خالد بن سعید بن العاص

(خالد بن سعید سے رجوع مکرر)

خالد بن سعید (عربی: خالد بن سعيد بن العاص) ایک صحابی رسولMohamed peace be upon him.svg تھے۔

نام ونسبترميم

خالدؓنام،ابوسعیدکنیت،سلسلہ نسب یہ ہے،خالدبن سعید بن العاص بن امیہ ابن عبد شمس بن عبدمناف بن قصی قرشی اموی،نانہالی تعلق ثقیف سے تھا۔ [1]

اسلامترميم

حضرت خالدؓ ان خوش نصیب بزرگوں میں ہیں جو اس وقت مشرف باسلام ہوئے، جب چند بندگان اللہ کے سوا ساری دنیا توحید کی آواز سے نا آشنا تھی،ان ہی کے اسلام سے ان کے گھر میں اسلام کی روشنی پھیلی،ان کے اسلام کا واقعہ یہ ہے کہ دعوت اسلام کے ابتدائی زمانہ میں انہوں نے خواب دیکھا کہ یہ ایک آتشیں غار کے کنارے کھڑے ہیں اوران کے والدان کو اس میں ڈھکیل رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ گلا پکڑے ہوئے روک رہے ہیں، اس خواب پریشان نے آنکھ کھول دی، گھبراکر اُٹھ بیٹھے اور بے ساختہ زبان سے نکل گیا کہ اللہ کی قسم یہ خواب حقیقت ہے،اوراس کو حضرت ابوبکرؓ سے بیان کیا،انہوں نے کہا کہ تم ایک نہ ایک دن ضرور مشرف باسلام ہوگے،اس لیے میں تم کو دوستانہ مشورہ دیتا ہوں کہ تم فوراً حلقہ بگوش اسلام ہوجاؤ اور تمہارے والد اس آتشیں غار میں گریں گے،لیکن تم کو اسلام اس میں گرنے سے بچالے گا، چنانچہ خالدؓ نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر پوچھا،آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا بلا شرکت غیر خدائے واحد کی پرستش کرو، مجھ کو اس کا بندہ اور رسول مانو اور ان پتھروں کی پوجا چھوڑدو، جو تمہارے نفع اور نقصان کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے ،حتی کہ اس سے بھی لا علم ہیں کہ ان کی پرستش کے دعویداروں میں کون ان کی پرستش کرتا ہے اورکون نہیں کرتا،یہ تعلیمات سن کر دل کے ساتھ زبان نے بھی اللہ کی وحدانیت اورآپ کی رسالت کی تصدیق کردی۔ [2]

آزمائش اوراستقامتترميم

اسلام لانے کے بعد گھروالوں سے چھپ کر آنحضرتﷺ کے ساتھ دعوتِ اسلام میں مصروف ہوگئے،والد کو خبر ہوئی تو انہوں نے ان کے بھائیوں کو پکڑنے کے لیے بھیجا،وہ ان کو گرفتار کرکے لے گئے،پہلے اسلام چھوڑنے کامطالبہ ہوا، یہاں جواب صاف تھا کہ جان جائے لیکن محمد ﷺ کا مذہب نہیں چھوٹ سکتا، اس جواب پر پہلے زجر و توبیخ شروع ہوئی،جب یہ بے اثر ثابت ہوئی تو زود کوب کی نوبت آئی اوراس بے دردی سے مارے گئے کہ سرپر پڑتے پڑتے لکڑی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی،جب مارتے مارتے تھک گئے تو پھر باز پرس شروع ہوئی کہ تم نے محمد ﷺ کی حرکتوں کو جانتے ہوئے ان کا ساتھ کیوں دیا؟ تم آنکھوں سے دیکھتے ہوکہ وہ پوری قوم کی مخالفت کرتے ہیں،ان کے معبودوں اوران کے آباواجداد کو برابھلا کہتے ہیں اوراس میں تم بھی ان کی ہمنوائی کرتے ہو،مگر اس مار کے بعد بھی اس بادہ حق کے سرشار کی زبان سے نکلا کہ خداکی قسم! وہ جو کچھ کہتے ہیں سچ کہتے ہیں اور اس میں میں ان کے ساتھ ہوں، جب سنگدل باپ ہر طرح سے تھک چکا تو عاجز ہوکر قید کرکے کھانا پینا بند کردیا اور لوگوں کو منع کردیا کہ کوئی شخص ان سے گفتگو نہ کرے،چنانچہ یہ کئی دن تک بے آب ودانہ تنہائی کی قید جھیلتے رہے ،چوتھے دن موقع پاکر بھاگ نکلے اور اطراف مکہ میں روپوش ہوگئے۔ [3]

