جمال الدین افغانی

مسلم رہنما۔ پورا نام سید محمد جمال الدین افغانی۔ والد کا نام سید صفدرخان۔ مشرقی افغانستان کے کنڑ صوبے کے اسعد آباد[5] میں پیدا ہوئے۔ پان اسلام ازم یا وحدت عالم اسلام و ہندو مسلم اتحاد کے زبردست داعی اور انیسویں صدی میں دنیائے اسلام کی نمایاں شخصیت تھے۔

جمال الدین افغانی
Jamaluddin-al-afghani.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1837[1][2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اسعدآباد (کنر)،  افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 9 مارچ 1897 (59–60 سال)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن صوبہ کابل  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص محمد عبدہ  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ترک[4]،  عربی،  پشتو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

سیّد جمال الدین نے کچھ عرصہ امیردوست محمد خان اور ان کے جانشینوں کی خدمت کی۔ افغانستان کے حکمرانوں کی خدمت کے دوران انھوں نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی بھی زیارت کی۔ 1869ء میں انھوں نے یہ ملازمت ترک کردی۔ افغانستان کو خیرباد کہا۔ ہندوستان آئے۔ یہاں سے قاہرہ گئے۔ وہاں ایک دو ماہ کے قیام کے دوران میں اسلامی اتحاد کی ضرورت و اہمیت پر لیکچر دیے۔ قاہرہ سے قسطنطنیہ گئے اور 1871ء میں قاہرہ واپس آگئے۔ مصر میں ان کی سرگرمیاں، خاص طور پر وہاں کی قومی تحریک کے لیے ان کی عملی حمایت سے انگریز حکام مشکوک ہوگئے۔ انھوں نے سیّد جمال الدین کو 1879ء میں مصر سے نکال دیا۔ تب وہ ہندوستان آگئے اور حیدرآباد دکن میں اقامت اختیار کی۔ 1882ء میں مصر کے قوم پرستوں نے، جو خدیو کی مطلق العنانی کی بجائے آئینی حکومت کا مطالبہ کررہے تھے، اور جس کے نتیجے میں مصر کے اندرونی معاملات میں برطانیہ مداخلت بے جا کررہا تھا، عرابی پاشا کی قیادت میں بغاوت کردی۔

بغاوت کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1882ء میں برطانیہ نے مصر پر قبضہ کرلیا۔ جمال الدین نے چونکہ مصر کی قوم پرستانہ تحریک کی حمایت کی تھی، اور اِسی بنا پر ہندوستان میں برطانوی حکومت نے انھیں ایک لحاظ سے نظر بند کررکھا تھا، 1882ء میں مصر پر قبضے کے بعد انھیں بھی آزادی ملی۔ تب وہ لندن چلے گئے۔ وہاں سے کچھ عرصے کے بعد پیرس چلے گئے، جہاں اْنھوں نے تین سال قیام کیا۔ وہاں سے ایک ہفت روزہ العروۃ الوثقی جاری کیا۔ 1885ء میں دوبارہ لندن گئے۔ وہاں سے ماسکو (اور بعدازاں سینٹ پیٹرز برگ) پہنچے۔ وہاں اپنے چار سالہ قیام کے دوران انھوں نے زار کے روس میں مسلمانوں کے لیے رعایتیں حاصل کیں۔ تاہم وہ 1889ء تک وہاں ٹھہرے۔ ایران کے شاہ ناصرالدین نے انھیں واپس ایران آنے پر آمادہ کرلیا، جس سے وہ میونخ میں ملے تھے۔ لیکن چونکہ وہ آئینی تحریک کے حامی اور شاہ پرستی کے خلاف تھے، اس لیے 1890ء میں انھیں ایران سے بھی نکال دیا گیا۔

وہ 1891ء میں لندن پہنچے اور اسی سال قسطنطنیہ واپس آگئے۔ سلطان عبدالحمید نے جمال الدین کا شاہانہ استقبال کیا۔ سلطان کا خیال تھا کہ اس کی مطلق العنانی اور آمریت کے قیام و استحکام میں افغانی بطور آلہ کار مددگار ثابت ہوں گے، لیکن سلطان کو یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی کہ افغانی نے اس کی مدد کرنے کی بجائے، الٹا ترکی میں آئینی تحریک کی تائید و حمایت کی

آپ نے اسلامی ممالک کو مغربی اقتدار سے آزاد کرانے کی جدوجہد کی۔ آپ کا مقصد مسلم ممالک کو ایک خلیفہ کے تحت متحد کرکے ان کا ایک آزاد بلاک بنانا تھا۔

آپ عہد شباب میں افغانستان کے امیر محمد اعظم خان کے وزیر رہے۔ انگریزوں کی سازش سے افغانستان میں بغاوت ہوئی تو ہندوستان آ گئے۔ مگر یہاں دو ماہ سے بھی کم قیام کی اجازت ملی۔ یہاں سے آپ ترکی گئے مگر وہاں بھی درباری علما اور مشائخ نے ٹکنے نہ دیا تو مجبوراً قاہرہ کا رخ کیا۔ قاہرہ میں آٹھ سال تک رہے اور اپنے نظریات کی بڑے زور و شور سے تبلیغ کی۔ اب آپ کا حلقۂ اثر بہت وسیع ہو گیا تھا۔ اور اسلامی ملکوں میں انگریزوں کے مفادات پر ضرب پڑ رہی تھی۔ اس خطرے کے سدباب کے لیے انگریزوں نے خدیو مصر پر دباؤ ڈالا اور اس کے حکم پر آپ کو مصر چھوڑنا پڑا۔ مصر سے آپ پیرس گئے اور وہاں ’’العروۃ الوثقٰی ‘‘ کے نام سے ایک رسالہ عربی زبان میں جاری کیا۔ یہ رسالہ وحدت اسلامی کا نقیب تھا۔ مگر یہ دس ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا۔ آپ نے روس انگلستان اور حجاز کا بھی سفر کیا۔ آخری عمر میں سلطان ترکی کی دعوت پر قسطنطنیہ گئے تھے۔ یہیں سرطان کے مرض میں مبتلا ہو کر وفات پائی۔ ایک خیال یہ ہے کہ دربارِ ترکی کے ایک عالم نے انہیں حسد کی وجہ سے زہر دے کر شہید کیا۔ آپ کے قریبی ساتھیوں اور شاگردوں میں شیخ محمد عبدہ مصری بہت مشہور ہیں۔

مزید پڑھیےترميم

بیرونی روابطترميم

  • ["From Reform to Revolution, Louay Safi, Intellectual Discourse 1995, Vol. 3, No. 1 ربط

حوالہ جاتترميم

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12820103j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Jamal-al-Din-al-Afghani — بنام: Jamal al-Din al-Afghani — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. https://pantheon.world/profile/person/Jamāl_al-Dīn_al-Afghānī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12820103j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. From Reform to Revolution, Louay Safi, Intellectual Discourse 1995, Vol. 3, No. 1 LINK