچھا کیسے مسئلے کا حل مل گیا، آپؒ نے فرمایا کہ پانی پر پتا آیا مجھے میرے مرشد بھائی نے سابقہ سارے حالات تحریر فرمائیں ہیں، لڑکی بادشاہ سلامت کی دختر عظیم ہے، اسی دن سے اس جگہ کا نام پانی پتا (پانی پت) پڑ گیا۔[5]

ﺷﯿﺦ ﺷﺮﻑ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺗﺮﮎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺘﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﮨﻢ ﻋﺼﺮ ﺗﮭﮯ ﺟﺲ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺗﺮﮎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺘﯽ ﮐﻠﯿﺮ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺷﯿﺦ ﺷﺮﻑ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺳﮑﻮﻧﺖ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯽ، ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﯿﺦ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺩﻡ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﻧﮯ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺷﯿﺦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺧﺎﺩﻡ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺍ ﺩﻭﮌﺍ ﺷﯿﺦ ﺷﻤﺲ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺗﺮﮎ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﺎﺅ، ﺍﮔﺮ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﻨﺎ ﺷﯿﺮ ﺗﻮ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﻧﮩﯿﮟ، ﺧﺎﺩﻡ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺷﯿﺦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﺷﯿﺮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺮﺷﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺗﻮ ﺟﻨﮕﻼﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺎﺑﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺷﯿﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﭨﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺴﯿﺮﺍ ﺑﻨﺎﻟﯿﺎ۔ ﯾﮧ ﻣﻘﺎﻡ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﮔﮩﻮﻧﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻣﺸﺮﻕ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﮯ۔ ﮨﻨﺪﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﮔﮫ ﺷﯿﺮ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﮔﮩﻮﻧﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﺷﯿﺮ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺧﻠﻖ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮔﺎﮦ ﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﭼﻨﺪ ﺳﺎﻝ ﯾﮩﺎﮞ ﺭﮨﮯ ،ﭘﮭﺮ ﻣﻮﺿﻊ ﺑﮉﮬﺎ ﮐﯿﭩﺮﮦ ﺟﻮ ﮐﺮ ﻧﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺳﮑﻮﻧﺖ ﭘﺬﯾﺮ ﺭﮨﮯ۔

ﺍﺧﺒﺎﺭ ﺍﻻﺧﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﻣﺆﻟﻒ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺟﺬﺏ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﺮﺍﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺘﺎ، ﺁﺧﺮ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺿﯿﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺳﻨﺎﻣﯽ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻗﯿﻨﭽﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﯽ، ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮈﺍﮌﮬﯽ ﭘﮑﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﮟ، ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﺷﺮﻑ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﻘﺪﺱ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﮐﮯ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﭧ ﮔﺌﯿﮟ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﺷﯿﺦ ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺩﻡ ﺧﺎﺹ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺧﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﻋﺎﻡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺧﺎﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺗﺎ، ﺍﻭﺭ ﺣﻞ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺮﺍﺗﺎ۔

کلام حضرت شرف الدین بو علی قلندرترميم

آپکے کلام شریف میں دیوان حضرت شرف الدین بو علی قلندر فارسی میں ایک عظیم صوفی کتاب ہے۔[6][7] آپ نے حضرت علی کے بارے فارسی میں مشہور شعر لکھا:

حیدریم قلندرم مستم

بندہ مرتضٰی علی ہستم

پیشوائے تمام رندانم

کہ سگِ کوئے شیرِ یزدانم

ایک جگہ مزید اپنا تعارف اس طرح پیش فرماتے ہیں

"قلندر بوعلی ہَستَم،بنامِ دوست سرمَستم

دلم در عشق اُو بَستم،نمی دانم کُجا رَفتَم"