ہجرت حبشہترميم

جب مسلمانوں کا دوسرا قافلہ حبشہ جانے لگا تو یہ بھی اپنی بیوی امیمہ یا ہمینہ اوربھائی عمروکو ساتھ لے کر حبشہ چلے گئے،یہیں ان کے صاحبزادہ سعید اورصاحبزادی ام خالد پیدا ہوئیں۔ [4]

ہجرت مدینہ اور غزواتترميم

غزوۂ خیبر کے زمانہ میں حبشہ سے مدینہ آئے، گویہ اس میں شریک نہیں ہوئے تھے؛لیکن آنحضرت نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی لگایا ،اس کے بعد عمرۃ القضا،فتح مکہ،حنین،طائف اورتبوک وغیرہ سب میں آنحضرتﷺ کے ہمرکاب رہے۔ [5] ابتدائی غزوات بدرواحد وغیرہ میں شریک نہیں ہوسکے تھے،اس محرومی پر ہمیشہ متاسف رہے،آنحضرتﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ!ہم لوگ بدرکے شرف سے محروم رہے،آپ نے جواب دیا؛کہ کیا تم کو یہ پسند نہیں ہے کہ لوگوں کو ایک ہجرت کا شرف حاصل ہو اور تم کو دوکا۔ [6]

مدینہ کا قیامترميم

مدینہ آنے کے بعد سے آنحضرت ﷺ نے مراسلات کا عہدہ ان کے متعلق کردیا تھا اور وہ تحریری نامہ وپیام کی خدمت انجام دیتے تھے،۹ھ میں بنوثقیف کا جو وفد آیا تھا، اس کے اورآنحضرتﷺ کے درمیان گفتگو کی خدمت ان ہی نے انجام دی تھی اور وفد کے مشرف باسلام ہونے کے بعد معاہدہ بھی ان ہی نے تحریر کیا تھا۔

یمن کی گورنریترميم

حضرت خالدؓ کے کنبہ بھر میں حکومت کی صلاحیت تھی، اس لیے آنحضرتﷺ نے تینوں بھائیوں کو حکومت کے عہدوں پر ممتاز کیا تھا،آبان کو بحرین پر، عمرو کو تیماء پر اورخالدؓ کو یمن پر مامور کیا،یہ تینوں تاحیات نبوی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے رہے، آپ کی وفات کی خبر سن کر وہاں سے واپس ہوئے، حضرت ابوبکرؓ نے دوبارہ بھیجنا چاہا اور فرمایا کہ تم لوگ آنحضرتﷺ کے مقرر کردہ عامل ہو،تم سے زیادہ کون اس عہدہ کا مستحق ہوسکتا ہے؛لیکن انہوں نے انکار کردیا اورکہا کہ ہم ابی حیحہ کی اولاد ہیں ،آنحضرتﷺ کے بعد کسی کے عامل نہ بنیں گے۔ [7]

