صوبہ سیستان و بلوچستان

(سیستان و بلوچستان سے رجوع مکرر)

صوبہ سیستان و بلوچستان (فارسی: استان سيستان و بلوچستان) ایران کے 31 صوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ ملک کے جنوب میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد سے ملحق ہے اور اس کا دار الحکومت زاہدان ہے۔ سنہ 2006ء کی قومی مردم شماری کے وقت، صوبے کی آبادی 468,025 گھرانوں میں 2,349,049 تھی۔ اگلی مردم شماری جو سنہ 2011ء میں ہوئی، میں 587,921 گھرانوں میں رہنے والے 2,534,327 باشندوں کی گنتی کی گئی۔ سنہ 2016ء کی تازہ ترین مردم شماری میں، 704,888 گھرانوں میں آبادی بڑھ کر 2,775,014 ہو گئی تھی۔1 بلوچ آبادی کی اکثریت ہے اور فارسی سیستانی اقلیت میں ہیں۔ کردوں کی چھوٹی کمیونٹیز (مشرقی پہاڑی علاقوں میں اور ایران شہر کے قریب ہیں)؛ اس کے علاوہ براہوی تارکین وطن  (ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد پر) اور دیگر رہائشی اور گھومنے پھرنے والے نسلی گروہ، جیسے کہ روما (بکروال)، بھی صوبے میں پائے جاتے ہیں۔

صوبہ سیستان و بلوچستان
صوبہ سیستان و بلوچستان
 

 
نقشہ

انتظامی تقسیم
ملک ایران   ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دار الحکومت زاہدان   ویکی ڈیٹا پر (P36) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تقسیم اعلیٰ ایران   ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 29°29′33″N 60°52′01″E / 29.4924°N 60.8669°E / 29.4924; 60.8669
رقبہ
آبادی
کل آبادی
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+03:30   ویکی ڈیٹا پر (P421) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
فون کوڈ 0542  ویکی ڈیٹا پر (P473) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آیزو 3166-2 IR-11  ویکی ڈیٹا پر (P300) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
اہم زبان(یں) فارسی، بلوچی
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 1159456  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

Map

تاریخ

ترمیم

بستن اور پرسیپولس کے خطوط میں، سیستان کا تذکرہ شہنشاہ دارا عظیم کے مشرقی علاقوں میں سے ایک کے طور پر کیا گیا ہے۔ سیستان کا نام، جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، ساکا (کبھی کبھی ساگا یا ساگستان) سے ماخوذ ہے، جو ایک وسطی ایشیائی قبیلہ ہے جس نے 128 قبل مسیح میں اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ آرسی خاندان (248 قبل مسیح سے 224ء) کے دوران، صوبہ سرین-پہلاو قبیلے کا مرکز بن گیا۔ ساسانی دور سے لے کر ابتدائی اسلامی دور تک، سیستان نے کافی ترقی کی۔

فارس کے اردشیر اول کے دور حکومت میں، سیستان ساسانیوں کے دائرہ اختیار میں آیا اور سن 644 عیسوی میں، عرب مسلمانوں نے کنٹرول حاصل کر لیا کیونکہ سلطنت فارس اپنے خاتمے کے آخری لمحات میں تھی۔ خلیفہ ثانی، عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں، اس علاقے کو عربوں نے فتح کیا اور ایک عرب کمانڈر کو گورنر مقرر کیا گیا۔ مشہور فارسی حکمران یعقوب لیث سفاری، جن کی اولاد نے کئی صدیوں تک اس علاقے پر غلبہ حاصل کیا، بعد میں اس صوبے کا گورنر بنا۔ سن 916 عیسوی میں، بلوچستان پر دیلمیوں اور اس کے بعد سلجوقیوں کی حکومت تھی، جب یہ کرمان کا حصہ بن گیا۔ خاندانوں جیسا کہ صفاری، سامانی، قزوینی اور سلجوقیوں نے بھی اس علاقے پر حکومت کی۔ سنہ 1508ء میں صفوی خاندان کے شاہ اسماعیل اول نے سیستان کو فتح کیا۔ سنہ 1747ء میں نادر شاہ کے قتل کے بعد، سیستان اور بلوچستان قلات کے براہوی خانات کا حصہ بن گئے، جس نے سنہ 1896ء  تک اس پر حکومت کی۔ بعد میں، یہ قاچار ایران کا حصہ بن گیا۔

خصوصیات

ترمیم

یہ صوبہ ایران میں 1,81,785 مربع کلومیٹر علاقے کے ساتھ سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ اس کی آبادی تقریبا 45 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ آبادی کی اکثریت بلوچوں کی ہے، جبکہ پشتون اور کرد باشندے بھی اقلیت میں آباد ہیں۔

یہ صوبہ ایران کا پسماندہ ترین صوبہ ہے، یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں۔ حکومت ایران نے اس طرف توجہ دی ہے اور اب اسے صنعتی علاقہ بنایا جا رہا ہے، جس سے یہاں پر لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جس کے نتیجے میں یہ علاقہ ترقی کی طرف گامزن ہوگا۔

جغرافیہ

ترمیم
 
صوبے کے جنوب میں خلیج عمان کا منظر

صوبہ دو حصوں میں منقسم ہے، شمالی حصہ سیستان اور جنوبی حصہ بلوچستان پر مشتمل ہے۔ مشترکہ سیستان و بلوچستان ایران کے خشک ترین علاقے ہیں، یہاں بارش بہت کم ہوتی ہے۔ یہ علاقہ مختلف ہواؤں کے زیر اثر رہتا ہے۔ یہ ایران کا ساحلی صوبہ ہے، اس کے جنوب میں خلیج عمان واقع ہے۔

زبان

ترمیم

اس صوبے میں زیادہ تر لوگوں کی مادری زبان بلوچی ہے، شمال میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ مقیم لوگ پشتون ہیں اور وہ پشتو بولتے ہیں، جبکہ فارسی مشترکہ قومی زبان کے طور پر ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اردو زبان بھی بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔

مزید دیکھیے

ترمیم

بیرونی روابط

ترمیم
  1.    "صفحہ صوبہ سیستان و بلوچستان في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2024ء