مزید فرماتے ہیں

سرم پیچاں،دلم پیچاں،سرم پیچیدہء جاناں

شرف چوں مار می پیچد،چہ بینی مار پیچاں را


ایک اور جگہ توحیدی رمز ایسے بیان کرتے ہیں

درگذر از گفتگوئے نامراد

بے مرادی نا مراداں را مراد

خصائل مبارکترميم

آپ کا قد مبارک میانہ،جسم فربہ اندام،رنگت سانولی،کشادہ پیشانی،گھنگھریالے بال ،گنجان ریش کچھ بال سفید کچھ سیاہ

آپ پر اکثر جذب کا رنگ غالب رہتا تھا

آپ کو پان بہت پسند تھا،اور آپ ہمیشہ پان چباتے تھے

اور لوگ آپ کے پان کو بطور تبرک حاصل کرکے استعمال کرتے اور بیماریوں سے شفا پاتے

آپ کی ذات وہ مبارک ہستی ہے،جنہیں مسلمان ،ہندو اور سکھ برابر مانتے ہیں

ہندو آج بھی ان کی مناقب پڑھتے اور گاتے ہیں،ان کو ایشور(خدا) کا اوتار(مظہر) سمجھتے ہیں،اور ان کی نیاز میں پان اور لڈو دیتے ہیں اور پیتل کے دیے جلاتے ہیں،اور مرادیں پاتے ہیں

آپ ایک حجرہ میں رہتے تھے

اور حجرہ مبارک کے دروازہ پر پردہ ہوتا تھا

جس کو حاضری کی اجازت ملتی،صرف وہی پردہ اٹھاکر اندر آسکتا تھا

بعد ازاں سیدی غوث علی شاہ قلندر نے وہاں قیام فرمایا

حضرت بوعلی قلندر کی نذرترميم

حضرت بوعلی قلندر پاک کی نیاز گوشت کی یخنی،دہی کی لسی اور پتلی روٹی ہے،جس قدر ہو سکے احتیاط سے تیار کرے،تیار کرتے وقت حتی الامکان باوضو رہے،درود سلام سے لبوں کو زینت دے،اور نیاز شریف تیار کرکے فاتحہ شریف پڑھ کر حضرت بوعلی قلندر پاک کی روح پر فتوح کو ایصال ثواب کرے

ان شاء اللہ ،بفضل تعالی دینی دنیاوی ہر قسم کی مراد برآئے گی

بعد از وصال تصرفترميم

حضرت بوعلی شاہ قلندر چند ان اخص الخاص اولیاء اکرام کی صف میں شامل ہیں،جو وصال کے بعد بھی اسی طرح تصرف رکھتے ہیں،جسطرح اپنی زندگی میں رکھتے ہیں،جیسا کہ حضور سیدی محبوب سبحان شیخ عبدالقادر جیلانی،حضور خواجہء خواجگان خواجہ معین الدین چشتی،خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،حضرت شاہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رضی اللہ عنھم

چنانچہ کئی کتب میں ان کے تصرفات کے واقعات ملتے ہیں

مثلا تذکرہ غوثیہ میں عبدالقادر نامی ایک شخص کا ذکر ہے جس کو حضرت بوعلی شاہ قلندر کے مزار اقدس پر حاضری کے دوران قلندر پاک نے ایک نگاہ میں باطنی نعمت سے مالامال کیا

اس طرح کے کئی ایک واقعات ہیں

آپ کی کئی چلہ گاہیں ہندوستان پاکستان میں موجود ہیں،جہاں طالبین حق جاکر فیض حاصل کرتے ہیں

  1. (اقتباس الانوار:517)
  2. (اقتباس الانوار:518)
  3. تذکرہ اولیائے پاک وہند:92/اقتباس الانوار:521/اخبار الاخیار:336
  4. ماخذومراجع: اقتباس الانوار۔اخبار الاخیار۔تذکرہ اولیائے پاک وہند۔ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت۔
  5. کتاب: انوارالاوصیآء
  6. Boota، Sohail (2007). Tazkara Aulia. Sialkot: Shahudin Acadmey. 
  7. Qadri Sarwari، Mumtaz Ali. Hazeena Tul Uns. Sialkot: Zam Zama Printing Press.