حضرت ابوبکرؓ کی بیعت میں تاخیرترميم

خالدؓ کو ابتدا میں حضرت ابوبکرؓ کی خلافت سے اختلاف تھا،چنانچہ دو مہینہ تک بیعت نہ کی اورحضرت علیؓ اور عثمانؓ سے جاکر کہا کہ آپ لوگوں نے غیروں کی خلافت کس طرح ٹھنڈے دل سے قبول کرلی،حضرت ابوبکرؓ نے تو کوئی بازپرس نہیں کی ؛لیکن حضرت عمرؓ بہت برہم ہوئے،[8] مگر پھر خالدؓ نے دو مہینے کے بعد حضرت ابوبکرؓ کےحسن اخلاق سے متاثر ہوکر بیعت کرلی۔ حضرت ابوبکرؓ کے عہدِخلافت میں فتنہ ارتداد کی روک تھام میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا،مشہور مرتد عمروبن معد یکرب زبیدی کو جو اسود عنسی کے حلقہ میں تھا،زخمی کیا اوراس کی تلوار اورگھوڑا چھین لیا،مگر وہ بچ کر بھاگ گیا،[9] فتنہ ارتداد فروہونے کے بعد شام کی فوج کشی کے سلسلہ میں حضرت ابوبکرؓ نے ان کو فوج کے ایک حصہ کا سپہ سالار بنایا؛ لیکن حضرت عمرؓ نے اختلاف کیا کہ جس شخص نے بیعت میں لیت ولعل کی ہو وہ ہر گز اعتماد کے لائق نہیں،پھر وہ کوئی ایسے نبرد آزما بھی نہیں کہ فوجی ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے،حضرت ابوبکرؓ پہلے متردد ہوئے ؛لیکن آخری میں حضرت عمرؓ کے اصرار سے مجبور ہوگئے، تاہم معزول نہیں کیا،لیکن سپہ سالاری کےعہدہ سے تنزل کرکے تیماء کی امدادی فوج کے دستہ کا امیر بنادیا اور ان کی جگہ پر یزید بن ابی سفیان کا تقرر کیا اور خالدؓ کو یہ ہدایتیں دے کر تیماء روانہ کیا کہ راستہ میں ان مسلمانوں کو جو پہلے ارتداد کی شورش میں نہ شریک ہوئے ہوں ساتھ لے لینا اوربغیر میرا حکم ملے ہوئے خود حملہ کی ابتدانہ کرنا، رومیوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے بہت سے عربی قبائل کو لے کر مختلف اطراف میں چھاپے مارنا شروع کردیے،خالدؓ نے دربار خلافت میں اطلاع بھیجی، وہاں سے مقابلہ کا حکم آیا، لیکن خالدؓ کے بڑہتے بڑہتے رومی منتشر ہوگئے اور عربی قبائل جو ان کے ساتھ ہوگئے تھے،پھر اسلام لے آئے،خالدؓ نے دوبارہ اطلاع بھیجی، آپ نے حکم دیا کہ ابھی پیش قدمی جاری رکھو، مگر اس طرح کہ دشمن عقب سے حملہ نہ کرسکیں اس حکم کے مطابق یہ آگے بڑے،باہان رومی مقابلہ کو نکلا، لیکن شکست کھائی،انہوں نے اس کی اطلاع دربار خلافت میں بھیجی، نیز مزید امدادی فوج طلب کی۔ [10] اسی دوران میں عام لشکر کشی ہوئی، عکرمہ ذوالکلاع اورولید خالد کی مدد کے لیے بھیجے گئے،ان کے پہنچتے ہی خالدؓ رومیوں کے مقابلہ میں نکلے، باہان بطریق رومی اپنی فوج کو دمشق کی طرف ہٹالیے گیا، لیکن یہ برابر بڑہتے ہوئے چلے گئے اور دمشق دواقوصہ کے درمیان خیمہ زن ہوئے،باہان کا مسلح دستہ تاک میں لگاہوا تھا، اس نے ہر چہارطرف سے ناکہ بندی کردی اورخود حملہ کرنے کے لیے بڑھا،راستہ میں خالدؓ کے صاحبزادہ سعید ملے ان کو گھیر کر شہید کردیا، خالدؓ کو خبر ہوئی تو وہ ایسے سراسمیہ ہوئے کہ پیشقدمی روک کر پیچھے ہٹ آئے، اور عکرمہؓ نے ہوشیاری کے ساتھ باہان کو ان کے تعاقب سے روک دیا اور خالدؓ ذوالمروہ میں آکر مقیم ہوگئے،پھر کچھ دنوں کے بعد مدینہ گئے،حضرت ابوبکرؓ نے ان کی کمزوری پر مناسب تنبیہ کی اور فرمایا واقعی عمرؓ اور علیؓ ان کا زیادہ تجربہ رکھتے تھے، کاش !میں نے ان کے مشورہ پر عمل کیا ہوتا،[11] اس کے بعد برابر لڑائیوں میں شریک ہوتے رہے اور گذشتہ کمزوری کی تلافی میں بڑے جوش سے لڑتے تھے،چنانچہ فحل،دمشق وغیرہ میں بڑی جانبازی دکھائی۔

شہادتترميم

فحل کی مہم کے بعد اسلامی فوج نے مرج صفر کا رخ کیا،اسی درمیان میں خالدؓ نے ام حکیم سے عقد کرلیا اورمرج صفر پہنچ کر بیوی سے ملنے کا قصدکیا ،بیوی نے کہا اس معرکہ کے بعد اطمینان سے ملنا زیادہ بہتر ہے،انہوں نے جواب دیا میرا دل کہتا ہے کہ اس لڑائی میں جام شہادت پیوں گا،غرض مرج صفر ہی میں بیوی سے ملاقات کی اورصبح کو احباب کی دعوت کی،ابھی لوگ کھانے سے فارغ بھی نہ ہوئے تھے کہ رومی میدان میں آگئے، ایک رومی نے مبارز طلبی کی،خالدؓ مقابلہ کے لیے نکلے اورنکلتے ہی شہید ہوگئے، ان کی عروس کا یہ سبق آموز واقعہ قابل ذکر ہے کہ جزع فزع اورسوگ نشینی کے بجائے شوہر کے خون کے انتقام کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی اور مردوں کے دوش بدوش لڑکر سات رومیوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا۔ [12]

اولادترميم

خالد کے امیمہ یاہمینہ بنت خلف کے بطن سے دواولادیں ہوئیں، سعید اور امہ یا ام خالد،سعید خالد کی زندگی میں شہید ہوگئے تھے امہ حضرت زبیرؓ بن عوام سے بیاہی تھیں۔ خاتم نبویﷺ خالدؓ کی انگوٹھی کا نقش بھی محمدﷺ تھا،یہ انگوٹھی آنحضرتﷺ نے ان سے لے لی تھی،جو ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں رہی۔ [13]

فضل وکمالترميم

عرب کے عام دستور کے خلاف ان کو لکھنے پڑہنے میں مہارت حاصل تھی ؛چنانچہ یمن والوں کو جو امان نامہ آنحضرتﷺ نے دیا تھا، اس کی کتابت ان ہی نے کی تھی۔ [14]

حوالہ جاتترميم

  1. (اصابہ:۶/۱۳۲)
  2. (مستدرک حاکم:۳/۲۴۸)
  3. (طبقات ابن سعد،جز۴،قسم۱:۶۸،واستیعاب:۱/۱۵۵)
  4. (اسدالغابہ:۲/۹۱)
  5. (استیعاب:۱/۱۵۴)
  6. (ابن سعد،جز۴،ق۱:۷۲)
  7. (استیعاب:۱/۱۵۵)
  8. (طبری:۲۰۷۹)
  9. (ابن اثیر:۲/۲۸۸)
  10. (طبری:۴/۲۰۷۹،۲۰۸۱ وابن اثیر:۲/۲۰۸)
  11. (طبری:۲۰۸۴تا۲۰۸۶)
  12. (فتوح البلدان بلاذری:۱۲۵،تفصیل ابن سعد سے ماخوذ ہے)
  13. (استیعاب:۱/۱۵۵)
  14. (ابوداؤد :۲/۲۵)